Sayings of the Messenger

 

‹ First345

Chapter No: 41

باب مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Regarding merits of Ibrahim ﷺ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فضائل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ (ح) وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “A man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: ‘O best of creation!’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘That is Ibrahim.”’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسو ل اللہﷺکے پاس آکر کہا: یا خیر البریہ ! آپ ﷺنے فرمایا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں(یعنی یہ ان کا لقب ہے)۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ، يَا رَسُولَ اللهِ ، بِمِثْلِهِ.

Mukhtar bin Fulful, the freed slave of ‘Amr bin Huraith, said: “I heard Anas say: ‘A man said: “O Messenger of Allah…” a similar report (a Hadith no. 6138).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

Al-Mukhtar said: “I heard Anas (narrate) from the Prophet (s.a.w)” – a similar report (as no. 6138).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے حسب سابق روایت کی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: (The Prophet) ‘Ibrahim circumcised himself when he was eighty years old, with an adze.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: حضرت ابراہیم نبی علیہ السلام نے اسّی سال کی عمر میں قدوم میں ختنہ کیا۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِذْ قَالَ : {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى ، قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “We are more likely to doubt than Ibrahim when he said: ‘My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in faith.’ And may Allah have mercy on Lut for he wanted a powerful support. And if I had stayed in prison as long as Yusuf stayed, I would have responded to the messenger (of the king).”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار تھے ، جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تمہارا اس پر ایمان نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ! لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے ، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے وہ ایک مضبوط قلعہ کی پناہ چاہتے تھے ، اور اگر میں حضرت یوسف علیہ السلام جتنی لمبی قید کاٹتا تو بلانے والے کے ساتھ فورا چلا جاتا۔


وَحَدَّثَنَاهُ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ ، أَخْبَرَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.

A Hadith like that of Az-Zuhri (no. 6142) was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (s.a.w).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے حسب سابق روایت کی ہے۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “May Allah forgive Lut, for he wanted a powerful support.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے ، انہوں نے مضبوط قلعہ کی پناہ طلب کی ہے۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، قَطُّ إِلاَّ ثَلاَثَ كَذَبَاتٍ ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ ، قَوْلُهُ : إِنِّي سَقِيمٌ ، وَقَوْلُهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ، وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ ، فَقَالَ لَهَا : إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ ، إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الإِسْلاَمِ ، فَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ ، أَتَاهُ فَقَالَ لَهُ : لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ لاَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلاَّ لَكَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى الصَّلاَةِ ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً ، فَقَالَ لَهَا : ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي وَلاَ أَضُرُّكِ ، فَفَعَلَتْ ، فَعَادَ ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الأُولَى ، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَتْ ، فَعَادَ ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي ، فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لاَ أَضُرَّكِ ، فَفَعَلَتْ ، وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا فَقَالَ لَهُ : إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي ، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ. قَالَ : فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ انْصَرَفَ ، فَقَالَ لَهَا : مَهْيَمْ ؟ قَالَتْ : خَيْرًا ، كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Ibrahim, never told any lies except three, two of which were for the sake of Allah, when he said: ‘I am sick’ and when he said: ‘Nay, this one, the biggest of them (idols) did it.’ And one was for the sake of Sarah, when he came to the land of a tyrant, and Sarah was with him, and she was the most good-looking of people. He said to her: ‘If this tyrant realizes that you are my wife, he will take you away from me. If he asks you, tell him that you are my sister, for you are my sister in Islam, and I o not know of any other Muslim on earth apart from you and me.’ “When he entered his land and some of the tyrant’s people saw him, they went to hum (the tyrant) and said to him: ‘There has come to your land a woman who should not belong to him, anyone but you.’ He sent for her and she was brought to him, and Ibrahim ?, stood in prayer. When she entered upon him, he could not help but reach out towards her, forcefully. He said to her: ‘Pray to Allah to let my hand go, and I will not harm you.’ She did that, but he did the same thing again, and his hand was seized more forcefully than before. He said the same thing to her, and she did that, but he did the same thing again, and his hand was seized more forcefully than the first two times. He said: ‘Pray to Allah to let my hand go, and by Allah I will not harm you.’ She did that and his hand was let go. Then he called the one who had brought her and said to him: ‘You brought me a devil, not a human being. Expel her from my land, and give her Hajar.’ “She came back walking, and when Ibrahim, saw her he turned away and he said to her: ‘What happened?’ She said: ‘Nothing but good. Allah withheld the hand of the evildoer and he gave me a servant.”’ Abu Hurairah said: “That was your mother, O sons of the rain of the sky.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ کے سوا جھوٹ نہیں بولا ، دو جھوٹ اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تھے ، ان کا کہنا " میں بیمار ہوں" ، اور ان کا کہنا " بلکہ اسی نے کیا ہے "، اور ان کا ایک جھوٹ حضرت سارہ کے بارے میں کہا: کیونکہ وہ حضرت سارہ کے ساتھ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں گئے وہ بہت خوبصورت تھیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کہا: اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہوگیا کہ تم میری بیوی ہو تو وہ تم کو مجھ سے چھین لے گا ، تم اس کو یہ بتانا کہ تم میری بہن ہو ، کیونکہ تم دین اسلام کے لحاظ سے میری بہن ہو ، کیونکہ اب میرے علم کے مطابق روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا اور کوئی مسلمان نہیں ہے ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس ملک میں داخل ہوئے تو اس بادشاہ کے بعض کارندوں نے حضرت سارہ کو دیکھ لیا ، انہوں نے اس بادشاہ سے کہا: تمہاری زمین پر ایک ایسی عورت آئی ہے جو تمہارے سوا کسی اور کے لائق نہیں ہے ، بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوالیا ، جب ان کو لے جایا گیا تو حضرت ابراہیم نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ، جب حضرت سارہ اس کے پاس پہنچیں تو وہ ان کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر نہ رہ سکا ، تو اس کے ہاتھ کو سختی سے جکڑ دیا گیا ، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میرا ہاتھ ٹھیک کردے میں تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ، حضرت سارہ نے دعا کی ، اس نے دوبارہ ہاتھ بڑھایا ، دوبارہ پہلے سے زیادہ سختی سے اس کا ہاتھ جکڑ لیا گیا ، اس نے پھر دعا کی درخواست کی ، حضرت سارہ نے دعا کی : اس نے پھر ہاتھ بڑھایا ، اس مرتبہ پہلی دوبار سے زیادہ سختی سے اس کا ہاتھ جکڑ لیا گیا ، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، اللہ کی قسم!میں پھر کبھی تم کو نقصان نہیں دوں گا ، حضرت سارہ نے دعا کی ، اس کا ہاتھ کھول دیا گیا ۔ اس نے حضرت سارہ کو لانے والے کو بلایا اور کہا: تم میرے پاس اس جننی کو لائے ہو کسی انسان کو نہیں لائے ، اس کو میرے ملک سے نکال دو اور ہاجرہ بھی ان کے دے دو ، پھر حضرت سارہ لوٹ آئیں ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو دیکھا تو نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: کیا ہوا ؟ حضرت سارہ نے کہا: خیر ہے ، اللہ تعالیٰ نے فاجر کے ہاتھ روک لیا ، اور ایک خادمہ عطا کی ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بارش کی اولاد! یہ تمہاری ماں ہے۔

Chapter No: 42

باب مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Regarding merits of Musa ﷺ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً ، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ ، قَالَ : فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ ، قَالَ فَجَمَحَ مُوسَى بِأَثَرِهِ يَقُولُ : ثَوْبِي ، حَجَرُ ثَوْبِي ، حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ ، حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ ، قَالَ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ ، أَوْ سَبْعَةٌ ، ضَرْبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِالْحَجَرِ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w).” He narrated a number of Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The Children of Israel used to bathe naked, looking at one another’s ‘Awrah, but Musa , used to bathe alone. They said: “By Allah nothing is keeping Musa from bathing with us but a scrotal hernia.” On one occasion he went to bathe and he put his garment on a rock, and the rock fled with his garment. Musa raced after it saying: “My garment, O rock! My garment, O rock!” until the Children of Israel had seen Musa’s ‘Awrah and said: “By Allah, there is nothing wrong with him.” “Then the rock stood still, until everyone could see it, then he took his garments and started striking the rock hard.”’ Abu Hurairah said: “By Allah, there were six or seven marks on the rock, where Musa, struck the rock.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام علیحدگی میں غسل کرتے تھے بنو اسرائیل کہنے لگے : اللہ کی قسم! حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے میں اس کے سوا اورکوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے کہ ان کو فتق کی بیماری ہے (یعنی ان کے خصیے سوجے ہوئے ہیں ) ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کررہے تھے اور انہوں نے ایک پتھر پر کپڑے رکھے ہوئے تھے اچانک پتھر ان کے کپڑے لے بھاگا ، حضرت موسیٰ اس پتھر کے پیچھے بھاگے اور کہتے تھے : اے پتھر ! میرے کپڑے دے ، اے پتھر ! میرے کپڑے دے ، یہاں تک کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ کی شرمگاہ دیکھ لی ۔ پھر وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم! حضرت موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں ہے ، جب لوگ دیکھ چکے تو پتھر ٹھہر گیا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے اٹھائے اور پتھر کو مارنا شروع کردیا ، اللہ کی قسم! حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مارنے سے اس پتھر پر چھ یا سات نشان پڑ گئے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ رَجُلاً حَيِيًّا ، قَالَ فَكَانَ لاَ يُرَى مُتَجَرِّدًا ، قَالَ فَقَالَ : بَنُو إِسْرَائِيلَ: إِنَّهُ آدَرُ ، قَالَ : فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ ، فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى ، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ : ثَوْبِي ، حَجَرُ ثَوْبِي ، حَجَرُ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيهًا}.

It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq said: Abu Hurairah told us: “Musa, was a shy man, and he was never seen naked. The Children of Israel said: ‘He has a scrotal hernia.’ He bathed in a pound and put his garment on rock. The rock sped off, and he chased it with his stick, striking it and saying: ‘My garment, O rock! My garment, O rock!’ until it stopped near a group of the Children of Israel. Then the Verse: ‘O you who believe! Be not like those who annoyed Musa, but Allah cleared of him that which they alleged, and he was honorable before Allah was revealed.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام با حیاء مرد تھے وہ کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے ، بنو اسرائیل نے کہا: ان کو فتق کی بیماری ہے ، ایک دن انہوں نے کسی پانی پر غسل کیا اور ایک پتھر پر کپڑے رکھے ، وہ پتھر دوڑتا ہوا نکل گیا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لاٹھی مارتے ہوئے اس کا پیچھا کیا ، اے پتھر ! میرے کپڑے ، اے پتھر ! میرے کپڑے ، بنواسرائیل کی ایک جمات سے گزرے اور یہ آیت نازل ہوئی : ترجمہ : اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی تھی ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی تہمت سے بری کردیا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت عزت والے ہیں۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لاَ يُرِيدُ الْمَوْتَ ، قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ ، بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ ، سَنَةٌ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالآنَ ، فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ ، لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Angel of Death was sent to Musa, and when he came to him he slapped hum and put out his eye. He went back to his Lord and said: ‘You sent me to a slave of Yours who does not want to die.’ Allah restored his eye and said: ‘Go back to him and tell him to put his hand on the back of an ox, and however many hairs his hand covers, he will have one year for each hair.’ He said: ‘O Lord, than what?’ He said: ‘Death.’ He said: ‘Left it be now.’ And he asked Allah to bring him near to the holy land, a stone’s throw from it. And the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘If I were there, I would show you his grave beside the road, beneath the re mound.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس موت کا فرشتہ بھیجا گیا ، جب ان کے پاس آیا ، تو انہوں نے اس کو تھپڑ رسید کیا جس سے موت کے فرشتہ کی آنکھ نکل گئی ، وہ اللہ کے پاس واپس لوٹا اور کہا: اے میرے رب! تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹادی اور فرمایا: ان کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہو کہ ایک بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیں ، آپ علیہ السلام کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے اتنے سال آپ کی عمر بڑھادی جائے گی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے رب! پھر کیا ہوگا : کہا: پھر موت ہے ، کہا: تو ابھی ، اور اللہ سے یہ دعا کی : اے اللہ مجھے ارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ پر کردے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر میں اس جگہ ہوتا تو تم کو کثیب احمر کے نزدیک راستہ کی ایک جانب ان کی قبر دکھاتا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ . فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ قَالَ فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا ، قَالَ فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللهِ تَعَالَى فَقَالَ : إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لاَ يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي ، قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ : الْحَيَاةَ تُرِيدُ ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ تَمُوتُ ، قَالَ : فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ ، رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ ، رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w).” He narrated a number Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: “The Angel of Dead came to Musa and said: “Answer the call of your Lord.” Musa, slapped the eye of the Angel of Death and put it out. The Angel went back to Allah, Exalted is He, and said: “You have sent me to a slave of Yours who does not want to die, and he has put out my eye.” Allah restored his eye and said: “Go back to My slave and say: ‘Do you want to live? If you want to live, put your hand to the back of an ox and however many hairs your hand covers, you will have one year for every year.”’ He said: “Then what?” He said: “Then you will die.” He (Musa) said: “Rather let it be now. O Lord, cause me to die a stone’s throw from the holy land.”’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘By Allah, if I were there I would show you his grave, beside the road, beneath the red mound.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس موت کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا: اپنے رب کے پاس چلیے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو تھپڑ مار کر اس کی کی آنکھ نکال دی ، موت کا فرشتہ اللہ تعالیٰ کے پاس واپس گئے اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا ہے جو موت کا ارادہ ہی نہیں رکھتا اور اس نے میری آنکھ نکال دی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹا دی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے کے پاس جاؤ اور کہو: آپ زندگی کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اگر آپ کا زندگی کا ارادہ ہے تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھیے جتنے بال آپﷺکے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ کی عمر بڑھادی جائے گی ، حضرت موسیٰ نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ کہا: پھر آپ کو موت آئے گی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: پھر اب قریب ہی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! ارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ پر میری روح قبض کرنا ، رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں اس جگہ ہوتا تو میں تم کو کثیب احمر کے پاس راستہ کی ایک جانب ان کی قبر دکھاتا۔


قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.

Ma’mar narrated a similar Hadith (as no. 6149).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے ۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا ، كَرِهَهُ ، أَوْ لَمْ يَرْضَهُ ، شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : لاَ ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْبَشَرِ قَالَ : فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَطَمَ وَجْهَهُ ، قَالَ : تَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْبَشَرِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ؟ قَالَ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا ، وَقَالَ : فُلاَنٌ لَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟ قَالَ : قَالَ ، يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْبَشَرِ وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : لاَ تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللهِ ، فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ ، أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ آخِذٌ بِالْعَرْشِ ، فَلاَ أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ ، أَوْ بُعِثَ قَبْلِي ، وَلاَ أَقُولُ : إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلاَمُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “While a Jew was selling some goods, he was offered something for them that he did not like, or that did not please him” – ‘Abdul-‘Aziz (a narrator) was not sure. – “He said: ‘No, by the One Who chose Musa, above mankind!’ An Ansari man heard hum and slapped him on the face, and said: ‘You say, by the One Who chose Musa above mankind, when the Messenger of Allah (s.a.w) is among us?’ The Jew went to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: ‘O Abul-Qasim, I am under protection and have a covenant.’ And he said: ‘So-and-so slapped my face.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Why did you slap his face?’ He said: ‘O Messenger of Allah, he said: “By the One Who chose Musa over mankind,” when you are among us.’ The Messenger of Allah (s.a.w) became so angry that his anger could be seen in his face, and said: ‘Do not differentiate between the Prophet of Allah, for the Trumpet will be blown and those who are in heaven and on earth will swoon, except those whom Allah wills. Then it will be blown again and I will be the first one to be raised, and Musa, will be there, holding on to the Throne, and I will not know whether he was compensated for his swooning on the Day of At-Tur or whether he was raised before me. And I do not say that anyone is better than Yunus bin Matta.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی اپنا سامان بیچ رہا تھا ، اس کو اس کا کچھ معاوضہ دیا گیا جس کو اس نے ناپسند کیا ، یا وہ اس پر راضی نہیں ہوا ۔ اس یہودی نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ، ایک انصاری نے یہ کلام سنا اور اس یہودی کو ایک تھپڑ رسید کیا اور کہا: تو کہتا ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ، حالانکہ رسول اللہﷺہمارے درمیان ہیں ، وہ یہودی رسو ل اللہﷺکے پاس گیا اور کہنے لگا: اے ابو القاسم! میں ذمی ہوں اور مجھے امان دی گئی ہے اور فلان آدمی نے میرے چہرے پر تھپڑ مارا ہے ، رسو ل اللہﷺنے پوچھا: تم نے اس کے چہرے پر تھپڑ کیوں مارا ہے ؟ اس انصاری نے کہا: اس یہودی نے یہ کہا تھا کہ اس ذات کی قسم!جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ، حالانکہ آپ ہمارے درمیان موجو د ہیں ، رسو ل اللہﷺناراض ہوئے اور آپ ﷺکے چہرے پر ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے ، آپﷺنے فرمایا: انبیاء علیہم السلام کے درمیان فضیلت مت دو ، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں اور زمین والے بے ہوش ہوجائیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ مستثنیٰ کرے گا ، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب سے پہلے میں اٹھوں گا ، یا فرمایا: میں سب سے پہلے اٹھنے والوں میں ہوں گا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کو پکڑے کھڑے ہیں۔مجھے پتا نہیں کہ آیا یوم طور کی بے ہوشی میں ان کا حساب کر لیا گیا یا وہ مجھ سے پہلے اٹھائے گئے اور میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی آدمی بھی حضرت یونس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے۔


وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ سَوَاءً.

‘Abdul-‘Aziz bin Abi Salamah narrated a similar (as no. 6151) report with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے ۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ : الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ وَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى الْعَالَمِينَ قَالَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ ، فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “Two men traded insults, a Jewish man and a Muslim man. The Muslim said: ‘By the One Who chose Muhammad (s.a.w) above all of creation.’ The Jew said: ‘By the One Who Chose Musa, above all of creation.’ The Muslim raised his hand at that point and slapped the Jew’s face. The Jew went to the Messenger of Allah (s.a.w) and told what had happened between him and the Muslim. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Do not regard me as superior to Musa, for (when the Trumpet is blown) the people will swoon and I will be the first one to wake up, and I will see Musa, holding on to the side of the Throne, and I will not know whether he was one of those who swooned and he woke up before me, or if he will be one of those who are exempted (from swooning when the Trumpet is blown) by Allah.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی لڑ پڑے ، ایک یہودی تھا اور ایک مسلمان ، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمدﷺکو تمام جہانوں پر فضیلت دی ، اور یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ، مسلمان نے ہاتھ اٹھاکر یہودی کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا ، وہ یہودی رسو ل اللہﷺکے پاس گیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی جو اس کے اور مسلمان کے درمیان پیش آیا تھا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: مجھے حضرت موسیٰ پر فضیلت مت دو ، کیونکہ لوگ بے ہوش کیے جائیں گے اور سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کے ایک کونے کو پکڑے کھڑے ہوں گے ، مجھے معلوم نہیں کہ آیا وہ بے ہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا وہ ان میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ رکھا۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “A Muslim man and a Jewish man traded insults…” a Hadith like that of Ibrahim bin Sa’d from Ibn Shihab (no. 6153).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں جھگڑا ہوا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي ، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ.

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “A Jew who had been slapped on the face came to the Prophet (s.a.w)…” a Hadith like that of Az-Zuhri (no. 6154), except that he said: “I will not know whether he was one of those who swooned and he woke up before me, or if his swooning at At-Tur was sufficient for him.”

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے پاس ایک یہودی آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے ، لیکن اس میں یہ ہے کہ آپﷺنے فرمایا: مجھے پتا نہیں ، آیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ، یا طور کی بے ہوشی سے ان پر اکتفاء کرلی گئی ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي.

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Do not differentiate between the Prophets.”’

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: انبیاء علیہم السلام کے درمیان فضیلت مت دو۔


حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَيْتُ ، وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ : مَرَرْتُ ، عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I came to “ – in the report of Haddab: “I passed by – Musa on the night on which I was taken on the Night Journey, at the red mound, and he was standing and praying in his grave.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا ، ایک روایت میں ہے میرا کثیب احمر کے پاس سے گزر ہوا اس حال میں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔


وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ عِيسَى مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي.

Anas said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: “I passed by Musa and he was praying in his grave.” In the Hadith of ‘Eisa it adds: “I passed by on the night on which I was taken on the Night Journey.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر گزر ہوا اس حال میں کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ، ایک روایت میں ہے کہ معراج کی رات میرا گزر ہوا۔

Chapter No: 43

باب فِي ذِكْرِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»:

Regarding Younis عليه السلام and the saying of the Prophet ﷺ : "No one should say that I am better than Younis Bin Matta"

حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ، او رنبیﷺکا فرمان: کسی آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ ، يَعْنِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ لِي ، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: لِعَبْدِي، أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلاَمُ. قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ.

It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w) that He (Allah, Blessed and Exalted is He) said: No slave of Mine should say” – Ibn Al-Muthanna said: “My slave should not say” – ‘I am better than Yunus bin Matta.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے کسی بندے کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ یوں کہے کہ میں یونس بن متیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى. وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.

It was narrated that Qatadah said: “I heard Abdul-‘Aliyah say: ‘The cousin of your Prophet (s.a.w), i.e., Ibn ‘Abbas told me that the Prophet (s.a.w) said: “No one should say: ‘I am better than Yunus bin Matta.”’

ابو العالیہ نے کہا: تمہارے نبی ﷺکے چچا زاد نے مجھ سے فرمایا کہ نبی ﷺنے فرمایا: کسی بندے کو یہ کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں ، اور آپ ﷺنے انہیں ان کے والد کی طرف منسوب کیا۔

Chapter No: 44

باب مِنْ فَضَائِلِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ

Regarding merits of Yousaf عليه السلام

حضرت یوسف علیہ السلام کے فضائل

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَتْقَاهُمْ قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نَبِيِّ اللهِ ابْنِ نَبِيِّ اللهِ ابْنِ خَلِيلِ اللهِ قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ ، إِذَا فَقُهُوا.

It was narrated that Abu Hurairah said: “It was said: ‘O Messenger of Allah, who is the most honored of people?’ He said: ‘The one with the most Taqwa.’ They said: ‘This is not what we are asking about.’ He said: ‘Yusuf, the Prophet of Allah, the son of the Prophet of Allah, the son of the Prophet of Allah, the son of the Kahlil (Close Friend) of Allah.’ They said: ‘This is not what we are asking about.’ He said: ‘Are you asking about the lineages of the Arabs then? The best of them during the Jahiliyyah are the best of them in Islam, when they gain understanding (of the religion).”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺسے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں سب سے زیادہ کریم کون ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: جو ان میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو، صحابہ نے کہا: ہم اس کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺنے فرمایا: تو پھر سب سے کریم اللہ کے نبی حضرت یوسف ہیں ، جو اللہ کے نبی کے بیٹے اور خلیل اللہ کے پوتے ہیں ، صحابہ نے کہا: ہم اس کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھ رہے ، آپﷺنے فرمایا: پھر تم قبائل عرب کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ جو لوگ جاہلیت میں افضل تھے وہ لوگ دین میں فقاہت حاصل کرنے کے بعد اسلام میں بھی افضل ہیں۔

Chapter No: 45

بَابُ مِنْ فَضَائِلِ زَكَرِيَّاءَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ

Regarding merits of Zakaria عليه السلام

حضرت زکریا علیہ السلام کے فضائل

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ زَكَرِيَّاءُ نَجَّارًا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Zakariyya was a carpenter.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: حضرت زکریا علیہ السلام نجار ( بڑھئ) تھے۔

Chapter No: 46

بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ

Regarding merits of Khidar عليه السلام

حضرت خضر علیہ السلام کے فضائل

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ هُوَ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللهِ ، سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَامَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ فَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُ ، قَالَ فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ ، قَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ كَيْفَ لِي بِهِ ؟ فَقِيلَ لَهُ : احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ ، فَحَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ فَتَاهُ ، وَهُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ ، فَحَمَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، حُوتًا فِي مِكْتَلٍ وَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يَمْشِيَانِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ ، فَرَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَفَتَاهُ ، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ ، حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمِكْتَلِ ، فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ ،قَالَ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ حَتَّى كَانَ مِثْلَ الطَّاقِ ، فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا ، وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا ، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا ، وَنَسِيَ صَاحِبُ مُوسَى أَنْ يُخْبِرَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، قَالَ لِفَتَاهُ : آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا ، قَالَ وَلَمْ يَنْصَبْ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ، قَالَ مُوسَى : {ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} ، قَالَ يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا ، حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ ، فَرَأَى رَجُلاً مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ : أَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلاَمُ ؟ قَالَ : أَنَا مُوسَى ، قَالَ : مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّكَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لاَ أَعْلَمُهُ ، وَأَنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللهِ عَلَّمَنِيهِ لاَ تَعْلَمُهُ ، قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ : (هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا . قَالَ : إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا . وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا . قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا) قَالَ لَهُ الْخَضِرُ {فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا} ، قَالَ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ الْخَضِرُ وَمُوسَى يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ ، فَكَلَّمَاهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ ، فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ ، عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا {لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا} ، ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ ، فَبَيْنَمَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذَا غُلاَمٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ ، فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ ، فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ مُوسَى : (أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا . قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا) قَالَ : وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى ، {قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي ، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا ، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا ، فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ} ، يَقُولُ مَائِلٌ ، قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ ،قَالَ لَهُ مُوسَى : قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا ، لَوْ شِئْتَ لَتَخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ، قَالَ : هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ، سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى ، لَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَخْبَارِهِمَا ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ، قَالَ : وَجَاءَ عُصْفُورٌ حَتَّى وَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ ، ثُمَّ نَقَرَ فِي الْبَحْرِ ، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ : مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللهِ إِلاَّ مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنَ الْبَحْرِ. قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: وَكَانَ يَقْرَأُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَكَانَ يَقْرَأُ : وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَكَانَ كَافِرًا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Zakariyya was a carpenter.”

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے کہا: نوف بکالی کا یہ خیال ہے کہ بنو اسرائیل کے حضرت موسیٰ اور تھے اور حضرت خضر علیہ السلام کے موسیٰ اور تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنو اسرائیل میں خطبہ دے رہے تھے ، ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں زیادہ عالم ہوں ، آپ ﷺنے فرمایا: اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف علم کو نہیں لوٹایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ عالم ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! میں اس تک کیسے پہنچوں گا ؟ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ اپنی تھیلی میں ایک مچھلی رکھ لو ، جہاں وہ مچھلی گم ہوگی وہیں خضر ہوں گے ، حضرت موسیٰ اپنے ساتھ حضرت یوشع بن نون کو لے کر گئے ، حضرت موسیٰ نے اپنی تھیلی میں ایک مچھلی رکھ لی ، حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع چلتے چلتے ایک چٹان کے پاس پہنچے ، حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع دونوں سوگئے ، مچھلی تڑپ کر تھیلی سے نکلی اور سمندر میں جاگری اللہ تعالیٰ اس مچھلی کے لیے پانی کے بہنے کو روک دیا ، یہاں تک کہ مچھلی کے لیے پانی میں مخروطی شکل کی ایک سرنگ بنتی گئی ، حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع کے لیے یہ ایک تعجب خیز منظر تھا ، بقیہ دن اور رات وہ دونوں چلتے رہے اور حضرت موسیٰ کے ساتھی ان کو یہ واقعہ بتلانا بھول گئے ۔ جب صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا: ناشتہ نکالو ، اس سفر نے ہم کو تھکادیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: مچھلی کے گم ہونے کی جگہ سے ہی انہیں تھکاوٹ لاحق ہوئی تھی ، حضرت یوشع نے کہا: آپ کو یاد ہے کہ جب ہم چٹان کے پاس تھے ، میں اس وقت آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا تھا اور شیطان نے ہی مجھ کو اس کا بیان کرنا بھلایا تھا ، تعجب ہے کہ وہ مچھلی سمندر میں راستہ بناکر چل پڑی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہی تو ہم چاہتے تھے ، پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر لوٹے ، وہ اپنے نشانوں پر چلتے رہے یہاں تک کہ چٹان پر آئے ، وہاں ایک آدمی کو کپڑوں میں لپٹا ہوا دیکھا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سلام کیا ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: تمہارے ہاں سلامتی کہاں ہے ؟حضرت موسیٰ نے کہا: میں موسیٰ ہوں ، حضرت خضر نے کہا: بنو اسرائیل کے موسیٰ ، انہوں نے کہا: ہاں ! ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا علم عطا فرمایا ہے جو میرے پاس نہیں ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: کیا میں آپ کی اتباع کرسکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکتے ، اور جس چیز کا آپ کو پتا نہ ہو آپ اس پر صبر بھی کیسے کر سکتے ہیں ؟ حضرت موسیٰ نے کہا: ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو جب تک کسی چیز کے بارے میں ، میں خود نہیں بتاتا ، اس وقت تک اس کے بارے میں مجھ سے مت پوچھنا ، حضرت موسیٰ نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر حضرت خضر اور حضرت موسیٰ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چل پڑے ، ان کے پاس سے ایک کشتی گزری ، انہوں نے کشتی والوں سے کہا : کہ ان کو سوار کرلیں ، انہوں نے حضرت خضر کو پہچان کر بغیر کرائے کے سوار کرلیا ،حضرت خضر نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کو اکھاڑ دیا ، حضرت موسیٰ نے کہا: اس قوم نے کرائے کے بغیر ہی ہمیں سوار کیا تھا اور آپ نے ان کی کشتی توڑ دی تاکہ ان کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں ، آپ نے یہ بہت عجیب کام کیا ہے ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا ، کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے ، حضرت موسیٰ نے کہا: جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر مواخذہ نہ کریں ، اور میرے معاملہ میں سختی نہ کریں ، پھر وہ دونوں کشتی سے اترے ، جس وقت ساحل سمندر پر جارہے تھے ، انہوں نے ایک لڑکے کو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ، حضرت خضر علیہ السلام نے اس کو پکڑا ، اور اپنے ہاتھ سے اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ نے ایک بے گناہ لڑکے کو بغیر کسی قصاص کے قتل کردیا؟ آپ نے ایک برا کام کیا ہے ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے ، آپ نے فرمایا: یہ پہلی مرتبہ سے زیادہ شدید انکار تھا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے پھر کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ، میری طرف سے آپ عذر کو پہنچ چکے ہیں ، وہ دونوں پھر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ، ان دونوں نے ان بستی والوں سے کھانا طلب کیا ، انہوں نے ان کو کھانا دینے سے انکار کردیا ، وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی ، ان دونوں نے اس کو درست کر دیا ، وہ دیوار جھکنے لگی تھی ، حضرت خضر علیہ السلام نے اس کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کردیا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہ لوگ وہ ہیں جن کے پاس ہم گئے اور انہوں نے ہماری مہمانوازی نہیں کی اور ہم کو کھانا نہیں کھلایا ، اگر آپ چاہیں تو ان سے اجرت لے لیں ، حضرت خضر نے کہا: اب ہمارے اور آپ کے درمیان جدائی ہے ، میں عنقریب آپ کو ان چیزوں کی تاویل بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہیں کرسکے تھے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے ، میری خواہش تھی کہ کاش ! حضرت موسیٰ صبر کرتے یہاں تک اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے مزید واقعات سناتا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: حضرت موسیٰ کا پہلی مرتبہ سوال کرنا نسیان تھا ، آپ نے فرمایا: ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ گئی ، پھر اس نے سمندر میں اپنی چونچ ڈالی ، حضرت خضر نے کہا: میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں صرف اتنی کمی کی ہے جتنی اس چڑیا نے سمندر میں کی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تلاوت کرتے تھے " ان کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح سلامت کشتی کو غصب کرلیتا تھا " ، اور تلاوت کرتے تھے کہ : "وہ لڑکا کافر تھا"۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ نَوْفًا يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى الَّذِي ذَهَبَ يَلْتَمِسُ الْعِلْمَ لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : أَسَمِعْتَهُ يَا سَعِيدُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَذَبَ نَوْفٌ.

0

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا گیا کہ نوف کا کہنا یہ ہے کہ جو موسیٰ علم کو تلاش کرنے گئے تھے وہ بنو اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا گیا کہ نوف کا کہنا یہ ہے کہ جو موسیٰ علم کو تلاش کرنے گئے تھے وہ بنو اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سعید! کیا تم نے یہ خود نہیں سنا ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نوف نے جھوٹ بولا ۔


حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّهُ بَيْنَمَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللهِ ، وَأَيَّامُ اللهِ نَعْمَاؤُهُ وَبَلاَؤُهُ ، إِذْ قَالَ : مَا أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ رَجُلاً خَيْرًا وَأَعْلَمَ مِنِّي ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ ، إِنِّي أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ مِنْهُ ، أَوْ عِنْدَ مَنْ هُوَ ، إِنَّ فِي الأَرْضِ رَجُلاً هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ ، قَالَ : يَا رَبِّ فَدُلَّنِي عَلَيْهِ ، قَالَ فَقِيلَ لَهُ : تَزَوَّدْ حُوتًا مَالِحًا ، فَإِنَّهُ حَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ ، فَعُمِّيَ عَلَيْهِ ، فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ فَتَاهُ ، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمَاءِ ، فَجَعَلَ لاَ يَلْتَئِمُ عَلَيْهِ ، صَارَ مِثْلَ الْكُوَّةِ ، قَالَ فَقَالَ فَتَاهُ : أَلاَ أَلْحَقُ نَبِيَّ اللهِ فَأُخْبِرَهُ ؟ قَالَ : فَنُسِّيَ ، فَلَمَّا تَجَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ : آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا ، قَالَ : وَلَمْ يُصِبْهُمْ نَصَبٌ حَتَّى تَجَاوَزَا ، قَالَ فَتَذَكَّرَ (قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا . قَالَ : ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا) فَأَرَاهُ مَكَانَ الْحُوتِ ،قَالَ : هَا هُنَا وُصِفَ لِي ، قَالَ : فَذَهَبَ يَلْتَمِسُ فَإِذَا هُوَ بِالْخَضِرِ مُسَجًّى ثَوْبًا ، مُسْتَلْقِيًا عَلَى الْقَفَا ، أَوْ قَالَ عَلَى حَلاَوَةِ الْقَفَا . قَالَ : السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ، فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ : وَعَلَيْكُمُ السَّلاَمُ ، مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا مُوسَى ؟ قَالَ : وَمَنْ مُوسَى ؟ قَالَ : مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ، قَالَ : إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ، وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا ، شَيْءٌ أُمِرْتُ بِهِ أَنْ أَفْعَلَهُ إِذَا رَأَيْتَهُ لَمْ تَصْبِرْ ، قَالَ : سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ، قَالَ : فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلاَ تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا ، قَالَ : انْتَحَى عَلَيْهَا ، قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ : أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ، قَالَ : أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا ؟ قَالَ : لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ إِلَى أَحَدِهِمْ بَادِيَ الرَّأْيِ فَقَتَلَهُ ، فَذُعِرَ عِنْدَهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، ذَعْرَةً مُنْكَرَةً ، قَالَ : (أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الْمَكَانِ : رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى ، لَوْلاَ أَنَّهُ عَجَّلَ لَرَأَى الْعَجَبَ ، وَلَكِنَّهُ أَخَذَتْهُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَمَامَةٌ ، {قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي} عُذْرًا وَلَوْ صَبَرَ لَرَأَى الْعَجَبَ ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْنَا وَعَلَى أَخِي كَذَا ، رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْنَا ، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ لِئَامًا فَطَافَا فِي الْمَجَالِسِ فَاسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ، قَالَ : لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ، قَالَ : هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ وَأَخَذَ بِثَوْبِهِ ، قَالَ : {سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا ، أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، فَإِذَا جَاءَ الَّذِي يُسَخِّرُهَا وَجَدَهَا مُنْخَرِقَةً فَتَجَاوَزَهَا فَأَصْلَحُوهَا بِخَشَبَةٍ ، وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَطُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا ، وَكَانَ أَبَوَاهُ قَدْ عَطَفَا عَلَيْهِ ، فَلَوْ أَنَّهُ أَدْرَكَ أَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (فَأَرَدْنَا أَنْ يُبَدِّلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا . وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلاَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ.

Ubayy bin Ka'b narrated: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'While Musa was among his people, reminding them of the days of Allah - and the days of Allah are His blessings and trials - he said: "I do not know of any man on earth who is better and more knowledgeable than me." "Allah revealed to him: I know best about goodness or with whom it is. In the land there is a man who is more knowledgeable than you." He said: "O Lord, guide me to him." It was said to him: "Take a salted fish with you as provision, and he will be where you lose the fish." He and his servant set out until they came to the rock, but he did not find any clue. Musa set out and left his servant behind, and the fish began to stir in the water, which became like a tunnel. His servant said: "Should I not catch up with the Prophet of Allah and tell him?" But he was caused to forget. When they went beyond (that point) he said to his servant: "Bring us our morning meal; truly, we have suffered much fatigue in this, our journey." And they did not become tired until they passed that point."' "Then he remembered and said: "Do you remember when we betook ourselves to the rock? I indeed forgot the fish; none but Shaitan made me forget to remember it. It took its course into the sea in a strange (way)!" Musa said: "That is what we have been seeking." So they went back retracing their footsteps. He showed him where the fish had jumped out, and he said: "This is the place that was described to me." Then he went looking for him, and he found Al-Khadr covered with a garment, lying on his back. Musa said: ''As-salamu 'alaikum." He uncovered his face and said: “Wa 'alaikum as-salam.” Who are you?" He said: "I am Musa." He said: "Who is Musa?" He said: “The Musa of the Children of Israel." He said: "What brings you here?" He said: "I have come that you teach me something of that knowledge (guidance and true path) which you have been taught (by Allah)." He said: "Verily, you will not be able to have patience with me! And how can you have patience about a thing which you know not? - something I have been enjoined to do but if you see it you will not be able to bear it." Musa said: "If Allah wills, you will find me patient, and I will not disobey you at all." Al-Khadr said: "Then, if you follow me, ask me not about anything till I myself mention of it to you." So they both proceeded, till, when they embarked the ship, he scuttled it. Musa said: "Have you scuttled it in order to drown its people? Verily, you have committed a dreadful thing." He said: "Did I not tell you, that you would not be able to have patience with me?" He said: "Call me not to account for what I forgot, and be not hard upon me for my affair (with you)." Then they proceeded until they came to some boys who were playing, and Al-Khadr went straight to one of them, and killed him. Musa', was greatly distressed by that and said: "Have you killed an innocent person who had killed none? Verily, you have committed an evil thing!" At this point the Messenger of Allah (s.a.w) said, May Allah's Mercy be upon us and on Musa 'Were it not that he was too hasty he would have seen wondrous things, but he was seized with fear of blame for his companion. Musa said: "If I ask you anything after this, keep me not in your company, you have received an excuse from me." If he had been patient he would have seen wondrous things."' He (Ubayy bin Ka'b) said: "When he ((s.a.w)) mentioned any of the Prophets he would start with himself saying: 'May Allah have mercy upon us and upon my brother so-and-so, may the mercy of Allah be upon us.' "Then they proceeded until they came to the people of a town who were very stingy. They went around to various gatherings asking the people for food, but they refused to entertain them. They found there a wall that was about to collapse, but Al-Khadr made it straight. Musa said: "If you had wished, surely, you could have taken wages for it!"' Al-Khadr said: "This is the parting between me and you." He took hold of his garment and said: "I will tell you the interpretation of (those) things over which you were unable to hold patience. As for the ship, it belonged to poor people working in the sea. So I wished to make a defect in it, as there was a king behind them who seized every ship by force. When they came to the one who wanted to seize it, he found it was damaged so he let it go, and they repaired it with wood. As for the boy, he was created a disbeliever by nature, but his parents loved him; had he lived, we feared lest he should oppress them by rebellion and disbelief. So we intended that their Lord should exchange him for them with one better in righteousness and nearer to mercy. As for the wall, it belonged to two orphan boys in the town. Under the wall there was a treasure belonging to them; and their father was a righteous man, and your Lord intended that they should attain their age of full strength and take out their treasure as a mercy from your Lord."'

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو ایام اللہ کی نصیحت فرمارہے تھے ، ایام اللہ سے مراد اللہ کی نعمتیں ، اور اس کی آزمائشیں ہیں ، اس وقت انہوں نے کہا: میرے علم میں اس وقت روئے زمین پر مجھ سے زیادہ بہتر یا مجھ سے زیادہ عالم اور کوئی نہیں ہے ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی ، میں اس آدمی کو جانتا ہوں جو تم سے بہتر ہے یا جو روئے زمین پر تم سے زیادہ عالم ہے ، حضرت موسیٰ نے کہا: اے میرے رب !اس کی طرف میری راہنمائی فرما، حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ آپ زاد راہ میں ایک نمکین مچھلی رکھیے ، جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے گی وہیں پر وہ آدمی ہوگا ، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گئے یہاں تک کہ ایک چٹان پر پہنچے ، اس جگہ ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی کو چھوڑ کر چلے گئے ، وہ مچھلی تڑپ کر پانی میں چلی گئی ، پانی نے اس پر بہنا چھوڑ دیا اور ایک طاق کی طرح ہوگیا ، حضرت موسیٰ کے ساتھی نے کہا: میں اللہ کے نبی سے ملوں اور ان کو اس واقعہ کی خبر دوں ، آپ ﷺنے فرمایا: پھر وہ بھول گئے ، جب وہ آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ نے کہا: ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر نے ہم کو تھکا دیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: آگے بڑھنے سے پہلے ان کو تھکاوٹ نہیں ہوئی تھی ، پھر اس ساتھی کو یاد آیا ، اس نے کہا: یاد کیجئے جب ہم اس چٹان پر پہنچے تھے ، میں آپ کو مچھلی کا واقعہ بتانا بھول گیا اور مجھ کو شیطان نے اس کا بیان کرنا بھلایا تھا ، اس مچھلی نے تعجب خیز طریقہ سے سمندر میں راستہ بنایا ، حضرت موسیٰ نے کہا: ہم اس چیز کو تو ڈھونڈ رہے تھے ، وہ دونوں پھر اپنے نشانات پر واپس لوٹے ، ان کے ساتھی نے ان کو مچھلی کی جگہ دکھائی ، حضرت موسیٰ نے کہا: مجھے یہی جگہ بتائی گئی تھی ، پھر وہ ڈھونڈنے لگے ، اچانک انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا جو کپڑا لپیٹ کر پیٹھ کے بل لیٹے ہوئے تھے ، یا چت لیٹے تھے ، حضرت موسیٰ نے کہا: السلام علیکم ، انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹاکر کہا: وعلیکم السلام ، آپ کون ہیں ؟ اس نے کہا: میں موسیٰ ہوں ، کہا: کون موسیٰ؟ کہا: بنو اسرائیل کا موسیٰ ، انہوں نے کہا: آپ کے آنے کا سبب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ کو جو علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھ کو تعلیم دیں ، کہا: آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے ، اور جس چیز کا آپ کو پتا نہ ہو آپ اس پر صبر کیسے کرسکتےہیں؟ مجھے جس کام کے کرنے کا حکم کیا جائے گا جب آپ مجھے وہ کام کرتے دیکھیں گے تو اس پر صبر نہیں کرسکیں گے ۔ حضرت موسیٰ نے کہا: آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی چیز میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو جب تک کسی چیز کے بارے میں ، میں از خود نہیں بتاؤں گا آپ اس کے بارے میں سوال نہ کریں ، پھر وہ دونوں روانہ ہوئے اور وہ دونوں ایک کشتی میں بیٹھ گئے ، حضرت خضر نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا ، حضرت موسیٰ نے کہا: آپ نے اس کشتی کو توڑ ڈالا تاکہ اس میں بیٹھنے والوں کو ڈبو دیں ، آپ نے یہ بہت عجیب کام کیا ہے ، حضرت خضر نے کہا: میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ میری بھول پر مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملہ کو دشوار نہ کریں ، پھر وہ دونوں روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے کچھ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا ، آپ ﷺنے فرمایا: حضرت خضر علیہ السلام ان لڑکوں میں سے ایک لڑکے کے پاس گئے اور بغیر غور و فکر کے اس کو قتل کردیا ، حضرت موسیٰ یہ دیکھ کر بہت گھبرائے اور کہا: آپ نے بغیر کسی گناہ کے ایک بے قصور آدمی کو مار ڈالا ، آپ نے یہ بہت غلط کام کیا ہے ، اس موقع پر رسول اللہﷺنے فرمایا: ہم پر اور حضرت موسیٰ پر اللہ کی رحمت ہو ، اگر وہ جلدی نہ کرتے تو بہت حیران کن چیزیں دیکھتے لیکن انہیں حضرت خضر علیہ السلام سے حیاء آئی اور کہا: اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی سوال کروں تو پھر آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ، یقینا اب آپ میرے معاملہ میں معذور ہیں ، کاش! حضرت موسیٰ صبر کرتے تو بہت عجیب و غریب چیزیں دیکھتے ، اور جب آپ انبیاء میں سے کسی نبی کا ذکر فرماتے تو ابتداء فرماتے : اللہ کی ہم پر رحمت ہو اور ہمارے بھائی پر رحمت ہو ، اسی طرح فرماتے : اللہ کی ہم پر رحمت ہو ، پھر وہ دونوں روانہ ہوئے اور ایک گاؤں میں پہنچے جہاں کے لوگ بہت خسیس تھے ، وہ اس گاؤں میں سب مجلسوں میں گئے اور گاؤں والوں سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کردیا ، حضرت خضر اور حضرت موسیٰ نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی ، انہوں نے اس دیوار کو بنادیا ، حضرت موسیٰ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو اس پر کچھ اجرت لے لیں ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: اب ہمارے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آگیا اور حضرت موسیٰ کا کپڑا پکڑ کر کہا: اب میں تم کو ان چیزوں کی تاویل بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہیں کرسکے تھے ، رہی کشتی تو وہ سمندر میں کام کرنے والے مسکین لوگوں کی تھی ، جب وہ اس کو چھیننے کے لیے آتا تو اس کو ٹوٹی ہوئی پاتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتا اور وہ بعد میں ایک تختہ لگاکر اس کو ٹھیک کرلیتے اور رہا وہ لڑکا تو اس کی قسمت میں کافر ہونا لکھ دیا گیا تھا ، اور اس کے ماں باپ اس سے بہت محبت کرتے تھے اگر وہ بڑا ہوتا تو اپنے والدین کو بھی کفر اور سرکشی میں مبتلاء کردیتا ، تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں ان کو ایک پاکیزہ اور صلہ رحمی کرنے والا لڑکا دے دے ، اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، كِلاَهُمَا ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، نَحْوَ حَدِيثِهِ.

A similar Hadith (as no. 6165) was narrated from Abu Ishaq with the chain of At-Taimi from Abu Ishaq.

یہ حدیث دو اور سندوں سے حسب سابق مروی ہے ۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : (لَتَّخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا).

It was narrated from Ubayy bin Ka'b that the Prophet (s.a.w) recited: "You could have taken wages for it."

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے یہ آیت پڑھی :" لتخذت علیہ اجرا"۔


حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ تَمَارَى ، هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ الْخَضِرُ ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ هَلُمَّ إِلَيْنَا ، فَإِنِّي قَدْ تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ ؟ فَقَالَ أُبَيٌّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ : هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ ؟ قَالَ مُوسَى لاَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى بَلْ عَبْدُنَا الْخَضِرُ قَالَ : فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً ، وَقِيلَ لَهُ : إِذَا افْتَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ ، فَسَارَ مُوسَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسِيرَ ، ثُمَّ قَالَ لِفَتَاهُ : آتِنَا غَدَاءَنَا ، فَقَالَ فَتَى مُوسَى ، حِينَ سَأَلَهُ الْغَدَاءَ : (أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ) ، فَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ : (ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا) فَوَجَدَا خَضِرًا . فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ. إِلاَّ أَنَّ يُونُسَ قَالَ : فَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ.

It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that he and Al-Hurr bin Qais bin Hisn Al-Fazari disputed concerning the companion of Musa. Ibn 'Abbas said: "He is Al-Khadr Ubayy bin Ka'b Al-Ansari passed by them and Ibn 'Abbas called him and said: "O Abu At-Tufail, come here. This companion of mine and I are disputing about the companion of Musa whom he wanted to meet. Did you hear the Messenger of Allah (s.a.w) speak about him?" Ubayy said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "While Musa was among a group of the Children of Israel, a man came to him and said: "Do you know of anyone who is more knowledgeable than you?" Musa' said: "No." Allah revealed to Musa: "No, there is Our slave Al-Khadr." Musa asked how he could meet him, and the fish was made a sign. It was said to him: "When you lose the fish, go back and you will meet him." "Musa traveled as far as Allah willed he should travel, then he said to his servant: "Bring us our morning meal." When Musa asked him for the morning meal, the servant of Musa said: "Do you remember when we betook ourselves to the rock? I indeed forgot the fish; none but Shaitan made me forget to remember it." Musa said to his servant: "That is what we have been seeking." So they went back, retracing their footsteps. Then they found Al-Khadr, and his story is told by Allah in His Book."' But Yunus (a narrator, in his Hadith) said: "He (Musa) followed the traces of the fish in the sea."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اور حر بن قیس بن حصن فزاری کا اس بات میں مباحثہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کا کون صاحب تھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ خضر تھے ، پھر حضرت ابی بن کعب انصاری کا ان کے پاس سے گزر ہوا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور کہا: اے ابو الطفیل یہاں آئیے میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات پر مباحثہ ہوا کہ حضرت موسیٰ کا وہ صاحب کون تھا جس سے حضرت موسیٰ نے ملاقات کی سبیل کا سوال کیا تھا ، کیا تم نے رسول اللہﷺسے اس مسئلہ میں کچھ سنا ہے ، حضرت ابی نے کہا: میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنو اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ ایک آدمی نے آکر پوچھا : کیا آپ کو علم ہے کہ آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے ؟ حضرت موسیٰ نے کہا: نہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف یہ وحی کی کہ بلکہ ہمارا بندہ خضر ہے پھر حضرت موسیٰ نے ان سے ملاقات کی سبیل کا سوال کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے نشانی بنادیا اور ان سے کہا گیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو لوٹ جانا ، یقینا تم ان سے ملاقات کرلو گے ، پھر موسیٰ علیہ السلام چل پڑے اور جب تک اللہ نے چاہا چلتے رہے ، پھر اپنے ساتھی سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ ، جب حضرت موسیٰ نے ساتھی سے ناشتہ کا سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا اور مجھے اس کا ذکر کرنے سے شیطان ہی نے بھلایا تھا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم اسی چیز کو چاہتے تھے پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹے ، پھر ان دونوں نے خضر علیہ السلام کو دیکھا ، پھر ان کا واقعہ ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان ہے ، البتہ یونس کی روایت میں ہے وہ سمندر میں مچھلی کے نشان پر چل پڑے۔

‹ First345