Sayings of the Messenger

 

1234Last ›

11. بابُ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ: لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ. قَالَ: وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was the best of people, and he was the most generous of people and the most courageous of people. One night the people of Al-Madinah were in a state of panic, and some went out towards the noise. They were met by the Messenger of Allah (s.a.w), who was coming back, as he had gone towards the noise before them. He was riding the horse of Abu Talhah bareback, with his sword around his neck, and he said: ‘Do not be afraid, do not be afraid.’ And he said: ‘We found it (the horse) to be swift-footed” or, ‘It is swift-footed.”’ He said: “And it was horse that was known to be slow.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺلوگوں میں سب سے زیادہ حسین ، اور سب سے زیادہ سخی، اور سب سے زیادہ بہادر تھے ۔ ایک رات اہل مدینہ خوف زدہ ہوگئے ، صحابہ اس آواز کی طرف گئے ، راستہ میں ان کو رسول اللہ ﷺاس جگہ سے واپس آتے ہوئے ملے ، آپ آواز کی طرف جانے میں ان سے سبقت لے گئے ، آپﷺحضرت ابو طلہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے ، آپﷺکی گردن مبارک میں تلوار تھی، اور آپﷺفرمارہے تھے : کوئی گھبرانے کی بات نہیں ، کوئی گھبرانے کی بات نہیں۔آپﷺنے فرمایا: ہم نے اس گھوڑے کو تیز رفتاری میں سمندر کی طرح پایا ، یا وہ سمندر ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ گھوڑا بہت آہستہ چلتا تھا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا.

It was narrated that Anas said: “There was a disturbance in Al-Madinah, and the Prophet (s.a.w) borrowed a horse belonging to Abu Talhah that was called Mandub, and rode it. He said: ‘We have not seen any cause for panic, and we have found it (the horse) to be swift-footed.”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار مدینہ میں دہشت پھیل گئی، نبی ﷺنے حضرت ابو طلحہ کا گھوڑا بطور ادھار لیا ، اس کا نام مندوب تھا ، آپﷺاس پر سوار ہوئے ، آپﷺنے فرمایا: ہم نے کوئی ڈر اور خوف نہیں دیکھا ، او رہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ (ح) وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قَالاَ:حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: فَرَسًا لَنَا، وَلَمْ يَقُلْ: لأَبِي طَلْحَةَ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا.

Shu’bah narrated with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6007). In the Hadith of Ibn Ja’far it says: “A horse of ours,” it does not say a horse belonging to Abu Talhah.

ابن جعفر کی روایت میں ہمارے گھوڑے کا ذکر ہے اور ابو طلحہ کا ذکر نہیں ہے ، اور قتادہ کی روایت میں " سمعت أنسا" ہے ۔

12. بابُ جُوْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَلْقَاهُ ، فِي كُلِّ سَنَةٍ ، فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ، فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was the most generous of people in doing good, and he was at his most generous in the month of Ramadan. Jibril, used to meet him every year in Ramadan until it ended, and the Messenger of Allah (s.a.w) would recite Qur'an to him. When Jibril met him, the Messenger of Allah (s.a.w) was more generous in doing good than the (rain) blowing wind.”

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺخیر میں سب سے زیادہ سخی تھے ، اور آپ کی سخاوت کا سب سے زیادہ ظہور رمضان کے مہینہ میں ہوتا تھا ، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر سال رمضان کے مہینہ میں آخر مہینہ تک آپ ﷺسے ملاقات کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺان کو قرآن سناتے تھے اور جب حضرت جبرائیل آپ ﷺسے ملاقات کرتے تو آپﷺ بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلاَهُمَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 6009) was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

13. بابُ حُسْنِ خُلُقِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي : أُفًّا قَطُّ ، وَلاَ قَالَ لِي لِشَيْءٍ : لِمَ فَعَلْتَ كَذَا ؟ وَهَلاَّ فَعَلْتَ كَذَا ؟. زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ : لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ : وَاللَّهِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “I served the Messenger of Allah (s.a.w) for ten years, and by Allah he never spoke any word of contempt to me, and he never said to me for any reason, why did you do such and such? Or why did you not do such and such?

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دس سال رسول اللہ ﷺکی خدمت میں رہا ، اللہ کی قسم! آپﷺنے کبھی مجھ سے اف تک نہیں کہا، اور نہ کبھی مجھ سے یہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ یا فلاں کام کیوں کیا؟ایک روایت میں ہے : جو کام خادم نہیں کرتا ، اور قسم کا ذکر نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 6011) was narrated from Anas.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ؟ وَلاَ لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ : لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ؟.

It was narrated that Anas said: “When the Messenger of Allah (s.a.w) came to Al-Madinah, Abu Talhah took me by the hand and brought me to the Messenger of Allah (s.a.w), and said: ‘O Messenger of Allah, Anas is a good boy, let him serve you.’ I served him while traveling and at home, and by Allah he never said to me about something that I had done: ‘Why did you do this like this?’ Or for anything that I had not done: ‘Why did you not do this like this.”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺمدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے رسول اللہﷺکی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! انس ایک ذہین لڑکا ہے ، یہ آپ کی خدمت کرے گا ، حضرت انس کہتےہیں کہ سفر اور حضر میں ، میں آپﷺکی خدمت میں رہا ، اللہ کی قسم! اگر میں نے کوئی کام کیا تو آپﷺنے یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ اس طرح کیوں کیا؟ اور اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ ﷺنے یہ نہیں فرمایا: کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ وَلاَ عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ.

It was narrated that Anas said: “I served the Messenger of Allah (s.a.w) for nine years, and I never knew him to say: ‘Why did you do such and such?’ And he never criticized me for anything.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسو ل اللہ ﷺکی خدمت میں نو سال رہا ، مجھے معلوم نہیں کہ کبھی آپﷺنے یہ فرمایا ہو کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا ؟ اور نہ آپﷺنے کبھی میری کسی چیز کی مذمت کی ۔


حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ : قَالَ أَنَسٌ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا ، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لاَ أَذْهَبُ ، وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ: يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ؟ قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ ، أَنَا أَذْهَبُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ.

Anas said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was one of the best people in manners. One day he sent me to do an errand for him, and I said: ‘By Allah, I will not go.’ But in my heart I intended to go and do what the people of Allah (s.a.w) had told me to do. Then I went out and passed by some boys who were playing in the marketplace. Then the messenger of Allah (s.a.w) caught me on the back of my neck from behind. I looked at him and he was smiling, He said: ‘I Unais, did you go where I told you to go?’ I said: ‘Yes, I am going, O Messenger of Allah.”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسو ل اللہ ﷺکے اخلاق سب سے اچھے تھے ، آپﷺنے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا ، حالانکہ میرے دل میں یہ تھا کہ نبی ﷺنے مجھے جس کام کا حکم دیا ہے ، میں اس کو کرنے ضرور جاؤں گا ، میں چلا گیا یہاں تک کہ میں بازار میں کھیلنے والے چند لڑکوں کے پاس سے گزرا ، کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے سے رسول اللہ ﷺنے میری گدی پکڑی ہوئی ہے ، میں نے آپﷺکی طرف دیکھا تو آپﷺہنس رہے تھے ، آپﷺنے فرمایا: اے انیس! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے کہا تھا ، میں نے کہا: جی ! میں جارہا ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ!۔


قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ ، مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ ، أَوْ لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ: هَلاَّ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا.

Anas said: “By Allah, I served him (s.a.w) for nine years, and I never knew him to say for something I had done: “Why did you do such and such?’ Or for something I had failed to do: ‘Why did you not do such and such?”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نو سال آپ کی خدمت میں رہا ، مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کوئی کام کیا ہو اور آپ ﷺنے یہ فرمایا ہو کہ تم نے اس ، اس طرح کیا ہے ؟ یا کوئی کام میں نے چھوڑا ہو تو آپﷺنے اس کے لیے یہ فرمایا ہو کہ تم نے اس ، اس طرح کیوں کیا ہے ؟


وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) had the best manners among the people.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔

14. بابٌ فِيْ سَخَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لاَ.

Jabir bin ‘Abdullah said: “If the Messenger of Allah (s.a.w) was asked for anything, he never said no.”

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺسے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ ﷺ نے نہ فرمایا ہو۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ كِلاَهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.

It was narrated that Muhammad bin Al-Munkadir said: “I heard Jabir bin ‘Abdullah say:….” A similar report (as no. 6018).

یہ حدیث بھی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلاَمِ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ ، قَالَ : فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لاَ يَخْشَى الْفَاقَةَ.

It was narrated from Musa bin Anas that his father said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was never asked for anything for the sake of Islam but he would give it. A man came and he gave him a large number of sheep. He went back to his people and said: ‘O people, become Muslim, for Muhammad (s.a.w) gives as if he has no fear of want.”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے پر رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی گئی آپ نے وہ چیز عطا فرما دی راوی کہتے ہیں ایک آدمی آیا آپﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں عطا فرما دیں وہ واپس اپنی قوم کی طرف آیا اور اس نے کہا: اے قوم اسلام قبول کرلو کیونکہ محمدﷺ اتنا عطا فرماتے ہیں کہ فاقہ کشی کا خوف ہی نہیں رہتا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلاَّ الدُّنْيَا ، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الإِسْلاَمُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.

It was narrated from Anas that a man asked the Prophet (s.a.w) for a large number of sheep and he gave them to him. He went to his people and said: “O people, become Muslim, for by Allah, Muhammad (s.a.w) gives as if he does not fear want.” Anas said: “If a man became Muslim seeking nothing but worldly gain, as soon as he became Muslim, Islam would become dearer to him tan this world and everything in it.”

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دو پہاڑوں کی بکریاں مانگیں تو آپﷺ نے اسے اتنی ہی بکریاں عطا فرما دیں وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے قوم! اسلام قبول کرلو اللہ کی قسم! محمدﷺ اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ پھر محتاجی کا خوف ہی نہیں رہتا حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سوائے دنیا حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرتا لیکن مسلمان ہونے کے بعد اسلام اس کی نظر میں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہوجاتا ہے ۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ ، فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ، ثُمَّ مِائَةً ، ثُمَّ مِائَةً.قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي ، وَإِنَّهُ لأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.

It was narrated that Ibn Shihab said: “The Messenger of Allah (s.a.w) set out on the campaign to conquer Makkah, then the Messenger of Allah (s.a.w) set out with those of the Muslims who were with him, They fought at Hunain and Allah supported His religion and granted victory to the Muslims. On that day the Messenger of Allah (s.a.w) gave Safwan bin Umaiyyah a hundred sheep, then another hundred, then another hundred.” Ibn Shihab said: “Sa’eed bin Al-Musayyab told me that Safwan said: ‘By Allah, the Messenger of Allah (s.a.w) gave me what he gave me, and he was the most hated of people to me, but he kept giving to me until he became the most beloved of people to me.”’

حضرت ابن شہاب سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے لیے لڑا ، پھر رسول اللہ ﷺان تمام مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ساتھ تھے حنین کی طرف نکلے، اور حنین میں جنگ کی ، اللہ تعالیٰ نے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ، اس دن رسول اللہ ﷺنے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ، پھر سو اونٹ دیے ، پھر سو اونٹ دیے ، ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا ہے کہ صفوان نے یہ کہا: کہ اللہ کی قسم! رسول اللہﷺنے مجھے عطا فرمایا ، جو بھی عطا فرمایا ، آپ میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ مبغوض تھے ، آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺمیری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الآخَرِ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا , وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا ، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ , فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ ، أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا , فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً ، ثُمَّ قَالَ لِي : عُدَّهَا ، فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِئَةٍ ، فَقَالَ : خُذْ مِثْلَيْهَا.

Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘When the wealth of Bahrain comes to us, I will give you such and such, and such and such,’ and he gestured with both of his hands. But the Prophet (s.a.w) died before the wealth of Bahrain came. It came to Abu Bakr after he was gone, and he ordered a caller to call out: ‘Whoever had any promise from the Prophet (s.a.w) or was owed anything by him, let him come.’ I got up and said: ‘The Prophet (s.a.w) said: “When the wealth of Bahrain comes to us, I will give you such and such, and such and such.”’ Abu Bakr took a handful and said to me: ‘Count it.’ So I counted it, and it was five hundred. He said: ‘Take twice as much again.”’

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تمہیں اتنا ، اتنا ، اتنا دوں گا ، آپﷺنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا ، پھر بحرین کا مال آنے سے قبل نبی ﷺوفات پاگئے اور آپﷺکے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس وہ مال آیا ، پھر ایک منادی نے آواز دی کہ جس آدمی سے نبیﷺنے کوئی وعدہ کیا ہو ، یا جس کا آپﷺپر کوئی قرض ہو وہ آکر لے لے ، میں گیا اور میں نے کہا: نبی ﷺنے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تومیں تمہیں اتنا ، اتنا ، اور اتنا دوں گا ، پھر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے ایک بار مٹھی بھر دی، اور فرمایا: اس کو گنو، میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی دو مثل اور لے لو۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ ، فَلْيَأْتِنَا بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: “When the Prophet (s.a.w) died, some wealth came to Abu Bakr from Al-Ala bin Al-Hadrami. Abu Bakr said: ‘Whoever was owed anything by the Prophet (s.a.w), or had a promise from him, let him come to us.”’ A Hadith like that of Ibn ‘Uyainah (no. 6023).

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺفوت ہوگئے تو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے مال آیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس آدمی سے نبیﷺنے کوئی وعدہ کیا ہو یا جس کا آپﷺپر کوئی قرض ہو، وہ ہمارے پاس آئے ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔

15. بابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلاَمٌ ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ , ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ ، امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ ، قَدِ امْتَلأَ الْبَيْتُ دُخَانًا ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِكْ ، جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمْسَكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ. فَقَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلاَ نَقُولُ إِلاَّ مَا يَرْضَى رَبَّنَا ، وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Last night a boy was born to me, and I have named him after my father Ibrahim.’ Then he gave him to Umm Saif, the wife of a blacksmith who was called Abu Saif. He set out to go to him and I followed him. We came to Abu Saif and he was pumping the bellows, and the house was filled with smoke. I quickened my pace and went ahead of the Messenger of Allah (s.a.w) and said: ‘O Abu Saif! Stop, for the Messenger of Allah (s.a.w) has come.’ So he stopped, and the Messenger of Allah (s.a.w) called a boy. He embraced him and said whatever Allah willed he should say.” Anas said: “I saw him (the boy, Ibrahim) as he breathed his last in the arms of the Messenger of Allah (s.a.w). The eyes of the Messenger of Allah (s.a.w) filled with tears, and he said: ‘The eyes weep and the heart grieves, but we do not say anything but that which pleases our Lord. By Allah, O Ibrahim, we are grieved for you.”’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: آج رات میرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا جس کانام میں نے اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا ہے ، پھر آپﷺنے اس صاحبزادے کو لوہار کی بیوی ام سیف کو دے دیا،اس لوہار کا نام ابو سیف تھا ، ایک روز آپ اس کے پاس آئے ، میں بھی آپﷺکے ساتھ تھا، جب ہم ابو سیف کے پاس گئے تو وہ بھٹی دھونک رہا تھا ، اور گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا ، میں رسول اللہﷺکے پاس سے اس کے پاس جلدی جلدی گیا اور اس سے کہا: اے ابو سیف! ذرا ٹھہر جاؤ رسول اللہ ﷺتشریف لائے ہیں ، وہ ٹھہر گیا ، پھر رسول اللہﷺنے بچہ کو منگوایا اور اس کو اپنے ساتھ چمٹایا اور جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ فرمایا: حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس بچہ کو دیکھ رہا تھا ، وہ رسول اللہﷺکے سامنے جان دے رہا تھا ، رسول اللہﷺکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ، آپﷺنے فرمایا: آنکھیں رو رہی ہیں اور دل غمگین ہے ، او رہم وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمار رب راضی ہے ، اللہ کی قسم! اے ابراہیم ! ہم تمہاری وجہ سے غمزدہ ہیں۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ , فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا ، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ. قَالَ عَمْرٌو : فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي , وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ , وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكَمِّلاَنِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “I have never seen anyone who was more compassionate towards children than the Messenger of Allah (s.a.w). Ibrahim (the son of the Prophet (s.a.w)) was sent to be nursed in the suburbs of Al-Madinah. He used to go, and we would go with him, and he would enter the house which was filled with smoke, as his foster father was blacksmith, and he would hold him and kiss him, then he would come back.” ‘Amr said: “When Ibrahim died, the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Ibrahim is my son and he had died infancy. He has two foster-mothers who will complete his suckling in Paradise.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے زیادہ کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا ، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے ، آپﷺوہاں تشریف لے جاتے تھے ، اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، آپﷺوہاں تشریف لے جاتے اس حال میں کہ وہاں دھواں ہوتا کیونکہ اس دایہ کا خاوند لوہار تھا ، آپﷺبچہ کو بوسہ دیتے اور پھر لوٹ آتے ، جب حضرت ابراہیم فوت ہوگئے تو آپﷺنے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے ، اور وہ دودھ پینے کے ایام میں فوت ہوگیا اور اس کےلیے دو دودھ پلانے والیاں ہیں جو جنت میں مدت رضاعت تک اس کو دودھ پلائیں گی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالُوا : لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ. وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ.

It was narrated that ‘Aishah said: “Some Bedouin people came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: ‘Do you kiss your children?’ They said: ‘Yes.’ They said: ‘By Allah, we do not kiss them.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘What can I do if Allah has deprived you of mercy?”’ Ibn Numair said: “Deprived your hearts of mercy.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے پاس کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے پوچھا : کیا آپ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ! انہوں نے کہا: لیکن اللہ کی قسم! ہم تو اپنے بچوں کوبوسہ نہیں دیتے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تم سے رحمت نکال لی ہے تو میں اس کا مالک تو نہیں ہوں ، ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے۔


وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ فَقَالَ : إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ , مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ.

It was narrated from Abu Hurairah that Al-Aqra’ bin Habis saw the Prophet (s.a.w) kissing Al-Hasan and he said: “I have ten children and I have never kissed any of them.” The Messenger of Allah (s.a.w) said: “The one who does not show mercy will not be shown mercy.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی ﷺحضرت حسن کو بوسہ دے رہے تھے ، اس نے کہا: میرے دس بچے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 6028) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کی مثل روایت کی ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَأَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لاَ يَرْحَمِ النَّاسَ ، لاَ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated that Jarir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Whoever does not show mercy to people, Allah will not show mercy to him.”’

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ عزوجل رحم نہیں کرے گا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح)وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ.

A Hadith like that of Al-A’mash (no. 6030) was narrated from Jarir, from the Prophet (s.a.w).

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس کی مثل روایت کی ہے ۔

16. بابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. (ح) وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا , وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ.

It was narrated that Qatadah said: I heard 'Abdullah bin Abi 'Utbah say: I heard Abu Sa'eed Al-Khudri say: "The Messenger of Allah (s.a.w) was more shy than a virgin behind her veil; if he disliked something we could see it in his face."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺپردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ حیاء کرنے والے تھے ، جب آپ کو کوئی چیز ناپسند ہوتی تو ہم آپﷺ کے چہرے سے جان لیتے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْكُوفَةِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلاَقًا. قَالَ عُثْمَانُ : حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ.

It was narrated that Masruq said: “We entered upon ‘Abdullah bin ‘Amr when Mu’awiyah came to Al-Kufah, and he mentioned the Messenger of Allah (s.a.w), and said: ‘He was not rude and he never spoke intentionally in an offensive manner.’ And he said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Among the best of you are those who are best in manners.” ‘Uthman said: ‘When he came with Mu’awiyah to Al-Kufah.”

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺکا ذکر کیا اور کہا: رسول اللہﷺ نہ طبعا بدگوئی کرتے تھے اورنہ تکلفا ، اور رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں ، راوی عثمان نے کہا: جب آپﷺحضرت معاویہ کے ساتھ کوفہ میں آئے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ , كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (As Hadith no. 6033) was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔

17. باب تَبَسُّمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُسْنِ عِشْرَتِهِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ كَثِيرًا ، كَانَ لاَ يَقُومُ مِنْ مُصَلاَّهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Simak bin Hard said: “I said to Jabir bin Samurah: ‘Did you sit with the Messenger of Allah (s.a.w)? He said: ‘Yes, frequently. He would not get up from the place where he had prayed Subh until the sun had risen, and when it rose, he got up. And they used to converse and talk about the Jahiliyyah and laugh, and he (s.a.w) would simile.”’

سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ رسول اللہﷺکی مجلس میں شرکت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! بہت مرتبہ ، آپ جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے تو طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے نہیں اٹھتے تھے ، جب آفتاب طلوع ہوتا تو آپ وہاں سے اٹھتے ، صحابہ کرام باتوں میں مشغول ہوتے اور زمانہ جاہلیت کے کاموں کا تذکرہ کرتے اور ہنستے تھے ، رسول اللہﷺبھی مسکرادیتے تھے۔

18. بابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَأَمْرُهُ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَغُلاَمٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ يَحْدُو ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ.

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was on one of his journeys, and a black slave called Anjashah was singing camel-driving songs. The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: ‘O Anjashah, go slowly when you are driving mounts that are carrying glass vessels.”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکسی سفر میں جارہے تھے ، اور آپﷺکے ساتھ انجشہ نامی ایک حبشی لڑکا گارہا تھا ، رسول اللہﷺنے اس سے فرمایا: اے انجشہ! آہستہ آہستہ چلو جیسے شیشہ کو لے جارہے ہو۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِنَحْوِهِ.

A similar report (as no. 6036) was narrated from Anas.

یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ ، يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ , رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ. قَالَ: قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ : تَكَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ , لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ.

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) came to his wives when a camel-driver called Anjashah was driving the camels on which they were riding. He said: “Woe to you O Anjashah! Go slowly when you are driving mounts that are carrying glass vessels.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺاپنے ازواج کے پاس آئے ، اس حال میں کہ ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹ ہانک رہا تھا ، جس کا نام انجشہ ہے ،آپ ﷺنے فرمایا: اے انجشہ! تیری ہلاکت ہو، اپنے اونٹوں کو آہستہ ہانکو جیسے شیشے کو لے کر جارہے ہو۔ابو قلابہ کہتے ہیں: رسول اللہﷺنے ایک کلمہ فرمایا اگر تم میں سے کوئی ایسا کلمہ کہے تو تم اس کو کھیل سمجھو۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “Umm Sulaim was with the wives of the Prophet (s.a.w) when a camel-drive was driving the camels on which they were riding, The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘O Anjashah, go slowly when you are driving mounts that are carrying glass vessels.”’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکی ازواج کے ساتھ حضرت ام سلیم بھی تھیں ، اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک کے لے جارہا تھا ، تو نبی ﷺنے فرمایا: اے انجشہ ! آہستہ چلو ، جیسے شیشہ لے کر جارہے ہو۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ ، لاَ تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ ، -يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ -.

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah (s.a.w) had a camel-driver with a fine voice. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Go slowly, O Anjashah; do not break the glass vessels, meaning the weak women.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکا ایک خوش الحان گانے والا تھا (جو اونٹ ہانکتے وقت گاتا تھا ) نبی ﷺنے اس سے فرمایا: اے انجشہ! شیشوں کو نہ توڑنا ، یعنی کمزور عورتوں کو تکلیف نہ دینا۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ.

It was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w) (a Hadith similar to no. 6040), but he did not mention a camel driver with a fine voice.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے ایک روایت ذکر کی ہے اور اس میں خوش الحان گانے والے کا ذکر نہیں ہے ۔

19. بابُ قُرْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ وَ تَوَاضُعِهِ لَهُمْ

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلاَّ غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا ، فَرُبَّمَا جَاؤُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا.

It was narrated that Anas bin Malik said: “When the Messenger of Allah (s.a.w) prayed Al-Ghadah (Fajr), the servants of Al-Madinah would bring their vessels filled with water, and no vessel was brought but he would dip his hand in it. Even if a vessel was brought on a cold morning he would dip his hand in it.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺجب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خدام پانی سے بھرے ہوئے اپنے اپنے برتن لے کر آتے ، آپﷺہر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے ، بسا اوقات سرد صبح میں یہ واقعہ ہوتا اور آپ اپنا ہاتھ ان میں ڈبو دیتے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلاَّقُ يَحْلِقُهُ ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلاَّ فِي يَدِ رَجُلٍ.

It was narrated that Anas said: “I saw the Messenger of Allah (s.a.w) when the barber was cutting his hair, and his Companions were walking around him, not wanting any hair to fall except into man’s hand.”

حضرت انس سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ حجام آپ کا سر مونڈ رہا تھا اور رسول اللہﷺکے اصحاب آپ کے گرد گھوم رہے تھے ، وہ چاہتے تھے کہ آپﷺکا کوئی بال بھی زمین پر گرنے کی بجائے ان کے ہاتھ میں گرے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَالَ : يَا أُمَّ فُلاَنٍ انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ , فَخَلاَ مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا.

It was narrated from Anas that there was a woman who was intellect was slightly diminished. She said: “O Messenger of Allah, I want something from you.” He said: ‘O Umm Fulan (mother of so-and-so), see which side of the road you want.” Until I see to what you want.” He stood with her on one side of the road, until she got what she needed.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ فتور تھا ، وہ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے آپ سے کچھ کام ہے ، آپﷺنے فرمایا: اے ام فلاں! جس گلی میں چاہوں اتنظار کرو، میں تمہاری حاجب پوری کروں گا ، پھر آپﷺنے راستہ میں اس سے بات کی اور اس کی حاجت پوری کردی۔

20. بابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ (ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا قَالَتْ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ , إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا , مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا , كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ ، إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated that ‘Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was never given the choice between two things but he would choose the easier of the two, so long as it was not a sin; if it was a sin he would be the furthest of the people from it. And the Messenger of Allah (s.a.w) never took revenge for his own sake, unless the sacred limits of Allah were transgressed.”

نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہﷺکو دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپﷺان میں سے زیادہ آسان چیز کو اختیار فرماتے ، بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو ، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے ، رسول اللہﷺنے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا ، مگر یہ کہ کوئی آدمی اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرے۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ كِلاَهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ ، مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ.

It was narrated from ‘Urwah, from ‘Aishah (a Hadith similar to no. 6045).

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے ۔


وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ ، حَدِيثِ مَالِكٍ.

A Hadith like that of Malik (no. 6045) was narrated from Ibn Shihab with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الآخَرِ ، إِلاَّ اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا ، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ.

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was never given the choice between two things, one of which was easier than the other, but he would choose the easier of the two, so long as it was not a sin. If it was a sin he would be the furthest of the people from it.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہﷺکو دو کاموں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپﷺنے ان میں سے زیادہ آسان کام کو اختیار کیابشرطیکہ وہ گنا نہ ہو اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپﷺ اس سے زیادہ دور ہونے والے تھے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ : أَيْسَرَهُمَا ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ.

It was narrated from Hisham with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6048), as far as the words, “...The easier of the two…”, but he did not mention what comes after that.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ اور اس میں " ایسرہما " کے بعد کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ ، وَلاَ امْرَأَةً ، وَلاَ خَادِمًا ، إِلاَّ أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ ، إِلاَّ أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللهِ ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) never hit anyone with his hand, nor any woman or servant, except when fighting in Jihad in the cause of Allah. And if he was offended in some way he never took revenge for his own sake, unless one of the sacred limits of Allah had been transgressed, then he would take revenge for the sake of Allah.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ،نہ کسی عورت کو ، اور نہ کسی خادم کو ، البتہ جہاد فی سبیل اللہ میں قتال فرمایا ، اور جب بھی آپ کو کچھ نقصان پہنچایا گیا آپ ﷺنے اس سے انتقام نہیں لیا ، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کی جائے ، پھر آپ اللہ عزوجل کے لیے انتقام لیتے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَوَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.

It was narrated from Hisham with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6050).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔

1234Last ›