Sayings of the Messenger

 

‹ First2345

Chapter No: 31

بابُ قَدْرِ عُمْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِقَامَتِهِ بِمَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ

Concerning the age of Prophet ﷺ and his stay in Makkah and Al-Madinah

نبی ﷺکی عمر مبارک کا بیان اور آپﷺکا مکہ اور مدینہ میں سکونت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ ، وَلاَ بِالْقَصِيرِ ، وَلَيْسَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ وَلاَ بِالآدَمِ وَلاَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلاَ بِالسَّبِطِ ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً ، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was neither very tall nor short, and he was neither glaringly white nor brown, and his hair was neither very curly not straight. Allah appointed him (as His Messenger) when he reached the age of forty, and he stayed in Makkah for ten years. Allah caused him to die when he was sixty years old, and there were no more than twenty white hairs in his hair and beard.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ پست قد تھے ، نہ بالکل سفید رنگ تھا ، اور نہ بالکل گندمی، نہ سخت گھنگریالے بال تھے ، اور نہ بالکل سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا، آپﷺدس سال مکہ مکرمہ میں رہے ،اور دس سال مدینہ میں، ساٹھ سال کی عمر میں آپﷺ وفات پاگئے ، اور آپﷺکے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی نہیں تھے۔


وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ كِلَاهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِمَا كَانَ أَزْهَرَ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was neither very tall nor short, and he was neither glaringly white nor brown, and his hair was neither very curly not straight. Allah appointed him (as His Messenger) when he reached the age of forty, and he stayed in Makkah for ten years. Allah caused him to die when he was sixty years old, and there were no more than twenty white hairs in his hair and beard.”

یہ حدیث دو اور سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺکا سفید چمک دار رنگ تھا۔

Chapter No: 32

بابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ

Regarding Prophet's ﷺ age on the day he died

وفات کے وقت نبیﷺکی عمر مبارک کتنی تھی؟

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زَائِدَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ، وَعُمَرُ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) died when he was sixty-three years old, and Abu Bakr As-Siddiq died when he was Sixty-three years old, and ‘Umar died when he was sixty-three years old.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئے ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔


وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً.وقَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.

It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) died when he was sixty-three years old. Ibn Shihab said: “Sa’eed bin Al-Musaiyyab told me something similar.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺتریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔اور ابن شہاب کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے مجھے اس جیسا بتایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ، مِثْلَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ.

A Hadith like that of ‘Uqail (no. 6092) was narrated from Ibn Shihab with both chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔

Chapter No: 33

بابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ

Regarding the time Prophet ﷺ stayed in Makkah and Al-Madinah

نبی ﷺنے مکہ اور مدینہ میں کتنی مدت قیام فرمایا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ: كَمْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ: عَشْرًا ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ثَلاَثَ عَشْرَةَ.

It was narrated that ‘Amr said: “I said to ‘Urwah: ‘How long was the Prophet (s.a.w) in Makkah? He said: ‘Ten years.’ I said: ‘Ibn ‘Abbas says it was thirteen.”

عمرو کہتےہیں کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ نبیﷺمکہ میں کتنا عرصہ رہے ؟ انہوں نے کہا: دس سال ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: حضرت ابن عباس تیرہ سال فرماتے تھے ۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ: عَشْرًا ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: بِضْعَ عَشْرَةَ قَالَ : فَغَفَّرَهُ ، وَقَالَ إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ.

It was narrated that ‘Amr said: “I said to ‘Urwah: ‘How long did the Prophet (s.a.w) stay in Makkah?’ He said ‘Ten years.’ I said: ‘Ibn ‘Abbas says it was ten-plus.’ He prayed for forgiveness for him and said: ‘He took that from the words of the poet.”’

عمرو کہتےہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: نبیﷺمکہ میں کتنے سال رہے؟ انہوں نے کہا: دس سال ، میں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو دس اور کچھ سال کہتے ہیں ، عروہ نے کہا: اللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مغفرت کرے ، انہوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ.

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) stayed in Makkah for thirteen years and he died when he was sixty-three years old.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺمکہ میں تیرہ سال رہے اور جس وقت آپﷺ کی وفات ہوئی آپ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَمَاتَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً.

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (s.a.w) stayed in Makkah for thirteen years, receiving Revelation, and in Al-Madinah for ten years, and he died when he was sixty-three years old.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺمکہ میں تیرہ سال رہے ، آپﷺپر وحی کی جاتی تھی ، اور مدینہ میں دس سال رہے ، اور جس وقت آپﷺکا وصال ہوا آپ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، فَذَكَرُوا سِنَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَعْضُ الْقَوْمِ كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَكْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ، وَقُتِلَ عُمَرُ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ. قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَذَكَرُوا سِنَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ، وَقُتِلَ عُمَرُ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ.

It was narrated that Abu Ishaq said: “I was sitting with ‘Abdullah bin ‘Utbah, and they mentioned the age of the Messenger of Allah (s.a.w). Some of the people said that Abu Bakr was older than the Messenger of Allah (s.a.w). ‘Abdullah said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) passed away when he was sixty-three years old, and ‘Umar was killed when he was sixty-three years old.’ A man who was called ‘Amir bin Sa’d said: ‘Jarir told us: “We were sitting with Mu’awiyah and they mentioned the age of the Messenger of Allah (s.a.w). Mu’awiyah said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) died when he was sixty-three years old, and Abu Bakr died when he was sixty-three years old, and ‘Umar was killed when he was sixty-three years old.”’

ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عتبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ آپس میں رسول اللہﷺکی عمر کے بارے میں بحث کررہے تھے ، بعض لوگوں نے کہا: حضرت ابو بکر ، رسول اللہ ﷺسے عمر میں بڑے تھے ، عبد اللہ نے کہا: رسول اللہﷺ تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پاگئے ، اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں انتقال کرگئے ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں شہید ہوئے ، قوم میں سے ایک آدمی جس کا نام عامر بن سعد تھا اس نے کہا: جریر نے بیان کیا کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، لوگ رسول اللہﷺکی عمر کے بارے میں بحث کررہے تھے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺکا تریسٹھ سال کی عمر میں انتقال ہوا ، اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تریسٹھ سال کی عمر میں انتقال ہوا ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تریسٹھ سال کی عمر میں شہید ہوئے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَخْطُبُ فَقَالَ : مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ.

It was narrated from Jarir that he heard Mu’awiyah giving a speech, and he said: “The Messenger of Allah (s.a.w) died when he was sixty-three years old, and Abu Bakr and ‘Umar died at the same age, and I am sixty-three years old.”

جریر کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں کہا کہ رسول اللہﷺکا تریسٹھ سال کی عمر میں وصال ہوا ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وصال ہوا ، اور اب میں بھی تریسٹھ سال کا ہوں۔


وحَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ ؟ فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَكَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَاكَ ، قَالَ قُلْتُ : إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ ، قَالَ : أَتَحْسُبُ ؟ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ ، بُعِثَ لَهَا خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ ، وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ.

It was narrated that ‘Ammar, the freed slave of Banu Hashim, said: “I asked Ibn ‘Abbas: ‘How old was the Messenger of Allah (s.a.w) on the day he died?’ He said: ‘I did not think that a man of such standing among his people as you would be unaware of that.”’ He said: “I said: ‘I asked the people and they gave me different answers. I want to know what you say.’ He said: ‘Do you know how to count?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘Bear in mind that he was sent as a Prophet when he was forty. Fifteen years in Makkah, in it were times of safety and times of fear, and then years after he migrated to Al-Madinah.”’

عمار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺکے وفات کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ آپ کی قوم سے ہونے کے باوجود تم جیسے آدمی سے یہ چیز مخفی ہوگی ، میں نے کہا: کہ میں نے لوگوں سے یہ سوال کیا تھا ، ان کا اس میں اختلاف تھا ، تو میں نے یہ پسند کیا کہ میں اس مسئلہ میں آپ کا قول معلوم کروں ، حضرت ابن عباس نے پوچھا : تم کو حساب آتا ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ! انہوں نے کہا: یہ یاد رکھو کہ چالیس سال کی عمر میں آپﷺمبعوث ہوئے ، پندرہ سال مکہ میں رہے اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ میں رہے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.

A Hadith like that of Yazid bin Zurai’ (no. 6100) was narrated from Yunus with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تُوُفِّيَ ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ.

Ibn ‘Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) died when he was sixty-five years old.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکا جس وقت وصال ہوا ، اس وقت آپﷺکی عمر پینسٹھ سال تھی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Khalid with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6102).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ ، وَلاَ يَرَى شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا.

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (s.a.w) stayed in Makkah for fifteen years, hearing the voice and seeing the light, seven years when he did not see any visible form and eight years when he received Revelation, and he stayed in Al-Madinah for ten years.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺمکہ میں پندرہ سال رہے ، آپ سات سال تک آواز سنتے تھے ، روشنی دیکھتے تھے۔ اور آٹھ سال تک آپ ﷺ پر وحی آتی رہی اور آپﷺمدینہ میں دس سال رہے۔

Chapter No: 34

باب فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Concerning Prophet’s ﷺ names

نبیﷺکے اسماء مبارکہ کا بیان

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَأَنَا الْمَاحِي ، الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ.

Muhammad bin Jubair bin Mut’im narrated from his father that the Prophet (s.a.w) said: “I am Muhammad, and I am Ahmad, and I am Al-Mahi (the eraser) by means of whom disbelief is erased, and I am Al-Hashir (the gatherer) after whom all the people will be gathered (in the Hereafter), and I am Al-'Aqib (the last).” Al-‘Aqib is the one after whom there is no other Prophet.

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میں محمد ہوں او رمیں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں ، میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر مٹادے گا ، میں حاشر ہوں لوگوں کا میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا ، اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔


حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ لِي أَسْمَاءً ، أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ ، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ ، وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَؤُوفًا رَحِيمًا.

It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mut’im, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “I have several names. I am Muhammad, and I am Ahmad, and I am Al-Mahi (the eraser) by means of whom Allah erases disbelief, and I am Al-Hashir (the gatherer) at whose feet the people will be gathered, and I am Al-‘Aqib (the last) after whom there will be no other.” And Allah called him Ra’ufan Rahima (kind and compassionate).

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میرے کئی اسماء ہیں ، میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں ، میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا ، اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ آدمی ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام رؤف رحیم رکھا ہے۔


وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ ، وَمَعْمَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ : قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : وَمَا الْعَاقِبُ ؟ قَالَ : الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ. وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ الْكَفَرَةَ. وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْكُفْرَ.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6106). In the Hadith of Shu’aib and Ma’mar it says: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w).” In the Hadith of Ma’mar it says: “I said to Az-Zuhri: ‘What does Al-‘Aqib mean?’ He said: ‘The one after whom there is no other Prophet.”’

یہ حدیث تین سندوں سے بھی مروی ہے ، شعیب اور معمر کی روایت میں ہے : میں نے رسول اللہﷺسے سنا ، عقیل کی روایت میں ہے : زہری نے بیان کیا : عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، اور شعیب کی روایت میں کفر کا لفظ ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً ، فَقَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ ، وَالْمُقَفِّي ، وَالْحَاشِرُ ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ.

It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari said: “The Messenger of Allah (s.a.w) mentioned several of his names to us. He said: ‘I am Muhammad, and Ahmad, and Al-Muqaffi (the last in succession) and the Prophet of Repentance and the Prophet of Mercy.”’

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسو ل اللہﷺنے ہمارے لیے اپنے کئی نام بیان کیے ، آپﷺنے فرمایا: میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مقفی(عاقب) ہوں اور میں حاشر ہوں اور نبی التوبہ اور نبی الرحمہ ہوں۔

Chapter No: 35

باب عِلْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ

Regarding Prophet’s ﷺ knowledge about Allah, The Exalted, and his utmost fear of Him

اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ ﷺکو ہے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً.

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) did something that he regarded as permissible. News of that reached some of his Companions, and it was as if they disliked it and refrained from it. News of that reached him, and he stood up to deliver a speech and said: ‘What is the matter with some men who hear of something that I did because I regarded it as permissible, but they dislike it and refrain from it? By Allah, I am the most knowledgeable of them about Allah, and I am the one who fears Him the most.”’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کوئی کام کیا اور اس کو جائز قرار دیا ، آپﷺکے اصحاب میں سے بعض کو یہ خبر پہنچی ، انہوں نے گویا کہ اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ، نبی ﷺکو اس کی اطلاع ہوئی تو آپﷺنے کھڑے ہوکر خطبہ دیا اور فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جن کو یہ خبر ملی کہ میں نے ایک کام کو جائز قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ، اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں ، اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلاَهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.

A similar Hadith (as no. 6109) was narrated from Al-A’mash with the chain of Jarir.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ . فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً.

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession allowing something, but some of the people refrained from it. News of that reached the Prophet (s.a.w) and he became so angry that his anger could be seen on his face, then he said: ‘What is the matter with people who refrain from that concerning which I have been granted a concession? By Allah, I am the most knowledgeable of them about Allah, and I am the one who fears Him the most.”’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک کام کی رخصت دی ، بعض لوگوں نے اس کام سے پرہیز کیا ، نبی ﷺکو اس بات کی اطلاع پہنچی تو آپ ﷺناراض ہوئے یہاں تک کہ آپﷺکے چہرہ انور پر غضب کے آثار ظاہر ہوئے ، پھر آپﷺنے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے ، اللہ کی قسم! مجھے ان سب سے زیادہ اللہ کا علم ہے اور میں ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں ۔

Chapter No: 36

باب وُجُوبِ اتِّبَاعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

The obligation of following the Prophet ﷺ

رسول اللہﷺکی اتباع کرنے کا وجوب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ : اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ , فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا زُبَيْرُ اسْقِ ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ , فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لأَحْسِبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا}.(النساء: 65)

‘Abdullah bin Az-Zubair narrated that an Ansari man disputed with Az-Zubair in the presence of the Messenger of Allah (s.a.w) about the streams of the Harrah with which the date-palms were watered. The Ansari said: “Let the water flow,” but he refused. They referred the dispute to the Messenger of Allah (s.a.w), and the Messenger of Allah (s.a.w) said to Az-Zubair: “Water (your trees), O Az-Zubair, then let the water flow to your neighbor.” The Ansari got angry and said: “O Messenger of Allah it is because he is your cousin!” The face of the Prophet of Allah (s.a.w) changed color, then he said: “O Zubair, water (your trees) then block the water until it backs up to the bottom of the wall.” Az-Zubair said: “By Allah, I think that this Verse was revealed concerning that: ‘But no, by your Lord, they can have no Faith, until they make you judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission.”’

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺکے سامنے حرۂ مدینہ کے پانی میں جھگڑا ہوا جہاں سے کھجور کے درختوں کو پانی دیتے تھے ، انصاری نے کہا: پانی کو چھوڑ دو تاکہ وہ بہتا رہے ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا ، پھر وہ جھگڑا رسول اللہﷺکے پاس لے گئے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے زبیر! تم زمین کو پانی دو ،پھر پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو، انصاری غصہ میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ!یہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں رسول اللہﷺکے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا آپﷺنے فرمایا: اے زبیر ! تم پانی دو ، پھر پانی کو روک لو یہا ں تک کہ وہ منڈیر سے پھر واپس ہوجائے ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ترجمہ: آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم نہ مان لیں ، پھر آپﷺ کے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ کو پوری طرح تسلیم کرلیں۔

Chapter No: 37

باب تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لاَ ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لاَ يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لاَ يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ

About; Prophet’s ﷺ respect, and avoiding too many questions (mainly) about unnecessary things or which are not related to duties (of people) or what has not happened yet

رسول اللہ ﷺ کی عزت کرنے کا بیان اور بلا ضرورت زیادہ سوال کرنے کی کراہت

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، قَالاَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ , وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ , كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ ، وَاخْتِلاَفُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ.

Abu Hurairah narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: “Whatever I forbid to you, refrain from it, and whatever I order you, do as much of it as you can. Those who came before you were only destroyed because of their excessive questions and differences with their Prophets.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس کام سے میں تم کو منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا تم کو حکم دوں اس کو اپنی استطاعت کے مطابق کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ , مِثْلَهُ سَوَاءً.

A similar report (As no. 6113) was narrated from Ibn Shihab with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلاَهُمَا ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُلُّهُمْ ، قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ. وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ : مَا تُرِكْتُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Prophet (s.a.w) said: ‘Do not ask me about things that I have not mentioned to you.”’ In the Hadith of Hammam it says: “… What has not been mentioned to you; those who came before you were only destroyed because…” and they mentioned a Hadith like that of Az-Zuhri from Sa’eed and Abu Salamah, from Abu Hurairah.

یہ حدیث چھ سندوں کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس چیز کو میں چھوڑ دوں تم بھی اس کو چھوڑ دو ، کیونکہ جو تم سے پہلے لوگ تھے وہ ہلاک ہوگئے ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ.

It was narrated from ‘Amir bin Sa’d that his father said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The greatest sinner of the Muslims among the Muslims is the one who asks about something that was not forbidden to the Muslims, but it became forbidden to them because of his asking.”’

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے زیادہ جرم اس مسلمان کا ہے جس نے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جو مسلمانوں پر حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے حرام کردی گئی۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ.

It was narrated from ‘Amir bin Sa’d that his father said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The greatest sinner of the Muslims among the Muslims is the one who asks about something that was not forbidden, but it became forbidden to the people because of his asking.”’

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے زیادہ جرم اس مسلمان کا ہے جس نے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جو مسلمانوں پر حرام نہیں تھی ، پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ لوگوں پر حرام کردی گئی۔


وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلاَهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ. وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6117). In the Hadith of Ma’mar it adds: “A man who asked about something and indulged in hair-splitting.”

یہ حدیث دو اور سندوں سے حسب سابق مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا اور پھر اس بارے میں موشگافی کی۔ اور یونس کی روایت میں ہے کہ عامر بن سعد نے سعد سے سنا۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ اللُّؤْلُؤِيُّ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ مَحْمُودٌ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وقَالَ الآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ فَخَطَبَ فَقَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا , قَالَ : فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ ، قَالَ : غَطَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا , قَالَ : فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ فُلاَنٌ , فَنَزَلَتْ : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ}.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) heard something about his Companions, and he delivered a Khutbah and said: ‘Paradise and Hell were shown to me, and I have never seen good and evil as (I did) today. If you knew what I know you would laugh little and weep much.”’ He said: “There was never a day harder for the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) than that day. They covered their heads and wept. Then ‘Umar stood up and said: ‘We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Prophet.’ That man stood up and said: ‘Who is my father?’ He (s.a.w) said: ‘Your father is so-and-so.’ Then the Verse: ‘O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble. was revealed.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکو اپنے اصحاب سے کوئی خبر پہنچی آپﷺنے خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ پر جنت اور جہنم پیش کی گئی ، میں نے آج کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھی ، اگر تم ان چیزوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو گے اور زیادہ رؤوگے، رسول اللہﷺکے صحابہ پر اس سے زیادہ کوئی سخت دن نہیں تھا ، وہ سب سر جھکا کر بیٹھ گئے اور ان پر گریہ طاری ہوگیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر کہنے لگے: ہم اللہ کو رب مان کر ، اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو نبی مان کر راضی ہوگئے ، پھر وہ شخص کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: تیرا باپ فلاں ہے ، پھر یہ آیت نازل ہوئی : ترجمہ: اے ایمان والو! ان چیزوں کے بارے میں مت پوچھو اگر ان کو تمہارے لیے ظاہر کردیا جائے تو تم کو ناگوار ہوگا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ فُلاَنٌ وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} تَمَامَ الآيَةِ.

Anas bin Malik said: “A man said: ‘O Messenger of Allah, who is my father?’ He said: ‘Your father is so-and-so.’ Then the Verse: ‘O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble. But if you ask about them while the Qur’an is being revealed, they will be made plain to you. Allah has forgiven that, and Allah is Oft-Forgiving, Most Forbearing. was revealed.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ کون ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: تیرا باپ فلاں ہے ، پھر یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو! ان چیزوں کے بارے میں مت پوچھو ان کو اگر ظاہر کردیا جائے تو تم کو ناگوار ہوگا۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لاَ تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا. قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ: مَنْ أَبِي ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي بَرَكَ عُمَرُ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ، قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلَى ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا ، فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ ، لِعَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ : مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ أَعَقَّ مِنْكَ ؟ أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَةَ : وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ لَلَحِقْتُهُ.

Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) came out when the sun had passed its zenith, and led them in Zuhr prayer. When he had said the Salam he stood on the Minbar and mentioned the Hour, and said that there would be momentous events before it, then he said: “Whoever would like to ask me about anything, let him ask me, for by Allah, you will not ask me about anything but I will tell you about it, so long as I am standing here.” Anas bin Malik said: “By Allah, the people wept a great deal when they heard that from the Messenger of Allah (s.a.w). Th Messenger of Allah (s.a.w) often used to say ‘Ask me.’ ‘Abdullah bin Hudhafah stood up and said: ‘Who is my father, O Messenger of Allah?’ He said: ‘Your father is Hudhafah.’ When the Messenger of Allah (s.a.w) had said ‘Ask me’ repeatedly, ‘Umar knelt down and said: ‘We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad is our Messenger.’ The Messenger of Allah (s.a.w) fell silent when ‘Umar said that. Than the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Hard times are at hand, by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad. Paradise and Hell were shown to me just now, on this wall, and I have never seen good and evil as (I did) today.”’ Ibn Shihab said: “Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Utbah told me: ‘Umm ‘Abdullah bin Hudhafah said to ‘Abdullah bin Hudhafah: “I have never heard of a son more disrespectful than you. How can you be sure that your mother did not commit some of the sins committed by the women of the Jahiliyyah, thus you would have exposed her before the people?” ‘Abdullah bin Hudhafah said: “By Allah, if he had said that a black slave was my father I would have attributed myself to him.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد رسول اللہﷺتشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی ، جب آپ ﷺنے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوکر قیامت کا ذکر کیا اور یہ بتلایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور ظاہر ہوں گے ، پھر فرمایا: جو آدمی ان کے بارے میں مجھ سے سوال کرنا چاہتا ہے وہ سوال کرے ، اللہ کی قسم! میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں ، تم جس چیز کے بارے میں بھی سوال کروگے میں تم کو اس کی خبر دوں گا ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے رسول اللہﷺسےیہ سنا تو انہوں نے بہت رونا شروع کردیا ، اور رسول اللہ ﷺبار بار یہ کہتے تھے کہ مجھ سے سوال کرو، حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی نے کھڑے ہوکر کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ کون ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہی ہے جب رسول اللہﷺنے بہت زیادہ کہا کہ مجھ سے سوال کرو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عرض کیا: ہم اللہ کو رب ، اسلام کو دین ، اور محمد ﷺکو رسول مان کر راضی ہیں ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تو رسول اللہﷺخاموش ہوگئے ، پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: قریب ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، مجھ پر ابھی جنت او ردوزخ اس دیوار کی چڑھائی میں پیش کی گئی تھیں ، میں نے آج کی طرح خیر اور شر نہیں دیکھی ، ان شہاب کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے کہا: عبد اللہ بن حذافہ کی والدہ نے عبد اللہ بن حذافہ سے کہا: تم جیسا نافرمان بیٹا میں نے کبھی نہیں سنا ، کیا تم اس بات سے مامون تھے کہ تمہاری ماں نے بھی وہ کام کیا ہوگا جو زمانہ جاہلیت کی عورتیں کرتی تھیں اور پھر تم اپنی ماں کو لوگوں کی نظروں میں رسوا کرتے ، حضرت عبد اللہ بن حذافہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی بیان کرتے تو میں اس سے منسوب


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلاَهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ ، مَعَهُ. غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا ، قَالَ : عَن الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ ، قَالَتْ : ... بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.

This Hadith was narrated from Anas (similar to no. 6121) form the Prophet, along with the Hadith of ‘Ubaidullah.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے ، اور شعیب کی روایت میں ہے کہ زہری نے کہا: مجھے عبد اللہ بن عبد اللہ نے بتایا کہ مجھے اہل علم میں ایک آدمی نے کہا: کہ ام عبد اللہ بن حذافہ نے کہا: سابقہ حدیث کی طرح۔


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : سَلُونِي ، لاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ بَيَّنْتُهُ لَكُمْ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا وَرَهِبُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ. قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالاً ، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لاَفٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ ، كَانَ يُلاَحَى فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللهِ مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ.

It was narrated from Anas bin Malik that the people asked the Prophet of Allah (s.a.w) until he was hard pressed by their questioning. He came out one day and ascended the Minbar, and said: “Ask me, for you will not ask me anything but I will explain it to you.” When the people heard that, they were too over-awed to ask anything, as if something bad were about to happen. Anas said: “I started to look to my right and my left, and every man had wrapped his head in his garment and was weeping. A man who used to be slandered and his father stood up in the Masjid and said: ‘O Prophet of Allah, who is my father?’ He said: ‘Your father is Hudhafah.’ Then ‘Umar bin Al-Khattab started saying: ‘We are pleases with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Messenger, we seek refuge with Allah from the evil of Fitnah.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I have never seen good and evil as (I did) today. Paradise and Hell were shown to me; I saw them near this wall.”’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی ﷺسے سوالات کیے یہاں تک کہ آپ ﷺان کے سوالات سے تنگ آگئے ، پھر ایک دن آپﷺ نکلے اور منبر پر چڑے ہوئے اور پھر فرمایا: اب مجھ سے سوال کرو ، تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کروگے میں تم کو اس کا جواب دوں گا ، جب لوگوں نے یہ سنا تو خاموش ہوگئے ، اور اس سے خوفزدہ ہوئے کہ کہیں کچھ ہو نہ گیا ہو ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر آدمی کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا تھا ، پھر مسجد سے وہ آدمی اٹھا جس کو جھگڑے کے وقت اس کے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرا باپ کون ہے؟ آپﷺنے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہی ہے ، پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا: ہم اللہ کو رب مان کر ، اسلام کو دین مان کر،اور محمد ﷺکو رسول مان کر راضی ہیں ، اس حال میں ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے والے ہیں ، رسول اللہﷺنے فرمایا: میں نے آج کی طرح کبھی خیر اور شر کو نہیں دیکھا ، میرے سامنے اس دیوار کے قریب جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلاَهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالاَ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.

This story was narrated from Anas (a Hadith similar to no. 6123).

یہ حدیث تین اور سندوں سے اسی قصے کے ساتھ مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا ، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَضَبِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ قَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ.

It was narrated that Abu Musa said: “The Prophet (s.a.w) was asked about some things that he disliked. When he was asked too much he became angry and said to the people: ‘’Ask me whatever you want.’ A man said: ‘Who is my father?’ He said: ‘Your father is Hudhafah.’ Another man stood up and said: ‘Who is my father, O Messenger of Allah?’ He said: ‘Your father is Salim, the freed slave of Shaibah.’ When ‘Umar saw the anger on the face of the Messenger of Allah (s.a.w), he said: ‘O Messenger of Allah, we repent to Allah.”’ In the report of Abu Kuraib (it says): “He said: ‘Who is my father, O Messenger of Allah?’ He said: ‘Your father is Salim, the freed of Shaibah.”’

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺسے چند چیزوں کے بارے میں سوال کیے گئے جو آپ ﷺکو ناگوار ہوئے ، جب زیادہ سوال کیے گئے تو آپﷺغصہ میں آگئے ، پھر آپﷺنے لوگوں سے فرمایا: جس چیز کے بارے میں چاہو مجھ سے سوال کرو، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرا باپ کون ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہی ہے ، دوسرے آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ کون ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا (آزاد کردہ) غلام سالم ہے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺکے چہرے سے غصے کے آثار کو پہچانا تو کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں ، ابو کریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ کون ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: تمہارا باپ شیبہ کا غلام سالم ہے۔

Chapter No: 38

باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ

The obligation to obey what Prophet ﷺ says in matters pertaining to religion, but it’s not obligatory to obey what he says in worldly matters with his opinion

احکام شرعیہ میں رسول اللہ کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ . وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ عَلَى رُؤُوسِ النَّخْلِ ، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ ؟ فَقَالُوا : يُلَقِّحُونَهُ ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الأُنْثَى فتَلْقَحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا , قَالَ : فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ فَتَرَكُوهُ ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوهُ ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا ، فَلاَ تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللهِ شَيْئًا ، فَخُذُوا بِهِ ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated from Musa bin Talhah that his father said: “The Messenger of Allah (s.a.w) and I passed by some people who were at the top of their date palms. He said: ‘What are these people doing?’ They said: ‘They are pollinating them, putting the male with the female so that it will be pollinated.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I do not think that it is of any use.’ They were told about that, so they stopped doing it. The Messenger of Allah (s.a.w) was told about that and he said: ‘If it benefits them, let them do it. I only expressed what I thought. Do not blame me for what I say based on my own thoughts, but if I narrate something to you from Allah, than follow it, for I will never tell lies about Allah, may He Glorified and Exalted is He.”’

حضرت موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرا رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایسے لوگوں پر گزر ہوا جو کھجور کے درختوں کے اوپر تھے آپﷺنے فرمایا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ لوگ کھجوروں میں قلم لگارہے ہیں یعنی نر کھجوروں کو مادہ کھجوروں کے ساتھ ملاتے ہیں جس سے وہ پھلدار ہوجاتی ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے گمان میں یہ عمل ان کو کسی چیز سے مستغنی نہیں کرے گا ، جب ان صحابہ کو آپﷺکے اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے یہ عمل ترک کردیا ، جب رسول اللہﷺکو اس کی خبر ہوئی تو آپﷺنے فرمایا: اگر ان کو اس میں فائدہ ہے تو کرتے رہیں ، میں نےتو صرف گمان کیا تھا ، اور تم اس گمان پر عمل مت کرو، البتہ جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو اس پر عمل کرو، کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ بولنے والا نہیں ہوں۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ قَالُوا : كُنَّا نَصْنَعُهُ ، قَالَ : لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا فَتَرَكُوهُ ، فَنَفَضَتْ ، أَوْ فَنَقَصَتْ ، قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ. قَالَ عِكْرِمَةُ : أَوْ نَحْوَ هَذَا. قَالَ الْمَعْقِرِيُّ : فَنَفَضَتْ وَلَمْ يَشُكَّ.

Rafi bin Khadij said: “The Messenger of Allah (s.a.w) came to Al-Madinah, and they (the farmers) were pollinating date palms. They said, they are pollinating the date palms. He said: ‘What are you doing?’ They said: ‘We used to do that.’ He said: ‘Perhaps if you do not do it, it may be better.”’ So they stopped doing it, and the crop (that year) failed or the yield was reduced. They mentioned that to him and he said: ‘I am only human. If I tell you to do some in religious matter, then follow it, but if I tell you do not do something based on my opinion, then I am only human.”’

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺجس وقت مدینہ میں تشریف لائے تو صحابہ کھجوروں میں قلم لگاتے تھے ، آپﷺنے فرمایا: یہ تم کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اسی طرح کرتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: شاید تم نہ کرو تو اس میں زیادہ بہتری ہو ، انہوں نے اس کو چھوڑ دیا تو کھجوریں جھڑ گئیں یا کہا: کم ہوگئیں ، انہوں نے آپﷺسے ذکر کیا ، آپﷺنے فرمایا: میں صرف بشر ہوں ، جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور جب میں تم کو اپنی رائے سے کوئی حکم دوں تو میں صرف بشر ہوں ، عکرمہ کی روایت اسی طرح ہے اور معقری نے بغیر شک کے کہا: کھجوریں جھڑگئیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ قَالَ: فَخَرَجَ شِيصًا ، فَمَرَّ بِهِمْ فَقَالَ: مَا لِنَخْلِكُمْ ؟ قَالُوا: قُلْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ.

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) passed by some people who were pollinating (palm trees) and said: “If you do not do it, it may be better.” The trees produced bad dates, then he passed by them and said: “What is the matter with your palm trees?” They said: “You said such-and-such.” He said: “You know better about your worldly affairs.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں پیوند لگارہے تھے ، آپﷺنے فرمایا: اگر تم یہ نہ کرو ، تو اچھا ہوگا ، اس کے بعد ردّی کھجوریں پیدا ہوئیں ، پھر آپﷺکا ان کے پاس سے گزر ہوا ، آپﷺنے فرمایا: اب تمہاری کھجوروں کی کیا کیفیت ہے ؟ انہوں نے کہا: آپﷺنے اس اس طرح فرمایا تھا ، آپﷺنے فرمایا: تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جانتے ہو۔

Chapter No: 39

بابُ فَضْلِ النَّظَرِ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَنِّيهِ

The excellence of looking at Prophet ﷺ and longing for it

رسول اللہﷺکی زیارت اور اس کی تمنا کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلاَ يَرَانِي ، ثُمَّ لأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي ، لأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w),” – and he narrated a number of Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘By the One is Whose Hand is the soul of Muhammad, there will come to one of you a day when he cannot see me, then seeing me will become dearer to him than his family and his wealth together.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! تم لوگوں پر ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکو گے او رمیری زیارت کرنا تم لوگوں کے نزدیک اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہوگا ، ابو اسحاق نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ تم میں سے کسی کا اہل اور مال کے ساتھ میری زیارت کرنا اپنے اہل اور مال سے زیادہ عزیز ہوگا، میرے نزدیک اس حدیث کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے۔

Chapter No: 40

باب فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ

Regarding merits of Eisa عليه السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ ، الأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ.

Abu Hurairah said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘I am the closest of the people to the son of Mariam. The Prophets are brothers from different mothers, and there is no Prophet between him and I.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: میں دوسروں کی بہ نسبت حضرت ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں ، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں اور میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ، الأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلاَّتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I am the closest of the people to ‘Eisa. The Prophets are brothers from different mothers, and there is no Prophet between ‘Eisa and I.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: میں دوسروں کی بہ نسبت حضرت ابن مریم کے زیادہ قریب ہوں ، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ قَالُوا: كَيْفَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: الأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلاَّتٍ ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us form the Messenger of Allah (s.a.w).” He narrated a number of Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I am the closest of the people to ‘Eisa bin Mariam, in this world and in the Hereafter.’ They said: ‘How is that, O Messenger of Allah?’ He said: ‘The Prophets are brothers; their mothers are different but their religion is one, and there is no Prophet between us.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: میں دنیا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں ، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺﷺ! کس طرح؟ آپﷺنے فرمایا: انبیاء علاتی بھائی ہیں ، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ ، إِلاَّ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ. ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ}.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no child who is born but the Shaitan pricks him, and he begins to cry because of the Shaitan pricking him, except the son of Mariam and his mother.” Then Abu Hurairah said: “Recite, if you wish: ‘…And I seek refuge with You (Allah) for her and for her offspring from Shaitan (Satan), the outcast.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو چوکا مارتا ہے تو وہ بچہ شیطان کے چوکے مارنے کی وجہ سے چیختا ہےسوائے ابن مریم اور ان کے ماں کے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ! ترجمہ: میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔


وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالاَ: يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ. وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ.

It was narrated from Az-Zuhri with his chain of narrators (a Hadith similar no. 6133), and they said: “He (the Shaitan) touches him when he is born, and he cries because of the Shaitan touching him.” In the Hadith of Shu’aib it says: “Because of the Shaitan’s touch.”

امام مسلم کہتے ہیں کہ زہری کی سند میں ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان کے چوکے مارنے کی وجہ سے وہ چیخ مار کر روتا ہے ، اور شعیب کی روایت میں ہے شیطان کے چھونے سے۔


حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ سُلَيْمًا ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، إِلاَّ مَرْيَمَ وَابْنَهَا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Every son of Adam is touched by the Shaitan on the day his mother gives birth to him, except Mariam and her son.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ہر بنی آدم کو اس کی پیدائش کے دن شیطان چھوتا ہے ماسوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کے ۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ ، نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The infant’s cry when he is born is because of the prick of the Shaitan.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: ولادت کے وقت بچہ کا رونا شیطان کے چوکے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلاً يَسْرِقُ ، فَقَالَ لَهُ عِيسَى: سَرَقْتَ ؟ قَالَ: كَلاَّ ، وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ فَقَالَ : عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ نَفْسِي.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w).” He narrated a number of Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: “Eisa bin Mariam, said to him: “Did you steal?” He said: “No, by the One besides Whom there is none worthy of worship.” ‘Eisa said: “I believe in Allah and I disbelieve my own self.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: حضرت عیسیٰ بن مریم نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا ، حضرت عیسیٰ نے اس سے کہا: تم نے چوری کی ؟ اس نے کہا: نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، حضرت عیسیٰ نے کہا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیتا ہوں۔

‹ First2345