Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Book of Musaqa and Muaamalah (22)    كتاب المساقاة و المزارعة

1234

Chapter No: 11

بابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ

About the permissibility of cupper’s earnings

سینگی لگانے کی اجرت کا حلال ہونا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ « إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ أَوْ هُوَ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمْ ».

It was narrated that Humaid said: "Anas bin Malik was asked about the earnings of a cupper and he said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) was treated with cupping by Abu Taibah, and he ordered that he be given two Sa' of food. He spoke to his masters, and they waived their portion of his earnings, and he said: 'The best thing with which you may be treated is cupping,' or 'it is one of the best of your remedies."'

حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی اجرت کے حوالے سے سوال کیا گیا ،انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺنے سینگی لگوائی تھی، حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے آپﷺکو سینگی لگائی تھی، آپﷺنے اس کو دو صاع اناج دینے کا حکم دیا او ران کے مالکوں سے سفارش کہ اس کے خراج سے کچھ کم کردیں ، اور فرمایا : تمہاری دواؤں میں بہترین چیز سینگی لگانا ہے یا فرمایا: یہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِى الْفَزَارِىَّ - عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِىُّ وَلاَ تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ ».

It was narrated that Humaid said: "Anas was asked about the earnings of a cupper..." and he mentioned a similar report (as no. 4038), except that he said: "Among the best things with which you may be treated are cupping and Al-Qust Al-Bahri (a kind of incense), and do not torment your children by pressing the back of their throats."

حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی اجرت کے حوالے سے سوال کیا گیا ،انہوں نے مذکورہ بالا جواب دیا ،مگر اس میں آپﷺکے الفاظ یہ ہیں : تمہاری دواؤں میں بہتریں چیز سینگی لگانا اور عود ہندی ہے ۔ اپنے بچوں کا حلق دباکر انہیں تکلیف نہ دو۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ دَعَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- غُلاَمًا لَنَا حَجَّامًا فَحَجَمَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيهِ فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ.

It was narrated that Humaid said: "I heard Anas say: 'The Prophet (s.a.w) called a slave of ours who was a cupper, and he treated him with cupping, and he ordered that he given a Sa', or a Mudd, or two Mudd. And he spoke (to his master) about him, and he reduced his (the master's) portion of his earnings."'

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے سینگی لگانے والے ہمارے ایک غلام کو بلایا ، اس نے آپﷺکو سینگی لگائی، آپﷺنے اس کو ایک صاع یا ایک دو مد دینے کا حکم دیا ، اور اس کے خراج میں کم کرنے کی سفارش کی ، تو اس کے خراج میں کمی کردی گئی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِىُّ كِلاَهُمَا عَنْ وُهَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ.

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) was treated with cupping, and he gave the cupper his wages, and he put medicine in his nose.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی ، اور ناک میں دوا ڈالی۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَمَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَبْدٌ لِبَنِى بَيَاضَةَ فَأَعْطَاهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَجْرَهُ وَكَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Prophet was treated with cupping by a slave of Banu Baiadah, and the Prophet (s.a.w) gave him his wages, and spoke to his master, who reduced his (the master's) portion of his earnings. If it were unlawful the Prophet (s.a.w) would not have given him anything."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبیﷺکو سینگی لگائی ، نبی ﷺنے اس کو اجرت دی اور اس کے مالک سے سفارش کی تو اس نے اس کے خراج سے کم کردیا، اور اگر سینگی لگانی حرام ہوتی تو نبی ﷺاس کو اجرت نہ دیتے۔

Chapter No: 12

بابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ

Concerning the prohibition of selling wine

شراب کی بیع کا حرام ہونا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَبُو هَمَّامٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِىُّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ « يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللَّهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَىْءٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ ». قَالَ فَمَا لَبِثْنَا إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَىْءٌ فَلاَ يَشْرَبْ وَلاَ يَبِعْ ». قَالَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِى طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَسَفَكُوهَا.

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Kbudri said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) delivering a Khutbah in Al-Madinah. He said: 'O people, Allah is hinting about wine, and perhaps He will reveal something about it, so whoever has any of it, let him sell it and benefit from it.' It was not long before the Prophet (s.a.w) said: 'Allah has forbidden wine, so whoever hears this Verse and has any of it, he should not drink it or sell it.' The people went to whatever they had of it, and poured it out into the streets of Al-Madinah."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مدینہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے شراب کا اشارۃ ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے متعلق کوئی حکم نازل فرمائے گا ، سو جس آدمی کے پاس کچھ شراب ہو وہ اس کو فروخت کرکے اس سے فائدہ اٹھالے۔حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ ہمیں چند روز ہی ہوئے تھے کہ نبیﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کردیا ، سو جس آدمی کو حرمت شراب کی آیت معلوم ہوجائے تو اس کو نہ پئے ، اور نہ ہی فروخت کرے۔حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ پھر جن لوگوں کے پاس شراب تھی انہوں نے اس کو لاکر مدینہ کے راستوں پر بہادیا۔


حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - أَنَّهُ جَاءَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِىِّ - مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلاً أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا ». قَالَ لاَ. فَسَارَّ إِنْسَانًا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بِمَ سَارَرْتَهُ ». فَقَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. فَقَالَ « إِنَّ الَّذِى حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ». قَالَ فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا.

It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Wa'lah As-Saba'i, who was from Egypt, that he asked 'Abdullah bin 'Abbas about that which is extracted from grapes. Ibn 'Abbas said: "A man gave the Messenger of Allah (s.a.w) a small water-skin full of wine, and the Messenger of Allah (s.a.w) said to him: 'Do you know that Allah, may He be exalted, has forbidden it?' He said: 'No,' then he whispered to another man. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What are you whispering about?' He said: 'I told him to sell it.' He said: 'The One Who has forbidden drinking it has also forbidden selling it.' So he opened the skin until its contents drained away."

عبد الرحمن بن وعلہ سبائی مصری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انگور کے شیرے کے متعلق پوچھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺکو شراب کی ایک مشک ہدیہ کی ، رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کردیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں ، اس شخص نے کسی سے سرگوشی میں کوئی بات کی ، رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا : تم نے اس سے کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اس سے شراب کو فروخت کرنے کے لیے کہا ہے ، آپ نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کے فروخت کرنے کو بھی حرام کردیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس آدمی نے مشک کا منہ کھول کر ساری شراب بہادی۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4044) was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas, from the Messenger of Allah (s.a.w).

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ نَهَى عَنِ التِّجَارَةِ فِى الْخَمْرِ.

It was narrated that 'Aishah said: "When the Verses at the end of Surat Al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah (s.a.w) came out and recited them to the people, then he forbade dealing in wine."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺباہر تشریف لائے اور لوگوں پر وہ آیات تلاوت کیں اور لوگوں کو شراب کی تجارت سے منع کردیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى كُرَيْبٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِى الرِّبَا - قَالَتْ - خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِى الْخَمْرِ.

It was narrated that 'Aishah said: "When the Verses about Riba at the end of Surat Al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah (s.a.w) went out to the Masjid and forbade dealing in wine."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺمسجد کی طرف تشریف لے گئے اورشراب کی تجارت حرام فرمادی۔

Chapter No: 13

بابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ

Concerning the prohibition of selling; wine, dead meat, pork and idols

شراب ، مردار، خنزیر ، اور بتوں کی بیع کا حرام ہونا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ « إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ ». فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ « لاَ هُوَ حَرَامٌ ». ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ ذَلِكَ « قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ».

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say, during the Year of the Conquest while he was in Makkah: "Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, dead meat, pork and idols." It was said: "O Messenger of Allah, what do you think about the fat of dead meat, for it is used for caulking ships, daubing hides, and the people use it in their lamps?" He said: "No, it is unlawful." Then the Messenger of Allah (s.a.w) said: "May Allah destroy the Jews, for Allah forbade the fat to them, but they melted it, then they sold it and consumed its price."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مکہ میں فتح مکہ کے سال یہ فرمایا: اللہ اور اس کے رسول ﷺنے شراب، مردار اور خنزیر، اور بتوں کی بیع کو حرام کردیا ہے ، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ﷺ! یہ فرمائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ اس کو کشتیوں پر ملا جاتا ہے اور وہ کھالوں پر لگائی جاتی ہے اور لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔آپ ﷺنے فرمایا: نہیں وہ حرام ہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺنے اسی وقت فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کردے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردار کی چربیوں کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھالی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ الْفَتْحِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِى أَبَا عَاصِمٍ - عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِى يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَبِيبٍ قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ الْفَتْحِ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.

Jabir bin 'Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) during the Year of the Conquest..." a Hadith like that of Al-Laith (no. 4048).

امام مسلم رحمہ اللہ نے مختلف اسانید کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح رسول اللہﷺکا فرمان روایت کیا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ».

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "'Umar heard that Samurah was selling wine, and he said: 'May Allah destroy Samurah. Does he not know that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "May Allah curse the Jews; fat was forbidden to them but they melted it and sold it"?"'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ سمرہ نے شراب فروخت کی ہے ، تو انہوں نے فرمایا: سمرہ پر اللہ کی مار! کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے ، ان پر چربی حرام کی گئی تھی ، انہوں نے اس کو پگھلاکر بیچ دیا۔


حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ -يَعْنِى ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4050) was narrated from 'Amr bin Dinar with this chain.

عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "May Allah destroy the Jews. Allah forbade fat to them, so they sold it and consumed its price."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی، انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کھالی۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَ عَلَيْهِمُ الشَّحْمُ فَبَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'May Allah destroy the Jews. Fat was forbidden to them so they sold it and consumed its price.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے ، ان پر چربی حرام کی گئی تھی، انہوں نے اس کو بیچا اور اس کی قیمت کھالی۔

Chapter No: 14

بابُ الرِّبَا

Regarding Riba (Interest)

سود کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ».

It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not sell gold for gold except like for like, and do not give more of one and less of the other. Do not sell silver except like for like, and do not give more of one and less of the other. And do not exchange something to be given later for something to be given now.''

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر برابر فروخت کرو، اور بعض سونے کے عوض کم سونا فروخت مت کرو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے صرف برابر برابر فروخت کرو، اور بعض چاندی کو کم چاندی کے بدلے فروخت مت کرو، اور ان میں سے کسی کو ادھار مت فروخت کرو۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِى لَيْثٍ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَأْثُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَافِعٌ مَعَهُ. وَفِى حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ قَالَ نَافِعٌ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنَا مَعَهُ وَاللَّيْثِىُّ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنِى أَنَّكَ تُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ. فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ فَقَالَ أَبْصَرَتْ عَيْنَاىَ وَسَمِعَتْ أُذُنَاىَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهُ بِنَاجِزٍ إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ ».

Abu Sa'eed Al-Khudri narrated this from the Messenger of Allah (s.a.w) according to the report of Qutaibah, 'Abdullah and Nafi' went with him; and according to the Hadith of Ibn Rumh, Niifi' said: "'Abdullah and Al-Laithi and I went with him" - "until he entered upon Abu Sa'eed Al-Khudri who said: 'This one told me that you are narrating that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling silver for silver except like for like, and selling gold for gold except like for like.' Abu Sa'eed pointed to his eyes and ears and said: 'My eyes saw, and my ears heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: "Do not sell gold for gold, and do not sell silver for silver, except like for like, and do not give more of one and less of the other, and do not exchange something to be given later for something to be given now, except hand to hand.''

حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی لیث میں سے ایک آدمی نے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری رسول اللہ ﷺسے یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ قتبیہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ گئے اور نافع بھی آپ کے ساتھ تھے اور ابن رمح کی روایت میں ہے نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ گئے میں اور لیث ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو کہا مجھے اس نے خبر دی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺسے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے چاندی کو چاندی کے عوض بیچنے سے منع کیا علاوہ ازیں اس کے کہ وہ برابر برابر ہو اور سونے کو سونے کے عوض بیچنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ برابر برابر ہو تو ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف ارشاد کرتے ہوئے کہا میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے کہ سونے کو سونے کے بدلے فروخت نہ کرو اور چاندی کو چاندی کے بدلے ہاں یہ کہ برابر برابر ہو اور کم زیادہ کر کے فروخت نہ کرو سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو ، اور ادھار مت فروخت کرو۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِى ابْنَ حَازِمٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ. بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.

A Hadith similar to that of Al-Laith from Nafi' (no. 4055) was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri from the Prophet (s.a.w).

امام مسلم رحمہ اللہ نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری کی نبیِﷺسے یہ روایت ذکر کی ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلاَ الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ ».

It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not sell gold for gold, or silver for silver, except weight for weight, like for like, same for same."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت مت کرو، مگر یہ کہ برابر برابر ہوں ناپ اور تول میں ، اور مساوی ہوں ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَبِى عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلاَ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ».

It was narrated from 'Uthman bin 'Affan that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not sell one Dinar for two Dinar, or one Dirham for two Dirham."

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے میں ، اور ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے میں مت بیچو۔

Chapter No: 15

باب الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا

Regarding exchange of currency and selling gold for silver on the spot

بیع صرف (منی چینجنگ) اور سونے کی چاندی کے عوض نقد خریدو فروخت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَهَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَلاَّ وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ».

It was narrated from Malik bin Aws bin Al Hadathan that he said: "I was going around saying: 'Who will exchange Dirham (for my gold)?' Talhah bin 'Ubaidullah, who was with 'Umar bin Al-Khattab, said: 'Show us your gold, then come to us later, when our servant comes, and we will give you your silver.' 'Umar bin Al-Khattab said: 'No, by Allah! Either give him his silver (now) or give him back his gold, for the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Silver for gold is Riba, unless it is exchanged on the spot; wheat for wheat is Riba, unless it is exchanged on the spot; barley for barley is Riba, unless it is exchanged on the spot; dates for dates is Riba unless it is exchanged on the spot."

حضرت مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ میں یہ کہتا ہوا آیا کہ کون دراہم فروخت کرتا ہے؟ تو طلحہ بن عبید اللہ نے کہا اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف فرما تھے کہ ہمیں اپنا سونا دکھاؤ پھر تھوڑی دیر کے بعد آنا جب ہمارا خادم آجائے گا ہم تمہیں قیمت ادا کردیں گے تو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! تم اس کو اس کی قیمت ادا کرو یا اس کا سونا اسے واپس کر دو کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا چاندی سونے کے عوض سود ہے ہاں اگر نقد بہ نقد ہو ،اور گندم گندم کے عوض بیچنا سود ہے ہاں اگر نقد بہ نقد ہو ،اور جو جو کے بدلے فروخت کرنا سود ہے ہاں اگر نقد بہ نقد ہو ، اور کھجور کو کھجور کے بدلے فروخت کرنا سود ہے سوائے اس کے کہ جو نقد بہ نقد ہو۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Az-Zuhri (a Hadith similar to no. 4059) with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ قَالَ كُنْتُ بِالشَّامِ فِى حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ فَجَاءَ أَبُو الأَشْعَثِ قَالَ قَالُوا أَبُو الأَشْعَثِ أَبُو الأَشْعَثِ. فَجَلَسَ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. قَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً فَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلاً أَنْ يَبِيعَهَا فِى أَعْطِيَاتِ النَّاسِ فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِى ذَلِكَ فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى. فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلاَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ. فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ ثُمَّ قَالَ لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ - أَوْ قَالَ وَإِنْ رَغِمَ - مَا أُبَالِى أَنْ لاَ أَصْحَبَهُ فِى جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ. قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ.

It was narrated that Abu Qilabah said: "I was in Ash-Sham in a gathering where Muslim bin Yasar was present, when Abu Al-Ash'ath came." He said: "They said: 'Abu Al-Ash'ath.' And I said: 'Abu Al-Ash'ath!' He sat down and I said to him: 'Tell our brothers the Hadith of 'Ubadah bin As-Samit.' He said: 'Yes. We went out on a campaign when Mu'awiyah was in charge of the people, and acquired a great deal of the spoils of war. Among the spoils we seized were some vessels of silver. Mu'awiyah ordered a man to sell them, to be paid for when the people received their stipends, and the people hastened to buy them. News of that reached 'Ubadah bin As-Samit and he stood up and said: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) forbidding the sale of gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, except equal for equal, same for same. Whoever adds something more, or asks for something more, he has engaged in Riba."' "So the people returned what they had taken. News of that reached Mu'awiyah and he stood up and delivered a speech, saying: 'What is the matter with men who narrated Ahadith from the Messenger of Allah (s.a.w), when we were present with him and accompanied him, and we did not hear that from him?' " 'Ubadah bin As-Samit stood up and repeated the story, then he said: 'We will narrate what we heard from the Messenger of Allah (s.a.w), even if Mu'awiyah does not like it' - or he said, 'in spite of him. I do not care if I do not join his troops on a dark night."' Hammad (one of the narrators) said: "This, or something like this."

حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ میں شام میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور مسلم بن یسار بھی اس میں موجود تھے ابواشعت آیا تو لوگوں نے کہا ابوالاشعت آگئے وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا ہمارے ان بھائیوں سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث بیان کرو انہوں نے کہا، اچھا! ہم نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک جنگ لڑی تو ہمیں بہت زیادہ غنیمتیں حاصل ہوئیں اور ہماری غنتو ےں میں چاندی کے برتن بھی تھے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو اس کے بیچنے کا حکم دیا لوگوں کی تنخواہوں میں، لوگوں نے اس کے خریدنے میں جلدی کی یہ بات عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ سونے کی سونے کے ساتھ چاندی کی چاندی کے ساتھ کھجور کی کھجور کے ساتھ اور نمک کی نمک کے ساتھ برابر برابر و نقد بہ نقد کے علاوہ بیع کرنے سے منع کرتے تھے جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کا کام کیا تو لوگوں نے لیا ہوا مال واپس کردیا یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچی تو وہ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو رسول اللہ ﷺسے احادیث بیان کرتے ہیں حالانکہ ہم بھی آپ ﷺکے پاس حاضر رہے اور صحبت اختیار کی ہم نے اس بارے میں آپ ﷺسے نہیں سنا عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے قصہ کو دوبارہ دہرایا اور کہا ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے رسول اللہ ﷺسے سنا اگرچہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ناپسند کریں یا ان کی ناک خاک آلود ہو مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں اس کے لشکر میں تاریک رات میں اس کے ساتھ نہ رہوں حماد نے یہی کہا یا ایسا ہی کہا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىِّ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4061) was narrated from Ayyub with this chain.

ایک اور سند سے یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الأَشْعَثِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ».

It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, same for same, hand to hand. But if these commodities differ, then sell as you like, as long as it is hand to hand."

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سونے کی بیع سونے کے بدلے، اور چاندی کی بیع چاندی کے بدلے، اور گندم کی بیع گندم کے بدلے،اور جو کی بیع جو کے بدلے، اور کھجور کی بیع کھجور کے بدلے اور نمک کی بیع نمک کے عوض برابر برابر اور نقد بہ نقد ہو اور جب یہ اقسام مختلف ہوجائیں تو پھر جس طرح چاہو بیچو بشرطیکہ نقد بہ نقد ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِىُّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الآخِذُ وَالْمُعْطِى فِيهِ سَوَاءٌ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt, like for like, hand to hand. Whoever gives more or asks for more, he has engaged in Riba, and the taker and the giver are the same."'

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےفرمایا: سونا سونے کے ساتھ، چاندی چاندی کے ساتھ، گندم گندم کے ساتھ، جو جو کے ساتھ، کھجور کھجور کے ساتھ، نمک نمک کے ساتھ برابر برابر، نقد بہ نقد فروخت کرو جس نے زیادہ دیا ، یا زیادہ لیا اس نے سودی کاروبار کیا ، اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الرَّبَعِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِىُّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ». فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Gold for gold, like for like...'" a similar Hadith (as no. 4064).

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر باقی اسی طرح ذکر کیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Dates for dates, wheat for wheat, barley for barley, salt for salt, like for like, hand to hand. Whoever gives more or asks for more, he has engaged in Riba, except in cases where the types differ."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھجور کھجور کے ساتھ، گندم گندم کے ساتھ، جو جو کے ساتھ، اور نمک نمک کے ساتھ برابر برابر، نقد ونقد فروخت کرو جس نے زیادہ دیا ، یا زیادہ لیا تو اس نے سودی کاروبار کیا، مگر یہ کہ اقسام بدل جائیں۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِىُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَلَمْ يَذْكُرْ « يَدًا بِيَدٍ ».

It was narrated from Fudail bin Ghazwan with this chain (a Hadith similar to no. 4066), but he did not say, "hand to hand."

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے مگر اس میں نقد بہ نقد کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِى نُعْمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Gold for gold, weight for weight, like for like. And silver for silver, weight for weight, like for like. Whoever adds more or asks for more, that is Riba."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کے بدلے میں سونا تول کر برابر برابر ،چاندی کے بدلے میں چاندی تول کر برابر برابر فروخت کرو، جس نے زیادہ دیا ، یا زیادہ لیا تو وہ زیادتی سود ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِى تَمِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Dinar for Dinar with no difference between them; and Dirham for Dirham with no difference between them."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینار کے بدلے میں دینار (فروخت کرو) اوران میں زیادتی نہیں ہے،اور درہم کو درہم کے بدلے میں (فروخت کرو) اور ان میں زیادتی نہیں ہے۔


حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ أَبِى تَمِيمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Musa bin Abi Tamim narrated a similar report (as Hadith no. 4069) with this chain.

ایک اور سند سےبھی اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 16

بابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا

About the forbiddance of selling silver for gold when payment is to be made in future

چاندی کو سونے کے عوض ادھار فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِى وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَى الْحَجِّ فَجَاءَ إِلَىَّ فَأَخْبَرَنِى فَقُلْتُ هَذَا أَمْرٌ لاَ يَصْلُحُ. قَالَ قَدْ بِعْتُهُ فِى السُّوقِ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ. فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ « مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا ». وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّى. فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.

It was narrated that Abu Al-Minhal said: Sharik sold some silver for me, to be paid for during the Hajj season. He came to me and told me, and I said: "This is not good." He said: "I sold it in the market and no one objected." I went to Al-Bara' bin 'Azib and asked him, and he said: "When the Prophet (s.a.w) came to Al-Madinah, we used to sell in this fashion, and he said: 'Whatever is hand to hand, there is nothing wrong with it. But whatever is to be paid for later is Riba."' Go to Zaid bin Arqam for he is more involved in trade than I am. So I went to him and asked him, and he said something similar.

حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میرے شریک نے حج کے موسم یا حج تک چاندی ادھار بیچی۔ میرے پاس آکر اس نے مجھے اس کی خبر دی، تو میں نے کہا یہ معاملہ تو درست نہیں، اس نے کہا میں نے اس کو بازار میں فروخت کیا اور کسی نے مجھے اس پر منع نہیں کیا ،تو میں نے براء بن عازب کے پاس جا کر ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: نبی ﷺمدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے آپ ﷺنے فرمایا جو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو وہ سود ہے۔ اور تم زید بن ارقم کے پاس جاؤ کیونکہ وہ تجارت میں مجھ سے بڑے ہیں میں نے ان کے پاس جا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ. فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلِ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالاَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا

It was narrated from Habib that he head Abu Al-Minhal say: "I asked Al-Bara' bin 'Azib about exchanging (gold for silver or vice versa) and he said: 'Ask Zaid bin Arqam, for he is more knowledgeable.' I asked Zaid and he said: 'Ask Al-Bara', for he is more knowledgeable.' Then they said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling silver for gold to be paid at a later date."'

حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے صَرف (سونے چاندی کی بیع) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ زیادہ جاننےوالے ہیں،میں نے زید سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت براء سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننےوالے ہیں۔پھر ان دونوں نے کہا: رسول اللہﷺنے سونے کے بدلے میں چاندی کی ادھار بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِىُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِىَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِىَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا. قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ.

'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah narrated that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling silver for silver and gold for gold, except like for like; and he told us to buy silver for gold however we wished, and to buy gold for silver however we wished." He said: "A man asked him: 'Hand to hand?' He said: 'That is what I heard."'

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے چاندی کے بدلے میں چاندی اور سونے کے بدلے میں سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر ہو اور ہمیں آپ ﷺنے حکم دیا کہ ہم سونے کے بدلے چاندی کو جس طرح چاہیں خریدیں اور چاندی کے بدلے سونا جس طرح چاہیں خریدیں۔ ایک آدمی نے سوال کیا تو کہا: نقد بہ نقد اور کہا: میں نے اسی طرح سنا ہے۔


حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ أَبِى كَثِيرٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى إِسْحَاقَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِى بَكْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

Abu Bakrah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade us..." a similar report (as no. 4073).

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ہمیں منع فرمایا ہے ،اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 17

باب بَيْعِ الْقِلاَدَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ

Regarding the sale of a necklace containing pearls and gold

سونے اور نگینوں والے ہار کی بیع

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُلَىَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِىَّ يَقُولُ أُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلاَدَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِىَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالذَّهَبِ الَّذِى فِى الْقِلاَدَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ».

Fadalah bin 'Ubaid Al-Ansari said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) was in Khaibar, a necklace containing pearls and gold was brought to him. It was part of the spoils of war to be sold. The Messenger of Allah (s.a.w) ordered that the gold in the necklace be extracted. Then the Messenger of Allah (s.a.w) said to them: "Gold for gold, weight for weight."

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک ہار لایا گیا اور آپ ﷺخبیر میں تھے اس میں پتھر کے نگ اور سونا تھا اور یہ مال غنیمت میں سے تھا اس کو فروخت کیا جارہا تھا، تو رسول اللہ ﷺنے ہار میں موجود سونے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے علیحدہ کرلیا جائے پھر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر تول کے فروخت کریں۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِى شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِى عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِىِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً بِاثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنِ اثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « لاَ تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ ».

It was narrated that Fadalah bin 'Ubaid said: "On the Day of Khaibar, I bought a necklace for twelve Dinar, which contained gold and pearls. I separated them and I found more than twelve Dinar in it. I mentioned that to the Prophet (s.a.w) and he said: 'It should not be sold until they are separated."'

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خبیر کے دن ایک ہار بارہ دینار میں خریدا، اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے جب میں نے ہار سے سونا علیحدہ کیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا،تو میں نے اس کا ذکر نبیﷺسے کیا ، آپﷺنے فرمایا: سونے کو جدا کیے بغیر فروخت نہ کیا جائے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4076) was narrated from Sa'eed bin Yazid, with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ أَبِى جَعْفَرٍ عَنِ الْجُلاَحِ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى حَنَشٌ الصَّنْعَانِىُّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ ».

Fadalah bin 'Ubaid said: "We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on the Day of Khaibar, trading with the Jews, an Uqiyah of gold for two or three Dinar. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sell gold for gold, unless it is weight for weight."'

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم خیبر کے دن رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے ہم یہود سے ایک اوقیہ سونے کے بدلے دو یا تین دینار کے ساتھ بیع کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے میں بغیر برابر برابر وزن کے فروخت نہ کریں۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِىِّ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِىَّ أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِى غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِى وَلأَصْحَابِى قِلاَدَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِى كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِى كِفَّةٍ ثُمَّ لاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ».

It was narrated from Hanash that he said: "We were with Fadalah bin 'Ubaid on a campaign, and there fell to my lot and that of my companions a necklace that contained gold, pearls and jewels. I wanted to buy it, so I asked Fadalah bin 'Ubaid and he said: 'Extract its gold and put it in one pan, and put your gold in the other pan, and do not take it unless (you give) like for like, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not take (anything) except like for like."

حضرت حنش سے روایت ہے کہ ہم حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک جنگ میں تھے میرے اور میرے ساتھی کے حصہ میں ایک ایسا ہار آیا جس میں سونا اور چاندی اور جواہر تھے میں نے اس کے خریدنے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس کا سونا جدا کر کے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنے سونے کو دوسرے پلڑے میں رکھو پھر برابر برابر کے سوا مت خریدنا،کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ برابر کے سوا نہ لے۔

Chapter No: 18

بابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ

Aabout sale of food like for like

اناج کو اناج کے عوض برابری کے ساتھ فروخت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو ح وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلاَمَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ فَقَالَ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا. فَذَهَبَ الْغُلاَمُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّى كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ». قَالَ وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ. قِيلَ لَهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ قَالَ إِنِّى أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ.

It was narrated from Ma'mar bin 'Abdullah that he sent his slave with a Sa' of wheat and he said: "Sell it then buy barley." The slave went and took a Sa' and part of a Sa' more. When he came to Ma'mar he told him about that, and Ma'mar said to him: "Why did you do that? Go and give it back, and do not take anything but like for like, for I used to hear the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Food for food, like for like.' And our food at that time was barley. It was said to him: 'It is not like it.' He said: 'I am afraid that it may be similar."'

حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کا ایک صاع دے کر بھیجا تو اسے کہا: اس کو بیچ دینا پھر اس کی قیمت سے جو خرید لینا، غلام گیا تو اس نے ایک صاع سے کچھ زیادہ خرید لیے اور جب معمر کے پاس آیا تو انہیں اس کی خبر دی معمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے کہا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ جاؤ اور اسے واپس کر کے آؤ اور برابر سے زیادہ نہ لو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے اناج کے بدلے اناج برابر برابر (فروخت کرو) اور ان دنوں میں ہمارا اناج جو تھا، ان سے کہا گیا کہ گندم اور جو ایک مثل تو نہیں ہیں ،انہوں نے کہا : مجھے اس کے مشابہ ہونے کا خوف ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ أَخَا بَنِى عَدِىٍّ الأَنْصَارِىَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ». قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِى الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلاً بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ ».

Abu Hurairah and Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) sent the brother of Banu 'Adiyy Al-Ansari to collect revenue from Khaibar, and he brought fine-quality (Janib) dates. The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Are all the dates of Khaibar like this?" He said: "No, by Allah, O Messenger of Allah. We bought one Sa' for two Sa' out of the total." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not do that. Rather (buy) like for like, or sell this and buy some of that with its price. And the same goes for weights."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے بنو عدی انصاری کے ایک آدمی کو خیبر کا عامل بناکر بھیجا ، وہ عمدہ کھجوریں لے کر آیا ، رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا : کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں ؟ اس نے کہا: نہیں یارسول اللہ ! اللہ کی قسم! ہم دوصاع ردی کھجوریں دے کر ایک صاع عمدہ کھجوریں خریدتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس طرح نہ کرو، لیکن برابر برابر کی بیع کرو ، یا اس کو فروخت کردو، اور اس کی قیمت سے اس کو خریدلو ، اسی طرح تول میں بھی برابر رکھو۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ وَعَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ». فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَلاَ تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ».

It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri and Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) appointed a man over Khaibar, and he brought some fine-quality dates. The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Are all the dates of Khaibar like this?" He said: No, by Allah, O Messenger of Allah. We take one Sa' of these in return for two Sa', and two Sa' for three Sa'. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not do that. Sell them all for Dirham, then buy the fine-quality (Janib) with the Dirham."

حضرت ابو سعید خدری اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ایک آدمی کو خیبر کا عامل بنایا ، وہ عمدہ کھجوریں لیکر آیا ، رسو ل اللہ ﷺنے اس سے پوچھا : کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ! یارسول اللہ ﷺ! ہم دو صاع کھجوریں دیکر ایک صاع کھجوریں لیتے ہیں اور تین صاع دے کر یہ دو صاع لیتے ہیں ، رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اس طرح مت کرو، ردی کھجوروں کو دراہم کے بدلے بیچ دو، پھر دراہم سے عمدہ کھجوریں خریدلو۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِىُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - أَخْبَرَنِى يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ أَبِى كَثِيرٍ - قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ جَاءَ بِلاَلٌ بِتَمْرٍ بَرْنِىٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مِنْ أَيْنَ هَذَا ». فَقَالَ بِلاَلٌ تَمْرٌ كَانَ عِنْدَنَا رَدِىءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ « أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِىَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ ». لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ سَهْلٍ فِى حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِكَ.

Abu Sa'eed said: Bilal brought some good quality (Barni) dates and the Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Where are these from?" Bilal said: "We had some poor-quality dates, so I sold two Sa' of them for one Sa', as food for the Prophet (s.a.w)." At that, the Messenger of Allah (s.a.w) said: "O! The essence of Riba! Do not do that. If you want to buy dates, then sell them in a separate transaction, then buy them."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجوریں لے کر آئے ، رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا: یہ کھجوریں کہاں سے لائے ہو؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میرے پاس ردی کھجوریں تھیں ، میں نے اس میں سے دو صاع بیچ کر ایک صاع اچھی کھجوریں نبیﷺکے کھانے کے لیے لی ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺنےفرمایا: اوہ! یہ تو بعینہ سود ہے ، ایسا نہ کرو، لیکن جب تم کھجور خریدنا چاہو تو اپنی کھجوریں بیچ دو ، پھر اس سے دوسری کھجوریں خرید لو۔


وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِى قَزَعَةَ الْبَاهِلِىِّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ أُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِتَمْرٍ فَقَالَ « مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا ». فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "Some dates were brought to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: 'These are not our dates.' The man said: 'O Messenger of Allah, we sold two Sa' of our dates for a Sa' of these.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'This is Riba. Take them back, then sell our dates and buy some of these for us.'"

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس کھجوریں لائی گئیں ، آپﷺنے فرمایا: یہ کھجوریں ہماری کھجوروں کے مقابلہ میں کیسی ہیں ، ایک آدمی نے کہا: یارسو ل اللہﷺ! ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر یہ ایک صاع کھجوریں لی ہیں ۔ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: یہ سود ہے ، ان کو واپس کردو، ہماری کھجوروں کو بیچو، پھر اس سے ہماری لیے خرید لو۔


حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « لاَ صَاعَىْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلاَ صَاعَىْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلاَ دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ ».

It was narrated that Abu Sa'eed said: "We were given dates of mixed quality at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), and we used to sell two Sa' for one. News of that reached the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: 'Do not sell two Sa' of dates for one, or two Sa' of wheat for one, or two Dirham for one."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ہمیں کھجوریں دی جاتی تھیں، وہ کھجور کی ایک ملی جلی قسم تھی ، ہم اس کے دو صاع کو ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیتے تھے ، رسول اللہ ﷺکو یہ خبر پہنچی ، آپ ﷺنے فرمایا: دو صاع کھجوروں کو ایک صاع کھجوروں کے بدلے فروخت مت کرو، اور نہ دو صاع گندم کو ایک صاع گندم کے بدلے ، اور نہ ہی ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے۔


حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ. فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّى سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ. قَالَ أَوَقَالَ ذَلِكَ إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلاَ يُفْتِيكُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِتَمْرٍ فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ « كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا ». قَالَ كَانَ فِى تَمْرِ أَرْضِنَا - أَوْ فِى تَمْرِنَا - الْعَامَ بَعْضُ الشَّىْءِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ. فَقَالَ « أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لاَ تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَىْءٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِى تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ ».

It was narrated that Abu Nadrah said: "I asked Ibn 'Abbas about exchanging. He said: 'Is it hand to hand?' I said: 'Yes.' He said: 'There is nothing wrong with it.' I told Abu Sa'eed: 'I asked Ibn 'Abbas about exchanging. He said: "Is it hand to hand?" I said: "Yes. "He said: "There is nothing wrong with it."' He said: 'Did he say that? We will write to him and tell him not to give that ruling.' He said: 'By Allah, one of the slaves of the Messenger of Allah (s.a.w) brought some dates and he found them odd and said: "It seems that these are not the dates of our land." He said: "Something happened to the dates of our land" - or "our dates" - "this year, so I took this and I gave more in return." He said: "If you gave something more, you engaged in Riba. Do not do it again. If you think there is something wrong with your dates, sell them then buy whatever dates you want."

حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: کیا نقد بہ نقد؟ میں نے کہا: ہاں تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر دی میں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا ہاتھوں ہاتھ؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا انہوں نے اسی طرح فرمایا ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تم کو ایسا فتوی نہیں دیں گے اور کہا اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺکے پاس بعض جوان کھجور لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺنے اس پر تعجب کیا اور فرمایا ہماری زمینوں کی کھجوریں تو ایسی نہیں ہیں اس نے کہا ہماری زمین کی کھجوروں یا ہمارے اس سال کی کھجوروں کو کچھ عیب آگیا تھا میں نے یہ کھجوریں لیں اور اس کے عوض میں کچھ زیادہ کھجوریں دیں تو آپ ﷺنے فرمایا: تم نے زیادہ دیا اور سود دیا، اب ان کے قریب نہ جانا، جب تمہیں اپنی کھجوروں میں کچھ کمی محسوس ہو تو ان کو فروخت کرنا ، پھر جو کھجوریں آپ کو پسند ہو خرید لینا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا فَإِنِّى لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا. فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا فَقَالَ لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- هَذَا اللَّوْنَ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَنَّى لَكَ هَذَا ». قَالَ انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِى السُّوقِ كَذَا وَسِعْرَ هَذَا كَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَيْلَكَ أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَىَّ تَمْرٍ شِئْتَ ». قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا أَمِ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِى وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ - قَالَ - فَحَدَّثَنِى أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَكَّةَ فَكَرِهَهُ.

It was narrated that Abu Nadrah said: "I asked Ibn 'Umar and Ibn 'Abbas about exchange, and they did not see anything wrong with it. I was sitting with Abu Sa'eed Al-Khudri and I asked him about exchange. He said: 'Whatever is extra is Riba,' and I did not accept it because of what 'they had said. He said: 'I am only narrating to you what I heard from the Messenger of Allah (s.a.w). A man who was taking care of the Prophet's date palms brought him a Sa' of fine dates and the dates of the Prophet (s.a.w) were not of this type. The Prophet (s.a.w) said to him: "Where did you get this?" He said: "I sold two Sa' and bought this Sa' with them. That is the price for this in the market." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Woe to you, you have engaged in Riba. If you want to do that, sell your dates for another commodity and then buy whatever dates you want with it."' Abu Sa'eed said: 'Dates for dates is closer to Riba than silver for silver.'" He said: "I went to Ibn 'Umar after that and he told me not to do that, and I did not go to Ibn 'Abbas.'' He said: "Abu As-Sahba' told me that he asked Ibn 'Abbas about it in Makkah and he disapproved of it."

حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا، میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ان سے میں نے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: جو زیادتی کی وہ سود ہے میں نے ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کی وجہ سے اس کا انکار کیا تو ابوسعید نے فرمایا میں تجھ سے سوائے اس کے جو میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کچھ بھی بیان نہیں کرتا، ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا اور نبی کریم ﷺکی کھجوریں بھی اس رنگ کی تھیں، نبی کریم ﷺنے اس سے پوچھا: تیرے پاس یہ کھجور کہاں سے آئی؟ تو اس نے کہا: میں دو صاع کھجور لے گیا اور اس کے عوض یہ ایک صاع کھجور خرید کر لایا کیونکہ اس کا نرخ بازار میں اسی طرح ہے اور اس کا بھاؤ اسی طرح ہوتا ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: تیرے لئے ہلاکت ہو،جب تم ایسا کرنا چاہو تو اپنی کھجوروں کو ایک سودے میں فروخت کردو، پھر اس کی قیمت سے جس قسم کی کھجوریں چاہو خریدلو ، ابو سعید نے کہا: کھجور کھجور کے بدلے زیادہ حقدار ہے کہ وہ سود ہو جائے یا چاندی چاندی کے عوض۔ ابونضرہ کہتے ہیں اس کے بعد میں ابن عمر کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے منع کردیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس میں نہ جا سکا ابوصہبا رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مکہ میں اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِى صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَقُولُ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلاً بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى. فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا. فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِى تَقُولُ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوْ وَجَدْتَهُ فِى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ أَجِدْهُ فِى كِتَابِ اللَّهِ وَلَكِنْ حَدَّثَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الرِّبَا فِى النَّسِيئَةِ ».

It was narrated that Abu Salih said: "I heard Abu Sa'eed Al-Khudri say: 'Dinar for Dinar, Dirham for Dirham, like for like; whoever gives more or asks for more has engaged in Riba.' I said to him: 'Ibn 'Abbas says something different.' He said: 'I met Ibn 'Abbas and I said: "Do you think that what you say is something that you heard from the Messenger of Allah (s.a.w) or found in the Book of Allah?" He said: "I did not hear it from the Messenger of Allah (s.a.w) and I did not find it in the Book of Allah, but Usamah bin Zaid told me that the Prophet (s.a.w) said: 'Riba is in the case of delayed payment.'"

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ دینار دینار کے ساتھ اور درہم درہم کے ساتھ برابر برابر فروخت ہو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو یہ سود ہوا راوی کہتے ہیں میں نے ان سے عرض کیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اس کے خلاف کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: یہ جو آپ کہتے ہیں اس بارے میں آپ نے رسول اللہ ﷺسے کوئی حدیث سنی ہو، یا کتاب اللہ میں اس کا (حکم ) پایا ہو،انہوں نے کہا: میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺسے سنا نہیں اور نہ ہی اللہ کی کتاب میں اس کو پایا، لیکن مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا سود ادھار میں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّمَا الرِّبَا فِى النَّسِيئَةِ ».

It was narrated from 'Ubaidullah bin Abi Yazid that he heard Ibn 'Abbas say: "Usamah bin Zaid told me that the Prophet (s.a.w) said: 'Riba is only in the case of delayed payment."'

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سود صرف ادھار میں ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالاَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ».

It was narrated from Ibn 'Abbas, from Usamah bin Zaid, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "There is no Riba in that which is hand to hand."

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول ا للہﷺنے فرمایا: نقد بہ نقد میں کوئی سود نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى عَطَاءُ بْنُ أَبِى رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ لَقِىَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِى الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَلاَّ لاَ أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلاَ أَعْلَمُهُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَلاَ إِنَّمَا الرِّبَا فِى النَّسِيئَةِ ».

'Ata' bin Abi Rahah narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri met Ibn 'Abbas and said to him: "Do you think that what you said about exchange is something that you heard from the Messenger of Allah (s.a.w) or something that" you found in the Book of Allah?" Ibn 'Abbas said: "I do not say that it is either of them. As for the Messenger of Allah (s.a.w), you are more knowledgeable than me, and as for the Book of Allah, I do not know it better (than you), but Usamah bin Zaid told me that the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Indeed, Riba is only in the case of delayed payment."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو حضرت ابو سعید نے ان سے پوچھا: بیع صرف میں آپ جو فتوی دیتے ہیں کیا اس سلسلے میں آپ نے رسول اللہ ﷺسے کوئی حدیث سنی ہے ، یا آپ نے کتاب اللہ میں اس کو پایا ہو؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہرگز نہیں ،میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا،رہا رسول اللہ ﷺکا فرمان ،تو آپ اس کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ، اور رہا کتاب اللہ کا معاملہ تو مجھے اس میں اس کا حکم نہیں ملا۔لیکن مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سود ادھار میں ہے۔

Chapter No: 19

بابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ

Cursed is the one who takes Riba and the one who pays it

سود کھانے اور کھلانے والا لعنتی ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَأَلَ شِبَاكٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ. قَالَ قُلْتُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ قَالَ إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا.

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) cursed the one who consumes Riba and the one who pays it." I (the narrator) said: "And the one who writes it down and the two who witness it?" He said: "We only narrate what we heard."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے ،راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اور اس کے لکھنے والے پر ، اور اس کے گواہوں پر (لعنت ہو)،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اتنی ہی حدیث بیان کریں گے جتنی ہم نے سنی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) cursed the one who consumes Riba and the one who pays it, the one who writes it down and the two who witness it," and he said: "They are all the same."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے سود کھانے والے پر ، سود کھلانے والے پر ، سود لکھنے والے اور سود کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ اور فرمایا : یہ سب برابر ہیں۔

Chapter No: 20

بابُ أَخْذِ الْحَلاَلِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ

The (command of) accepting the lawful and leaving the doubtful

حلال لینا اور مشتبہ چیز وں کو ترک کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ « إِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِى الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِى الْحَرَامِ كَالرَّاعِى يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلاَ وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلاَ وَإِنَّ فِى الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلاَ وَهِىَ الْقَلْبُ ».

It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said - and An-Nu'man pointed with his fingers to his ears - "That which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are unclear which many people do not understand. Whoever guards against the unclear matters, he will protect his religion and his honor, but whoever falls into that which is unclear, he will soon fall into that which is unlawful. Like a shepherd who grazes his flock around the sanctuary; he will soon graze in it. Verily, every king has his prohibited land and verily, the prohibited land of Allah is that which He has forbidden. In the body there is a piece of flesh which, if it is healthy, the entire body will be healthy but if it is corrupt, the entire body will be corrupt. Verily it is the heart."

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا اور حضرت نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺفرماتے تھے حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا تو وہ حرام میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں، سنو! ہر بادشاہ کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور یاد رکھو! اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ آگاہ رہو! جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جب وہ بگڑ کیا تو سارا ہی بدن بگڑ گیا ، یاد رکھو!وہ دل ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Zakariyya narrated a similar report (as no. 4094) with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ وَأَبِى فَرْوَةَ الْهَمْدَانِىِّ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَكَرِيَّاءَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَكْثَرُ.

This Hadith was narrated from An-Nu'man bin Bashir from the Prophet (s.a.w), except that the Hadith of Zakariyya (no. 4094) is more complete and longer than their Hadith.

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺسے اس حدیث کو روایت کیا ہے ۔ البتہ راوی زکریا کی روایت ان کی روایت سے زیادہ مکمل اور پوری ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى حَدَّثَنِى خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ أَبِى هِلاَلٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِىِّ أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ». فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَكَرِيَّاءَ عَنِ الشَّعْبِىِّ إِلَى قَوْلِهِ « يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ».

It was narrated from 'Amir Ash-Sha'bi that he heard An-Nu'man bin Bashir, the Companion of the Messenger of Allah (s.a.w), addressing the people in Hims. He said: "That which is lawful is clear and that which is unlawful is clear," and he mentioned a Hadith similar to that of Zakariyya from Ash-Sha'bi (no. 4094), up to the words: "Soon he will fall into it."

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حمص میں دوران خطبہ کہا: میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے آپ فرمارہے تھے : حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ،پھر اس کے بعدقریب ہے تک زکریا کی روایت کی طرح ذکر کیا۔

1234