Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم‏

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

{‏أَطْوَارًا‏}‏ طَوْرًا كَذَا وَطَوْرًا كَذَا، يُقَالُ عَدَا طَوْرَهُ‏.‏ أَىْ قَدْرَهُ، وَالْكُبَّارُ أَشَدُّ مِنَ الْكُبَارِ، وَكَذَلِكَ جُمَّالٌ وَجَمِيلٌ، لأَنَّهَا أَشَدُّ مُبَالَغَةً، وَكُبَّارٌ الْكَبِيرُ، وَكُبَارًا أَيْضًا بِالتَّخْفِيفِ، وَالْعَرَبُ تَقُولُ رَجُلٌ حُسَّانٌ وَجُمَّالٌ وَحُسَانٌ مُخَفَّفٌ وَجُمَالٌ مُخَفَّفٌ‏.‏ ‏{‏دَيَّارًا‏}‏ مِنْ دَوْرٍ وَلَكِنَّهُ فَيْعَالٌ مِنَ الدَّوَرَانِ كَمَا قَرَأَ عُمَرُ الْحَىُّ الْقَيَّامُ‏.‏ وَهْىَ مِنْ قُمْتُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ دَيَّارًا أَحَدًا‏.‏ ‏{‏تَبَارًا‏}‏ هَلاَكًا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏مِدْرَارًا‏}‏ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا‏.‏ ‏{‏وَقَارًا‏}‏ عَظَمَةً‏.‏

اَطوَارًا کبھی کچھ کبھی کچھ (مثلا منی بھر خون کی پھٹکی پھر گوشت کا مچہ) ۔ عرب لوگ کہتے ہیں عَدا طورہ اپنے انداز سے بڑھ گیا۔ کُبَّار میں کِبَّار سے بھی زیادہ مبالغہ ہے (یعنی بہت ہی بڑا) جیسے جمیل خوبصورت اور جمّال بہت ہی خوبصورت۔ غرض کبار کا معنی بڑا کبھی اس کو (بہ تخفیف با بھی کہتے ہیں) عرب لوگ کہتے ہیں حُسَان اور جُمال (تخفیف سے) ۔ دَیَّار دور سے نکلا ہے اس کا وزن فیعال ہے (اصل میں دیوار تھا) جیسے عمرؓ نے اَلحَیُّ القَیُّوم کو الحیّ القیّام پڑھا ہے۔ یہ قیام قُمت سے نکلا ہے (تو اصل میں قیوام ہے) اوروں نے کہا دَیَّارا کا معنی کسی کو۔ تَبَّارًا ہلاکت۔ ابن عباسؓ نے کہا مِدرَارًا ایک کے پیچھے دوسرا (لگاتار بارش)۔ وَقَارًا عظمت اور بڑا۔

 

Chapter No: 1

باب ‏{‏وَدًّا وَلاَ سُوَاعًا وَلاَ يَغُوثَ وَيَعُوقَ‏}‏

"Nor shall you leave Wadd nor Suwa nor Yaghuth nor Yauq nor Nasr ..." (V.71:23)

باب : اللہ کے اس قول وَدًّا وَلَاسُوَاعًا وَلَا یَغُوثَ وَ یَعُوقَ وَ نَسرًا کی تفسیر

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ، أَمَّا وُدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجُرُفِ عِنْدَ سَبَا، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ، لآلِ ذِي الْكَلاَعِ‏.‏ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا، وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : All the idols which were worshipped by the people of Noah were worshipped by the Arabs later on. As for the idol Wadd, it was worshipped by the tribe of Kalb at Daumat-al-Jandal; Suwa' was the idol of (the tribe of) Murad and then by Ban, Ghutaif at Al-Jurf near Saba; Yauq was the idol of Hamdan, and Nasr was the idol of Himyr, the branch of Dhi-al-Kala.' The names (of the idols) formerly belonged to some pious men of the people of Noah, and when they died Satan inspired their people to (prepare and place idols at the places where they used to sit, and to call those idols by their names. The people did so, but the idols were not worshipped till those people (who initiated them) had died and the origin of the idols had become obscure, whereupon people began worshipping them.

ہم سے ابراہیم بن موسٰی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے ابن جریج سے، اور عطاء خراسانی نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ نوحؑ کی قوم میں جو بت پوجے جاتے تھے اخیر میں وہ عرب لوگوں میں آ گئے۔ وَدَّ کلب قبیلے والوں کا بت تھا، دومۃالجندل میں اور سواع ہذیل قبیلے کا بت تھا ۔ اور یغوث مراد قبیلے کا بت تھاپھر بنی غطیف کا ہو گیا۔جرف میں جو شہر سبا کے پاس ہے۔ اور یعوق ہمدان قبیلے کا بت تھا۔ اور نسیر حمیر قبیلے کا بت تھا جو ذی الکلاع (بادشاہ) کی اولاد میں تھے یہ سب چند نیک بخت اشخاص کے نام ہیں جو نوحؑ کی قوم میں تھے۔ جب وہ مر گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ ڈالا کہ جن جگہوں میں یہ لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے نام کے بت بنا کر کھڑے کر دو (تا کہ ان کی یادگار رہیں) انہوں نے ایسا ہی کیا (صرف یادگار کے لئےبت رکھے) ان کو پوجتے نہ تھے۔ جب یہ یادگار بنانے والے بھی گزر گئے تو بعد والوں کو شعور نہ رہا کہ ان کو صرف یادگار کے لئے بنایا تھا تو لگے ان کو پوجنے۔