Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ‏{‏الْمُخْبِتِينَ‏}‏ الْمُطْمَئِنِّينَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏فِي أُمْنِيَّتِهِ‏}‏ إِذَا حَدَّثَ أَلْقَى الشَّيْطَانُ، فِي حَدِيثِهِ، فَيُبْطِلُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ وَيُحْكِمُ آيَاتِهِ‏.‏ وَيُقَالُ أُمْنِيَّتُهُ قِرَاءَتُهُ ‏{‏إِلاَّ أَمَانِيَّ‏}‏ يَقْرَءُونَ وَلاَ يَكْتُبُونَ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَشِيدٌ بِالْقَصَّةِ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏يَسْطُونَ‏}‏ يَفْرُطُونَ مِنَ السَّطْوَةِ، وَيُقَالُ يَسْطُونَ يَبْطُشُونَ‏.‏ ‏{‏وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ‏}‏ أُلْهِمُوا‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏بِسَبَبٍ‏}‏ بِحَبْلٍ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ‏.‏ ‏{‏تَذْهَلُ‏}‏ تُشْغَلُ‏.

سفیان بن عیینہ کہتے ہیں اَلمُخنِتِین اللہ پر بھروسہ کرنے والے یا اللہ کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے۔ اور ابن عباسؓ نے اس آیت کی اِذَا تَمِنَّی القَی الشَّیطَانُ فِی اُمنِیَّتِہِ کی تفسیر میں کہا جب پیغمر کلام کرتا ہے (اللہ کا حکم سناتا ہے) تو شیطان اس کی بات میں اپنی طرف سے (پیغمبر کی آواز بنا کر) کچھ ملا دیتا ہے۔ پھر اللہ شیطان کا لایا ہوا میٹ دیتا ہے اور اپنی (سچی) آیتوں کو قائم رکھتا ہے۔ بعضوں نے کہا امنیتہ سے پیغمبر کی قراءت مراد ہے۔ الاَمَانیّ (جو سورہ البقرہ میں ہے) اس کا مطلب یہ ہے پڑھتے ہیں پرلکھتے نہیں۔ اور مجاہد نے کہا کہ (طبری نے اس کو وصل کیا ہے)۔ مشید کے معنی گچی (چونے سے) مضبوط کیئے گئے۔ اوروں نے کہا یَسطُونَ کا معنی زور کرتے ہیں۔زیادتی کرتے ہیں۔ یہ سطوت سے نکلا ہے۔ بعضوں نے کہا یسطون سخت پکڑتے ہیں۔ وَ ھُدُوا الَی الطَّیِّب مِنَ القَولِ یعنی اچھی بات کا ان کو الہام کیا گیا۔ ابن عباسؓ نے کہا بِسَبَبٍ کے معنی رسی جو چھت تک لگی ہو۔ تَذھَل غافل ہو جائے۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ‏:{‏وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى‏}‏

The Statement of Allah, "... And you shall see mankind as in a drunken state ..." (V.22:2)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی کی تفسیر

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ‏.‏ يَقُولُ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ‏.‏ قَالَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ ـ أُرَاهُ قَالَ ـ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَحِينَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا وَيَشِيبُ الْوَلِيدُ ‏{‏وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ‏}‏ ‏"‏‏.‏ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ، ثُمَّ أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الأَبْيَضِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَكَبَّرْنَا‏.‏ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الأَعْمَشِ ‏{‏تَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى‏}‏ وَقَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ‏.‏ وَقَالَ جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ‏{‏سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى‏}‏‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : The Prophet said, "On the day of Resurrection Allah will say, 'O Adam!' Adam will reply, 'Labbaik our Lord, and Sa'daik ' Then there will be a loud call (saying), Allah orders you to take from among your offspring a mission for the (Hell) Fire.' Adam will say, 'O Lord! Who are the mission for the (Hell) Fire?' Allah will say, 'Out of each thousand, take out 999.' At that time every pregnant female shall drop her load (have a miscarriage) and a child will have grey hair. And you shall see mankind as in a drunken state, yet not drunk, but severe will be the torment of Allah." (22.2) (When the Prophet mentioned this), the people were so distressed (and afraid) that their faces got changed (in colour) whereupon the Prophet said, "From Gog and Magog nine-hundred ninety-nine will be taken out and one from you. You Muslims (compared to the large number of other people) will be like a black hair on the side of a white ox, or a white hair on the side of a black ox, and I hope that you will be one-fourth of the people of Paradise." On that, we said, "Allahu-Akbar!" Then he said, "I hope that you will be) one-third of the people of Paradise." We again said, "Allahu-Akbar!" Then he said, "(I hope that you will be) one-half of the people of Paradise." So we said, Allahu-Akbar."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ہم سے ابو صالح نے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالٰی قیامت کے دن آدمؑ سے فرمائے گا اے آدمؑ ! وہ کہیں گے حاضر ہوں۔ جو ارشاد۔ پورودگار آواز سے پکارے گا (یا فرشتہ پروردگار کی طرف سے آواز دے گا) اللہ کا یہ حکم ہے کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا جتھا نکال۔ وہ عرض کرینگے پروردگار!دوزخ کا جتھا کتنا نکالوں۔ حکم ہو گا (راوی نے کہا میں سمجھتا ہوں) ہر ہزار آدمیوں میں سے نو سو ننانوے (گویا ہزار میں سے ایک جنتی ہو گا)۔ یہ ایسا سخت وقت ہو گا کہ پیٹ والی کا پیٹ گر جائے گا۔ اور بچہ (فکر کے مارے) بوڑھا ہو جائے گا۔ یعنی جو بیچینی میں مرا ہو۔ اور تو قیامت کے دن لوگوں کو ایسا دیکھے گا جیسے وہ نشے میں متوالے ہو رہے ہیں۔ حالانکہ ان کو نشہ نہ ہو گا۔ بلکہ اللہ کا عذاب ایسا سخت ہو گا۔ یہ حدیث جو صحابہ حاضر تھے، ان پر سخت گزری اور ان کے چہرے ڈر کے مارے بدل گئے۔ اس وقت نبیﷺنے ان کو (تسلی کے لئے) فرمایا (تم اتنا کیوں ڈرتے ہو) اگر یاجوج اور ماجوج کی (جو کافر ہیں) نسل تم سے ملائی جائےتو ان میں سے نو سو ننانوے کے مقابل تم میں سے ایک آدمی پڑے گا۔ غرض تم لوگ حشر کے دن دوسرے لوگوں کی نسبت( جو دوزخی ہونگے( ایسے ہوں گے جیسے سفید بیل کے جسم پر ایک ریان کالا ہوتا ہے یا جیسے کالے بیل کے جسم پر ایک ریان سفید ہوتا ہے۔ اور مجھ کو یہ امید ہے تم لوگ سارے بہشتیوں کا چوتھائی حصہ ہو گے (باقی تین حصوں میں اور سب امتیں) یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا (اللہ کا شکر ادا کیا) پھر فرمایا نہیں تم تہائی حصہ وہ گے۔ ہم نے تکبیر کہی۔ پھر فرمایا نہیں تم آدھا حصہ ہو گے (آدھے حصے میں اور سب امتیں) ہم نے پھر تکبیر کہی۔ ابو اسامہ نے اعمش سے یوں روایت کی۔ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ھُم بِسُکٰرِی جیسے مشہور قراءت ہے ۔ ہر ہزار سے نو سو ننانوے نکال (تو ان کی روایت حفص بن غیاث کے موافق ہے) اور جریر بن عبد الحمید اور عیسٰی بن یونس اور معاویہ نے یوں نقل کیا تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ھُم بِسُکٰرِی۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ }

"And among mankind is he who worships Allah as it were, upon the very edge ..." (V.22:11)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ مِنَ النَّاسِ مَن یَّعبُدُ اللہَ عَلٰی حرفٍ کی تفسیر۔

شَكٍّ.{‏أَتْرَفْنَاهُمْ‏}‏ وَسَّعْنَاهُمْ‏

حرف کا معنی شک اور تردد۔ اترفناھم کشائش دیں (یعنی ان پر روزی کشادہ کریں)۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ ‏{‏وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ‏}‏ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْمَدِينَةَ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُهُ غُلاَمًا، وَنُتِجَتْ خَيْلُهُ قَالَ هَذَا دِينٌ صَالِحٌ‏.‏ وَإِنْ لَمْ تَلِدِ امْرَأَتُهُ وَلَمْ تُنْتَجْ خَيْلُهُ قَالَ هَذَا دِينُ سُوءٍ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : Regarding the Verse: "And among men is he who worships Allah's as it were on the very edge." (22.11). A man used to come to Medina as if his wife brought a son and his mares produces offspring. He would say, "This religion (Islam) is good," but if his wife did not give birth to a child and his mares produced no offspring, he would say, "This religion is bad."

مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن ابی بکیر نے، کہا ہم سے اسرائیل نے، انہوں نے ابو حصین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا وَ مِنَ النَّاسِ مَن یَّعبُدُ اللہَ عَلٰی حرفٍ کا شان نزول یہ ہے کہ کوئی شخص مدینہ منورہ میں آتا اور مسلمان ہو جاتا۔ پھر اس کی عورت لڑکا جنتی اور اس کی گھوڑیاں بچے جنتیں تو تب (خوش ہو کر) کہتا یہ دین اچھا ہے۔ اور جب اس کی عورت لڑکا نہ جنتی اور گھوڑیاں بھی اولاد نہ پیدا کرتیں تو رنجیدہ ہو کر کہتا یہ دین خراب ہے (منحوس ہے)

Chapter No: 3

باب قَوْلِهِ ‏{‏هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ‏}‏

The Statement of Allah, "These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord ..." (V.22:19)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول ھَذَانِ خَصمَانِ اختَصَمُوا فِی رَبِّھِم کی تفسیر

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ يُقْسِمُ فِيهَا إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ‏}‏ نَزَلَتْ فِي حَمْزَةَ وَصَاحِبَيْهِ، وَعُتْبَةَ وَصَاحِبَيْهِ يَوْمَ بَرَزُوا فِي يَوْمِ بَدْرٍ رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ‏.‏ وَقَالَ عُثْمَانُ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَوْلَهُ‏.‏

Narrated By Qais bin Ubad : Abu Dharr used to take an oath confirming that the Verse: 'These two opponents (believers, and disbelievers) dispute with each other about their Lord.' (22.19) was Revealed in connection with Hamza and his two companions and 'Utbah and his two companions on the day when they ease out of the battle of Badr.

ہم سے حجاج بن منھال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے، کہا ہم کو ابو ہاشم نے، انہوں نے ابو مجلز (لاحق) سے، انہوں نے قیس بن عباد سے، انہوں نے ابو ذرؓ سے، انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ یہ آیت ھَذَانِ خَصمَانِ اختَصَمُوا فِی رَبِّھِم حمزہ اور ان کے دونوں ساتھیوں (علیؓ اور عبیدہ بن حارث) اور عتبہ بن ربیعہ اور اس کے دونوں ساتھیوں (شیبہ اور ولید) کے باب میں اتری۔ جس دن یہ لوگ بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لئے نکلے۔ اس حدیث کو سفیان ثوری نے بھی ابو ہاشم سے روایت کیا ہے اور عثمان بن ابی شیبہ نے اس حدیث کو جریر سے انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابو ہاشم سے، انہوں نے ابو مجلز سے، ابو مجلز کا قول روایت کیا۔


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَنَا أَوَّلُ، مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَىِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏.‏ قَالَ قَيْسٌ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ ‏{‏هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ‏}‏ قَالَ هُمُ الَّذِينَ بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ وَعُبَيْدَةُ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ‏.‏

Narrated By Qais bin Ubad : 'Ali said, "I will be the first to kneel before the Beneficent on the Day of Resurrection because of the dispute." Qais said, "This Verse: 'These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord,' (22.19) was revealed in connection with those who came out for the Battle of Badr, i.e. 'Ali, Hamza, 'Ubaida, Shaiba bin Rabi'a, 'Utba bin Rabi'a and Al-Walid bin Utba."

ہم حجاج بن منھال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے کہا میں نے اپنے والد (سلیمان بن خرخان) سے سنا، کہا ہم سے ابو مجلز نے بیان کیا، انہوں نے قیس بن عباد سے، انہوں نے علیؓ سے، انہوں نے کہا سب سے پہلے میں قیامت کے دن پروردگار کے سامنے دو زانو بیٹھ کر اپنا مقدمہ پیش کرونگا۔ قیس نے کہا یہ آیت ھَذَانِ خَصمَانِ اختَصَمُوا فِی رَبِّھِم ان لوگوں کے باب میں اتری جو بدر کے دن لڑائی کے لئے نکلے تھے یعنی علیؓ اور حمزہؓ اور عبیدہؓ (مسلمانوں کی طرف سے) اور شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ (کافروں کی طرف سے)۔