Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Fasting (30)    كتاب الصوم

12345Last ›

Chapter No: 21

باب إِذَا نَوَى بِالنَّهَارِ صَوْمًا

If the intention of observing Saum was made in the daytime

باب: کوئی شخص دن کو روزے کی نیت کرلے تو درست ہے ۔

وَقَالَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُولُ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ فَإِنْ قُلْنَا لاَ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ يَوْمِي هَذَا‏.‏ وَفَعَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةُ ـ رضى الله عنهم‏

Umm Ad-Darda said, Abu Ad-Darda used to ask, "Do you have food?" If we answered in the negative, he would say, "Then I am observing Saum today." Abu Talha, Abu Hurairah, Ibn Abbas and Hudhaifa did the same.

اور ام درداء نے کہا ابو درداء ہم سے پوچھتے تھے تمہارے پاس کھانے کو ہے اگر ہم کہتے نہیں تو وہ کہتے میں تو آج روزے سے ہوں اور ابو طلحہؓ اور ابو ہریرہؓ اور ابنِ عباسؓ اور حذیفہؓ نے بھی ایسا ہی کیا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً يُنَادِي فِي النَّاسِ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏"‏ أَنْ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ أَوْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ فَلاَ يَأْكُلْ ‏"‏‏

Narrated By Salama bin Al-Akwa : Once the Prophet ordered a person on 'Ashura (the tenth of Muharram) to announce, "Whoever has eaten, should not eat any more, but fast, and who has not eaten should not eat, but complete his fast (till the end of the day).

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک شخص کو عاشورے کے دن یہ اعلان کرنے کےلیے بھیجا کہ جس نے آج کچھ کھالیا وہ شام تک کچھ نہ کھائے یا روزہ رکھے اور جس نے نہیں کھایا وہ شام تک نہ کھائے۔

Chapter No: 22

باب الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا

If a person observing Saum gets up in the morning in the state of Janaba (will his Saum be valid?)

باب۔صبح کو روزہ دار جنابت میں اٹھے تو کیسا ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ح‏: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ‏.‏ وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ‏.‏ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلاَ مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَىَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ‏.‏ فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ‏.‏ وَالأَوَّلُ أَسْنَدُ‏

Narrated By 'Aisha and Um Salama : At times Allah's Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ (بعض مرتبہ) فجر اور نبیﷺاپنے گھروالوں کے ساتھ جنبی ہوتے تھے پھر آپﷺغسل کرتے اور روزہ رکھتے، اور مروان بن حکم نے عبد الرحمٰن بن حارث سے کہا میں تجھ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو صاف صاف سنا دو اور ان دنوں مروان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، حضرت ابوبکر بن عبد الرحمٰن نے کہا: عبد الرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ہم سب ذو الخلیفہ میں اکھٹے ہوئے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زمین تھی تو عبد الرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا میں تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں اور اگر مروان نے مجھ کو قسم نہ دی ہوتی تو میں اس کو تم سے بیان نہ کرتا پھر انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (میں کیا کروں) فضل بن عباس نے مجھ سے حدیث بیان کی، اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں اور ہمام اور ابنِ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یوں روایت کی ہے کہ ایسی صورت میں نبیﷺ افطار کا حکم دیتے مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت زیادہ معتبرہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ح‏: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ‏.‏ وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ‏.‏ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلاَ مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَىَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ‏.‏ فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ‏.‏ وَالأَوَّلُ أَسْنَدُ‏

Narrated By 'Aisha and Um Salama : At times Allah's Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ (بعض مرتبہ) فجر اور نبیﷺاپنے گھروالوں کے ساتھ جنبی ہوتے تھے پھر آپﷺغسل کرتے اور روزہ رکھتے، اور مروان بن حکم نے عبد الرحمٰن بن حارث سے کہا میں تجھ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو صاف صاف سنا دو اور ان دنوں مروان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، حضرت ابوبکر بن عبد الرحمٰن نے کہا: عبد الرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ہم سب ذو الخلیفہ میں اکھٹے ہوئے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زمین تھی تو عبد الرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا میں تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں اور اگر مروان نے مجھ کو قسم نہ دی ہوتی تو میں اس کو تم سے بیان نہ کرتا پھر انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (میں کیا کروں) فضل بن عباس نے مجھ سے حدیث بیان کی، اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں اور ہمام اور ابنِ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یوں روایت کی ہے کہ ایسی صورت میں نبیﷺ افطار کا حکم دیتے مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت زیادہ معتبرہے۔

Chapter No: 23

باب الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ

To embrace while one is observing Saum.

باب: روزہ دار کو عورت کا بوسہ مساس وغیرہ (یعنی مباشرت) درست ہے۔

وَقَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها يَحْرُمُ عَلَيْهِ فَرْجُهَا‏

Aisha (r.a) said, "A person observing Saum is forbidden to have sexual intercourse."

حضرت عائشہؓ نے کہا روزہ دار پر عورت کی شرمگاہ حرام ہے۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ، وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ‏.‏ وَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏مَآرِبُ‏}‏ حَاجَةٌ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ ‏{‏أُولِي الإِرْبَةِ‏}‏ الأَحْمَقُ لاَ حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ‏.وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ إِنْ نَظَرَ فَأَمْنَى يُتِمُّ صَوْمَهُ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet used to kiss and embrace (his wives) while he was fasting, and he had more power to control his desires than any of you. Said Jabir, "The person who gets discharge after casting a look (on his wife) should complete his fast."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ بوسہ لیتے اور مباشرت کرتے اس حال میں کہ آپﷺ روزہ دار ہوتے مگر بات یہ ہے کہ آپﷺ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر اختیار رکھتے تھے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا (سورت طہ میں جو) مآرب کا لفظ ہےاس کےمعنی حاجتیں۔ طاؤس نے کہا سورۂ نور میں جو غیر اولی الاربہ آیا ہے اس کے معنی بیوقوف جس کو عورتوں سے غرض نہ ہو اور جابر بن زید نے کہا: اگر روزہ دار نے شہوت سے دیکھا اور منی نکل آئی تو وہ اپنا روزہ پورا کرلے۔

Chapter No: 24

باب الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ

What is said regarding kissing by a fasting person?

باب: روزے میں بوسہ لینا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ‏.‏ ثُمَّ ضَحِكَتْ‏.

Narrated By Hisham's father : 'Aisha said, "Allah's Apostle used to kiss some of his wives while he was fasting," and then she smiled.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ اپنی بعض اپنی ازواج کا بوسہ لیتے اس حال میں کہ آپﷺ روزہ دار ہوتے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہنسیں۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنُفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ‏

Narrated By Zainab : (Daughter of Um Salama) that her mother said, "While I was (lying) with Allah's Apostle underneath a woollen sheet, I got the menstruation, and then slipped away and put on the clothes (which I used to wear) in menses. He asked, "What is the matter? Did you get your menses?" I replied in the affirmative and then entered underneath that woollen sheet. I and Allah's Apostle used to take a bath from one water pot and he used to kiss me while he was fasting."

حضرت زینب اپنی والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک بار ایسا ہوا کہ میں ایک چادر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ (لیٹی)تھی اتنے میں مجھ کو حیض آگیا میں چپکے سے نکل آئی اور حیض کے کپڑے سنبھالے آپﷺ نے پوچھا کیا ہوا کیا حیض آگیا میں نے عرض کیا: جی، پھر میں چادر میں آپﷺ کے ساتھ گھس گئی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہﷺ دونوں مل کر ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے اور آپﷺ روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیا کرتے۔

Chapter No: 25

باب اغْتِسَالِ الصَّائِمِ

Taking a bath by a person observing Saum.

باب: روزے میں نہانا۔

وَبَلَّ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ ثَوْبًا، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ، وَهُوَ صَائِمٌ‏.‏ وَدَخَلَ الشَّعْبِيُّ الْحَمَّامَ وَهُوَ صَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ بَأْسَ أَنْ يَتَطَعَّمَ الْقِدْرَ، أَوِ الشَّىْءَ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ لاَ بَأْسَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالتَّبَرُّدِ لِلصَّائِمِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا كَانَ صَوْمُ أَحَدِكُمْ فَلْيُصْبِحْ دَهِينًا مُتَرَجِّلاً‏.‏ وَقَالَ أَنَسٌ إِنَّ لِي أَبْزَنَ أَتَقَحَّمُ فِيهِ وَأَنَا صَائِمٌ‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ اسْتَاكَ وَهُوَ صَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَسْتَاكُ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ، وَلاَ يَبْلَعُ رِيقَهُ‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ إِنِ ازْدَرَدَ رِيقَهُ لاَ أَقُولُ يُفْطِرُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لاَ بَأْسَ بِالسِّوَاكِ الرَّطْبِ‏.‏ قِيلَ لَهُ طَعْمٌ‏.‏ قَالَ وَالْمَاءُ لَهُ طَعْمٌ، وَأَنْتَ تُمَضْمِضُ بِهِ‏.‏ وَلَمْ يَرَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ بِالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا‏

Ibn Umar (r.a) soaked a garment in water and then put it over himself while he was observing Saum. Ash-Shabi entered a bathroom while he was observing Saum. Ibn Abbas said, "There is no harm in tasting the food of the pots or other meals." Al-Hasan said, "There is no harm for the person observing Saum to rinse his mouth with water and to cool his body." Ibn Masood said, "At the night of your fasting day, you had better oil and comb your hair." Anas said, "I had a tub in which I used to sit while observing Saum." It is mentioned that the Prophet (s.a.w) cleaned his teeth with Siwak while observing Saum and Ibn Umar used to clean his teeth with Siwak in the early and late hours of the day without swallowing the resultant saliva. Ata said, "The swallowing of saliva does not break the Saum." Ibn Sirin said, "There is no harm in cleaning the teeth with a green fresh Siwak." He was told that it had taste. Ibn Sirin replied, "Water also has taste yet you rinse your mouth with it." Anas, Al-Hasan and Ibrahim did not see any harm in smearing one's eyes with kohl while observing Saum.

اور عبداللہ بن عمرؓ نے روزے میں ایک کپڑا بھگو کر اپنے بدن پر ڈالا اور شعبی روزہ دار تھے اور حمام میں گئے اور ابن عباسؓ نے کہا ہانڈی کا مزہ یا اور کسی چیز کا مزہ چکھنے میں کوئی قباحت نہیں اور امام حسن بصری نے کہا کلی کرنا یا پانی سے اپنے تئیں ٹھنڈا کرنا روزہ دار کو منع نہیں ہےاور ابن مسعود نے کہا جب کوئی روزہ رکھنے والا ہو تو صبح کرے تیل لگایا ہوا کنگھی کیا ہوااور انس نے کہا میرا ایک حوض ہے میں روزے میں اس میں غوطہ مارتا ہوں اور آپؐ سے منقول ہے کہ آپ روزے میں مسواک کیا کرتے تھے اور عبداللہ بن عمرؓ روزے میں صبح اور شام ہر وقت مسواک کیا کرتے اور روزہ دار تھوک نہ نگلے اور عطاء نے کہا اگر روزہ دار اپنا تھوک نگل گیا تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کا روزہ جاتا رہااور ابن سیرین نے کہا کچی مسواک کرنے میں کوئی قباحت نہیں لوگوں نے کہا اس میں تو مزہ ہوتا ہے انہوں نے کہا مزہ تو پانی میں بھی ہوتا ہے حالانکہ روزے میں پانی سے کلی کرتے ہیں اور انسؓ اور حسنؓ اور ابراہیم نے کہا روزہ دار کو سرمہ لگانا درست ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَأَبِي، بَكْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ ‏{‏جُنُبًا‏}‏ فِي رَمَضَانَ، مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ‏

Narrated By 'Aisha : (At times) in Ramadan the Prophet used to take a bath in the morning not because of a wet dream and would continue his fast.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رمضان میں فجر کے وقت نبیﷺ احتلام سے نہیں (بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أَنَا وَأَبِي،، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ، ثُمَّ يَصُومُهُ‏

Narrated By Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman : My father and I went to 'Aisha and she said, "I testify that Allah's Apostle at times used to get up in the morning in a state of Janaba from sexual intercourse, not from a wet dream and then he would fast that day."

ابوبکر بن عبد الرحمٰن سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ مل کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا انہوں نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ صبح کو جماع کی وجہ سے جنبی ہوتے تھے نہ کہ احتلام کی وجہ سے، پھر آپﷺ روزہ سے رہتے۔


ثُمَّ دَخَلْنَا على أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ.

Then we went to Um Salama and she also narrated a similar thing.

پھر ہم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔

Chapter No: 26

باب الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا

If a person observing Saum ate or drank forgetfully

باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے ( تو روزہ نہیں جاتا)

وَقَالَ عَطَاءٌ إِنِ اسْتَنْثَرَ، فَدَخَلَ الْمَاءُ فِي حَلْقِهِ، لاَ بَأْسَ، إِنْ لَمْ يَمْلِكْ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ إِنْ دَخَلَ حَلْقَهُ الذُّبَابُ فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ وَمُجَاهِدٌ إِنْ جَامَعَ نَاسِيًا فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ‏

Ata said, "There is no harm if water goes in the throat and one is unable to bring it out while putting it in the nose and then blowing it out." Al-Hasan said, "If a fly enters one's throat, there is no harm in it." Al-Hasan and Mujahid said, "If one has sexual intercourse forgetfully then no penalty will be imposed on him."

اور عطاء نے کہا اگر روزہ دار ناک میں پانی ڈالے اور پانی حلق میں اتر جائے تو روزہ نہ جائے گا اگر اس کو نکال نہ سکے اور امام حسن بصری نے کہا اگر روزہ دار کے حلق میں مکھی گھس جائے تو روزہ نہیں جاتا اور حسن اور مجاہد نے کہا اگر بھولے سے جماع کر لے تب بھی روزہ نہیں جاتا ۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "If somebody eats or drinks forgetfully then he should complete his fast, for what he has eaten or drunk, has been given to him by Allah."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب کوئی بھولے سے کوئی چیز کھا پی لے تو اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اللہ نے اس کو کھلایا پلایا۔

Chapter No: 27

باب سِوَاكِ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائِمِ

Dry or green Siwak for the person observing Saum.

باب: سوکھی اور کچی مسواک روزہ دار کو درست ہونا۔

وَيُذْكَرُ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ، وَهُوَ صَائِمٌ مَا لاَ أُحْصِي أَوْ أَعُدُّ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ ‏"‏‏.‏ وَيُرْوَى نَحْوُهُ عَنْ جَابِرٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَلَمْ يَخُصَّ الصَّائِمَ مِنْ غَيْرِهِ‏.‏ وَقَالَتْ عَائِشَةُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ وَقَتَادَةُ يَبْتَلِعُ رِيقَهُ‏

Narrated by Amir bin Rabia, "I saw the Prophet (s.a.w) cleaning his teeth with Siwak while he was observing Saum so many times that I can't count." Narrated by Abu Hurairah, the Prophet (s.a.w) said, "But for my fear that it would be hard for my followers, I would have ordered them to clean their teeth with Siwak on every performance of ablution." The same is narrated by Jabir and Zaid bin Khalid from the Prophet (s.a.w) who did not differentiate between fasting and non-fasting person in this respect. Aisha said, The Prophet (s.a.w) said, "It (Siwak) is a purification for the mouth and it is a way of seeking Allah's pleasures." Ata and Qatada said, "There is no harm in swallowing the resultant saliva."

اور عامر بن ربیعہ سے منقول ہے انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو دیکھا بے شمارمرتبے آپؐ روزہ دار رہ کر مسواک کیا کرتے اور ابو ہرہرہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی اگر میں یہ نہ سمجھتا کہ میری امت پر مشکل ہوگی تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا اور ایسا ہی جابر اور زید بن خالد سے نبیﷺ سے منقول ہے اس میں روزہ دار کو خاص نہیں کیا اور حضرت عائشہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی آپؐ نے فرمایا مسواک منہ کو پاک کرتی ہے پروردگار کو پسند ہے اور عطاء اور قتادہ نے کہا روزہ دار اپنا تھوک نگل سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، رَأَيْتُ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ تَوَضَّأَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلاَثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَىْءٍ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏

Narrated By Humran : I saw 'Uthman performing ablution; he washed his hands thrice, rinsed his mouth and then washed his nose, by putting water in it and then blowing it out, and washed his face thrice, and then washed his right forearm up to the elbow thrice, and then the left-forearm up to the elbow thrice, then smeared his head with water, washed his right foot thrice, and then his left foot thrice and said, "I saw Allah's Apostle performing ablution similar to my present ablution, and then he said, 'Whoever performs ablution like my present ablution and then offers two Rakat in which he does not think of worldly things, all his previous sins will be forgiven."

حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کیا تو دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا، پھر کلی کی، ناک صاف کی، پھر تین مرتبہ منہ دھویا، پھر داہنا ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر سر پر مسح کیا، پھر داہنا پاؤں تین بار دھویا پھر بایاں پاؤں تین بار پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح جیسے میں نے وضو کیا وضو کرتے دیکھا پھر آپﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں (تحیۃ الوضوء کی) اس طرح پڑھے کہ دل میں کسی قسم کے خیالات نہ لائے تو اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔

Chapter No: 28

باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرِهِ الْمَاءَ ‏"‏ وَلَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ الصَّائِمِ وَغَيْرِهِ

The statement of the Prophet (s.a.w), "Whoever performs ablution should put water in his nose and then blow it out." The Prophet (s.a.w) did not differentiate between the fasting and the non fasting person.

باب: نبی ﷺ کا یہ فرمانا جب کوئی وضو کرے تو اپنے نتھنوں میں پانی ڈالے اور آپ نے روزہ دار اور بے روزہ دار میں کوئی فرق نہیں کیا ۔

وَقَالَ الْحَسَنُ لاَ بَأْسَ بِالسَّعُوطِ لِلصَّائِمِ إِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى حَلْقِهِ، وَيَكْتَحِلُ‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ إِنْ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لاَ يَضِيرُهُ، إِنْ لَمْ يَزْدَرِدْ رِيقَهُ، وَمَاذَا بَقِيَ فِي فِيهِ، وَلاَ يَمْضَغُ الْعِلْكَ، فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكِ لاَ أَقُولُ إِنَّهُ يُفْطِرُ‏.‏ وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ فَإِنِ اسْتَنْثَرَ، فَدَخَلَ الْمَاءُ حَلْقَهُ، لاَ بَأْسَ، لَمْ يَمْلِكْ‏

Al-Hasan said, "There is no harm for a person observing Saum." Al-Hasan said, "There is no harm for a person observing Saum to use snuff if it does not reach the throat, or to smear his eyes with kohl." Ata said, "If a person observing Saum, after rinsing his mouth with water, throws it out, then, there is no harm unless he swallows his saliva and what is left in his mouth. And he should not chew gum, for if he swallows his saliva, I do not say that it will break his Saum but it is prohibited and if during the putting of water in the nose and then blowing it out, some water enters the throat and he is unable to bring it back, there is no harm in that."

اور حسن بصری نے کہا روزے میں ناک میں دوا ڈالنا درست ہے اگر اس کے حلق تک نہ پہنچے اور سرمہ لگا سکتا ہے ۔ اور عطا ء نے کہا روزہ دار کلی کر کے منہ سے سب پانی نکال دے تو کو ئی نقصان نہ ہو گا اگر وہ اپنا تھوک نگل جائے اور جو اس کے منہ میں رہ گئی (پانی کی تری) اور روزہ دار مصطگی نہ چبا ئے (یا سیپاری) پھر اگر مصطگی کا تھوک نگل جائے تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کا روزہ جاتا رہے گا لیکن منع ہے اور اگر ناک میں پانی ڈالا وہ اس کے حلق میں بے اختیار اتر گیا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔

 

Chapter No: 29

باب إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ

Whoever has a sexual intercourse with his wife in Ramadan (intentionally, he has to pay expiation).

باب: اگر جان بوجھ کر رمضان میں جماع کرے۔

وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ‏"‏ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلاَ مَرَضٍ لَمْ يَقْضِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَإِنْ صَامَهُ ‏"‏‏.‏ وَبِهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ‏.‏ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَالشَّعْبِيُّ وَابْنُ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ وَقَتَادَةُ وَحَمَّادٌ يَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ

Narrated Abu Hurairah on the authority of the Prophet (s.a.w), "Whoever did not observe Saum for one day of Ramadan without genuine excuse or a disease, then even if he observed Saum for a complete year, it would not compensate for that day." The same is narrated by Ibn Masood. Said bin Al-Musaiyab, Ash-Shabi, Ibn Jubair, Ibrahim, Qatada and Hammad said, "He should observe Saum one day in lieu of that missed day."

اور ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً یوں مروی ہے جو رمضان میں بے عذر اور بے بیماری ایک دن روزہ نہ رکھے تو ساری عمر کے روزے بھی اس کا بدل نہ ہوں گے اور ابن مسعودؓ کا بھی یہی قول ہے اور سعید بن مسیب نے اور شعبی اور ابن جبیر اور ابراہیم اور قتادہ اور حماد نے کہا ایک روزہ اس کے بدل رکھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ـ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ إِنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَالَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِكْتَلٍ، يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهَذَا ‏"

Narrated By 'Aisha : A man came to the Prophet and said that he had been burnt (ruined). The Prophet asked him what was the matter. He replied, "I had sexual intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting)." Then a basket full of dates was brought to the Prophet and he asked, "Where is the burnt (ruined) man?" He replied, "I am present." The Prophet told him to give that basket in charity (as expiation).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سنا وہ کہتی تھیں کہ ایک شخص نبیﷺکے پاس آیا اور کہنے لگا: میں (جہنم میں) جل چکا آپﷺ نے فرمایا: کیوں کیا بات؟ وہ کہنے لگا: میں نے رمضان میں اپنی عورت سے صحبت کی، پھر آپﷺ کے پاس کھجور کا ایک تھیلہ آیا جس کو عرق کہتے ہیں آپﷺنے فرمایا: وہ جہنم میں جلنے والا کہاں ہے۔ اس نے کہا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہﷺ! آپﷺنے فرمایا: اس کو لو او صدقہ کردو۔

Chapter No: 30

باب إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَىْءٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَلْيُكَفِّرْ

If somebody had a sexual intercourse with his wife in Ramadan and has got nothing, then if he is given something in charity, he should give the expiation of that sinful act.

باب: اگر رمضان میں قصدًا جماع کرے اور اس کے پاس خیرات کو بھی کچھ نہ ہو پھر اس کو کہیں خیرات مل جائے تو وہی کفّارے میں دے دے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ فَمَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ ـ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ ـ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ـ يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ ـ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"

Narrated By Abu Huraira : While we were sitting with the Prophet a man came and said, "O Allah's Apostle! I have been ruined." Allah's Apostle asked what was the matter with him. He replied "I had sexual intercourse with my wife while I was fasting." Allah's Apostle asked him, "Can you afford to manumit a slave?" He replied in the negative. Allah's Apostle asked him, "Can you fast for two successive months?" He replied in the negative. The Prophet asked him, "Can you afford to feed sixty poor persons?" He replied in the negative. The Prophet kept silent and while we were in that state, a big basket full of dates was brought to the Prophet. He asked, "Where is the questioner?" He replied, "I (am here)." The Prophet said (to him), "Take this (basket of dates) and give it in charity." The man said, "Should I give it to a person poorer than I? By Allah; there is no family between its (i.e. Medina's) two mountains who are poorer than I." The Prophet smiled till his pre-molar teeth became visible and then said, 'Feed your family with it."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک مرتبہ ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اس نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میں ہلاک ہوگیا، آپﷺ نے فرمایا: کیوں کیا ہوا۔ وہ کہنے لگا: میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرلی۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جس کو تم آزاد کردو۔ اس نے کہا: نہیں، آپﷺنے فرمایا: کیا آپ رمضان کے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکوگے۔ اس نے کہا: نہیں۔ آپﷺنے پوچھا: تو کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے اس نے کہا: نہیں۔ یہ سن کر نبیﷺ ٹھہرے رہے ہم لوگ بھی سب بیٹھے تھے اتنے میں نبیﷺ کے پاس کھجور کا ایک تھیلا آیا (جس کو عرق کہتے ہیں خرمے کی چھال سے بنتے ہیں) آپﷺ نے پوچھا وہ شخص کہاں گیا کہنے لگا: حاضر ہوں آپﷺ نے فرمایا: یہ تھیلا لے لو اور خیرات کردو۔ وہ کہنے لگا: خیرات تو اس پر کروں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، قسم اللہ کی! مدینہ کی دونوں طرف کے پتھریلی کناروں میں کوئی گھر والا مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں یہ سن کر نبیﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپﷺ کی کچلیاں کھل گئیں آپﷺ نے فرمایا: اچھا اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔

12345Last ›