Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

‏{‏الْجَلاَءَ‏}‏ الإِخْرَاجُ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ

جلاء کہتے ہیں ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف نکال دینے کو۔

 

Chapter No: 1

باب

Chapter

باب :

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ، مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ، حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا لَمْ تُبْقِ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلاَّ ذُكِرَ فِيهَا‏.‏ قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الأَنْفَالِ‏.‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ‏.‏ قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الْحَشْرِ‏.‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ‏.‏

Narrated By Said bin Jubair : I asked Ibn Abbas about Surat Al-Tauba, and he said, "Surat Al-Tauba? It is exposure (of all the evils of the infidels and the hypocrites). And it continued revealing (that the oft-repeated expression): '...and of them... and of them.' till they started thinking that none would be left unmentioned therein." I said, "What about) Surat Al-Anfal?" He replied, "Surat Al-Anfal was revealed in connection with the Badr Battle." I said, "(What about) Surat Al-Hashr?" He replied, "It was revealed in connection with Bani an-Nadir."

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے، کہا ہم سے ہشیم نے، کہا ہم کو ابو البشر (جعفر) نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے، سورہ براءت کو سورہ توبہ کہا۔ انہوں نے کہا یہ سورت توبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ۔اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں بعض لوگ ایسے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا ذکر نہیں چھوڑنے کی۔ میں نے سورہ الانفال کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا یہ سورت جنگ بدر کے باب میں اتری۔ میں نے کہا سورہ حشر۔ انہوں نے کہا یہ سورت بنی بضیر یہودیوں کے باب میں اتری۔


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ سُورَةُ الْحَشْرِ قَالَ قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ‏.‏

Narrated By Said : I asked Ibn 'Abbas about Surat Al-Hashr. He replied, "Say Surat An-Nadir."

ہم سے حسب بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن حماد نے، کہا ہم کو ابو عوانہ نے، انہوں نے ابو البشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے انہوں نے کہا میں نے ابن عباسؓ سے کہا سورہ حشر۔ انہوں نے کہا یوں کہہ سورہ بنو نضیر۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ‏}‏

The Statement of Allah, "What you (Muslims) cut down of the palm-trees (of the enemy) ..." (V.59:5)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول مَا قَطَعتُم مِن لَّینَۃٍ کی تفسیر۔

نَخْلَةٍ مَا لَمْ تَكُنْ عَجْوَةً أَوْ بَرْنِيَّةً‏

لینۃٍ کہتے ہیں عجوہ اور برنی کے سوا کھجور کے درختوں کو۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، وَهْىَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ‏}‏

Narrated By Ibn Umar : 'Allah's Apostle burnt and cut down the palm trees of Bani An-Nadir which were at Al-Buwair (a place near Medina). There upon Allah revealed: 'What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy) or you left them standing on their stems, it was by the leave of Allah, so that He might cover with shame the rebellious.' (59.5)

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے بنی نضیر یہودیوں کے کھجور کے درخت جلا دیئے، ان کو کٹوا ڈالا۔ انہی درختوں کے باغ کو بُوَیرَہ کہتے تھے تو اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری مَا قَطَعتُم مِن لَّینَۃٍ اَو تَرَکتُمُوھَا الی قولہ الفاسقین۔

Chapter No: 3

باب:‏{‏مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ‏}‏

The Statement of Allah, "What Allah gave as booty to His Messenger (s.a.w) ..." (V.59:7)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول مَا اَفَآءَ اللہُ علی رَسُولِہِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان ُ ـ غَيْرَ مَرَّةٍ ـ عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً، يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلاَحِ وَالْكُرَاعِ، عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏.‏

Narrated By Umar : The properties of Bam An-Nadir were among the booty that Allah gave to His Apostle such Booty were not obtained by any expedition on the part of Muslims, neither with cavalry, nor with camelry. So those properties were for Allah's Apostle only, and he used to provide thereof the yearly expenditure for his wives, and dedicate the rest of its revenues for purchasing arms and horses as war material to be used in Allah's Cause.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کئی بار بیان کیا، انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے، انہوں نے عمرؓ سے، انہوں نے کہا بنی نضیر کے مال ان مالوں میں سے تھے جو اللہ تعالٰی نے بن لڑے بھڑے اپنے پیغمبرﷺ کو دلا دیئے۔ مسلمانوں نے ان پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے (جنگ نہیں کی) اس قسم کے مال رسول اللہﷺ کے گنے جاتے تھے۔ آپؐ کیا کرتے تھے ان میں سے اپنے گھر والوں کا سال بھر والوں کا خرچ نکال لیتے تھے اور جو باقی رہتا اس کو جہاد کے سامان کی تیاری ہتھیار اور گھوڑوں (وغیرہ) میں خرچ کرتے۔

Chapter No: 4

باب: ‏{‏وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ‏}‏

"And whatsoever the Messenger (s.a.w) gives you take it ..." (V.59:7)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ مَا اٰتَاکُمُ الرّسولُ فَخُذُوہ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ‏.‏ فَقَالَ وَمَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ‏.‏ قَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، أَمَا قَرَأْتِ ‏{‏وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‏}‏‏.‏ قَالَتْ بَلَى‏.‏ قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْهُ‏.‏ قَالَتْ فَإِنِّي أَرَى أَهْلَكَ يَفْعَلُونَهُ‏.‏ قَالَ فَاذْهَبِي فَانْظُرِي‏.‏ فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَ لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ مَا جَامَعَتْنَا‏.‏

Narrated By Alqama : 'Abdullah (bin Masud) said. "Allah curses those ladies who practice tattooing and those who get themselves tattooed, and those ladies who remove the hair from their faces and those who make artificial spaces between their teeth in order to look more beautiful whereby they change Allah's creation." His saying reached a lady from Bani Asd called Um Yaqub who came (to Abdullah) and said, "I have come to know that you have cursed such-and-such (ladies)?" He replied, "Why should I not curse these whom Allah's Apostle has cursed and who are (cursed) in Allah's Book!" Um Yaqub said, "I have read the whole Qur'an, but I did not find in it what you say." He said, "Verily, if you have read it (i.e. the Qur'an), you have found it. Didn't you read: 'And whatsoever the Apostle gives you take it and whatsoever he forbids you, you abstain (from it). (59.7) She replied, "Yes, I did," He said, "Verily, Allah's Apostle forbade such things." "She said, "But I see your wife doing these things?" He said, "Go and watch her." She went and watched her but could not see anything in support of her statement. On that he said, "If my wife was as you thought, I would not keep her in my company."

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالٰی نے گدنا گودنے والی اور گدوانے والی اور خوبصورتی کے لئے چہرے کے بال نکالنے والی، دانتوں کو (سوہن سے) جدا کرنے والی عورتوں پر لعنت کی جو اللہ تعالٰی کی خلقت کو بدلتی ہیں۔ یہ حدیؓ بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی (اس کا نام معلوم نہیں ہوا) اس کی کنیت ام یعقوب تھی۔ خیر وہ عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ انہوں نے کہا بیشک میں تو ضرور اس پر لعنت کرونگا جس پر رسول اللہﷺ نے لعنت کی ہے اور اللہ کی کتاب میں اس پر لعنت آئی۔ وہ عورت کہنے لگی میں تو سارا قرآن جو دو فیتوں کے بیچ میں ہے پڑھ ڈالا اس میں تو کہیں ان عورتوں پر لعنت نہیں آئی ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا اگر تو قرآن کو (جیسا سمجھ کہ پڑھنا چاہی) پڑھتی تو ضرور مسئلہ پاتی۔ کیا قرآن میں تو نے نہیں پڑھاکہ "پیغمبرﷺ جس بات کا تم کو حکم دے اس پر عمل کرو۔ اور جس بات سے منع کرے اس سے باز رہو" اس نے کہا ہاں یہ تو قرآن میں ہے ۔ ابن عباسؓ نے کہا بس تو رسول اللہﷺ نے ان باتوں سے منع کیا ہے۔ وہ عورت کہنے لگی تمھاری بیوی بھی تو یہی کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا اچھا جا کر دیکھ۔ جب وہ گئی تو وہاں پر کوئی بات نہ پائی۔ ابن مسعودؓ نے کہا اگر میری عورت ایسے کام کرتی تو بھلا میرے ساتھ رہ سکتی تھی۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ‏.

Narrated By Abdullah (bin Mus'ud) : Allah's Apostle has cursed the lady who uses false hair.

ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور کی روایت بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے بالوں میں جوڑ لگانے والی پر لعنت کی۔ عبدالرحمٰن بن عابس نے کہا میں نے یہ حدیث ایک عورت سے سنی جس کو ام یعقوب کہتے تھے۔ اس نے عبداللہ بن مسعودؓ سے ایسی ہی روایت کی جیسے منصور کی روایت اوپر گزری۔

Chapter No: 5

باب ‏{‏وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ‏}‏

"And (it is also for) those who, before them, had homes (in Medina) and had adopted the Faith ..." (V.59:9)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ الَّذِینَ تَبَوَّءُو الدَّارَ وَ الاِیمَان کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه أُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَأُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُهَاجِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَعْفُوَ عَنْ مُسِيئِهِمْ‏.‏

Narrated By 'Umar : I recommend that my successor should take care of and secure the rights of the early emigrants; and I also advise my successor to be kind to the Ansar who had homes (in Medina) and had adopted the Faith, before the Prophet migrated to them, and to accept the good from their good ones and excuse their wrong doers.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو بکر بن عیاش نے، انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے کہا عمرؓ نے (مرتے وقت) یہ کہا میرے بعد جو خلیفہ ہو میں اس کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کا حق پہچانے اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ انصار کا حق پہچانے جنہوں نے رسول اللہﷺ کی ہجرت سے پہلے مدینہ میں جگہ پکڑی، ایمان کو سنبھالا۔ خلیفہ کو لازم ہے کہ ان میں جو نیک ہو اس کی قدر دانی کرے اور برے کی برائی سے درگزر کرے۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ‏}‏ الآيَةَ

The Statement of Allah, "... And give them (emigrants) preference over themselves ..." (V.59:9)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ یُوثِرُونَ علی اَنفُسِھِم الایۃ کی تفسیر

الْخَصَاصَةُ الْفَاقَةُ‏.‏ ‏{‏الْمُفْلِحُونَ‏}‏ الْفَائِزُونَ بِالْخُلُودِ، الْفَلاَحُ الْبَقَاءُ، حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ عَجِّلْ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏حَاجَةً‏}‏ حَسَدًا‏.‏

خَصَاصَۃ فاقہ، مُفلِحُون کامیاب ہمیشہ رہنے والے، الفلاح باقی رہنا حی علی الفلاح بقا کی طرف جلد آؤ (یعنی اس کام کی طرف جس سے حیات ابدی حاصل ہو) اور امام حسن بصری نے کہا فی صدورھم حاجۃ میں حاجت سے حسد مراد ہے

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْجَهْدُ فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ رَجُلٌ يُضَيِّفُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلاَّ قُوتُ الصِّبْيَةِ‏.‏ قَالَ فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ، وَتَعَالَىْ فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ‏.‏ فَفَعَلَتْ ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ـ أَوْ ضَحِكَ ـ مِنْ فُلاَنٍ وَفُلاَنَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ‏}‏

Narrated By Abu Huraira : A man came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I am suffering from fatigue and hunger." The Prophet sent (somebody) to his wives (to get something), but the messenger found nothing with them. Then Allah's Apostle said (to his companions). "Isn't there anybody who can entertain this man tonight so that Allah may be merciful to him?" An Ansari man got up and said, "I (will, entertain him), O Allah's Apostle!" So he went to his wife and said to her, "This is the guest of Allah's Apostle, so do not keep anything away from him." She said. "By Allah, I have nothing but the children's food." He said, "When the children ask for their dinner, put them to bed and put out the light; we shall not take our meals tonight," She did so. In the morning the Ansari man went to Allah's Apostle who said, "Allah was pleased with (or He bestowed His Mercy) on so-and-so and his wife (because of their good deed)." Then Allah revealed: 'But give them preference over themselves even though they were in need of that.' (59.9)

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے، کہا ہم سے ابو حازم اشجعی سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا ایک شخص (ابو ہریرہؓ) رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ! میں بہت بھوکا ہوں (کچھ کھلوایئے) آپؐ نے اپنی بی بیوں کے پاس سے کچھ کھانے کو منگوایا لیکن کچھ نہ نکلا۔ آخر آپؐ نے لوگوں سے (جو اس وقت حاضر تھے) فرمایا کوئی ایسا ہے جو اس رات کو اس شخص کی مہمانی کرے (اس کو کچھ کھلائے) اللہ اس پر رحم کرے۔ یہ سن کر ایک انصاری شخص (ابو طلحہؓ) نے کہا یا رسول اللہﷺ! میں اس کی مہمانی کرونگا۔ اور اس شخص (ابو ہریرہؓ) کو اپنے گھر لے گیا۔ اپنی بی بی (ام سلیمؓ) سے کہا یہ شخص رسول اللہﷺ کا (بھیجا ہوا) مہمان ہے کوئی چیز اس سے اٹھا مت رکھ (جو کچھ ہو کھلا دے)۔ وہ بولی خدا کی قسم میرے پاس اتنا ذرا سا کھانا ہے جو بچوں کو (مشکل سے) کافی ہو گا۔ ابو طلحہؓ نے کہا تو ایسا کر جب بچے رات کو کھانا مانگنے لگیں (تو کسی بہانے سے) ان کو سلا دے۔ اور چراغ بجھا دے۔ ہم دونوں بھی آج رات کو کچھ نہیں کھائیں گے۔ تو اس (ام سلیمؓ) نے ایسا ہی کیا۔ صبح کو ایسا ہوا کہ ابو طلحہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا رات کو اللہ نے تعجب کیا یا اللہ تعالٰی لو ہنسی آ گئی فلاں مرد اور فلاں عورت پر (یعنی ابو طلحہؓ اور ام سلیمؓ پر) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی وَ یُوثِرُون الخ۔