Sayings of the Messenger

 

12

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

 

Chapter No: 1

باب

Chapter

باب:

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالْكَهْفِ وَمَرْيَمَ إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلاَدِي‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏فَسَيُنْغِضُونَ‏ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ}‏ قَالَ ابن عَبَّاسٍ :يَهُزُّونَ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ نَغَضَتْ سِنُّكَ أَىْ تَحَرَّكَتْ‏.

Narrated By Ibn Mas'ud : Surat Bani Israel and Al-Kahf and Mary are among my first old property.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے ابو اسحاق (عمرو بن عبداللہ سبیعی) سے کہا، میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا، کہا میں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے سنا، وہ کہتے تھے سورہ بنی اسرائیل، کہف، سورہ مریم یہ اول درجے کی عمدہ سورتیں (نہایت فصیح اور بلیغ) اور میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔ ابن عباسؓ نے کہا فَسَیُنغِضُونَ وہ سر ہلائیں گے۔ دوسرے لوگوں نے کہا یہ نغضت سنک سے نکلا ہے یعنی تیرا دانت ہل گیا۔

Chapter No: 2

باب

"And we decreed for the Childern of Israel." (V.17:4)

باب: وَقَضَٰنَا اِلَی بَنِی اِسرَائیل

‏{‏وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ‏}‏أَخْبَرْنَاهُمْ أَنَّهُمْ، سَيُفْسِدُونَ، وَالْقَضَاءُ عَلَى وُجُوهٍ ‏{‏وَقَضَى رَبُّكَ‏}‏ أَمَرَ رَبُّكَ، وَمِنْهُ الْحُكْمُ ‏{‏إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ‏}‏، وَمِنْهُ الْخَلْقُ ‏{‏فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ‏}‏‏.‏ ‏{‏نَفِيرًا‏}‏ مَنْ يَنْفِرُ مَعَهُ‏.‏ ‏{‏وَلِيُتَبِّرُوا‏}‏ يُدَمِّرُوا ‏{‏مَا عَلَوْا‏}‏‏.‏ ‏{‏حَصِيرًا‏}‏ مَحْبِسًا مَحْصَرًا ‏{‏حَقَّ‏}‏ وَجَبَ ‏{‏مَيْسُورًا‏}‏ لَيِّنًا‏.‏ ‏{‏خِطْئًا‏}‏ إِثْمًا، وَهْوَ اسْمٌ مِنْ خَطِئْتُ، وَالْخَطَأُ مَفْتُوحٌ مَصْدَرُهُ مِنَ الإِثْمِ، خَطِئْتُ بِمَعْنَى أَخْطَأْتُ‏.‏ ‏{‏تَخْرِقَ‏}‏ تَقْطَعَ‏.‏ ‏{‏وَإِذْ هُمْ نَجْوَى‏}‏ مَصْدَرٌ مِنْ نَاجَيْتُ، فَوَصَفَهُمْ بِهَا، وَالْمَعْنَى يَتَنَاجَوْنَ ‏{‏رُفَاتًا‏}‏ حُطَامًا ‏{‏وَاسْتَفْزِزْ‏}‏ اسْتَخِفَّ ‏{‏بِخَيْلِكَ‏}‏ الْفُرْسَانِ، وَالرَّجْلُ الرَّجَّالَةُ وَاحِدُهَا رَاجِلٌ مِثْلُ صَاحِبٍ وَصَحْبٍ، وَتَاجِرٍ وَتَجْرٍ‏.‏ ‏{‏حَاصِبًا‏}‏ الرِّيحُ الْعَاصِفُ، وَالْحَاصِبُ أَيْضًا مَا تَرْمِي بِهِ الرِّيحُ وَمِنْهُ ‏{‏حَصَبُ جَهَنَّمَ‏}‏ يُرْمَى بِهِ فِي جَهَنَّمَ، وَهْوَ حَصَبُهَا، وَيُقَالُ حَصَبَ فِي الأَرْضِ ذَهَبَ، وَالْحَصَبُ مُشْتَقٌّ مِنَ الْحَصْبَاءِ وَالْحِجَارَةِ‏.‏ ‏{‏تَارَةً‏}‏ مَرَّةً وَجَمَاعَتُهُ تِيَرَةٌ وَتَارَاتٌ ‏{‏لأَحْتَنِكَنَّ‏}‏ لأَسْتَأْصِلَنَّهُمْ يُقَالُ احْتَنَكَ فُلاَنٌ مَا عِنْدَ فُلاَنٍ مِنْ عِلْمٍ اسْتَقْصَاهُ‏.‏ ‏{‏طَائِرَهُ‏}‏ حَظُّهُ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُلُّ سُلْطَانٍ فِي الْقُرْآنِ فَهُوَ حُجَّةٌ‏.‏ ‏{‏وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ‏}‏ لَمْ يُحَالِفْ أَحَدًا‏.‏

یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ وہ آئندہ فساد کریں گے۔ اور قضا کے کئی معنی آئے ہیں۔ وَقَضَی رَبُّکَ میں یہ معنی ہے کہ اللہ نے حکم دیا اور فیصلہ کرنے کے بھی معنوں میں ہے۔ جیسے اِنَّ رَبَّکَ یَقضِی بَینَھُم میں اور پیدا کرنے کے معنوں میں بھی ہے جیسے فَقَضَا ھُنَّ سَبع سَمٰوٰتٍ میں۔ نفیرا وہ لوگ جو آدمی کے ساتھ لڑنے کے لئے نکلیں۔ وَلِیُتَبِّرُوا یعنی جن شہروں پر غالب ہوں ان کو تباہ کریں۔ حَصِیرًا قیدخانہ، جیل۔ حَقَّ واجب ہوا، ثابت ہوا۔ مَیسُورًا نرم، ملائم۔ خَطَأ گناہ یہ اسم ہے۔ خَطِئتُ سے خَطَأ بالفتح مصدر ہے یعنی گناہ کرنا۔ خطئت بکسرطا اور اخطات دونوں کا ایک معنی ہے یعنی میں نے قصور کیا، غلطی کی۔ لَن تَخرِقَ تو زمین کو طے نہیں کرسکنے کا کیونکہ زمین بہت بڑی ہے۔ نَجوٰی مصدر ہے ناجیتُ یہ ان لوگوں کی صفت بیان کی یعنی آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔ رُفَاتَا ٹوٹے، ریزی ریزہ۔ وَاستَفزِز دیوانہ کر دے، گمراہ کر دے۔ بِخَیلِکَ اپنے سواروں سے۔ رجل پیادے۔ اس کا مفرد راجل ہے جیسے صاحب کی جمع صَحب اور تاجر کی جمع تَجر ہے۔ حَاصِبًا آندھی، حاصب اس کو بھی کہتے ہیں جو ہوا اڑا کر لائے (ری کنکر وغیرہ)۔ اسی سے ہے حَصَبُ جَھَنَّمُ یعنی جو جھنم میں ڈالا جائے گا وہی جھنم کا حصب ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں حَصَبَ فی الارضِ زمین میں گھس گیا۔ یہ حصب حصبا سے نکلا ہے۔ حصباء پتھروں (سنگریزوں) کو۔ تَارۃً ایک بار اس کی جمع تیرۃ اور تارات، لَاَحتَنِکُنَّ ان کو تباہ کر دوں گا، جڑ سے کھود ڈالوں گا۔عرب لوگ کہتے ہیں کہ احتنک فلان ما عند فلان یعنی اس کو جتنی باتیں معلوم تھیں وہ سب اس نے معلوم کر لیں۔ کوئی بات باقی نہ رہی۔ طَائرہ اس کا نصیبہ۔ ابن عباسؓ نے کہا قرآن مجید میں جہاں جہاں قرآن کا لفظ آیا ہے اس کا معنی دلیل اور حجت ہے۔ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ یعنی اس نے کسی سے اس لئے دوستی نہیں کی کہ وہ اس کو ذلت سے بچائے۔

 

Chapter No: 3

باب قَوْلِهِ ‏{‏أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‏}‏

The Statement of Allah, "Glorified is He (Allah) Who took His slave (Muhammad (s.a.w)) for a journey by night from Al-Masjid-al-Haram (at Makkah) to Al-Masjid-al-Aqsa (in Jerusalem) ..." (V.17:1)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول اَسرٰی بِعَبدِہِ لَیلًا مِنَ المَسجِدِ الحَرَامِ ۔ الایہ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle was presented with two cups one containing wine and the other milk on the night of his night journey at Jerusalem. He looked at it and took the milk. Gabriel said, "Thanks to Allah Who guided you to the Fitra (i.e. Islam); if you had taken the wine, your followers would have gone astray.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو یونس سے۔ دوسری سند اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے، انہوں نے ابن شھاب سے۔ سعید بن مسیب نے کہا، ابو ہریرہؓ نے کہا کہ جس رات میں رسول اللہ ﷺ کو بیت المقدس کی طرف لے گئے (یعنی شب معراج میں) آپؐ کے سامنے دو پیالے لائے گئے۔ ایک شراب کا، ایک دودھ کا۔ آپؐ نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالا لے لیا۔ اس وقت جبرائیلؑ نے کہا خدا شکر کا اس نے آپؐ کو فطری پیدائشی رستہ یعنی اسلام بتلایا۔ اگر آپؐ شراب کا پیالہ لے لیتے تو آپؐ کی امت گمراہ ہو جاتی۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ، فَجَلَّى اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ ‏"‏ لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ‏"‏‏.‏ نَحْوَهُ‏.‏ ‏{‏قَاصِفًا‏}‏ رِيحٌ تَقْصِفُ كُلَّ شَىْءٍ‏.

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, "When the Quraish disbelieved me (concerning my night journey), I stood up in Al-Hijr (the unroofed portion of the Ka'ba) and Allah displayed Bait-ul-Maqdis before me, and I started to inform them (Quraish) about its signs while looking at it."

ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے، کہا مجھ کو یونس نے، انہوں نے ابن شھاب سے، ابو سلمہ نے کہا میں نے جابر بن عبداللہؓ انصاری سے سنا ، وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے جب قرش کے کافروں نے مجھ کو جھٹلایا تو حجر (یعنی حطیم) میں کھڑا ہوا۔ اللہ تعالٰی نے (اپنی قدرت سے) بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا۔ میں ان کافروں کو وہاں کی نشانیاں بتانے لگا۔ میں بیت المقدس کو دیکھ رہا تھا۔ یعقوب بن ابراہیم نے کہا ہم سے ابن شھاب کے بھتیجے نے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے چچا (ابن شھاب) سے پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ جب مجھ کو رات کے وقت بیت المقدس تک لے گئے تو قریش کے کافروں نے مجھ کو جھٹلایا۔ قاصف وہ آندھی جو ہر چیز کو تباہ کر دے۔

Chapter No: 4

باب قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ‏}‏

The Statement of Allah, "And indeed, We have honoured the Children of Adam ..." (V.17:70)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَلَقَد کَرَّمنَا بنی آدَمَ کی تفسیر۔

‏كَرَّمْنَا‏}‏ وَأَكْرَمْنَا وَاحِدٌ ‏{‏ضِعْفَ الْحَيَاةِ‏}‏ عَذَابَ الْحَيَاةِ وَعَذَابَ الْمَمَاتِ ‏{‏خِلاَفَكَ‏}‏ وَخَلْفَكَ سَوَاءٌ ‏{‏وَنَأَى‏}‏ تَبَاعَدَ ‏{‏شَاكِلَتِهِ‏}‏ نَاحِيَتِهِ، وَهْىَ مِنْ شَكْلِهِ ‏{‏صَرَّفْنَا‏}‏ وَجَّهْنَا ‏{‏قَبِيلاً‏}‏ مُعَايَنَةً وَمُقَابَلَةً، وَقِيلَ الْقَابِلَةُ لأَنَّهَا مُقَابِلَتُهَا وَتَقْبَلُ وَلَدَهَا ‏{‏خَشْيَةَ الإِنْفَاقِ‏}‏ أَنْفَقَ الرَّجُلُ أَمْلَقَ، وَنَفِقَ الشَّىْءُ ذَهَبَ ‏{‏قَتُورًا‏}‏ مُقَتِّرًا‏.‏ ‏{‏لِلأَذْقَانِ‏}‏ مُجْتَمَعُ اللَّحْيَيْنِ، وَالْوَاحِدُ ذَقَنٌ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏مَوْفُورًا‏}‏ وَافِرًا ‏{‏تَبِيعًا‏}‏ ثَائِرًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَصِيرًا‏.‏ ‏{‏خَبَتْ‏}‏ طَفِئَتْ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏لاَ تُبَذِّرْ‏}‏ لاَ تُنْفِقْ فِي الْبَاطِلِ ‏{‏ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ‏}‏ رِزْقٍ ‏{‏مَثْبُورًا‏}‏ مَلْعُونًا ‏{‏لاَ تَقْفُ‏}‏ لاَ تَقُلْ ‏{‏فَجَاسُوا‏}‏ تَيَمَّمُوا‏.‏ يُزْجِي الْفُلْكَ يُجْرِي الْفُلْكَ ‏{‏يَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ‏}‏ لِلْوُجُوهِ‏.

"And when We decide to destroy a town, We (first) send a definite order (to obey Allah and be righteous) to those among them who lead a life of luxury. Then they transgress therein ..." (V.17:16)

کرَّمنا اور اکرمنا دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ ضِعفَ الحَوۃ زندگی کا عذاب اور ضعف الممات موت کا عذاب۔ خِلَافَکَ اور خَلفَکَ (دونوں قراتیں ہیں) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی تمھارے بعد نأی دور ہوا۔ شاکلۃ اپنے رستے پر (یا اپنی نیت پر) یہ شکل سے نکلا ہے (یعنی جوڑ اور شیبہ) صَرَّفنَا سامنے لائے (بیان کیئے) قَبِیلًا آنکھوں کے سامنے، روبرو۔ بعضوں نے کہا یہ قابلہ سے نکلا ہے جس کے معنی دائی (جنانے والی) کیونکہ وہ بھی جنائے وقت عورت کے مقابل ہوتی ہے۔ اس کا بچہ قبول کرتی ہی یعنی سنبھالتی ہے۔ اِنفاق مفلس ہو جانا۔ کہتے ہیں انفق رجل جب وہ مفلس ہو جائے۔ اور نَفَقَ الشَّیٔ جب کوئی چیز تمام ہو جائے۔ قَتُورًا بخیل، اَذقَان ذقن کی جمع ہے جہاں دونوں جبڑے ملتے ہیں (ٹھوڑی) مجاہد نے کہا مَوفُورًا وافر کے معنوں میں ہے یعنی پورا۔ تَبِیعًا یعنی بدلہ لینے والا اور ابن عباسؓ نے کہا مددگار۔ خَبَت بجھ جائے گی۔ اور ابن عباسؓ نے کہا لَا تُبذِر ناجائز کاموں میں اپنا پیسہ مت خرچ کر۔ اِبتِغَاءً رَحمَۃٍ روزی کی تلاش میں۔ مَثبُورا ملعون لَا تَقفُ مت کہہ۔ فَجَاسُوا قصد کیا۔ یُزجِی الفُلکِ کشتی چلاتا ہے۔ یَخِرُّونَ لِلاَذقَانِ منہ کے بل گر پڑتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ لِلْحَىِّ إِذَا كَثُرُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَمِرَ بَنُو فُلاَنٍ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ أَمِرَ‏.‏

Narrated By Abdullah : During the Pre-Islamic period of ignorance if any tribe became great in number, we used to say, "Amira the children of so-and-so." Narrated By Al-Humaidi : Sufyan narrated to us something and used the word 'Amira'.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہوں نے ابو وائل سے کہا انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، وہ کہتے تھے جب جاہلیت کے زمانے میں کسی قبیلے کے لوگ بہت ہو جاتے تو کہتے اُمِرَ بَنُو فُلَانٍ

Chapter No: 5

باب ‏{‏ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا‏}‏

"O offspring of those whom We carried (in the ship) with Nuh (Noah)! Verily, he was a grateful slave." (V.17:3)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول ذُرِّیَۃَ مَن حَمَلنَا مَعَ نُوحٍ اِنَّہُ کَانَ عَبدًا شَکُورًا کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِكَ يُجْمَعُ النَّاسُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لاَ يُطِيقُونَ وَلاَ يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ النَّاسُ أَلاَ تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ أَلاَ تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ عَلَيْكُمْ بِآدَمَ فَيَأْتُونَ آدَمَ عليه السلام فَيَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ‏.‏ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ إِنَّكَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَقَدْ سَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ كَذَبْتُ ثَلاَثَ كَذَبَاتٍ ـ فَذَكَرَهُنَّ أَبُو حَيَّانَ فِي الْحَدِيثِ ـ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلاَمِهِ عَلَى النَّاسِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى، فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا اشْفَعْ لَنَا أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ عِيسَى إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ـ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَنْبًا ـ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لاَ حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ، ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَحِمْيَرَ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Some (cooked) meat was brought to Allah Apostle and the meat of a forearm was presented to him as he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know the reason for it? Allah will gather all the human being of early generations as well as late generation on one plain so that the announcer will be able to make them all-hear his voice and the watcher will be able to see all of them. The sun will come so close to the people that they will suffer such distress and trouble as they will not be able to bear or stand. Then the people will say, 'Don't you see to what state you have reached? Won't you look for someone who can intercede for you with your Lord' Some people will say to some others, 'Go to Adam.' So they will go to Adam and say to him. 'You are the father of mankind; Allah created you with His Own Hand, and breathed into you of His Spirit (meaning the spirit which he created for you); and ordered the angels to prostrate before you; so (please) intercede for us with your Lord. Don't you see in what state we are? Don't you see what condition we have reached?' Adam will say, 'Today my Lord has become angry as He has never become before, nor will ever become thereafter. He forbade me (to eat of the fruit of) the tree, but I disobeyed Him. Myself! Myself! Myself! (has more need for intercession). Go to someone else; go to Noah.' So they will go to Noah and say (to him), 'O Noah! You are the first (of Allah's Messengers) to the people of the earth, and Allah has named you a thankful slave; please intercede for us with your Lord. Don't you see in what state we are?' He will say.' Today my Lord has become angry as He has never become nor will ever become thereafter. I had (in the world) the right to make one definitely accepted invocation, and I made it against my nation. Myself! Myself! Myself! Go to someone else; go to Abraham.' They will go to Abraham and say, 'O Abraham! You are Allah's Apostle and His Khalil from among the people of the earth; so please intercede for us with your Lord. Don't you see in what state we are?' He will say to them, 'My Lord has today become angry as He has never become before, nor will ever become thereafter. I had told three lies (Abu Haiyan (the sub-narrator) mentioned them in the Hadith) Myself! Myself! Myself! Go to someone else; go to Moses.' The people will then go to Moses and say, 'O Moses! You art Allah's Apostle and Allah gave you superiority above the others with this message and with His direct Talk to you; (please) intercede for us with your Lord Don't you see in what state we are?' Moses will say, 'My Lord has today become angry as He has never become before, nor will become thereafter, I killed a person whom I had not been ordered to kill. Myself! Myself! Myself! Go to someone else; go to Jesus.' So they will go to Jesus and say, 'O Jesus! You are Allah's Apostle and His Word which He sent to Mary, and a superior soul created by Him, and you talked to the people while still young in the cradle. Please intercede for us with your Lord. Don't you see in what state we are?' Jesus will say. 'My Lord has today become angry as He has never become before nor will ever become thereafter. Jesus will not mention any sin, but will say, 'Myself! Myself! Myself! Go to someone else; go to Muhammad.' So they will come to me and say, 'O Muhammad ! You are Allah's Apostle and the last of the prophets, and Allah forgave your early and late sins. (Please) intercede for us with your Lord. Don't you see in what state we are?" The Prophet added, "Then I will go beneath Allah's Throne and fall in prostration before my Lord. And then Allah will guide me to such praises and glorification to Him as He has never guided anybody else before me. Then it will be said, 'O Muhammad Raise your head. Ask, and it will be granted. Intercede It (your intercession) will be accepted.' So I will raise my head and Say, 'My followers, O my Lord! My followers, O my Lord'. It will be said, 'O Muhammad! Let those of your followers who have no accounts, enter through such a gate of the gates of Paradise as lies on the right; and they will share the other gates with the people." The Prophet further said, "By Him in Whose Hand my soul is, the distance between every two gate-posts of Paradise is like the distance between Mecca and Busra (in Sham)."

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو ابو حیان (یحیی بن سعید) تیمی نے بیان کیا، انہوں نے ابو زرعہ (ہرم) بن عمرو بن جریر سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت لائے تو دست کا گوشت آپؐ کو اٹھا کر دیا گیا۔ وہ آپؐ کو بہت پسند تھا۔ آپؐ نے دانتوں سے اس کو ایک بار نوچا پھر فرمانے لگے کہ قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار بنوں گا۔ تم جانتے ہو کس وجہ سے ایسا ہو گا۔ (قیامت کے دن) اللہ تعالٰی اگلوں پچھلوں سب کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا (وہ میدان ایسا ہموار ہو گا) کہ پکارنے والا اپنی آواز ان کو سنا سکے گا۔ اور دیکھنے والا ان سب کو دیکھ سکے گا۔ سورج اتنا نزدیک آ جائے گا، لوگوں کو اتنا غم ہو گا، ایسی تکلیف ہو گی جس کا تحمل نہ کر سکیں گے، اٹھاا نہ سکیں گے۔ آخر (مجبور ہو کر) آپس میں کہیں گے بھائیو ! دیکھتے ہو کیا نوبت آن پہنچی ہے (کیسا سخت وقت ہے)۔ چلو اب کسی ایسے شخص کو ڈھنڈو جو پروردگار کے پاس تمھارے کچھ سفارش کرے۔ پھر مشورہ کر کے یہ کہیں گے کہ آدمؑ کے پاس چلو۔ ان کو پاس جائیں گے۔ اور ان سے کہیں گے آپؐ سب انسانوں کے باپ ہیں اللہ نے آپ کو اپنے مبارک ہاتھوں سے بنایا، اپنی روح آپ میں پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں۔اب آپؐ پروردگار سے ہماری سفارش کریں آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس تکلیف میں ہیں ہمارا حال کس حد تک پہنچا ہے (سر سے پاؤں تک پسینے میں ٖغرق، پیاسے، بھوکے)۔ آدمؑ کہیں گے (بیٹا) آج میرا پروردگار ایسے جلال میں ہے (غصے میں) کہ اتنے جلال میں کبھی نہ تھا اور نہ ہو گا۔ اور (مجھ سے ایک خطا ہو چکی ہے) اس نے(گیہوں) درخت کھانے سے مجھ کو منع کیا تھا لیکن میں نے کھا لیا۔ (بیٹا)نفسی نفسی نفسی (مجھے اپنی فکر پڑی ہے) تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ نوحؑ کے پاس جاؤ۔ یہ سن کر وہ نوحؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے نوحؑ ! تم پہلے پیغمبر ہو جوزمین والوں کی طرف بھیجے گئے اور اللہ تعالٰی نے تم کو (سورۃ بنی اسرائیل میں) اپنا شکرگزار بندہ فرما یا اِنَّہُ کَانَ عَبدًا شَکُورًا ۔ اب تم اپنے پروردگار کے پاس جاؤ اور ہماری سفارش کرو۔ ہمارا حال نہیں دیکھتے کہ ہم کس تکلیف میں مبتلا ہیں۔ وہ کہیں گے میرا پروردگار جل جلالہ آج ایسے غصے میں ہےکہ ویسا غصہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔ اور (مجھ سے دنیا میں ایک خطا ہو گئی تھی) میں نے اپنی قوم والوں پر بددعا کی (وہ سب ہلاک ہو گئے حالانکہ اللہ کی مرضی پر چھوڑ دینا بہتر تھا)۔ بھائیو ! نفسی نفسی نفسی کا وقت ہے اور کہیں جاؤ۔ ابراہیم پیغمبرؑ کے پاس جاؤ۔ یہ سن کر وہ سب ابراہیمؑ کے پاس آئینگے۔ ان سے کہیں گے اے ابراہیمؑ تم اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے خلیل (جانی دوست) ہو۔ پروردگار کے پاس کچھ سفارش کرو۔(کلمۃ الخیر کہو) ہمارا حال نہیں دیکھتے کیسا خراب ہو رہا ہے۔ وہ کہیں گے آج میرا پروردگار بے طرح غصے ہے۔ ایسا غصے کبھی ہوا تھا اور نہ ہو گا۔ اور میں نے (دنیا میں ایک خطا کی تھی) تین جھوٹ بولے تھے۔ ابو حبان راوی نے اس حدیث میں تینوں جھوٹ باتوں کو بیان کیا۔ بھائیو ! نفسی نفسی نفسی پڑی ہے کہیں اور جاؤ۔ اچھا موسٰیؑ پیغمبر کے پاس جاؤ۔یہ سن کو وہ سب موسٰیؑ کے پاس آئیں گے۔ ان سے عرض کریں گے اللہ نے تم سے گفتگو کر کے اور تم کو خاص پیغمبر بنا کر اور لوگوں پر بزرگی دی۔ بھلا کچھ ہماری سفارش اپنے پروردگار کے حضور میں کرو۔ دیکھو تو ہماری کیا کیفیت ہے (کیسی آفت میں گرفتار ہیں) ۔ موسٰیؑ کہیں گے آج تو میرا مالک بہت غصہ میں ہے۔ ایسا غصہ کبھی نہیں ہواتھا نہ آئندہ ہو گا۔ اور میں نے (دنیا میں ایک خطا کی تھی) ایک شخص کا خون مجھ سے ہو گیا تھا جس کو مار ڈالنے کا حکم نہیں تھا۔ بھائیو ! نفسی نفسی نفسی پڑی ہے اور کہیں جاؤ۔ اچھا عیسٰیؑ کے پاس جاؤ۔سب جمع ہو کر عیسٰیؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ اللہ کے رسول اور اس کی بات ہیں جو اللہ نے مریمؑ میں ڈالی دی تھی، اور اللہ کی روح ہیں۔ آپ نے گود میں رہ کر بچپن میں لوگوں سے باتیں کی تھیں۔ ہماری کچھ سفارش کرو (اس آفت سے چھڑاؤ دیکھو ہم کس مصیبت میں گرفتار ہیں) عیسٰیؑ کہیں گے بھائی آج تو عجب حال ہے۔ پروردگار ایسے غصہ میں ہے کہ ویسا غصے کبھی نہ ہوا تھا نہ آئندہ ہو گا۔(راوی نے) عیسٰیؑ کا کوئی گنا بیان نہیں کیا۔ مجھے تو نفسی نفسی نفسی (اپنی فکر) پڑی ہے۔ اور کہیں جاؤ۔ اچھا محمدﷺ کے پاس جاؤ۔ یہ سن کر سب (اگلے پچھلے) میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمدﷺ! آپؐ اللہ کے پیغمبر اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ نے (اپنے فضل سے) آپؐ کی اگلی اور پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں۔ اب ذرا ہماری کچھ سفارش کر دیجئے۔ آپؐ دیکھتے ہیں ہمارا کیا حال ہو رہا ہے۔ میں یہ سنتے ہی (میدان حشر سے) چلونگا اور عرش کے تلے پہنچ کر اپنے پروردگار کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پروردگار اپنی خوبی اور تعریف کی وہ باتیں میرے دل میں ڈالے گا (میری زبان سے نکلوائے گا) جو کسی کو نہیں بتلائیں۔ پھر ارشاد ہو گا محمدﷺ سر اٹھا مانگ جو مانگتا ہے، وہ ملے گا جس کی سفارش کرے گا۔ہم سنیں گے میں سر اٹھا کر عرض کرونگا پروردگار میری امت پر رحم فرما، میری امت پر رحم فرما۔پروردگار میری امت ہر رحم فرما ۔ ارشاد ہو گا ہو گا۔ اپنی امت میں سے (ستر ہزار آدمیوں) کو جن کا حساب کتاب نہیں ہوگا بہشت کے داہنے دروازے سے جنت میں لے جا اور یہ لوگ باقی دروازوں میں سے بھی اور لوگوں کی طرح جا سکتے ہیں۔ پھر رسول ﷺ نے فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بہشت کے پھاٹک کے دونوں پٹوں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے مکہ اور حمیر یعنی صنعا اور حمیر میں جو یمن کا پائے تخت ہے یا جیسے مکہ اور بصری میں (شام کے ایک ملک میں ہے)۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا‏}‏

The Statement of Allah, "... And to Dawud (David) We gave the Zabur (Psalms)." (V.17:55)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ اٰتَینَا دَاودَ زَبُورًا کی تفسیر

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ لِتُسْرَجَ، فَكَانَ يَقْرَأُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي الْقُرْآنَ‏.

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The recitation of Psalms (David's Qur'an) was made light and easy for David that he used to have his ridding animal be saddled while he would finish the recitation before the servant had saddled it."

ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، انہوں نے معمر سے، انہوں نے حمام بن منبہ سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے، آپؐ نے فرمایا داؤد پیغمبرؑ پر (تورات یا زبور کا) پڑھنا آسان کر دیا تھا۔ وہ اپنے جانور پر زین کسنے کا حکم دیتے پھر زین کسے جانے سے پہلے ہی پڑھ چکتے یعنی اللہ کی کتاب

Chapter No: 7

باب ‏{‏قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ }‏الآية

"Say (O Muhammad (s.a.w)), 'Call upon those besides Him whom you pretend (to be gods) ...'" (V.17:56)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول قُل ادعُوا الَّذِینَ زَعَمتُم مِن دُونِہِ کی تفسیر

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏{‏إِلَى رَبِّهِمِ الْوَسِيلَةَ‏}‏ قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنَ الإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَاسًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ الْجِنُّ، وَتَمَسَّكَ هَؤُلاَءِ بِدِينِهِمْ‏.‏ زَادَ الأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏ ‏{‏قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ‏}‏

Narrated By Abdullah : Regarding the explanation of the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary, angels etc.) desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) as to which of them should be the nearer and they hope for His Mercy and fear His torment.' (17.57) They themselves (e.g. Angels, saints, Apostles, Jesus, etc.,) worshipped Allah, Those Jinns who were worshipped by some Arabs became Muslims (embraced Islam), but those human beings stuck to their (old) religion. Al-Amash said extra: 'Say, (O Muhammad): Call unto those besides Him whom you assume (to be gods).' (17.56)

مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے، انہوں نے ابراہیم نخعی انہوں نے ابو معمر (عبداللہ بن نجرہ) سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا اُولٰئِکَ الَّذِینَ یَدعُونَ یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّھِمُ الوَسِیلَۃ اس کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ پھر ایسا ہوا وہ جن مسلمان ہو گئے۔ اور یہ مشرک انہی کی پرستش کرتے رہے، شرک پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان ثوری سے روایت کیا، انہوں نے اعمش سے۔ اس میں یوں ہے۔ اس آیت قُل ادعُوا الَّذِینَ زَعَمتُم مِن دُونِہِ کا شان نزول یہ ہے۔

Chapter No: 8

باب قَوْلِهِ ‏{‏أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمِ الْوَسِيلَةَ‏}‏ الآيَةَ

His (Allah) Statement, "Those whom they call upon, desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) ..." (V.17:57)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول اُولٰئِکَ الَّذِینَ یَدعُونَ یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّھِمُ الوَسِیلَۃ کی تفسیر

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمِ الْوَسِيلَةَ‏}‏ قَالَ نَاسٌ مِنَ الْجِنِّ ‏{‏كَانُوا‏}‏ يُعْبَدُونَ فَأَسْلَمُوا‏.‏

Narrated By Abdullah : Regarding the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary or angels etc.) desire (for themselves) means of access, to their Lord...' (17.57) (It was revealed regarding) some Jinns who used to be worshipped (by human beings). They later embraced Islam (while those people kept on worshipping them).

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابو معمر سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے اس آیت اُولٰئِکَ الَّذِینَ یَدعُونَ یَبتَغُونَ اِلٰی رَبِّھِمُ الوَسِیلَۃ کی تفسیر نے کہا کچھ جن ایسے تھے جن کی لوگ پرستش کرتے تھے پھر وہ جن مسلمان ہو گئے۔

Chapter No: 9

باب ‏{‏وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ‏}‏

"And We made not the vision which We showed you (O Muhammad (s.a.w)), but a trial for mankind ..." (V.17:60)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ مَا جَعَلنَا الرُّؤیَا الَّتِی اَرَنَاکَ اِلَّا فِتنَۃً لِّلنَّاسِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ ‏{‏وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ‏}‏ قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ‏{‏وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ‏}‏ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : Regarding: 'And We granted the vision (Ascension to the Heaven "Miraj") which We showed you (O Muhammad as an actual eye witness) but as a trial for mankind.' (17.60) It was an actual eye-witness which was shown to Allah's Apostle during the night he was taken on a journey (through the heavens). And the cursed tree is the tree of Az-Zaqqum (a bitter pungent tree which grows at the bottom of Hell).

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا اس آیت وَ مَا جَعَلنَا الرُّؤیَا الَّتِی سے آنکھ کا دیکھنا مراد ہے(بیداری میں نہ کہ خواب میں) یعنی وہ جناب محمدﷺ کو شب معراج میں دکھایا گیا تھا۔ اور شجر ملعونہ سے تھوہر کا درخت مراد ہے۔

Chapter No: 10

باب قَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا‏}‏

The Statement of Allah, "Verily, the recitation of the Quran in the early dawn is ever witnessed>" (V.17:78)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول اِنَّ قُراٰنَ الفَجرِ کَانَ مَشھُودًاِ کی تفسیر

قَالَ مُجَاهِدٌ صَلاَةَ الْفَجْرِ‏

Mujahid said, "(It) means the Fajr Salat."

مجاید نے کہا قرآن فجر سے مراد صبح کی نماز ہے

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَضْلُ صَلاَةِ الْجَمِيعِ عَلَى صَلاَةِ الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً، وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏"‏‏.‏ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا‏}‏

Narrated By Ibn Al-Musaiyab : Abu Huraira said, "The Prophet said, 'A prayer performed in congregation is twenty-five times more superior in reward to a prayer performed by a single person. The angels of the night and the angels of the day are assembled at the time of the Fajr (Morning) prayer." Abu Huraira added, "If you wish, you can recite: 'Verily! The recitation of the Qur'an in the early dawn (Morning prayer) is ever witnessed (attended by the angels of the day and the night).' (17.78)

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن مسیب سے،ان دونوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا جماعت کی نماز اکیلے نماز پڑھنے پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اور رات، دن کے فرشتے صبح کی نماز میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ابو ہریرہؓ یہ حدیث شریف بیان کرنے کے بعد فرماتے تھے اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھو وَ قُراٰنَ الفَجرِ اِنَّ قُراٰنَ الفَجرِ کَانَ مَشھُودًاِ

12