Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ

The rider should greet the pedestrian and the smaller group should greet the larger group

سوار پیدل کو اور کم آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.

Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The one who is riding should greet the one who is walking, the one who is walking should greet the one who is sitting and the smaller group should greet the larger group.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے ، اور پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے ، اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔

Chapter No: 2

بابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلاَمِ

It is one of the duties of sitting in the path to return greeting (Salam)

راستہ میں بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ سلام کا جواب دے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ : مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ، فَقُلْنَا إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ قَالَ : إِمَّا لاَ فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ السَّلاَمِ ، وَحُسْنُ الْكَلاَمِ.

It was narrated from Ishaq bin ‘Abdullah bin Abi Talhah that his father said: “Abu Talhah said: ‘we were sitting in the courtyard, talking, when the Messenger of Allah (s.a.w) came and stood with us, and said: “why are you sitting in the street? Avoid sitting in the streets.” We said: “We do not mean any harm; we are sitting and talking.” He said: “If you insist, then fulfill its rights lowering the gaze, returning Salam, and speaking well.”

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صحن میں بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے ، اتنے میں رسول اللہﷺتشریف لائے اورہمارے پاس کھڑے ہوگئے ، آپﷺنے فرمایا: تمہیں راستوں پر مجلس منعقد کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ راستوں میں مجالس منعقد کرنے سے پرہیز کرو، ہم نے کہا: ہم کسی برے قصد سے نہیں بیٹھے ، ہم آپس میں مذاکرہ اور بحث کرنے کےلیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فرمایا: اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو، نظر جھکا کر رکھنا ، سلام کا جواب دینا ، اور اچھی باتیں کرنا۔


حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الأَذَى ، وَرَدُّ السَّلاَمِ ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ.

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudari that the Prophet (s.a.w) said: “Beware of sitting in the streets.” They said: “O Messenger of Allah, we have no other choice but to sit there and engage in conversation there.” The Messenger of Allah (s.a.w) said: “If you must sit there, then give the street its rights.” They Said: “ What are the rights >” He said; “Lowering the gaze, refraining from causing annoyance, returning greeting, enjoining what is good and forbidding what is evil.”

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو ، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہمارے لیے راستہ میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ، ہم راستوں میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر تم راستہ میں بیٹھنے کو نہیں چھوڑتے تو پھر راستہ کا حق ادا کرو، صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! راستہ کا کیا حق ہے؟ آپﷺنے فرمایا: نظر نیچی رکھنا ، تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ، سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Zahid bin Aslam with this chain of narrators (a similar Hadith as no. 5648).

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے۔

Chapter No: 3

باب مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ رَدُّ السَّلاَمِ

It is one of the rights of a Muslim on another Muslim that his greetings should be responded

سلام کاجواب دینا مسلمانوں کے حقوق میں سے ہے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ : رَدُّ السَّلاَمِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: “There are five rights that the Muslim has over his brother: Returning the Salam, replying by saying Yarhamuk Allah (may Allah have mercy on you) to one who sneezes, accepting an invitation, visiting the sick and attending funerals.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: پانچ چیزیں ایک مسلمان کے لیے اس کے بھائی پر واجب ہیں ، سلام کا جواب دینا ، چھینک کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا ، جنازوں کے ساتھ جانا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ : إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “The rights of one Muslim over another are six.” It was said: “What are they O messenger of Allah?” He said: “If you meet him, greet him with Salam; if he invites you, accept the invitation; If he ask for advice, give him sincere advice; If he sneezes and praises Allah, then reply to him [say Yarhamuk Allah (may Allah have mercy on you); if he falls sick, visit him; and if he dies, attend his funeral."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں : پوچھا گیا : اے اللہ کے رسولﷺ! وہ کون سے حقوق ہیں ؟آپﷺنے فرمایا: جب تم مسلمان سے ملو تو اس کو سلام کرو، اور جب وہ تم کو دعوت دے تو اس کو قبول کرو ، اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، او رجب وہ چھینک کے بعد الحمد للہ کہے تو اسکی چھینک کا جواب دو، اور جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو، اور جب مرجائے تو اس کے جنازے میں جاؤ۔

Chapter No: 4

بابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلاَمِ وَكَيْفَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ

The forbiddance of starting the greetings with the people of the book, and how they should be responded

اہل کتاب کو شروع میں سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کا جواب دینے کا طریقہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (ح) وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “If the people of the book greet you with Salam, say: ‘Wa Alaikum (and also unto you).”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہو۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: قُولُوا وَعَلَيْكُمْ.

It was narrated from Anas that the companions of the Prophet (s.a.w) said to the Prophet (s.a.w): “The people of the Book greet us with Salam. How should we respond to them?” He said: “Say: ‘Wa ‘alaikum (and also unto you).”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے صحابہ نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ اہل کتاب ہم کو سلام کرتے ہیں ، ہم ان کو کیسے جواب دیں؟ آپﷺنے فرمایا: تم کہو: وعلیکم۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ : يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ.

Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘When the Jews greet you, one of them says; ‘As-samu ‘alaikum (death be upon you).’ So say: ‘Wa ‘alaik (and also upon you).”’

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہود جب تم کو سلام کرتے ہیں کہ تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے : السام علیکم ، تم کہو: علیک۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ.

A Similar report (as no. 5654) was narrated from Ibn ‘Umar from the Prophet (s.a.w), except that he said: “Say: ‘Wa ‘alaikum (and also upon you).’’’

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کی مثل روایت کی ہے ا س میں یہ ہے کہ تم کہو: وعلیکم


وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ قَالَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ: قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ.

It was narrated that ‘Aishah said: “A group of Jews asked permission of enter upon the Messenger of Allah (s.a.w) and they said: ‘As-Samu ‘alaikum (death be upon you).’ ‘Aishah said: ‘Rather may death be upon you, and curses.’ ‘The messenger of Allah (s.a.w) said: ‘O ‘Aishah, Allah has enjoined kindness in all things.’ She said: Did you not hear what they said?’ he said: ‘I said: “And also upon you.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہﷺسے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا: السام علیکم (یعنی تم پر موت ہو) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بلکہ تم پر سام ہو اور لعنت ہو، رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : کیا آپ نے سنا نہیں ، انہوں نے کیا کہا تھا ؟ آپﷺنے فرمایا: میں نے وعلیکم کہہ دیا تھا۔


حَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلاَهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators) a Hadith similar to no. 5657). In their Hadith it says: “The messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I Said: “Upon you.” And he did not mention (the word) ‘And.’

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، ان میں ہے : رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں نے علیکم کہہ دیا تھا اور واؤ کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ : وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَةُ لاَ تَكُونِي فَاحِشَةً فَقَالَتْ: مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ فَقَالَ: أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمِ الَّذِي قَالُوا ، قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ.

It was narrated that ‘Aishah said: “Some Jews came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: ‘As-Samu ‘alaika (death be upon you), O Abul-Qasim.’ He said: ‘Wa ‘alaikum (and also upon you).”’ ‘Aishah said: “I said: ‘Rather may death and shame be upon you.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘O ‘Aishah, do not be harsh.’ She said: ‘Did you not hear what they said?’ He said: ‘Did I not respond to what they said? I said: Wa ‘alaikum (and also upon you).”’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ پاس چند یہودی آئے ، انہوں نے کہا: السلام علیک یا ابا القاسم! آپﷺنے فرمایا: " وعلیکم " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بلکہ تم پر سام اور ذام (موت اور ذلت ) ہو ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! بد زبان مت بنو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے نہیں سنا ، انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپﷺنے فرمایا: کیا میں نے ان کے قول کو ان کی طرف واپس نہیں کیا ؟ میں نے کہا: وعلیکم۔


حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ يَا عَائِشَةُ ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ. وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ.

Al-A’mash narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5658), but he said: “Aishah understood them and cursed them, but the Messenger of Allah (s.a.w) does not like harshness and harsh words.”’ And he added: “And Allah revealed the words: ‘And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not’ to the end of the Verse.”

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، اس میں یہ ہے کہ ان کے سلام کے ضمن میں جو بد دعا تھی اس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے جان لیا ، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو برا بھلا کہا، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! صبر کرو، اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو پسند نہیں کرتا ، اور تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، (ترجمہ) جب یہ آکر آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ آخر آیت تک۔


حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : بَلَى ، قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلاَ يُجَابُونَ عَلَيْنَا.

Jabir bin ‘Abdullah said: “Some Jews greeted the messenger of Allah (s.a.w) and said: ‘As-Samu ‘alaika (death be upon you) O Abul-Qasim.’ He said: ‘Wa ‘alaikum (and also upon you).’ ‘Aishah got angry and said: ‘Did you not hear what they said?’ He said: ‘Yes, I heard it and I responded to them. Our Du’a’ (supplication) against them will be answered but their Du’a’ against us will not be answered.”’

حضرت جابر بن عبد اللہ ﷺسے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہﷺکو سلام کیا ، انہوں نے کہا: السام علیک یا اباالقاسم، آپﷺنے فرمایا: وعلیکم ، حضرت عائشہ نے غصہ میں آکر کہا: کیا آپ نے نہیں سنا انہوں نے کیا کہا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: کیوں نہیں ؟ میں نے سنا ہے ، اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے ، ہماری دعا ان کے خلاف قبول ہوگی اور ہمارے خلاف ان کی بد دعا قبول نہیں ہوگی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَبْدَؤُوا الْيَهُودَ وَلاَ النَّصَارَى بِالسَّلاَمِ ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ ، فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the messenger of Allah (s.a.w) said: “Do not initiate the greeting with the Jews or Christians, and if you meet one of them on the street, drive him to the narrowest part of it.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہود و نصاریٰ کو ابتداء سلام مت کرو، اور جب تمہاری ان سے راستہ میں ملاقات ہو تو ان کو تنگ راستہ کی طرف مجبور کرو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، , كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، إِذَا لَقِيتُمُ الْيَهُودَ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ : فِي أَهْلِ الْكِتَابِ. وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ.

In the narration of Waki it was: “When you meet the Jews.” In the narration of Ibn Ja’far from Shu’bah: “He said concerning the people of the Book.” And in the narration of Jarir it says: “If you meet them.” And he did not mention any of the people of Shirk.

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، وکیع کی روایت میں ہے : جب تمہاری یہود سے ملاقات ہو ، اور ابن جعفر کی روایت میں اہل کتاب کا ذکر ہے، اور جریر کی روایت میں ہے ، جب تمہاری ان سے ملاقات ہو اور کسی مشرک کا نام نہیں لیا۔

Chapter No: 5

باب اسْتِحْبَابِ السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ

The recommendation of greeting the children

بچوں کو سلام کرنے کا استحباب

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) passed by some children and greeted them (with Salam).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺلڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپﷺنے ان کو سلام کیا۔


وحَدَّثَنِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Sayyar narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5663).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.

It was narrated that Sayyar said: “I was walking with Thabit Al-Bunani and he passed by some children and greeted them with Salam. Thabit narrated that he was walking with Anas and he passed by some children and greeted them with Salam. Anas narrated that he was walking with the Messenger of Allah (s.a.w) and he passed by some children and greeted them with Salam.”

سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جارہا تھا ، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہے تھے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کوسلام کیا ، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہﷺکے ساتھ بچوں کے پاس سے گزرے تو آپﷺنے ان کو سلام کیا۔

Chapter No: 6

بابُ جَوَازِ جَعْلِ الإِذْنِ رَفْعَ حِجَابٍ أَوْ نَحْوَهُ مِنَ الْعَلاَمَاتِ

The permissibility of giving permission (to enter house) by raising curtain or any other such sign

پردہ اٹھانے کو اجازت دینے کی علامت مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي ، حَتَّى أَنْهَاكَ.

Ibn Mas’ud said: “The messenger of Allah (s.a.w) said to me: ‘Your permission to enter upon me is when the curtain is raised, or when you hear me speaking quietly, unless I forbid you.”’

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: تمہارے لیے میری یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھادیا جائے اور تم میرے راز کی بات سن لو، یہاں تک کہ میں تم کو اس سے منع نہ کروں۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، و قَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 5666) was narrated from Al-Hasan bin ‘Ubaidullah with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 7

بابُ إِبَاحَةُ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الإِنْسَانِ

It is permissibile for women to go out to relieve themselves

قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر جانے کی اجازت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا ، لاَ تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا سَوْدَةُ ، وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا ، فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ ، قَالَتْ : فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ ، فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي خَرَجْتُ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : كَذَا وَكَذَا ، قَالَتْ : فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ , وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ هِشَامٌ , يَعْنِي الْبَرَازَ.

It was narrated that ‘Aishah said: “Sawdah went out, after Hijab had been enjoyed upon us, to relive herself. She was a large woman, and she was recognizable to anymore who knew her. ‘Umar bin Al-Khattab saw her and said: ‘O Sawdah, by Allah you cannot hide from us. Be careful when you go out.’ So She turned back. The messenger of Allah (s.a.w) was in my house, eating dinner, and he had a bone with meat on it in his hand. She came in and said: ‘O Messenger of Allah, I went out and ‘Umar said such-and-such to me.’ Then the Revelation of Allah came upon him, then it ceased, and the bone was still in his hand; he had not put it down. He said: ‘Permission is given to you to go out for your needs.”’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا پردہ اوڑھنے کے بعد قضاء حاجت کے لیے باہر نکلیں ، حضرت سودہ دیگر عورتوں سے قد اور جسامت میں بہت بڑی تھیں ، اور جو آدمی انہیں جانتا ہو اس پر پوشیدہ نہیں رہتی تھیں، حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا: اے سودہ! اللہ کی قسم!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں ، سو آپ سوچئے کہ آپ کیسے باہر نکلیں گی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : یہ سن کر حضرت سودہ لوٹ آئیں اس حال میں کہ رسول اللہﷺمیرے گھر کھانا کھارہے تھے ، اور آپﷺکے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی ، حضرت سودہ نے آکر کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں باہر گئی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس طرح اس طرح کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اسی وقت آپ پر وحی نازل ہوئی ، پھر وحی منقطع ہوئی اور آپ اسی طرح ہڈی پکڑے ہوئے تھے ۔ آپﷺنے فرمایا: قضاء حاجت کے لیے تمہیں باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے ، ابو بکر کی روایت " یفرع النساء جسمہا " اور ابو بکر کی روایت میں قضاء حاجت کے لیے کھلے میدان میں جانے کی تصریح ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا ، قَالَ: وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى.

Hisham narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5668) and he said: “She was a woman who stood out among people.” And he said: “He (s.a.w) was eating dinner.”

یہ حدیث ایک اور سندسے اسی طرح مروی ہے ، اس میں یہ ہے کہ لوگوں سے ان کا جسم بلند تھا اور اس میں یہ ہے کہ آپ رات کا کھانا کھارہے تھے ۔


وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Hisham with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ ، إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْجُبْ نِسَاءَكَ ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي ، عِشَاءً ، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً ، فَنَادَاهَا عُمَرُ : أَلاَ قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ , حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ. قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ.

It was narrated from ‘Aishah that the wives of the prophet (s.a.w) use to go out at night, if they want to relieve themselves, to the open fields. ‘Umar bin Al-Khattab used to say to the Messenger of Allah (s.a.w): “Tell your wives to conceal themselves.” But the Messenger of Allah (s.a.w) did not do that. Then Sawdah bind Zam’ah, the wife of the Prophet (s.a.w) went out one night, and she was a tall woman. ‘Umar Called out: “We recognize you, O Sawdah!” Hoping that the command of Hijab would be revealed. ‘Aishah said: “Then Allah revealed the command of Hijab.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکی ازواج رات کو باہر کھلے میدانوں میں قضاء حاجت کے لیے جاتی تھیں اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺسے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپﷺ اپنی ازواج کو حجاب میں رکھیے ، رسول اللہﷺ نہیں رکھتے تھے ، پھر ایک رات کو عشاء کے وقت نبی ﷺکی ایک زوجہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا قضاء حاجت کے لیے باہر گئیں ، وہ ایک دراز قد خاتون تھیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو آواز دے کر کہا: اے سودہ ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے ، انہوں نے حجاب کی توقع میں ایسا کہا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے حجاب کے احکام نازل فرمادئیے۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 5671) was narrated from Ibn Shihab with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 8

بابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا

The forbiddance of being alone with a non-Mahram lady or to enter her house (when she is alone)

اجنبی عورت کے پاس تنہائی میں جانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ حُجْرٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلاَ لاَ يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ ، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا ، أَوْ ذَا مَحْرَمٍ.

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘No man should spend the night in the house of a non-virgin woman unless he is her husband or Mahram.”’

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: آگاہ رہو! کسی شادی شدہ عورت کے پاس کوئی آدمی رات نہ گزارے ، مگر یہ کہ وہ شوہر یا محرم ہو۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : الْحَمْوُ الْمَوْتُ.

It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Beware of entering upon women.” An Ansari man said: “O Messenger of Allah, What about the in-law?’ He said: “The in-law is death.”

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم (اجنبی) عورتوں کے پاس جانے سے بچو ، ایک انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! دیور کے بارے میں بتائیے! آپﷺنے فرمایا: دیور تو موت ہے ۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، وَغَيْرِهِمْ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ.

It was narrated from ‘Amr bin Al-Harith, Al-Laith bin Sa’d, Haiwah bin Shuraih and others that Yazid bin Abi Habib told them a similar report (as no. 5674), with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ ، وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ، ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ.

Al-Laith Bin Sa’d said: “The in-law is the brother of the husband and similar relatives of the husband such as his cousin and the like.”

لیث بن سعد کہتے ہیں کہ دیور خاوند کا بھائی ہے ، یا اس کے مشابہ جیسے خاوند کا چچا زاد بھائی یا کوئی اور رشتہ دار ۔


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلاَّ خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ , ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : لاَ يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ ، بَعْدَ يَوْمِي هَذَا ، عَلَى مُغِيبَةٍ ، إِلاَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ.

‘Abdullah bin ‘Amr bin Al-‘As narrated that a group from Banu Hashim entered upon Asma’ bint ‘Umais, then Abu Bakr As-Siddiq came in. She was married to him at that time, and he saw them there and disliked that. He mentioned that to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: “I know nothing but good (about my wife).” The Messenger of Allah (s.a.w) said: “Allah protected her from that.” Then the Messenger of Allah stood on the Minbar and said: “After this day, no man should enter upon a woman, whose husband is absent, unless there are one or two other men with him.”

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، پھر حضرت ابو بکر بھی آگئے اور ان کو یہ ناگوار ہوا ، اسماء اس وقت ان کے نکاح میں تھی ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے اس واقعہ کا ذکر کیا اور کہا: میں نے خیر کے سوا اور کوئی بات نہیں دیکھی ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسماء کو اس سے بری رکھا ہے ، پھر رسول اللہﷺنے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند اس وقت حاضر نہ ہو، ہاں اگر اس کے ساتھ ایک یا دو آدمی اور ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔

Chapter No: 9

بابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَةً أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلاَنَةُ. لِيَدْفَعَ ظَنَّ السَّوْءِ بِه

It is recommended for the one who is seen alone with a woman who is either his wife or a Mahram, to pronounce: “this is so and so” to avoid any bad assumption

جو آدمی اپنی بیوی یا محرم کے ساتھ تنہا ہو تو وہ بدگمانی کے ازالہ کے لیے دیکھنے والوں کو بتادے یہ فلاں ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ : يَا فُلاَنُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلاَنَةُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ ، فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ.

It was narrated from Anas that the prophet (s.a.w) was with one of his wives, and a man passed by him. He called him and he came, and he said: “O so-and-so, this is my wife, so-and-so.” He said: “O Messenger of Allah, if I were to be suspicious about anyone, I would not be suspicious about you.” The Messenger of Allah (s.a.w) said: “The Shaitan flows through man like blood.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺکے ساتھ آپ کی ایک زوجہ تھیں ، آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا آپ نے اس کو بلایا ، جب وہ آیا تو آپﷺنے فرمایا: اے فلاں!یہ میری زوجہ ہے ، اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!اگر میں کسی کے بارے میں گمان کرتا تو آپ کے بارے میں تو کوئی گمان نہیں کرسکتا تھا ، آپ ﷺنے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا ، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً ، فَحَدَّثْتُهُ ، ثُمَّ قُمْتُ لأَنْقَلِبَ ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي ، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالاَ : سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا ، أَوْ قَالَ شَيْئًا.

It was narrated from ‘Ali bin Husain that Safiyyah bint Huyayy said: “The Prophet (s.a.w) was observing I’tikaf and I came to visit home one night. I spoke to him, then I got up to go back, and he got up with me to send me back.’ Her home was in house of Usamah bin Zaid. Two men of the Ansar passed by, and when they saw the Prophet (s.a.w), they hurried up. The Prophet (s.a.w) said: “Wait; this is Safiyyah bint Huyayy.’ They said: “Subhan-Allah, O Messenger of Allah!” He said: “The Shaitan flows through man like blood, and I was afraid that he might instil some evil (or something) in your hearts.”

حضرت صفیہ بنت حیی ام المؤمنین سے روایت ہے کہ نبی ﷺاعتکاف میں تھے ، میں رات کو آپﷺکی زیارت کے لیے آئی ، میں نے آپﷺسے باتیں کیں ،پھر میں واپسی کے لیے کھڑی ہوگئی ، آپﷺبھی مجھے رخصت کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے - حضرت صفیہ ، حضرت اسامہ بن زید کے گھر میں رہائش پذیر تھی – اس وقت دو انصاریوں کا گزر ہوا ، جب انہوں نے نبیﷺکو دیکھا تو تیز تیز چلنے لگے ، نبی ﷺنے فرمایا: آرام سے چلو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ، ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ !اے اللہ کے رسول ﷺ! ۔ آپﷺنے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ، مجھے یہ خدشہ ہوا کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی نہ ڈال دے، یا آپﷺ کوئی اور کلمہ فرمایا۔


وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ ، فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ ، فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ ، وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا ... ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ , وَلَمْ يَقُلْ يَجْرِي.

‘Ali bin Husain narrated that Safiyyah, the wife of the Prophet (s.a.w) , told him that she came to the Prophet (s.a.w) to visit home when he was observing I’tikaf in the Masjid, during the last ten days of Ramadan. She spoke with him for a while, then she got up to go back, and the Prophet (s.a.w) got up to send her back, Then he mentioned a Hadith like that of Ma’mar (no. 5679), except that he said: “The Shaitan is as close to man as his blood.’ And he did not say: ‘flows”’

نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺکو رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی حالت میں مسجد میں زیارت کے لیے آئی ، اور کچھ دیر آپ ﷺسے باتیں کیں ، پھر وہ واپسی کے لیے کھڑی ہوئیں اور نبیﷺبھی آپﷺکو رخصت کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔ لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح پہنچ جاتا ہے اور دوڑنے کا ذکر نہیں ہے۔

Chapter No: 10

بابُ مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلاَّ وَرَاءَهُمْ

Whoever comes to a gathering and finds any space he should sit there otherwise he should sit behind them

مجلس میں جہاں گنجائش ہو تو وہاں بیٹھے ورنہ پیچھے بیٹھ جائے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ ، إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلاَثَةٌ ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبَ وَاحِدٌ ، قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا ، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ ؟ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللهِ ، فَآوَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا ، فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ ، فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ.

It was narrated from Abu Waqid Al-Laithi that while the Messenger of Allah (s.a.w) was sitting in the Masjid, and the people were with him, three people came in. Two of them went to Messenger of Allah (s.a.w) and one went away. They stood beside the Messenger of Allah (s.a.w). One of them saw a space in the circle and sat down, and the other sat behind them, but the third turned and left. When the Messenger of Allah (s.a.w) had finished, he said: “Shall I not tell you about these three people? One of them sought refuge with Allah and Allah granted him refuge, the other felt shy so Allah was merciful to him, and the third turned away, so Allah turned away from him.”

حضرت ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ نبی ﷺمسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ بھی آپﷺکے ساتھ تھے ، اتنے میں تین آدمی آئے ، دو رسو ل اللہﷺکی طرف چلے گئے اور ایک واپس لوٹ گیا ، وہ دونوں رسول اللہﷺکے پاس کھڑے رہے ، ان میں سے ایک آدمی نے مجلس میں گنجائش دیکھی اور وہاں جاکر بیٹھ گیا اور دوسرا سب کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ موڑ کر چلا گیا ، جب رسو ل اللہﷺفارغ ہوئے تو آپﷺنے فرمایا: کیا میں ان تین آدمیوں کے بارے میں تم کو نہ بتاؤں ، ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پناہ دے دی ، اور دوسرے نے حیاء کی تو اللہ بھی اس سے حیاء فرمائے گا ، اور تیسرے نے اعراض کیا سو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اعراض فرمائے گا۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ (ح) وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالاَ : جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَهُ فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، فِي الْمَعْنَى.

Ishaq bin Abdullah bin Abi Talhah narrated a similar report with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5681).

یہ حدیث دو اور سندوں سے فی المعنیٰ حسب سابق مروی ہے۔

123Last ›