Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏فِتْنَتَهُمْ‏}‏ مَعْذِرَتَهُمْ.‏{‏مَعْرُوشَاتٍ‏}‏ مَا يُعْرَشُ مِنَ الْكَرْمِ وَغَيْرِ ذَلِكَ‏.‏ ‏{‏حَمُولَةً‏}‏ مَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا‏.‏ ‏{‏وَلَلَبَسْنَا‏}‏ لَشَبَّهْنَا ‏{‏يَنْأَوْنَ‏}‏ يَتَبَاعَدُونَ‏.‏ تُبْسَلُ تُفْضَحُ ‏{‏أُبْسِلُوا‏}‏ أُفْضِحُوا‏.‏ ‏{‏بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ‏}‏ الْبَسْطُ الضَّرْبُ‏.‏ ‏{‏اسْتَكْثَرْتُمْ‏}‏ أَضْلَلْتُمْ كَثِيرًا‏.‏ ‏{‏ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ‏}‏ جَعَلُوا لِلَّهِ مِنْ ثَمَرَاتِهِمْ وَمَالِهِمْ نَصِيبًا، وَلِلشَّيْطَانِ وَالأَوْثَانِ نَصِيبًا‏.‏ ‏{‏أَمَّا اشْتَمَلَتْ‏}‏ يَعْنِي هَلْ تَشْتَمِلُ إِلاَّ عَلَى ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى فَلِمَ تُحَرِّمُونَ بَعْضًا وَتُحِلُّونَ بَعْضًا‏.‏ ‏{‏مَسْفُوحًا‏}‏ مُهْرَاقًا ‏{‏صَدَفَ‏}‏ أَعْرَضَ ‏{‏أُبْلِسُوا‏}‏ أُويِسُوا وَ‏{‏أُبْسِلُوا‏}‏ أُسْلِمُوا‏.‏ ‏{‏سَرْمَدًا‏}‏ دَائِمًا‏.‏ ‏{‏اسْتَهْوَتْهُ‏}‏ أَضَلَّتْهُ‏.‏ ‏{‏يَمْتَرُونَ‏}‏ يَشُكُّونَ‏.‏ ‏{‏وَقْرٌ‏}‏ صَمَمٌ، وَأَمَّا الْوِقْرُ الْحِمْلُ‏.‏ ‏{‏أَسَاطِيرُ‏}‏ وَاحِدُهَا أُسْطُورَةٌ وَإِسْطَارَةٌ وَهِيَ التُّرَّهَاتُ‏.‏ الْبَأْسَاءُ مِنَ الْبَأْسِ وَيَكُونُ مِنَ الْبُؤْسِ‏.‏ ‏{‏جَهْرَةً‏}‏ مُعَايَنَةً‏.‏ الصُّوَرُ جَمَاعَةُ صُورَةٍ، كَقَوْلِهِ سُورَةٌ وَسُوَرٌ‏.‏ مَلَكُوتٌ مُلْكٌ، مِثْلُ رَهَبُوتٍ خَيْرٌ مِنْ رَحَمُوتٍ، وَيَقُولُ تُرْهَبُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُرْحَمَ‏.‏ ‏{‏جَنَّ‏}‏ أَظْلَمَ‏.‏ يُقَالُ عَلَى اللَّهِ حُسْبَانُهُ أَىْ حِسَابُهُ، وَيُقَالُ حُسْبَانًا مَرَامِيَ‏.‏ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ، مُسْتَقَرٌّ فِي الصُّلْبِ وَ‏{‏مُسْتَوْدَعٌ‏}‏ فِي الرَّحِمِ‏.‏ الْقِنْوُ الْعِذْقُ، وَالاِثْنَانِ قِنْوَانِ، وَالْجَمَاعَةُ أَيْضًا قِنْوَانٌ، مِثْلُ صِنْوٍ وَصِنْوَانٍ‏.

ابن عباسؓ نے کہا ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُھُمۡ کا معنی پھر ان کا اور کوئی عذر نہ ہوگا۔ معروشات کے معنی ٹہنیوں پر چڑھائے ہوئے جیسے انگور وغیرہ(جن کی بیل ہوتی ہے) حَمُولۃٍ کا معنی لادو یعنی بوجھ لادنے کے جانور ۔ وللبسنا کا معنی ہم شعبہ ڈال دینگے لانذرکم میں خطاب اہل مکہ سے ہے ینأ ون کا معنی دور ہو جاتے ہیں تبسل کا معنی رسوا کیا جائے۔ ابسلوا رسوا کیے گئے ۔ باسطوا ایدیھم میں بسط کے معنی مارنا استکثرتم۔ یعنی تم نے بہتوں کوگمراہ کیا ۔ وجعلوا للہ ممّا ذرا من الحرث والانعام نصیبا۔ یعنی انہوں نے پھلوں ۔ میووں اور مالوں میں اللہ تعالٰی کا ایک حصّہ اور شیطان اور بتّوں کا حصّہ ٹھہرایا اکنّۃ ۔ کنان کی جمع ہے۔ یعنی پردہ امّا اشتملت علیہ ارحام الانثیین۔ یعنی کیا مادوں کے پیٹ میں نر اور مادہ نہیں ہوتے پھر تم ایک کو حلال اور ایک کو حرام کیوں بناتے ہو؟ اودما مسفوحاً۔ یعنی بہایا گیا خون ۔ وصدف کا معنی منہ پھیرا ابلسوا بما کسبوا میں یہ معنی ہے کہ ہلاکت کے لیے سپرد کئے گئے سرمداً کا معنی ہمیشہ استھوتہ کا معنی گمراہ کیا تمترون کا معنی شک کرتے ہو وقرا کا معنی بوجھ (جس سے کان بہرا ہو) اور وقرا بکسر واؤ کا معنی بوجھ جو جانور پر لادا جائے ۔ اساطیر ۔ اسطورہ اور اسطارہ کہ جمع ہے ۔ یعنی واہیات اور لغو باتیں ۔ البأساء بأس سے نکلا ہے یعنی سختی یا بؤس سے یعنی تکلیف اور محتاجی جھرۃ ۔ کھلم کھلا ۔ صور یوم ینفخ فی الصّور میں صورت کی جمع ہے۔ جیسے سور، سورت کی جمع ہےملکوت سے ملک یعنی سلطنت مراد ہے۔ جیسے رہبوت اور رحموت مثل ہے رہبوت (یعنی ڈر) رحموت (مہربانی) سے بہتر ہے اور کہتے ہیں ۔ تیرا ڈرایا جانا تجھ پر مہربانی کرنے سے بہتر ہے۔ جنّ علیہ اللیل ۔ رات کی اندھیری اس پر چھا گئی حسبان کا معنی حساب کہتے ہیں اللہ تعالٰی پر اس کا حسبان یعنی حساب ہے اور بعضوں نے کہا حسبان سے مراد تیر اور شیطان پر پھینکنے کے حربے۔مستقر باپ کی پشت ۔ مستودع ماں کا پیٹ، قنو (خوشہ) اسکا تثنیہ قنوان اور جمع قنران ہے۔ جیسے صنو۔ اور صنوان (یعنی جڑ سے ملے ہوئے درخت۔)

 

Chapter No: 1

باب ‏{‏وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ‏}‏

"And with Him are the keys of the Ghaib (un-seen), none knows them but He ..." (V.6:59)

باب : اللہ کے اس قول و عندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الّا ھو ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ‏"

Narrated By Abdullah : Allah's Apostle said, "The key of the Unseen are five: Verily with Allah (Alone) is the knowledge of the Hour He sends down the rain and knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware." (31.34)

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جو اللہ جلّ شانہ ہی جانتے ہیں۔ قیامت کب آئے گی، اور پانی بھی وہی برساتا ہے اور ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ۔ اور وہی جانتا ہے (کسی کو معلوم نہیں) کہ کل کیا ہو گا اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس ملک میں مرے گا۔اللہ تعالیٰ ہی کو ان باتوں کا علم اور اسی کو خبر ہے۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِهِ ‏{‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ‏}‏ الآيَةَ

"Say, 'He has power to send torment on you from above ...'" (V.6:65)

باب : اللہ کے اس قول قل وا القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم ۔ کی تفسیر

{‏يَلْبِسَكُمْ‏}‏ يَخْلِطَكُمْ مِنَ الاِلْتِبَاسِ‏.‏ ‏{‏يَلْبِسُوا‏}‏ يَخْلِطُوا‏.‏ ‏{‏شِيَعًا‏}‏ فِرَقًا

یلبسکم کا معنی ملا دے، خلط کر دے۔یہ التباس سے نکلا ہے شیعا کا معنی گروہ گروہ اور فرقے فرقے

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ‏}‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ‏{‏أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ‏}‏ قَالَ ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ‏"‏ ‏{‏أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ‏}‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا أَهْوَنُ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ هَذَا أَيْسَرُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Jabir : When this Verse was revealed: "Say: He has power to send torment on you from above." (6.65) Allah's Apostle said, "O Allah! I seek refuge with Your Face (from this punishment)." And when the verse: "or send torment from below your feet," (was revealed), Allah's Apostle said, "(O Allah!) I seek refuge with Your Face (from this punishment)." (But when there was revealed): "Or confuse you in party strife and make you to taste the violence of one another." (6.65) Allah's Apostle said, "This is lighter (or, this is easier)."

ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمّاد بن زید نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی قل ھوا القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر اس آیت کا یہ حصّہ نازل ہوا او من تحت ارجلکم آپؐ نے فرمایا اے اللہ میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر اس آیت کا یہ حصّہ نازل ہوا یلبسکم شیعا و یذیق بعضکم بأس بعض تو اس وقت رسول اللہﷺ یہ پہلے عذابوں سے آسان یا ہلکا عذاب ہے۔

Chapter No: 3

باب ‏{‏وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏

"It is those who believe and confuse not their belief with Zulm ..." (V.6:82)

باب : اللہ کے اس قول و لم یلبسوا ایمانھم بظلم ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ قَالَ أَصْحَابُهُ وَأَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَنَزَلَتْ ‏{‏إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ‏}‏

Narrated By Abdullah : When: "...and confuse not their belief with wrong." (6.82) was revealed, the Prophet's companions said, "Which of us has not done wrong?" Then there was revealed: "Verily joining others in worship with Allah is a tremendous wrong indeed." (31.13)

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے، انہوں نے شعبہ بن حجاج سے، انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی و لم یلبسوا ایمانھم بظلم تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! (یہ تو بڑی مشکل ہوئی) ہم میں کون ایسا ہے جس نے ظلم (گناہ) نہ کیا ہو۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی انّ الشرک لظلم عظیم (معلوم ہوا ظلم سے شرک مراد ہے۔)

Chapter No: 4

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ‏}‏

The Statement of Allah, "... And Yunus (Jonah) and Lut (Lot), and each one of them We preferred above Al- Alamin (mankind and jinn) (of their times)" (V.6:86)

باب : اللہ کے اس قول و یونس و لوطاو کلّا فضّلنا علی العالمین ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said, "Nobody has the rights to say that I am better than Jonah bin Matta."

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن مہدی نے، کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابو العالیہ سے، انہوں نے کہا کہ تمھارے پیغمبر کے چچا زاد بھائی ابن عباسؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی بندے کو یوں نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متی پیغمبرؑ سے بہتر ہوں۔


حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Nobody has the right to say that I am better than Jonah bin Matta."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم کو سعد بن ابراہیم نے خبر دی، کہا میں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے، آپؐ نے فرمایا کسی بندے کو یوں نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متی پیغمبرؑ سے بہتر ہوں۔

Chapter No: 5

باب قَوْلِهِ ‏{‏أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ‏}‏

The Statement of Allah, "They are those whom Allah had guided. So, follow their guidance ..." (V.6:90)

باب : اللہ کے اس قول اولٰئک الّذین ھدی اللہ فبھدٰھم اقتدہ ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَفِي ‏"‏ ص ‏"‏ سَجْدَةٌ فَقَالَ نَعَمْ‏.‏ ثُمَّ تَلاَ ‏{‏وَوَهَبْنَا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ‏}‏ ثُمَّ قَالَ هُوَ مِنْهُمْ‏.‏ زَادَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنِ الْعَوَّامِ عَنْ مُجَاهِدٍ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ‏.‏

Narrated By Mujahid : That he asked Ibn 'Abbas, "Is there a prostration Surat-al-Sad?" (38.24) Ibn Abbas said, "Yes," and then recited: "We gave... So follow their guidance." (6.85,90) Then he said, "He (David) is one them (i.e. those prophets)." Mujahid narrated: I asked Ibn 'Abbas (regarding the above Verse). He said, "Your Prophet (Muhammad) was one of those who were ordered to follow them."

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے ،خبر دی ان کو ابن جریج نے، کہا مجھ سلیمان احوال نے، ان کو مجاہد نے انہوں نے ابن عباسؓ سے پوچھا کیا سورت صًٓ میں سجدہ ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہے۔۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی و وھبنا لہ اسحٰق سے اولٰئک الّذین ھدی اللہ فبھدٰھم اقتدہ تک۔ پھر فرمایا داؤدؑ بھی انہی پیغمبروں میں ہیں۔ یزید بن ہارون اور محمد بن عبید اور سہل بن یوسف نے عوام بن حوشب سے، انہوں نے مجاہد سے یوں روایت کیا ہے میں نے ابن عباسؓ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا تمھارے پیغمبر ﷺکو بھی اگلے پیغمبروں کی پیروی کا حکم ہوا۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ}‏ الآيَةَ

Allah's Statement, "And unto those who are Jews, We forbade every (animal) with undivided hoof ..." (V.6:146)

باب : اللہ کے اس قول و علی الّذین ھادوا حرّمنا کلّ ذی ظفر ۔ الایہ کی تفسیر

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏كُلَّ ذِي ظُفُرٍ‏}‏ الْبَعِيرُ وَالنَّعَامَةُ‏.‏ ‏{‏الْحَوَايَا‏}‏ الْمَبْعَرُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏هَادُوا‏}‏ صَارُوا يَهُودًا، وَأَمَّا قَوْلُهُ ‏{‏هُدْنَا‏}‏ تُبْنَا‏.‏ هَائِدٌ تَائِبٌ‏.

Ibn Abbas said, "Every (animal) with undivided hoof means the camel and the ostrich."

ابن عباسؓ نے کہا ذی ظفر سے اونٹ، شتر مرغ مراد ہے۔ حوایا سے مراد مینگنی کی آنتیں ہیں۔ اور لوگوں نے کہا ھادوا کا معنی یہودی ہو گئے اور سورہ اعراف میں جو ھدنا آیا ہے اس کا معنی ہے ہم نے توبہ کی۔ ھائد کہتے ہیں توبہ کرنے والے کو۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوهَا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، كَتَبَ إِلَىَّ عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, "May Allah curse the Jews! When Allah forbade them to eat the fat of animals, they melted it and sold it, and utilized its price!"

ہم سے عمرو بن خالد تمیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے کہ عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ میں نے جابر بن عبدالہ انصاریؓ سے سنا، وہ کہتے تھے، میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپؐ نے فرمایا اللہ یہودیوں کا ستیاناس کرے جب اللہ تعالیٰ نے ان پور چربی کو حرام کیا تو انہوں نے کیا کیا، چربی کو پگھلا کر اس کو بیچا۔ اس کے دام کھتے کئے اور کھائے۔ ابو عاصم نبیل نے اس حدی کو یوں روایت کیا، کہا ہم سے ابو الحمید بن جعفر نے، کہا ہم سے یزید بن ابی حبیب نے، انہوں نے کہا عطاء بن ابی رباح نے مجھ کو یہ لکھا کہ میں نے جابرؓ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ۔

Chapter No: 7

باب قَوْلِهِ تَعَالَى: ‏{‏وَلاَ تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ‏}‏

The Statement of Allah, "... Come not near to Al-Fawahish (shameful sins, illegal sexual intercourse), whether committed openly or secretly ..." (V.6:151)

باب : اللہ کے اس قول و لا تقربوا الفواحش ما ظہر منھا و ما بطن ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ ‏"‏ لاَ أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلاَ شَىْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، لِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قُلْتُ وَرَفَعَهُ قَالَ نَعَمْ‏.‏

Narrated By Abu Wail : 'Abdullah (bin Mas'ud) said, "None has more sense of ghaira than Allah therefore - He prohibits shameful sins (illegal sexual intercourse, etc.) whether committed openly or secretly. And none loves to be praised more than Allah does, and for this reason He praises Himself." I asked Abu Wali, "Did you hear it from Abdullah?" He said, "Yes," I said, "Did Abdullah ascribe it to Allah's Apostle?" He said, "Yes."

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عمرو بن مرّہ نے، انہوں نے انو وائل شقیق بن سلمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے اسی لئے اس نے چھپی اور کھلی بے شرمی کی باتوں کو حرام کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو تعریف کرنا پسند نہیں ہے اور یہاں تک کہ اس نے خود اپنی آپ تعریف کی۔ عمرو بن مرّہ نے کہا میں نے ابو وائل سے پوچھا کیا تم نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعودؓ سے خود سنی۔ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے کہا عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ رسول اللہ ﷺ کا قول بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہاں۔

Chapter No: 8

باب

Chapter

باب:

وَكِيلٌ حَفِيظٌ وَمُحِيطٌ بِهِ {‏قُبُلاً‏}‏ جَمْعُ قَبِيلٍ، وَالْمَعْنَى أَنَّهُ ضُرُوبٌ لِلْعَذَابِ، كُلُّ ضَرْبٍ مِنْهَا قَبِيلٌ‏.‏ ‏{‏زُخْرُفَ‏}‏ كُلُّ شَىْءٍ حَسَّنْتَهُ وَوَشَّيْتَهُ وَهُوَ بَاطِلٌ فَهْوَ زُخْرُفٌ ‏{‏وَحَرْثٌ حِجْرٌ‏}‏ حَرَامٌ وَكُلُّ مَمْنُوعٍ فَهْوَ حِجْرٌ مَحْجُورٌ، وَالْحِجْرُ كُلُّ بِنَاءٍ بَنَيْتَهُ، وَيُقَالُ لِلأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ حِجْرٌ‏.‏ وَيُقَالُ لِلْعَقْلِ حِجْرٌ وَحِجًى‏.‏ وَأَمَّا الْحِجْرُ فَمَوْضِعُ ثَمُودَ، وَمَا حَجَّرْتَ عَلَيْهِ مِنَ الأَرْضِ فَهُوَ حِجْرٌ وَمِنْهُ سُمِّيَ حَطِيمُ الْبَيْتِ حِجْرًا، كَأَنَّهُ مُشْتَقٌّ مِنْ مَحْطُومٍ، مِثْلُ قَتِيلٍ مِنْ مَقْتُولٍ، وَأَمَّا حَجْرُ الْيَمَامَةِ فَهْوَ مَنْزِلٌ‏.

وکیل کا معنی نگہبان، گھیر لینے والا۔ قبلا قبیل کی جمع ہے یعنی عذاب کی قسمیں۔ عذاب کی ایک قسم قبیل کہلاتی ہے۔ زخرف لغو یا بیکار چیز (یا بات) جس کو ظاہر میں آراستہ پیراستہ کریں۔ زخرف القول چکنی چپڑی باتیں۔ حرث حجر یعنی روکی گئی کھیتی۔ حجر کہتے ہیں حرام اور ممنوع چیز کو۔ اسی سے ہے حجر محجور اور حجر عمارت کو بھی کہتے ہیں اور بادبان گھوڑی کو بھی اور عقل کو بھی حجر اور حجی کہتے ہیں۔ اور اصحاب الحجر میں میں حجر سے مراد ثمود کی بستی ہے۔ اور جس زمین کو تو روک دےاس میں کوئی چرانے یا آنے نہ پائے۔ اسی سے خانہ کعبہ کے حطیم کو حجر کہتے ہیں۔ حطیم محطوم کے معنوں میں ہے۔ جیسے قتیل مقتول کے معنوں میں ہے۔ اب رہا یمامہ کا حجر تو وہ ایک مقام کا نام ہے۔

 

Chapter No: 9

باب قَوْلِهِ ‏{‏هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ‏}‏

The Statement of Allah, "Say, 'Bring forward your witness ...'" (V.6:150)

باب : اللہ کے اس قول ھلمّ شھداءکم ۔ کی تفسیر

لُغَةُ أَهْلِ الْحِجَازِ هَلُمَّ لِلْوَاحِدِ وَالاِثْنَيْنِ وَالْجَمعِ

اہل حجاز والوں کا محاورہ ہےواحد، تثنیہ اور جمع۔ سب ھلم بولتے ہیں

 

Chapter No: 10

باب ‏{‏لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا‏}‏

"The day that some of the signs of your Lord do come, no good will it do to a person to believe ..." (V.6:158)

باب : اللہ کے اس قول لا ینفع نفسا ایمانھا ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا رَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَاكَ حِينَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The Hour will not be established until the sun rises from the West: and when the people see it, then whoever will be living on the surface of the earth will have faith, and that is (the time) when no good will it do to a soul to believe then, if it believed not before." (6.158)

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن یزاد نے، کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے، کہا ہم سے ابورزعہ نے، کہا ہم سے ابوہریرہؓ نے، انہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک سورج پچھم کی طرف سے نہ نکلے گا ۔ اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی۔ جب لوگ یہ نشانی (اللہ تعالیٰ کی قدرت کی) دیکھیں گےتو سارے زمین والے ایمان لے آئیں گے۔ مگر اس وقت ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن اٰمنت من قبل ۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، وَذَلِكَ حِينَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ الآيَةَ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The hour will not be established till the sun rises from the West; and when it rises (from the West) and the people see it, they all will believe. And that is (the time) when no good will it do to a soul to believe then." Then he recited the whole Verse (6.158)

مجھ سے اسحاق (بن نصر یا ابن منصور) نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے ، کہا ہم کو معمر نے، انہوں نے ہمام سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا قیامت ہونے والی نہیں۔ جب سورج پچھم سورج سے نکلے گا اور لوگ دیکھیں گے تو سن کے سن ایمان لے آئیں گے مگر یہ وہ وقت ہو گا کہ جب ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لا ینفع نفسا ایمانھا الخ ۔