Sayings of the Messenger

 

‹ First45678Last ›

Chapter No: 51

بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ

About the motivation to hasten in performing the good deeds before the appearance of tribulations (Al Fitan)

فتنہ فساد پھیلنے سے پہلے نیک اعمال کی ترغیب

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Hasten to do good deeds before there emerges Fitnah like a piece of black night, when a man will be a believer in the morning and a disbeliever in the evening, or he will be a believer in the evening and a disbeliever in the morning, and he will sell his religion for worldly gain."

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جلدی جلدی نیک کام کر لو، ان فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔ صبح کو آدمی ایماندار ہو گا اور شام کو کافر۔ یا شام کو ایمان دار ہو گا اور صبح کو کافر ہو گا اور اپنے دین کو دنیا کے مال کے بدلے بیچ ڈالے گا۔

Chapter No: 52

بَابُ مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبِطَ عَمَلُهُ

The worry of a believer about the nullification of his good deeds

مومن کا اپنے اعمال ضائع ہونے سے ڈرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ وَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ؟ أشْتَكَى؟ قَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَكْوَى قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "When this Verse was revealed - "O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet,.." until the end of the Verse - Thabit [bin Qais] stayed in his house and said: 'I am one of the people of the Fire.' [Thabit bin Qais] kept away from the Prophet (s.a.w). The Prophet (s.a.w) asked Sa'd bin Mu'adh: 'O Abu 'Amr, what is the matter with Thabit? Is he sick?' Sa'd said: 'He is my neighbor and I do not know anything about him being sick.' So Sa'd went to him, and told him what the Messenger of Allah (s.a.w) had said. Thabit said: This Verse has been revealed, and you know that I have one of the loudest voices when speaking to the Messenger of Allah (s.a.w), so I am one of the people of the Fire.' Sa'd told the Prophet (s.a.w) about that, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Rather he is one of the people of Paradise.'"

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کرو …… آخر تک“ نازل ہوئی تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماسؓ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں تو جہنمی ہوں (کیونکہ ان کی آواز بہت بلند تھی اور وہ انصار کے خطیب تھے ، اس لئے وہ ڈر گئے ) اور رسول اللہﷺ کے پاس آنا چھوڑ دیا آپﷺ نے سیدنا سعد بن معاذؓ سے پوچھا کہ اے ابو عمرو! ثابت کا کیا حال ہے کیا بیمار ہو گیا ہے ؟ سیدنا سعدؓ نے کہا کہ وہ میرا ہمسایہ ہے ، میں نہیں جانتا کہ وہ بیمار ہے۔ پھر سیدنا ؓ سعد سیدنا ثابتؓ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا کہ جو رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا تو سیدنا ثابتؓ نے کہا کہ یہ آیت اتری اور تم جانتے ہو کہ میری آواز رسول اللہﷺ پر اونچی ہے ، (اس لئے ) میں تو جہنمی ہوں۔ پھر سیدنا سعدؓ نے رسول اللہﷺ سے یہ بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ وہ جنتی ہے۔


و حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "Thabit bin Qais bin Shammas was the Khatib of the Ansar. When this Verse was revealed...'' (narrating) a Hadith similar to that of Hammad (no. 315), but there is no mention of Sa'd bin Mu'adh in his Hadith.

دوسری روایت میں یوں ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے پھر جب یہ آیت اتری اور اس میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔


و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ } وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "When: "O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet...'' was revealed...'' but he did not mention Sa'd bin Mu'adh in the Hadith.

ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔


و حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

It was narrated that Anas said: "When this Verse was revealed" - and he narrated the Hadith (as no. 314), but he did not mention Sa'd bin Mu'adh. He added: "We used to see him walking among us, one of the people of Paradise."

اس روایت میں بھی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اتنا زیاد ہ ہے کہ انس نے کہا ثابت رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کے بیچ میں چلتے تھے ہم ان کو دیکھتے تھے ایک شخص جنتی ہم میں جارہا ہے۔

Chapter No: 53

بَابُ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ؟

Will anyone be held responsible for his deeds in ignorance (الْجَاهِلِيَّةِ)?

کیا اعمال جاہلیت پر مؤاخذہ ہوگا؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ.

It was narrated that 'Abdullah said: "Some people said to the Messenger of Allah (s.a.w): 'O Messenger of Allah, will we be punished for what we did during the Jahiliyyah?' He ~ said: 'As for whoever among you does good in Islam, then he will not be punished for it, but whoever does evil, he will be held punishable for his actions during the Jahiliyyah and in Islam."'

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہﷺ! کیا ہم سے ان کاموں کی بھی پوچھ گچھ ہو گی جو ہم نے جاہلیت کے زمانے میں کئے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اچھی طرح اسلام لایا (یعنی دل سے سچا مسلمان ہوا) اس سے تو جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ گا اور جو بُرا ہے (یعنی صرف ظاہر میں مسلمان ہوا اور اس کے دل میں کفر رہا) تو اس سے جاہلیت اور اسلام کے کاموں ، دونوں کے بارے میں مؤاخذہ ہو گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ.

It was narrated that 'Abdullah said: "We said: 'O Messenger of Allah, will we be punished for what we did during the Jahiliyyah?' He said: 'Whoever does good in Islam, he will not be punished for what he did during the Jahiliyyah, but whoever does evil in Islam, he will be punished for the former and the latter."'

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے عرض کیایا رسول اللہﷺ! کیا ہم سے ان کاموں کی بھی پوچھ گچھ ہو گی جو ہم نے جاہلیت کے زمانے میں کئے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اچھی طرح اسلام لایا (یعنی دل سے سچا مسلمان ہوا) اس سے تو جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ گا اور جو بُرا ہے (یعنی صرف ظاہر میں مسلمان ہوا اور اس کے دل میں کفر رہا) تو اس سے جاہلیت اور اسلام کے کاموں ، دونوں کے بارے میں مؤاخذہ ہو گا۔


حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar Hadith (no. 319) was narrated from Al-A'mash with this chain.

مذکورہ بالاحدیث بھی اس سند سے مروی ہے۔

Chapter No: 54

بَابُ كَوْنِ الإِسْلاَمِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَالْحَجُّ

Islam demolishes (those sins) which came before it, so does the migration and the Pilgrimage (الحج)

اسلام ، ہجرت ، اور حج پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ يَبْكِيْ طَوِيلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ يَا أَبَتَاهُ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ قَدْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلْأُبَايِعْكَ فَبَسَطَ يَمِينَهُ قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِي قَالَ مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟ قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟ قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلِهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي.

It was narrated that Ibn Shumasah Al-Mahri said: "We were with 'Amr bin Al-'As when he was about to die; he wept for a long time and turned his face towards the wall. His son said: 'O my father, didn't the Messenger of Allah (s.a.w) give you the glad tidings of such-and-such? Didn't the Messenger of Allah (s.a.w) give you the glad tidings of such-and-such?' He turned to face him and said: 'The best that we can count on is the testimony that none has the right to be worshiped but Allah, and that Muhammad is the Messenger of Allah (s.a.w). I went through three stages. I remember when no one was more hated to me than the Messenger of Allah (s.a.w), and there was nothing I wanted more than to overpower him and kill him. If I had died at that time, I would have been one of the people of the Fire. But when Allah put Islam in my heart, I came to the Prophet (s.a.w) and said: "Hold out your right hand so that I might swear allegiance to you." So he held out his right hand, but I withdrew my hand. He said: "What is the matter, O 'Amr?" I said: "I want to stipulate a condition." He said: "What do you want to stipulate?" I said: "That I will be forgiven." He said: "Do you not know, O 'Amr, that Islam destroys whatever came before it, and that Hijrah destroys whatever came before it, and that Hajj destroys whatever came before it?" Then no one was more beloved to me than the Messenger of Allah (s.a.w), and no one was dearer in my eyes. I could not look him in the eye because of awe. If I were to be asked to describe him, I would not be able to, because I could not look him in the eye. If I had died in that state, I hope that I would have been one of the people of Paradise. Then (came the stage when) we were appointed to positions in which I do not know what my status is. If I die, do not let any wailing woman or fire accompany me. When you bury me, fill the grave well with earth over me, then stay around my grave for the length of time it takes to slaughter a camel and distribute its meat, so that I may be comforted by you, and see how I will answer the messengers of my Lord (the angels).'"

عبدالرحمن بن شماسہ المہری کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس گئے اور وہ اس وقت قریب المرگ تھے تو وہ (سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ) بہت دیر تک روئے اور اپنا منہ دیوار کی طرف پھیر لیا تو ان کے بیٹے کہنے لگے کہ اے ہمارے والد! آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا رسول اللہﷺ نے آپ کو یہ خوشخبری نہیں دی، یہ خوشخبری نہیں دی؟ تب انہوں نے اپنا منہ سامنے کیا اور کہا کہ سب باتوں میں افضل ہم اس بات کی گواہی دینے کو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور میرے اوپر تین حال گزرے ہیں۔ ایک حال یہ تھا کہ جو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ رسول اللہﷺ سے زیادہ میں کسی کو بُرا نہیں جانتا تھا اور مجھے آرزو تھی کہ کسی طرح میں قابو پاؤں اور آپﷺ کو (معاذ اللہ) قتل کر دوں پھر اگر میں اسی حال میں مر جاتا تو جہنمی ہوتا۔ دوسرا حال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی اور میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ اپنا داہنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے (اسلام پر) بیعت کروں۔ آپﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اس وقت اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے عمرو! تجھے کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کونسی شرط؟ میں نے کہا کہ یہ شرط کہ میرے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے (جو میں نے اب تک کئے ہیں) آپﷺ نے فرمایا کہ اے عمرو! تو نہیں جانتا ہے اسلام پہلے تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے اور اسی طرح ہجرت پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ اسی طرح حج تمام پیشتر گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ پھر مجھے رسول اللہﷺ سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی اور نہ میری نگاہ میں آپ سے زیادہ کسی کی شان تھی اور میں آپﷺ کے جلال کی وجہ سے آپ کو آنکھ بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔ اور اگر کوئی مجھ سے آپﷺ کی صورت کے بارے میں پوچھے تو میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ میں آنکھ بھر کر آپﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھا اور اگر میں اس حال میں مر جاتا تو امید تھی کہ جنتی ہوتا اس کے بعد چند اور چیزوں میں ہمیں پھنسنا پڑا۔ میں نہیں جانتا کہ ان کی وجہ سے میرا کیا حال ہوگا۔ تو جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی رونے چلانے والی نہ ہو، اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنا تو مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کاٹا جاتا ہے اور اس کا گوشت بانٹا جاتا ہے تاکہ تم سے میرا دل بہلے (اور میں تنہائی میں گھبرا نہ جاؤں) اور دیکھ لوں کہ میں پروردگار کے وکیلوں(فرشتوں ) کو کیا جواب دیتا ہوں۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً؟ فَنَزَلَ { وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا } وَنَزَلَ { يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ }

It was narrated from Ibn 'Abbas that some of the people of Shirk killed (others), and did it a great deal, and they committed Zina and did it a great deal. Then they came to Muhammad (s.a.w) and said: "What you are saying and are calling to is good, if only you could tell us that there is any expiation for what we have done." Then the following was revealed: "And those who invoke not any other Ilah (god) along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse - and whoever does this shall receive the punishment and: O 'Ibadi (My slaves) who have transgressed against themselves (by committing evil deeds and sins)! Despair not of the Mercy of Allah."

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے چند لوگوں نے (شرک کی حالت میں) بہت خون کئے تھے اور بہت زنا کیا تھا۔ پھر وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپﷺ جو فرماتے ہیں اور جس راہ کی طرف بلاتے ہیں، وہ اچھی ہے اور آپﷺ ہمیں بتلائیں کہ کیا وہ ہمارے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے ؟ (اگر کفارہ ہے تو ہم اسلام لائیں گے ) تب یہ آیت اتری کہ ”جو لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پکارتے اور جس جان کا مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کو نہیں مارتے ، مگر کسی حق کے بدلے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ان کاموں کو (یعنی خون اور زنا اور شرک) کرے تو وہ بدلہ پائے گا اور اس کو قیامت کے دن دردناک عذاب ہو گا اور وہ ہمیشہ اسی عذاب میں ذلت سے رہے گا۔ لیکن جو کوئی ایمان لایا اور اس نے توبہ کی اور نیک کام کئے تو اس کی بُرائیاں مٹ کر نیکیاں ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ مہربان ہے اور بخشنے والا ہے “ (اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بتلا دیا کہ تم اسلام لاؤ تمہارے اگلے سب گناہ شر ک کے زمانے کے معاف ہو جائیں گے ) اور یہ آیت اتری کہ ”اے میرے بندو! جنہوں نے گناہ کئے ہیں اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو……“ پوری آیت۔(سورہ زمر د 53)

Chapter No: 55

بَابُ بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ

Concerning the judgment on (virtuous) actions of a disbeliever which he committed before accepting Islam

اسلام لانے کے بعد کافر کے سابقہ اعمال کا حکم

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ". وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ.

Hakim bin Hizam narrated that he said to the Messenger of Allah (s.a.w): "What do you think of things that I did as acts of worship during the Jahiliyyah, will I get anything (any reward) for them?" The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "You have accepted Islam with all your preceding good (deeds)."

عروہ بن زبیر سے روایت ہے اور انہیں سیدنا حکیم بن حزامؓ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو نیک کام میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کئے تھے (جیسے صدقہ یا غلام کا آزاد کرنا یا رشتہ داری کو نبھانا) ان کا ثواب مجھے ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تو اسی نیکی پر اسلام لایا ہے جو کہ پہلے کر چکا ہے۔ (یعنی وہ نیکی قائم ہے ، اب اس پر اسلام زیادہ ہوا)۔


و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ.

Hakim bin Hizam narrated that he said to the Messenger of Allah (s.a.w): "O Messenger of Allah, what do you think of things that I did as acts of worship during the Jahiliyyah such as giving charity, freeing slaves and upholding the ties of kinship - is there any reward for them?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "You have accepted Islam with all your preceding good (deeds)."

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حکیم بن حزامؓ نے ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو نیک کام میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کئے تھے جیسے صدقہ یا غلام کا آزاد کرنا یا رشتہ داری کو نبھانا) ان کا ثواب مجھے ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تو اسی نیکی پر اسلام لایا ہے جو کہ پہلے کر چکا ہے۔ (یعنی وہ نیکی قائم ہے ، اب اس پر اسلام زیادہ ہوا)


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنْ الْخَيْرِ قُلْتُ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ.

It was narrated that Hakim bin Hizam said: "I said: 'O Messenger of Allah, there are things that I used to do during the Jahiliyyah"' - (one of the narrators) Hisham said: "Meaning, as acts of righteousness." "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You have accepted Islam with all your preceding good (deeds).' I said: 'By Allah, I will not give up anything that I did during the Jahiliyyah but I will do likewise in Islam."'

حکیم بن حزامؓ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو نیک کام میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کئے تھے (جیسے صدقہ یا غلام کا آزاد کرنا یا رشتہ داری کو نبھانا) ان کا ثواب مجھے ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تو اسی نیکی پر اسلام لایا ہے جو کہ پہلے کر چکا ہے۔ (یعنی وہ نیکی قائم ہے ، اب اس پر اسلام زیادہ ہوا)اللہ کی قسم جتنے نیک کام میں نے جاہلیت کے زمانے میں کئے ان میں سے کوئی نہ چھوڑوں گا ان سب کو اتنا ہی اسلام کی حالت میں بجالاؤں گا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, that Hakim bin Hizam freed one hundred slaves during the Jahiliyyah and donated one hundred camels as mounts. Then he came to the Prophet (s.a.w) - and he narrated a Hadith similar to theirs (no. 325).

حضرت عروہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حکیم بن حزام نے جاہلیت کے زمانے میں سو غلام آزاد کئے تھے اور سو اونٹ سواری کے لیے اللہ کی راہ میں دئیے تھے ۔ پھر انہوں نے اسلام کی حالت میں بھی سو غلام آزاد کئے اور سو اونٹ اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دئیے۔پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، پھر حدیث کو اسی طرح بیان کیا جیسے اوپر ذکر ہوا۔

Chapter No: 56

بَابُ صِدْقِ الإِيمَانِ وَإِخْلاَصِهِ

Regarding the truthfulness of faith and its sincerity

ایمان کی سچائی اور خلوص کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ }[الأنعام 82]شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ{ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ }[لقمان 13]

It was narrated that 'Abdullah said: "When the following was revealed: It is those who believe (in the Oneness of Allah and worship none but Him Alone) and confuse not their Belief with Zulm (wrong), the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) were distressed by that and said: 'Who among us has not wronged himself?' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'It is not as you think; rather it is as Luqman said to his son: "O my son! Join not in worship others with Allah. Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.'"

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت ”جو لوگ ایمان لائے ، پھر انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم نہیں کیا (یعنی گناہ میں نہ پھنسے)، ان کو امن ہے اور وہی راہ پانے والے ہیں“ اتری تو رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام پر بہت مشکل گزری۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ ! ہم میں سے کونسا ایسا ہے جو اپنے نفس پر ظلم (یعنی گناہ) نہیں کرتا؟ چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں جیسا تم خیال کرتے ہو۔ بلکہ ظلم سے مراد وہ ہے جو لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ ”اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک مت کر، بیشک شرک بڑا ظلم ہے “ (لقمان: 13)۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ الْأَعْمَشِ ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.

Ibn Idris said: "My father narrated it to me first from Aban bin Taghlib, from Al-A'mash, then I heard it from him (Al-A'mash)."

مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے ۔

Chapter No: 57

بَابُ بَيَانِ تَجَاوَزِ اللهِ تَعَالَى عَنْ حَدِيْثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِرْ وَبَيَانِ أَنَّهُ سَبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَمْ يُكَلِّفْ إِلَّا مَا يُطَاقُ وَبَيَانُ حُكْمِ الْهَمِّ بِالْحَسَنَةِ وَبِالسَّيِّئَةِ.

Allah excuses the talks of inner self and the thoughts which pass by the heart until these are settled in , and Allah SWT does not burden anyone except what is endurable, and mentioning the rulings on thinking of doing good or bad

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے ۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ } قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ } فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا } قَالَ نَعَمْ { رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا } قَالَ نَعَمْ { رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ } قَالَ نَعَمْ { وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ } قَالَ نَعَمْ.[البقرة 286]

It was narrated that Abu Hurairah said: "When the following was revealed to the Messenger of Allah (s.a.w): "To Allah belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and whether you disclose what is in your own selves or conceal it, Allah will call you to account for it. Then He forgives whom He wills and punishes whom He wills. And Allah is Able to do all things.", the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) were distressed by that. They came to the Messenger of Allah (s.a.w) and knelt down, then they said: 'O Messenger of Allah, we have been enjoined to do deeds that we are able to do, such as Salat, fasting, Jihad and charity. But now this Verse has been revealed to you, and we cannot (control our thoughts). The Messenger of Allah (s.a.w)said: 'Do you mean to say what the people of the two Books said before you: "We hear and disobey?" Rather say: "We hear, and we obey. (We seek) Your forgiveness, our Lord, and to You is the return (of all).' " They said: 'We hear, and we obey . (We seek) Your forgiveness, our Lord, and to You is the return (of all).' When the people said that, and it began to flow easily on their tongues, Allah, the Mighty and Sublime, revealed : "The Messenger (Muhammad) believes in what has been sent down to him from his Lord, and (so do) the believers. Each one believes in Allah, His Angels, His Books, and His Messengers. (They say,) 'We make no distinction between one another of His Messengers' - and they say, 'We hear, and we obey. (We seek) Your forgiveness, our Lord, and to You is the return (of all)." When they did that, Allah, the Most High, abrogated it (the first Verse). So He, [the Mighty and Sublime] revealed: "Allah burdens not a person beyond his scope. He gets reward for that (good) which he has earned, and he is punished for that (evil) which he has earned. 'Our Lord! Punish us not if we forget or fall into error." Allah said: 'Yes.' "Our Lord! Lay not on us a burden like that which You did lay on those before us (Jews and Christians)." Allah said: 'Yes.' "Our Lord! Put not on us a burden greater than we have strength to bear." Allah said: 'Yes.' "Pardon us and grant us forgiveness. Have mercy on us. You are our Mawla (Patron, Supporter and Protector) and give us victory over the disbelieving people." Allah said: "Yes."

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ﴿ِللہ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْض …﴾ یعنی ”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ تم اس بات کو ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا چھپائے رکھو، اللہ تعالیٰ تم سے حساب لے لے گا، پھر جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے “ نازل ہوئی تو یہ آیت صحابہ کرامؓ پر بہت ہی سخت گزری۔ وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ پھر کہنے لگے کہ یا رسول اللہﷺ (پہلے تو ) ہم نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ وغیرہ ایسے اعمال کے مکلف بنائے گئے تھے (جن پر طاقت رکھتے تھے )، اور اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے ، اس کی تو ہم طاقت ہی نہیں رکھتے۔ نبیﷺ نے فرمایا کیا تم ویسی ہی بات کہنا چاہتے ہو جیسی تم سے پہلے دو کتابوں والوں (یہود و نصاریٰ) نے کہی تھی (یعنی انہوں نے کہا) ”سمعنا و عصینا“ کہ ہم نے (اللہ اور رسول کی بات کو) سن تو لیا ہے لیکن مانتے نہیں ہیں، بلکہ آپ لوگوں کو یوں کہنا چاہیئے کہ ہم نے (اللہ کی اور رسول کی بات کو) سن لیا اور مان لیا۔ اے ہمارے رب ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور ہماری واپسی تیری طرف ہے۔ تو صحابہ کرامؓ نے یہی کہا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا ہم اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف واپسی ہے۔ جب صحابہ کرامؓ نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو اس کے پڑھنے سے ان کی زبانوں کو سہولت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں ﴿اٰمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ …﴾ یعنی ”رسول اللہﷺ اس (شریعت) کے ساتھ ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کی گئی اور مومن لوگ بھی ایمان لائے اور سب کے سب ایمان لائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ (سب کے سب کہتے ہیں) کہ ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے (سب رسولوں کو مانتے ہیں یہ نہیں کہ کسی رسول کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں) اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف واپسی ہے “۔ جب صحابہ کرامؓ نے یہ کیا (یعنی ان آیات کو پڑھا اور سچے دل سے پڑھا) تو اللہ تعالی نے آیت ﴿وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسُکُمْ …﴾ آیت کو منسوخ کر دیا اور آیت ﴿لَا یُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا… ﴾ اتار دی یعنی ”اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالتا، اس (نفس) کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور اس کے خلاف بھی وہی کچھ ہو گا جو اس نے کمایا، اے ہمارے رب! ہم پر ویسا بوجھ نہ رکھنا جیسا کہ ہم سے پہلے والوں پر رکھا تھا تو اللہ نے فرمایا ”ہاں“۔ اے ہمارے رب! ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوانا جس کی ہم میں اٹھانے کی طاقت نہ ہو تو اللہ نے فرمایا ”ہاں“۔ اور ہمیں معاف کر دے ، ہمیں بخش دے ، ہم پر رحم کر تو ہمارا دوست یا مالک ہے ، پس تو کافر قوم پر ہماری مدد فرما تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”ہاں“۔ (سورہ بقرہ :286)


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ { وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ }[البقرة 284] قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا } قَالَ قَدْ فَعَلْتُ { رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا } قَالَ قَدْ فَعَلْتُ { وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا } قَالَ قَدْ فَعَلْتُ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "When this Verse was revealed - " ...And whether you disclose what is in your own selves or conceal it, Allah will call you to account for it." - there entered their hearts something that had never entered them before. The Prophet (s.a.w) said: 'Say: "We hear and we obey and we submit.' "Then Allah put faith in their hearts and Allah, Most High revealed: "Allah burdens not a person beyond his scope. He gets reward for that (good) which he has earned, and he is punished for that (evil) which he has earned. Our Lord! Punish us not if we forget or fall into error..." Allah said: 'I have granted that.' "...Our Lord! Lay not on us a burden like that which You did lay on those before us (Jews and Christians)..." Allah said: 'I have granted that.' "...Pardon us and grant us forgiveness. Have mercy on us. You are our Mawla (Patron, Supporter and Protector)." Allah said: 'I have granted that."'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسُکُمْ … ) تو لوگوں کے دلوں میں وہ بات سماگئی جو کسی چیز سے نہ سمائی تھی(یعنی بہت ڈر پیدا ہوا) تب رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہو ہم نے سنا اور مان لیا اور اطاعت کی پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان ان کے دلوں میں ڈال دیا ، اور اس آیت کو اتارا (لَا یُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا…) ”اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالتا، اس (نفس) کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور اس کے خلاف بھی وہی کچھ ہو گا جو اس نے کمایا،اے ہمارے رب ہمارے بھول چوک میں ہم سے مؤاخذہ نہ کرنا، تو اللہ نے فرمایا ”میں ایسا ہی کروں گا“۔ اے ہمارے رب! ہم پر ویسا بوجھ نہ رکھنا جیسا کہ ہم سے پہلے والوں پر رکھا تھا تو اللہ نے فرمایا ”میں ایسا ہی کروں گا “۔ اور ہمیں معاف کر دے ، ہمیں بخش دے ، ہم پر رحم کر تو ہمارا دوست یا مالک ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”میں نے ایسا ہی کیا“۔ (سورہ بقرہ :286)

Chapter No: 58

باب تَجَاوُزِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِرَّ.

Allah excuses the talks of inner self and the thoughts which pass by the heart until these are settled in

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah has allowed for my Ummah whatever occurs in themselves (crosses their mind), so long as they do not speak of it - or act upon it."'

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے میری امت سے (گناہ کے ) ان خیالات سے درگزر کیا جو دل میں آئیں جب تک کہ ان کو زبان سے نہ نکالیں یا ان پر عمل نہ کریں۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بِنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah, the Mighty and Sublime, allows my Ummah whatever occurs in themselves (crosses their minds) so long as they do not act upon it or speak of it."

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ عزو جل نے میری امت سے (گناہ کے ) ان خیالات سے درگزر کیا جو دل میں آئیں جب تک کہ ان پر عمل نہ کریں یا ان کو زبان سے نہ نکالیں ۔


و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَهِشَامٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as Hadith no. 332) was narrated from Qatadah with this chain.

مذکورہ بالا حدیث بھی اس سند سےمروی ہے۔

Chapter No: 59

بَابٌ إِذَا هَمَّ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ كُتِبَتْ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ

When a person intends to do something good it is recorded and if he intends to do something bad it is not recorded for him

بندے کے نیکی کے ارادے کو لکھنے کا ، اور بدی کے ارادے کو نہ لکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا سَيِّئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا عَشْرًا.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah, the Mighty and Sublime, said: If My slave thinks of doing a bad deed, then do not write it down for him. Then if he does it, write it down as one bad deed. If he thinks of doing a good deed then he does not do it, write it down as one good deed, and if he does it, write it down tenfold.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جب میرا بندہ (دل میں) برائی کا قصد کرے تو ا سکو مت لکھو۔ پس اگر وہ برائی کرے تو ایک برائی لکھ لو اور جو نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس کو نہ کرے تو ایک نیکی اس کے لیے لکھ لو اور اگر کرے تو دس نیکیاں لکھو۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا سَيِّئَةً وَاحِدَةً.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah, the Mighty and Sublime, said: 'If My slave thinks of doing a good deed and does not do it, I will write it down as one good deed. If he does it, I will write it down for him between ten and seven-hundred fold. If he thinks of doing a bad deed and does not do it, I will not write it down, and if he does it, I will write it down as one bad deed."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جب میرا بندہ نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور پھراس کو کرتا نہیں تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہوں اور جو کرتا ہے اس نیکی کو تو میں اس کے بدلے دس نیکیوں سے سات سو نیکیوں تک لکھتا ہوں اور جب برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن کرتا نہیں تو وہ برائی میں نہیں لکھتا ، اگر کرتا ہے تو ایک برائی لکھتا ہوں۔


و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ رَبِّ ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ فَقَالَ ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ.

Abu Hurairah narrated that Muhammad the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah, the Most High, said: 'If it occurs to My slave to do a good deed, I will write down one good deed for him if he does not do it. If he does it, I will write it down tenfold. If it occurs to him to do a bad deed, I will forgive him for that if he does not do it and if he does it, I will write it down as one bad deed."' The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The angels said: 'O Lord, there is Your slave who wants to do a bad deed,' although He had more knowledge about him. He said: 'Watch him; if he does it then write it down as one bad deed, and if he does not do it, then write down one good deed for him, for he gave it up for My sake."' The Messenger of Allah (s.a.w) said: "When the Islam of one of you is good, every good deed that he does is recorded for him between tenfold and seven-hundred fold, and every bad deed that he does is recorded as one bad deed, until he meets Allah."

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جب میرا بندہ دل میں نیک کام کرنے کی نیت کرتا ہے تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھ لیتا ہوں، جب تک کہ اس نے وہ نیکی نہیں کی۔ پھر اگر وہ نیکی کی تو اس کو میں اس کے لئے دس نیکیاں (ایک کے بدلے ) لکھتا ہوں اور جب دل میں برائی کرنے کی نیت کرتا ہے تو میں اس کو بخش دیتا ہوں جب تک کہ وہ بُرائی (پر عمل) نہ کرے۔ اور پھر جب وہ برائی (پر عمل) کرے تو اس کے لئے ایک ہی بُرائی لکھتا ہوں اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ فرشتے کہتے ہیں کہ اے پروردگار یہ تیرا بندہ ہے ، بُرائی کرنا چاہتا ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ اپنے بندے کو دیکھ رہا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو! اگر وہ بُرائی کرے تو ایک بُرائی ویسی ہی لکھ لو اور اگر نہ کرے (اور اس بُرائی کے ارادے سے باز رہے ) تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ لو کیونکہ اس نے میرے ڈر سے اس بُرائی کو چھوڑ دیا۔ اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا اسلام بہتر ہوتا ہے (یعنی خالص اور سچا، نفاق سے خالی) تو پھر وہ جو نیکی کرتا ہے اس کے لئے ایک کے بدلے دس نیکیاں سات سو گنا تک لکھی جاتی ہیں اور جو بُرائی کرتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی بُرائی لکھی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مل جاتا ہے۔


و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ وَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever thinks of doing a good deed and does not do it, one good deed will be written down for him. Whoever thinks of doing a good deed and does it, it will be written down between ten and seven-hundred fold. Whoever thinks of doing a bad deed and does not do it, it will not be written down, and if he does it, it will be written down."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور پھراس کو کرتا نہیں تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔اور جو اس نیکی کو کرتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیوں سے سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہے اور جو برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن کرتا نہیں تو وہ برائی نہیں لکھی جاتی ، اور جو کرے تو لکھی جاتی ہے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً.

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) said, relating from his Lord, the Mighty and Sublime: "Allah decreed good deeds and bad deeds, then He explained that. Whoever thinks of doing a good deed then does not do it, Allah will write it down as one complete good deed. If he thinks of doing a good deed and then does it, Allah [the Mighty and Sublime] will write it down between ten and seven-hundred fold, or many more. If he thinks of doing a bad deed then he does not do it, Allah will write it down as one complete good deed, and if he thinks of it then does it, Allah will write it down as one bad deed."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھ دیا پھر اس کو بیان کیا۔ پس جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور نیکی نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری ایک نیکی لکھے گااور جس نے نیکی کی تو اس کے لیے دس نیکیوں سے سات سو تک او رزیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔اور جو برائی کا ارادہ کرے او راس برائی کو نہ کرے تو اللہ اس کے لیے ایک پوری نیکی لکھے گااور جو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہی برائی لکھے گا۔


و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَزَادَ وَمَحَاهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ إِلَّا هَالِكٌ.

A Hadith similar to that of 'Abdul-Warith (no. 338) was narrated from Al-Ja'd Abu 'Uthman with this chain, but he added: "Or Allah will erase it, therefore no one will be damned except the one who is truly doomed."

دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے جیسے اوپر گزری ہے صرف اتنا زیادہ ہے کہ اگر اس برائی کو کرے تو ایک برائی لکھی جائے گی یا اس کو بھی اللہ تعالیٰ مٹادے گا اور اللہ کے پاس کوئی تباہ نہیں ہوگا مگر جس کی قسمت میں تباہی ہو۔

Chapter No: 60

بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِى الإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا

Concerning the evil suggestions regarding faith and what should be said if one finds that

ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ قَالَ وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "Some of the Companions of the Prophet (s.a.w) came and asked him: 'We find in ourselves something that is too awful for any of us to speak of it.' He said: 'Do you really find that?' They said: 'Yes.' He said: 'That is clear faith."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کچھ لوگ صحابہ کرام میں سے رسول اللہ ﷺکے پاس آئے اور آپﷺسے پوچھا کہ ہمارے دلوں میں وہ وہ خیال گزرتے ہیں جن کا بیان کرنا ہم میں سے ہر ایک کو بڑا گناہ معلوم ہوتا ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا کیا تم کوایسے وسوسے ہوتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں آپﷺنے فرمایا یہ تو عین ایمان ہے۔


و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

This Hadith (a similar Hadith as no. 340) was also narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w) (Through Al-A'mash, a narrator).

مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْوَسَةِ قَالَ تِلْكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ.

It was narrated that 'Abdullah said: The Prophet (s.a.w) was asked about Waswasah (whispers, bad thoughts) and he said: 'That is pure faith."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسےوسوسہ کے متعلق پوچھا گیا آپ ﷺنے فرمایا یہ تو واضح ایمان ہے۔


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: The people will keep wondering until it is said: "Allah created all things, but who created Allah?" Whoever experiences any of that, let him say: "I believe in Allah."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا لوگ ہمیشہ پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ اللہ نے سب کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟پھر جو کوئی اس قسم کا شبہ دل میں محسوس کرے تو کہے میں اللہ پر ایمان لایا۔


و حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ فَيَقُولُ اللَّهُ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَرُسُلِهِ.

It was narrated from Hisham bin 'Urwah with this chain that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The Shaitan may come to one of you and say: 'Who created the heavens? Who created the earth?' And he will say: 'Allah."' Then he mentioned a similar Hadith (no. 343), and added: "...and His Messengers."

ہشام بن عروہ سے روایت ہے اسی سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺنے فرمایا شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس آتا ہے پھر کہتا ہے کس نے آسمان پیدا کیا ؟کس نے زمین پید ا کی ؟ تو وہ کہتا ہے اللہ نے پیدا کیا پھر شیطان کہتا ہے اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جب ایسا شبہ تم میں سے کسی کو ہو تو وہ کہے میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولَ مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ.

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Shaitan may come to one of you and say: "Who created such and such?" Until he says to him: "Who created your Lord?" If it goes that far, let him seek refuge with Allah and stop (such thoughts)."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا شیطان تم میں سے ایک کے پاس آتا ہے پھر کہتا ہے کس نےیہ پیدا کیا؟یہاں تک کہ یوں کہتا ہے کہ اچھا تیرے اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کوایسا شبہ ہو تو وہ پناہ مانگے اللہ کی شیطان سے اور ایسے خیال سے باز رہے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ.

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Shaitan may come to a person and say: "Who created such and such?" Until he says to him: "Who created your Lord?" If it goes that far, let him seek refuge with Allah and stop (such thoughts),"' - like the Hadith (no. 345) of the nephew of Ibn Shihab.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا شیطان بندے کے پاس آتاہے اور کہتا ہے یہ کس نے پیدا کیا ؟ یہ کس نے پیدا کیا ؟ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جس طرح اوپر گزری۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنْ الْعِلْمِ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا، اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "The people will keep asking you about issues of knowledge until they say: 'Allah created us, but who created Allah?"' (Abu Hurairah) said, holding a man's hand: "Allah and His Messenger spoke the truth. Two (people) have asked me that and this is the third" - or he said: "One (person) asked me that, and this is the second."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا لوگ تم سے علم کی باتیں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے اللہ نے تو ہم کو پیداکیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ راوی نے کہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت ایک کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا سچ کہا اللہ اور اس کے رسول نے ۔ مجھ سے دو آدمی یہی پوچھ چکے اور یہ تیسرا ہے یا یوں کہ ایک آدمی پوچھ چکا ہے اور یہ دوسرا ہے۔


و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِسْنَادِ وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ.

It was narrated that Muhammad said: Abu Hurairah said: "The people will keep asking..." a Hadith similar to that of 'Abdul-Warith, (no. 347) except that he did not mention the Prophet (s.a.w) in the chain, but he said at the end of the Hadith: "Allah and His Messenger spoke the truth."

محمد سے یہ حدیث موقوفا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر مروی ہے اس نے رسول اللہ ﷺکا ذکر اسناد میں نہیں کیا۔ لیکن اس حدیث میں یہ ہے کہ سچ کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺنے۔


و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'They will keep on asking you, O Abu Hurairah, until they say: This is Allah, but who created Allah?' " He (Abu Hurairah) said: "While I was in the Masjid, some Bedouin people came to me and said: 'O Abu Hurairah, this is Allah, but who created Allah?"' He took some pebbles in his hand and threw at them, then he said: "Go away, go away! My close friend (s.a.w) spoke the truth."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ !لوگ تجھ سے (دین کی باتیں) پوچھتے رہیں گےیہاں تک کہ یوں کہیں گے بھلا اللہ تو یہ ہے اب اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟۔ ایک بار ہم مسجد میں بیٹھے تھے اتنے میں کچھ دیہاتی لوگ آئے اور کہنے لگے اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ !اللہ تو یہ ہے اب اللہ کو کس نے پیداکیا ؟ یہ سن کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی بھر کنکریاں ان کو ماریں اور کہا اٹھو اٹھو سچ کہا تھا میرے دوست رسول اللہ ﷺنے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْأَلَنَّكُمْ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَقُولُوا اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَهُ.

Yazid bin Al-Asamm said: "I heard Abu Hurairah say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: The people will ask you about everything, until they say: Allah created everything, but who created Him?"'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا تم سے لوگ ہر بات پوچھیں گےیہاں تک کہ یوں کہیں گے اللہ نے تو ہر چیز کو پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا، اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah, the Mighty and Sublime, said: 'Your Ummah will keep saying: What is this? What is this? Until they say: Allah created all things, but who created Allah, the Most High?'"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیری امت کے لوگ کہتے رہیں گے یہ کیا ہے؟ یہ کیا ہے ؟ آخر یہ کہیں گے اللہ نے تو مخلوق کو پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ۔


حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَ قَالَ اللَّهُ إِنَّ أُمَّتَكَ.

This Hadith was narrated from Anas, from the Prophet (s.a.w), but (one of the narrators) Ishaq did not mention the words: "Allah, the Mighty and Sublime, said: 'Your Ummah...'"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اسی طرح جیسے اوپر گزری مگر اس میں یہ نہیں ہے کہ اللہ نے فرمایا تیری امت کے لوگ۔

‹ First45678Last ›