Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Book of Musaqa and Muaamalah (22)    كتاب المساقاة و المزارعة

1234

Chapter No: 21

بابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ

About selling a camel with a condition of riding on it (back to home)

اونٹ کو فروخت کرنا، اور سواری کا استثناء کرلینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِى جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَدَعَا لِى وَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ قَالَ « بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ ». قُلْتُ لاَ. ثُمَّ قَالَ « بِعْنِيهِ ». فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلاَنَهُ إِلَى أَهْلِى فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِى ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِى أَثَرِى فَقَالَ « أَتُرَانِى مَاكَسْتُكَ لآخُذَ جَمَلَكَ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ ».

Jabir bin 'Abdullah narrated that he was riding on a camel which had grown weak, and he wanted to let it go. He said: "The Prophet (s.a.w) caught up with me and he prayed for me and struck it, then it ran as it had never run before. He said: 'Sell it to me for an Uqiyah.' I said: 'No.' Then he said: 'Sell it to me.' So I sold it to him for an Uqiyah, but I stipulated that I would ride it back to my family. When I arrived, I brought the camel to him, and he paid me its price. Then I went back, and he sent (someone) after me and said: 'Do you think that I bargained with you so that I could take your camel? Take your camel and your Dirham, for they are yours."'

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے وہ چلتے چلتے تھک گیا انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا کہتے ہیں مجھے نبی کریم ﷺملے آپ ﷺنے میرے لئے دعا کی اور اونٹ کو مارا تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہ چلا تھا آپ ﷺنے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو میں نے کہا: نہیں پھر فرمایا: اس کو مجھے بیچ دو، تو میں نے اسے آپ ﷺکو ایک اوقیہ میں بیچ دیا، اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل وعیال تک جانے کا استثناء کیا جب میں پہنچا، تو میں اونٹ لیکر آپ ﷺکے پاس گیا تو آپ ﷺنے مجھے اس کی قیمت نقد ادا کر دی پھر میں واپس آگیا تو آپ ﷺنے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ میں نے تم سے کم قیمت لگوائی ہے تاکہ تجھ سے تیرا اونٹ لے لوں اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور دراہم بھی آپ کے ہیں۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى - يَعْنِى ابْنَ يُونُسَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِى جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

0

یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَتَلاَحَقَ بِى وَتَحْتِى نَاضِحٌ لِى قَدْ أَعْيَا وَلاَ يَكَادُ يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِى « مَا لِبَعِيرِكَ ». قَالَ قُلْتُ عَلِيلٌ - قَالَ - فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَازَالَ بَيْنَ يَدَىِ الإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ. قَالَ فَقَالَ لِى « كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ». قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ. قَالَ « أَفَتَبِيعُنِيهِ ». فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ. فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِى فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِى فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ فَلَقِيَنِى خَالِى فَسَأَلَنِى عَنِ الْبَعِيرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلاَمَنِى فِيهِ - قَالَ - وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لِى حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ « مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ». فَقُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا. قَالَ « أَفَلاَ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلاَعِبُكَ وَتُلاَعِبُهَا ». فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّىَ وَالِدِى - أَوِ اسْتُشْهِدَ - وَلِى أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلاَ تُؤَدِّبُهُنَّ وَلاَ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ - قَالَ - فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِى ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَىَّ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "I went on a campaign with the Messenger of Allah (s.a.w) and he caught up with me while I was riding a camel of mine that had grown weak and could hardly walk. He said to me: 'What is the matter with your camel?' I said: 'It has grown weak.' The Messenger of Allah (s.a.w) fell behind and prodded it, and prayed for it, and (after that) it was always in front of the other camels, running ahead of them. He said to me: 'How do you find your camel?' I said: 'It is fine; your blessing has reached it.' He said: 'Will you sell it to me?' I felt shy, and we did not have any camel but this one, so I said: 'Yes.' So I sold it to him, on the condition that I would ride it until I reached Al-Madinah. I said to him: 'O Messenger of Allah, I am newly married,' and I asked him for permission to go on ahead, and he gave me permission. So I went ahead of the people until I reached Al-Madinah. There my maternal uncle met me and asked about the camel, and I told him what I had done with it, and he criticized me. And the Messenger of Allah (s.a.w) said to me when I asked him for permission: 'Who did you marry, a virgin or a previously-married woman?' I said: 'I married a previously-married woman.' He said: 'Why not a virgin, so you could play with her and she could play with you?' I said to him: 'O Messenger of Allah, my father has died' - or 'was martyred' - 'and I have young sisters. I did not want to marry one who was like them, who would not teach them manners and look after them. So I married a previously-married woman who would look after them and teach them manners.' When the Messenger of Allah (s.a.w) came to Al-Madinah, I took the camel to him the next morning, and he gave me its price and returned it to me."

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک غزوہ میں گیا آپ ﷺمجھ سے ملے اس حال میں کہ میری سواری پانی لانے والا ایک اونٹ تھا جو تھک گیا اور چلنے سے عاجز آ گیا تھا آپ ﷺنے مجھے فرمایا: تیرے اونٹ کو کیا ہوگیا؟ میں نے عرض کیا بیمار ہوگیا ہے تو رسول اللہ ﷺپیچھے ہوئے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں سے آگے ہی چلتا رہا آپ ﷺنے مجھ سے کہا اب تمہارا اونٹ کیسا ہے ؟ میں نے عرض کیا بہت اچھا ہے ،اس کوآپ ﷺکی برکت سے فائدہ پہنچا ہے آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم اس اونٹ کو فروخت کروگے ؟میں نے شرم کی اور میرے پاس اس اونٹ کے علاوہ کوئی دوسرا پانی لانے والا نہ تھا میں نے عرض کیا جی ہاں پھر میں نے اس شرط پر آپ ﷺکو وہ اونٹ بیچ دیا کہ میں مدینہ کے پہنچنے تک اس پر سواری کروں گا میں نے آپ ﷺسے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺمیری نئی نئی شادی ہوئی ہے میں نے آپ ﷺسے اجازت مانگی تو آپ ﷺنے مجھے اجازت دے دی میں لوگوں سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گیا جب میں پہنچا میرے ماموں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں اس کی خبر دی جو میں کر چکا تھا تو اس نے مجھے اس بارے میں ملامت کی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جب میں نے آپ ﷺسے اجازت طلب کی تھی تو آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم نے کنورای سے شادی کی ہے یا بیوہ سے تو میں نے آپ ﷺسے عرض کیا کہ میں نے بیوہ سے شادی کی ہے تو آپ ﷺنے فرمایا: تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد فوت یا شہید ہو چکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں میں نے ان کی ہم عمر لڑکی سے نکاح کرنا پسند نہ کیا جو انہیں ادب نہ سکھائے اور نہ ان کی نگرانی کرے، بیوہ سے شادی میں نے اس لئے کی ہے تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے جب رسول اللہ ﷺمدینہ آئے تو میں صبح صبح ہی آپ ﷺکے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا آپ ﷺنے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس کردیا۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاعْتَلَّ جَمَلِى. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ثُمَّ قَالَ لِى « بِعْنِى جَمَلَكَ هَذَا ». قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ هُوَ لَكَ. قَالَ « لاَ بَلْ بِعْنِيهِ ». قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « لاَ بَلْ بِعْنِيهِ ». قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَىَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا. قَالَ « قَدْ أَخَذْتُهُ فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ». قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِبِلاَلٍ « أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ ». قَالَ فَأَعْطَانِى أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِى قِيرَاطًا - قَالَ - فَقُلْتُ لاَ تُفَارِقُنِى زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَكَانَ فِى كِيسٍ لِى فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ.

It was narrated that Jabir said: "We came back from Makkah to Al-Madinah with the Messenger of Allah (s.a.w), and my camel grew weak..." and he quoted a similar Hadith (as no. 4100), in which it says: "Then he said to me: 'Sell this camel of yours to me.' I said: 'No, rather it is yours.' He said: 'No, sell it to me.' I said: 'No, rather it is yours, O Messenger of Allah.' He said: 'No, sell it to me.' So I said: 'There is a man to whom I owe an Uqiyah of gold; it is yours in return for that.' He said: 'I will take it, but you may ride it until Al-Madinah.' When I reached Al-Madinah, the Messenger of Allah (s.a.w) said to Bilal: 'Give him an Uqiyah of gold, and a little more.' So he gave me an Uqiyah of gold, and added a Qirat." He said: "I said: 'The extra that the Messenger of Allah (s.a.w) gave me never left me; it was in a (money) bag of mine until the people of Ash-Sham took it on the Day of Al-Harrah."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مکہ سے مدینہ کی طرف رسول اللہ ﷺکے ساتھ آئے تو میرا اونٹ بیمار ہوگیا اور باقی حدیث کو اسی قصہ کے ساتھ بیان کیا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺنے مجھ سے فرمایا: تم اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے؟میں نے کہا: نہیں ، وہ آپ ہی کا اونٹ ہے یارسول اللہﷺ! آپﷺنے فرمایا: نہیں ، بلکہ مجھے وہ اونٹ فروخت کردو، میں نے کہا: نہیں ، وہ آپ ہی کا اونٹ ہے یارسول اللہﷺ! آپﷺنے فرمایا: نہیں ، بلکہ مجھے وہ اونٹ فروخت کردو، تو میں نے عرض کیا: میرے ذمہ ایک آدمی کا ایک اوقیہ سونا قرض ہے تو یہ اس کے عوض آپ ﷺلے لیں آپ ﷺنے فرمایا: میں نے خرید لیا اور اسی اونٹ پر مدینہ چلے جانا جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺنے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: کہ اسے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دینا، تو انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دیا، میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جو مجھے زیادہ عطا فرمایا ہے وہ مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوگا ، وہ سونا ہمیشہ میرے پاس ایک تھیلی میں رہا یہاں تک کہ یوم حرہ کو شامی فوجوں نے مجھ سے وہ لے لیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِىُّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فَتَخَلَّفَ نَاضِحِى. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ لِى « ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ ». وَزَادَ أَيْضًا قَالَ فَمَا زَالَ يَزِيدُنِى وَيَقُولُ « وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "We were with the Prophet (s.a.w) on a journey, and my camel fell behind..." he quoted the same Hadith (as no. 4101) and said: "The Messenger of Allah (s.a.w) prodded it, then he said to me: 'Ride, in the Name of Allah."' And he also added: "He kept on giving me more and saying: 'May Allah forgive you."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں نبیﷺکے ساتھ تھا ، میرا اونٹ پیچھے رہ گیا ، اس کے بعد وہی واقعہ بیان کیا اور کہا: کہ رسول اللہ ﷺنے اس اونٹ کو ایک ٹہوکا لگایا ، پھر مجھ سے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر اس پر سوار ہوجاؤ اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺمجھے مسلسل دعا دیتے رہے اور فرماتے رہے ، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا أَتَى عَلَىَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِى - قَالَ - فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ - فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لأَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَلَحِقَنِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « بِعْنِيهِ ». فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ - قَالَ - قُلْتُ عَلَى أَنَّ لِى ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. قَالَ « وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ». قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ فَزَادَنِى وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِى.

It was narrated that Jabir said: "When the Prophet (s.a.w) came to me while my camel had grown weak, he prodded it and it jumped. After that, I was pulling on its reins (to slow it down) so that I could listen to what he was saying, but I could not manage it. The Prophet (s.a.w) caught up with me and said: 'Sell it to me.' So I sold it to him for five Uqiyah. I said: 'On condition that I may ride it back to Al-Madinah.' He said: 'You may ride it back to Al-Madinah.' When I came to Al-Madinah, I brought it to him and he gave me an extra Uqiyah, then he gave it to me."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ نبی ﷺمیرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میرا اونٹ تھک چکا تھا، آپﷺنے اس کے ایک ٹہوکا لگایا پھر وہ اونٹ اچھلنے لگا،پھر میں آپﷺکی بات سننے کے لیے اس کی نکیل کھینچتا تھا، مگر اس کو قابو نہیں کرسکتا تھا، نبی ﷺمجھے ملے تو فرمانے لگے : یہ اونٹ مجھے بیچ دو، میں نے پانچ اواق میں یہ اونٹ آپ کو فروخت کردیا ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا کہ میں مدینہ تک اس پر سواری کرکے جاؤں گا۔ آپﷺنے فرمایا: تم اس پر مدینہ تک سواری کرسکتے ہو،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو اونٹ لیکر نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺنے مجھے ایک اوقیہ زیادہ دیا، پھر آپﷺنے وہ اونٹ بھی مجھے دے دیا۔


حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِى الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِىِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَعْضِ أَسْفَارِهِ - أَظُنُّهُ قَالَ غَازِيًا - وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَ « يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "I traveled with the Messenger of Allah (s.a.w) on one of his journeys" - I (the narrator) think he said it was a military campaign - and he narrated the Hadith (as no. 4103) and added: "He said: 'O Jabir, have you received the price in full?' I said: 'Yes.' He said: 'The price is yours and the camel is yours. The price is yours and the camel is yours."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہﷺکے ساتھ ایک سفر کیا ، راوی کہتا ہے کہ میرا خیال ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ یہ سفر جہاد تھا، اس میں اسی قصے کو بیان کیا ، اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺنے فرمایا: اے جابر! کیا تم نے پوری قیمت لے لی ہے ؟ میں نے کہا: جی ! آپﷺنے فرمایا: یہ قیمت بھی تمہاری ہے اور اونٹ بھی تمہارا ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ اشْتَرَى مِنِّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ - قَاَلَ - فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِى أَنْ آتِىَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّىَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِى ثَمَنَ الْبَعِيرِ فَأَرْجَحَ لِى.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) bought a camel from me for two Uqiyah and a Dirham or two Dirham. When we came to Sirar, he ordered that a cow be slaughtered and they ate from it. When he came to Al-Madinah he told me to go to the Masjid and pray two Rak'ah, and he weighed out for me the price of the camel and gave me more."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ مجھ سے رسول اللہﷺنے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم میں خریدا۔ انہوں نے کہا : جب ہم مقام صرار پہنچے تو آپﷺنے ایک گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا ، وہ ذبح کی گئی، اور سب لوگوں نے اس سے کھایا ، پھر جب آپﷺمدینہ تشریف لائے تو حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعت نماز پڑھوں اور مجھے اونٹ کی قیمت وزن کرکے دی اور زیادہ تول کردی۔


حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاشْتَرَاهُ مِنِّى بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ. وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ. وَقَالَ أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا.

This report was narrated from Jabir from the Prophet (s.a.w) (a Hadith similar to no. 4105), except that he said: "He bought it from me for the price that he had stipulated," but he did not mention two Uqiyahs and a Dirham or two Dirham. And he said: "He ordered that a cow be slaughtered then he distributed its meat."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ﷺسے یہی قصہ بیان کرتے ہیں صرف اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺنے ایک قیمت کے عوض مجھ سے اونٹ خرید لیا ، وہ قیمت رسول اللہﷺنے خود مقرر فرمائی تھی ، اس میں دو اوقیہ اور ایک درہم اور دو درہم کا ذکر نہیں ہے ، اور کہا: کہ حضور ﷺنے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ، وہ گائے ذبح کی گئی اور اس کا گوشت تقسیم کیا گیا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لَهُ « قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ».

It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) said to him: "I will take your camel for four Dinar and you may ride it until Al-Madinah."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: میں نے تمہارا اونٹ چار دینار میں لے لیا، اور تم اس کی پشت پر سوار ہوکر مدینہ جاسکتے ہو۔

Chapter No: 22

باب مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ وَ«خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً»

Regarding the one who took something as a loan that he should return it in a better way and the saying of the Prophet ﷺ: “best of you are those who are best in paying debts”

ادھار لینے والے کا اچھی چیز کے ذریعے قرض کی ادائیگی کرنے کا بیان ، اور ارشاد نبوی ہے: "تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو ادائیگی کرنے میں سب سے اچھا ہو"۔

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِىَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلاَّ خِيَارًا رَبَاعِيًا. فَقَالَ « أَعْطِهِ إِيَّاهُ إِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ».

It was narrated from Abu Rafi' that the Messenger of Allah (s.a.w) borrowed a young camel from a man, then some Sadaqah camels were brought to him. He told Abu Rafi' to give the man back his camel, and Abu Rafi' came back to him and said: "I could not find anything among them but camels that were better and older." He said: "Give it to him, for the best of people are those who are best in paying off their debts."

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک آدمی سے ایک جوان اونٹ قرض لیا ،پھر جب آپ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ نے حضرت ابو رافع کو حکم دیا کہ اس آدمی کا قرض ادا کردیں۔حضرت ابو رافع نے آپﷺکی طرف رجوع کرکے کہا کہ ان اونٹوں میں اس جیسا کوئی نہیں بلکہ اس سے بہتر ساتویں سال کے اونٹ ہیں ، آپﷺنے فرمایا: وہی دے دو، بہترین لوگ وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِى رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَكْرًا. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ».

It was narrated that Abu Rafi', the freed slave of the Messenger of Allah (s.a.w), said: "The Messenger of Allah (s.a.w) borrowed a young camel..." a similar report (as no. 4108), except that he said: "The best of the slaves of Allah are those who are the best in paying off their debts."

حضرت ابو رافع رسول اللہ ﷺکے آزاد کردہ غلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ایک آدمی سے ایک جوان اونٹ قرض کے طور پر لیا ، اس کے بعد حسب سابق روایت ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺنے فرمایا: اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَقٌّ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً - فَقَالَ لَهُمُ - اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ ». فَقَالُوا إِنَّا لاَ نَجِدُ إِلاَّ سِنًّا هُوَ خَيْرٌ مِنْ سِنِّهِ. قَالَ « فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ - أَوْ خَيْرَكُمْ - أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man was owed something by the Messenger of Allah (s.a.w) and he spoke to him in a harsh manner, so the Companions of the Prophet (s.a.w) wanted to go after him. The Prophet (s.a.w) said: 'The one who has a right is entitled to speak.' And he said to them: 'Buy a camel for him and give it to him.' They said: 'We cannot find anything but a camel that is better than his.' He said: 'Buy it and give it to him, for among the best of you' - or 'the best of you' - 'are those who are the best in paying off debts."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کا رسول اللہ ﷺپر قرض تھا۔ اس نے سختی کے ساتھ آپﷺسے تقاضا کیا ، رسو ل اللہﷺکے صحابہ نے اس کو مارنے کا ارادہ کیا ، نبی ﷺنے فرمایا: جس آدمی کا حق ہو اس کو بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ، پھر آپﷺنے صحابہ سے کہا: اس کے لیے ایک اونٹ خریدو اور اس کو دے دو، صحابہ نے کہا: ہم کو صرف وہی اونٹ مل سکا ہے جو اس سے بہتر ہے ، آپﷺنے فرمایا: وہ اونٹ خرید لو، اور اس کو دے دو، تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِىِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِنًّا فَأَعْطَى سِنًّا فَوْقَهُ وَقَالَ « خِيَارُكُمْ مَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) borrowed a camel, and gave back a camel that was better than it, and he said: 'The best of you are those who are the best in paying off debts."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک اونٹ قرض لیا تھا ،پھر اس سے بڑی عمر کا اونٹ واپس کیا ، اور فرمایا: تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَتَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعِيرًا فَقَالَ « أَعْطُوهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ - وَقَالَ - خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came asking the Messenger of Allah (s.a.w) to return a camel that he had borrowed, and he said: 'Give him a camel that is better than his camel.' And he said: 'The best of you is the one who is best in paying off debts."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک آدمی اونٹ کا تقاضا کرنے آیا ۔ آپﷺنے فرمایا: اس کے اونٹ سے بڑی عمر کا اونٹ دو اور فرمایا: تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔

Chapter No: 23

باب جَوَازِ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مِنْ جِنْسِهِ مُتَفَاضِلاً

The permissibility of selling animal for animal of the same kind on a differentiated price

حیوان کو حیوان کے عوض کمی اور بیشی کے ساتھ بیچنے کا جواز

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَابْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « بِعْنِيهِ ». فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ « أَعَبْدٌ هُوَ ».

It was narrated that Jabir said: "A slave came and swore allegiance to the Prophet (s.a.w), pledging to emigrate, and he did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him. The Prophet (s.a.w) said: 'Sell him to me,' and he bought him for two black slaves. Then after that he did not accept the oath of allegiance of anyone until he had asked: 'Is he a slave?"'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غلام آیا اور نبیﷺسے ہجرت پر بیعت کی ، اور آپﷺنے خیال نہیں کیا کہ یہ غلام ہے ، پھر اس کا مالک اس کو لینے کے لیے آیا ، نبیﷺنے فرمایا: اس کو میرے ہاتھ بیچ دو، پھر آپ ﷺ نے دو حبشی غلام دے کر اس کو خرید لیا ، اس کے بعد آپ ﷺاس وقت تک کسی کی بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ یہ معلوم نہ کرلیتے کہ کہیں وہ غلام تو نہیں ۔

Chapter No: 24

باب الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ

Regarding pawn and its permissibility at residence or in a journey

سفر اور حضر میں گروی رکھنے کا جواز

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ يَهُودِىٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) bought some food on credit from a Jew, and he gave him a coat of mail of his as collateral."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک یہودی سے ادھار طعام خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ دی۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ وَعَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ يَهُودِىٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) bought some food from a Jew and gave him an iron coat of mail as collateral."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک یہودی سے اناج خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس بطور گروی رکھ دی۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ ذَكَرْنَا الرَّهْنَ فِى السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِىِّ فَقَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اشْتَرَى مِنْ يَهُودِىٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ.

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) bought some food from a Jew to be paid for at a later date, and he gave him an iron coat of mail of his as collateral.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے مدت معینہ کےادھار پر ایک یہودی سے اناج خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔


حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِى الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ حَدِيدٍ.

A similar report (as no. 4116) was narrated from 'Aishah from the Prophet (s.a.w), but he (the narrator) did not mention iron.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے اسی طرح ایک روایت بیان کی ہے اور اس میں لوہے کا ذکر نہیں ہے۔

Chapter No: 25

بابُ السَّلَمِ

About As-Salam (Payment in advance)

بیع سلم کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا وَقَالَ يَحْيَى - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِى الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ فَقَالَ « مَنْ أَسْلَفَ فِى تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ».

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "When the Prophet (s.a.w) came to Al-Madinah, they used to pay one or two years in advance for fruits. He said: 'Whoever pays for fruits in advance, let him pay in advance for a specified measure and a specified weight, for a specified amount of time."'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺمدینہ تشریف لائے تو ایک سال اور دو سال کے ادھار پر لوگ پھلوں کی بیع کرتے تھے (یعنی بیع سلم کرتے تھے) نبی ﷺنے فرمایا: جو آدمی کھجوروں میں بیع سلم کرے وہ معین ماپ، مقررہ وزن اور مدت معینہ میں بیع کرے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَسْلَفَ فَلاَ يُسْلِفْ إِلاَّ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ».

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) came (to Al-Madinah), the people used to pay in advance. The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: 'Whoever pays in advance, let him not pay in advance except for a specified measure and a specified weight."'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺمدینہ تشریف لائے اور لوگ بیع سلم کرتے تھے ،تو رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی بیع سلم کرے وہ صرف مقررہ ماپ اور معین وزن میں کرے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ. وَلَمْ يَذْكُرْ « إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ».

A Hadith like that of 'Abdul-Warith (no. 4119) was narrated from Ibn Abi Najih with this chain, but he did not mention "until a specified time."

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے اور اس میں مدت معین کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ بِإِسْنَادِهِمْ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَذْكُرُ فِيهِ « إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ».

A Hadith (no. 4120) like that of Ibn 'Uyaynah was narrated from Ibn Abi Najih with their chain, and he mentioned: "until a specified time."

ایک اور سند سے بھی یہ روایت ابن عیینہ کی روایت کی طرح مروی ہے اور اس میں مدت معینہ کا ذکر ہے۔

Chapter No: 26

باب تَحْرِيمِ الاِحْتِكَارِ فِي الأَقْوَاتِ

About the forbiddance of hoarding the staple food

کھانے پینے کی چیزوں میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - قَالَ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ مَعْمَرًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ ». فَقِيلَ لِسَعِيدٍ فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ قَالَ سَعِيدٌ إِنَّ مَعْمَرًا الَّذِى كَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ يَحْتَكِرُ.

Sa'eed bin Al-Musayyab narrated that Ma'mar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever hoards is a sinner."' It was said to Sa'eed: "But you hoard." Sa'eed said: "Ma'mar, the one who narrated this Hadith, used to hoard."

حضرت معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی نے ذخیرہ اندوزی کی وہ گناہ گار ہے ، سعید بن مسیب سے پوچھا گیا: آپ تو خود ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: اس حدیث کے راوی حضرت معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِىُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحْتَكِرُ إِلاَّ خَاطِئٌ ».

It was narrated from Ma'mar bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "No one hoards but a sinner."

حضرت معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ذخیرہ اندوزی صرف گناہ گار ہی کرتا ہے ۔


قَالَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ مُسْلِمٌ وَحَدَّثَنِى بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِى مَعْمَرٍ أَحَدِ بَنِى عَدِىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى.

It was narrated that Ma'mar bin Abi Ma'mar, one of Banu 'Adiyy bin Ka'b, said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." and he mentioned a Hadith like that of Sulaiman bin Bilal from Yahya (no. 4122).

حضرت عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس کے بعد اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 27

باب النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ

About the forbiddance of taking oaths while selling

بیع میں قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِىُّ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ ».

It was narrated from Ibn Al-Musayyab that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Swearing helps one to sell the goods but it erases (the blessing of) the profit."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قسم سودے کو بڑھانے والی ہے اور نفع کو مٹانے والی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ الأَنْصَارِىِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِى الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ ».

It was narrated from Abu Qatadah Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Beware of swearing a great deal when selling, for it brings about a sale, then erases (the blessing)."

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: خریدو فروخت میں کثرت کے ساتھ قسم کھانے سے بچو، کیونکہ یہ سودا بکواتی ہے پھر اس کو مٹادیتی ہے ۔

Chapter No: 28

بابُ الشُّفْعَةِ

Regarding pre-emption

شفعہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِى رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِىَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has a partner in property or palm trees, he should not sell until he notifies his partner; if he agrees he may take it, and if he disagrees he may leave it."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی کی زمین یا کھجور کے باغ میں کوئی شریک ہو ، تو اپنے شریک سے اجازت کے بغیر اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، پھر اگر وہ راضی ہو تو لے لے اور ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالشُّفْعَةِ فِى كُلِّ شِرْكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ. لاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهْوَ أَحَقُّ بِهِ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) decreed pre-emption in every partnership that has not been divided, whether it is a dwelling or a garden. It is not permissible for him to sell it until he notifies his partner, and if he wishes, he may take it, and if he wishes, he may leave it. If he sells it and he did not give permission, then he has more right to it."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہر شرکت والے غیر منقسم مکان یا باغ میں رسول اللہﷺنے شفعہ کا فیصلہ کیا،اس کو شریک سےاجازت لیے بغیر بیچنا جائز نہیں ہے ۔ اگر وہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے ، پھر اگر وہ شریک کو اطلاع دیے بغیر بیچ دے تو شریک اس کا زیادہ حقدار ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشُّفْعَةُ فِى كُلِّ شِرْكٍ فِى أَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لاَ يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ فَإِنْ أَبَى فَشَرِيكُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ ».

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is preemption in every partnership in land, dwellings, or gardens. It is not right to sell until he offers it to his partner, who may take it or leave it. If he insists, then his partner has the greater right to it unless he notifies him."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہر مشترک مال میں شفعہ ہے ، خواہ زمین ہو یا گھر ہو یا باغ ، اس کو اس وقت تک فروخت کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ اپنے شریک پر اس کو پیش نہ کرے ، پھر وہ اس کو لے یا چھوڑدے ، اور اگر وہ شریک کو خبر نہ دے تو جب تک شریک کو اس کی خبر نہ دی جائے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔

Chapter No: 29

بابُ غَرْزِ الْخَشَبِ فِي جِدَارِ الْجَارِ

About fixing a piece of wood to a neighbor’s wall

پڑوسی کی دیوار میں لکڑی گاڑنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِى جِدَارِهِ ». قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِى أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "No one of you should prevent his neighbor from fixing a piece of wood to his wall." Then Abu Hurairah said: "Why do I see you objecting to it? By Allah, I will keep reminding you of it."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنی دیوار پر پڑوسی کو شہتیر رکھنے سے منع نہ کرے ،راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا سبب ہے کہ میں تمہیں اس حکم سے اعتراض کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ اللہ کی قسم ! میں یہ شہتیر تمہارے کندھوں پر رکھ دوں گا۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4130) was narrated from Az-Zuhri with this chain.

تین اور مختلف اسناد سے یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 30

بابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الأَرْضِ وَغَيْرِهَا

About the forbiddance of; oppression, occupying land unlawfully, and the like

ظلم اور زمین وغیرہ غصب کرنے کی حرمت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ».

It was narrated from Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever seizes a handspan of land unlawfully, Allah will shackle his neck with it, to seven earths on the Day of Resurrection."

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے ایک بالشت زمین بھی ظلما لی ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات طبقوں تک کی اس زمین کو طوق بناکر ڈال دے گا۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ أَرْوَى خَاصَمَتْهُ فِى بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِى سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِى دَارِهَا. قَالَ فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ أَصَابَتْنِى دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. فَبَيْنَمَا هِىَ تَمْشِى فِى الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِى الدَّارِ فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا.

It was narrated from 'Umar bin Muhammad, that his father narrated to him from Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail, that Arwa disputed with him about part of his house and he said: "Let her take it, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whoever seizes a handspan of land unlawfully, his neck will be shackled to seven earths on the Day of Resurrection.' O Allah, if she is lying, take away her sight and make her grave in her house." He said: "I saw her blind, clinging to the walls and saying: 'The supplication of Sa'eed bin Zaid afflicted me.' While she was walking in the house, she came to a well in the house and fell in, and it became her grave."

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اروی نے ان سے گھر کے بعض حصہ کے متعلق جھگڑا کیا ۔ انہوں نے کہا: اس کو چھوڑ دو اور یہ زمین اس کو دے دو۔ کیونکہ میں نے رسو ل اللہﷺسے سنا ہے جس آدمی نے ناحق ایک بالشت زمین بھی لی قیامت کے دن سات طبقوں تک کی وہ زمین اسے طوق بناکر ڈال دی جائے گی۔ اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اس کی قبر اسی گھر میں بنادے ، راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ وہ اندھی ہوچکی تھی ، دیواروں کو ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھے سعید بن زین کی بد دعا لگ گئی اور جس اثناء میں وہ گھر میں چل رہی تھی گھر کے کنوئیں کے پاس سے گزری اور اس کنویں میں گر گئی اور وہ گھر اس کی قبر بن گیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ. فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِى سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ». فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ لاَ أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا. فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِى أَرْضِهَا. قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا ثُمَّ بَيْنَا هِىَ تَمْشِى فِى أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِى حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ.

It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, that Arwa bint Uwais claimed that Sa'eed bin Zaid had taken some of her land, and she referred her dispute with him to Marwan bin Al-Hakam. Sa'eed said: "Would I take any of her land after what I heard from the Messenger of Allah (s.a.w)?" He said: "What did you hear from the Messenger of Allah (s.a.w)?" He said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whoever takes a handspan of land unlawfully, his neck will be shackled to seven earths."' Marwan said to him: "I will not ask you for any proof after this.'' He (Sa'eed) said: "O Allah, if she is lying then make her eyes blind and cause her to die in her own land." And she did not die until her sight was gone, then while she was walking on her land she fell into a pit and died.

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اروی بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر دعوی کیا کہ اس نے اس کی زمین سے کچھ لے لیا ہے وہ یہ مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں لے گئی تو سعید نے کہا: کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سلسلہ میں حدیث سننے کے بعد اس کی زمین میں سے کچھ حصہ لے سکتا ہوں؟ مروان نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے لے لی تو اسے ساتوں زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا تو ان سے مروان نے کہا : اس کے بعد میں آپ سے اور کسی دلیل کا سوال نہیں کروں گا، تو حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے اللہ اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کی زمین میں ہی اسے ماردے وہ عورت مرنے سے قبل اندھی ہوگئی تھی پھر اچانک وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے (پرانے کنوئیں) میں گر کر مر گئی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ».

It was narrated that Sa'eed bin Zaid said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'Whoever seizes a handspan of land unlawfully, his neck will be shackled to seven earths on the Day of Resurrection."'

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے بھی ظلماً ایک بالشت زمین لی وہ قیامت کے دن سات زمینوں تک طوق بناکر ڈال دی جائے گی۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No one seizes a handspan of land unlawfully, but Allah will shackle his neck to seven earths on the Day of Resurrection."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو کوئی بھی ایک بالشت زمین بھی ظلما لے گا،اللہ تعالیٰ اس کو سات زمینوں تک طوق بناکر قیامت کے دن ڈال دے گا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ - حَدَّثَنَا حَرْبٌ - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ أَبِى كَثِيرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِى أَرْضٍ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ».

it was narrated from Muhammad bin Ibrahim that Abu Salamah, who had a dispute with his people concerning some land, told him that he entered upon 'Aishah and told her about that. She said: "O Abu Salamah, stay away from this land, for the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever wrongs another with regard to (even) a handspan of land, his neck will be shackled to seven earths"'

حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان زمین میں جھگڑا تھا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابو سلمہ ! زمین سے بچ کے رہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے : جس آدمی نے ظلما ایک بالشت زمین بھی لی اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ أَخْبَرَنَا أَبَانٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Abu Salamah narrated that he entered upon 'Aishah... a similar report (as no. 4137).

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

1234