Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Eclipses (16)    أبواب الكُسُوف

12

Chapter No: 11

باب مَنْ أَحَبَّ الْعَتَاقَةَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ

Whoever loved manumission (of slaves) during the solar eclipses.

باب : سورج گہن میں بردہ آزاد کرنا

حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ لَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ‏.‏

Narrated By Asma: No doubt the Prophet ordered people to manumit slaves during the solar eclipse.

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نبیﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔

Chapter No: 12

باب صَلاَةِ الْكُسُوفِ فِي الْمَسْجِدِ

To offer the eclipse prayer in the masjid.

باب : گہن کی نماز مسجد میں پڑھنا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ يَهُودِيَّةً، جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ‏.‏ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ‏.‏

Narrated By Amra bint AbdurRahman: A Jewess came to Aisha to ask her about something and then she said, "May Allah give you a refuge from the punishment of the grave." So Aisha asked Allah's Apostle, "Would the people be punished in their graves?" Allah's Apostle asked Allah's refuge from the punishment of the grave.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت ان کے پاس مانگنے آئی اور اس سے کہا: اللہ تم کو قبر کے عذاب سے بچائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: کیا قبروں میں بھی لوگوں کو عذاب ہوگا؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ اس سے بچائے رہے۔


ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ ظَهْرَانَىِ الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلاً ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَهْوَ دُونَ السُّجُودِ الأَوَّلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

Then one day Allah's Apostle rode (to leave for someplace) but the sun eclipsed. He returned on the forenoon and passed through the rear of the dwellings (of his wives) and stood up and started offering the (eclipse) prayer and the people stood behind him. He stood for a long period and then performed a long bowing and then stood straight for a long period which was shorter than that of the first standing, then he performed a prolonged bowing which was shorter than the first bowing, then he raised his head and prostrated for a long time and then stood up (for the second Raka) for a long while, but the standing was shorter than the standing of the first Raka. Then he performed a prolonged bowing which was shorter than that of the first one. He then stood up for a long time but shorter than the first, then again performed a long bowing which was shorter than the first and then prostrated for a shorter while than that of the first prostration. Then he finished the prayer and delivered the sermon and) said what Allah wished, and ordered the people to seek refuge with Allah from the punishment of the grave.

پھر ایک روز صبح کو رسول اللہﷺ سواری پر سوار ہوئے۔اسی دن سورج کو گہن ہوا۔آپؐ دن چڑھے لوٹے آئے اور (اپنی بی بیوں کے)حجروں کے درمیان سے گزرے پھر کھڑے ہو کر گہن کی نماز پڑھنے لگے۔ لوگ بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔آپؐ بڑی دیر تک کھڑے رہے پھر بڑی دیر تک رکوع کیا۔پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہےمگر پہلی بار سے کم،پھرایک لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم،پھررکوع سے سر اٹھایا اور لمباسجدہ کیا پھر دونوں سجدے کر کے کھڑے رہےمگراگلی بار سے کم، پھرایک لمبا رکوع کیا پر اگلےرکوع سے کم، پھر دیر تک کھڑے رہےمگراگلی بار سے کم،پھرایک لمبا رکوع کیا پراگلے رکوع سے کم،پھر سجدہ کیا پر اگلے سجدے سے کم، پھر نماز سے فارغ ہوکر جو اللہ نے چاہا وہ آپؐ نےفرمایا( لوگوں کو سمجھایا بجھایا)۔ پھر ان کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔

Chapter No: 13

باب لاَ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ

The solar eclipse does not occur because of someone’s death or life.

باب : سورج گہن کسی کے موت و زیست سے نہیں ہوتا،

رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَالْمُغِيرَةُ وَأَبُو مُوسَى وَابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم

And this has been narrated by Abu Bakra, Al-Mughira, Abu Musa, Ibn Abbas and Ibn Umar

اس کو ابو بکرہؓ اور مغیرہؓ اور ابو موسٰی اشعریؓ اور ابن عباسؓ اور ابن عمرؓ صحابیوں نے روایت کیا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا

Narrated By Abu Masud: Allah's Apostle said, "The sun and the moon do not eclipse because of someone's death or life but they are two signs amongst the signs of Allah, so pray whenever you see them."

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند کسی شخص کی موت و حیات سے نہیں بے نور نہیں ہوتے، بلکہ وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھو۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، وَهْىَ دُونَ قِرَاءَتِهِ الأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ دُونَ رُكُوعِهِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَةِ

Narrated By Aisha: In the lifetime of the Prophet the sun eclipsed and the Prophet (p.b.u.h) stood up to offer the prayer with the people and recited a long recitation, then he performed a prolonged bowing, and then lifted his head and recited a prolonged recitation which was shorter than the first. Then he performed a prolonged bowing which was shorter than the first and then lifted his head and performed two prostrations. He then stood up for the second Raka and offered it like the first. Then he stood up and said, "The sun and the moon do not eclipse because of someone's life or death but they are two signs amongst the signs of Allah which He shows to His worshipers. So whenever you see them, make haste for the prayer."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺکے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو آپﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ بہت لمبی قراءت کی، پھر بہت لمبا رکوع کیا۔پھر رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبی قراءت کی، مگر پہلی قراءت سے کم پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے کم۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور دو سجدے کیے۔ پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔پھر کھڑے ہوئے (نماز سے فارغ ہوکر) اور فرمایا: سورج اور چاند کسی کی موت وحیات سے بے نور نہیں ہوتے۔ وہ دو نشانیاں ہیں اللہ کی نشانیوں میں سے اللہ اپنے بندوں کو دکھلاتا ہے، جب تم یہ گرہن دیکھو تو نماز کی طرف لپکو۔

Chapter No: 14

باب الذِّكْرِ فِي الْكُسُوفِ

To remember Allah during the eclipse.

باب : سورج گہن کے وقت اللہ کو یاد کرنا ،

رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما

This is narrated by Ibn Abbas

اس کو ابن عباسؓ نے روایت کیا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَزِعًا، يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ وَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Musa: The sun eclipsed and the Prophet got up, being afraid that it might be the Hour (i.e. Day of Judgment). He went to the Mosque and offered the prayer with the longest Qiyam, bowing and prostration that I had ever seen him doing. Then he said, "These signs which Allah sends do not occur because of the life or death of somebody, but Allah makes His worshipers afraid by them. So when you see anything thereof, proceed to remember Allah, invoke Him and ask for His forgiveness."

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورج گرہن ہوا، تو نبیﷺ گھبرا کر اٹھے آپﷺ ڈرے کہیں قیامت نہ آجائے، پھر آپﷺ مسجد میں تشریف لائے اور لمبے قیام اور رکوع اور سجدہ کے ساتھ جو میں نے کبھی آپﷺ کو کرتے دیکھا نماز پڑھی اور (نماز کے بعد) فرمایا: یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں بھیجتا، بلکہ ان کو بھیج کر اپنے بندوں کو ڈراتا ہے جب تم ایسی کوئی نشانی دیکھو تو اللہ کی یاد اور دعا اور استغفار کی طرف لپکو۔

Chapter No: 15

باب الدُّعَاءِ فِي الْخُسُوفِ

Invocation during the eclipse.

باب : سورج گہن میں دعا کرنا،

قَالَهُ أَبُو مُوسَى وَعَائِشَةُ رضى الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

And this is narrated by Abu Musa and Aisha from the Prophet (s.a.w)

اس کو ابو موسٰیؓ اور حضرت عائشہؓ نے بھی نبیﷺ سے نقل کیا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Al-Mughira bin Shuba: On the day of Ibrahim's death, the sun eclipsed and the people said that the eclipse was due to the death of Ibrahim (the son of the Prophet). Allah's Apostle said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah. They do not eclipse because of someone's death or life. So when you see them, invoke Allah and pray till the eclipse is clear."

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے تھے: جس دن حضرت ابراہیم (آپﷺکے صاحبزادے) کی وفات ہوئی، اسی دن سورج گرہن ہوا۔ لوگ کہنے لگے حضرت ابراہیم کے مرنے سے سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ان میں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کے جینے سے ،تم جب یہ گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور نماز پڑھو جب تک کہ گرہن چھٹ جائے۔

Chapter No: 16

باب قَوْلِ الإِمَامِ فِي خُطْبَةِ الْكُسُوفِ أَمَّا بَعْدُ

The saying of Imam Amma bad (then after), during the Khutba of the eclipse.

باب : گہن کے خطبے میں امام کا امًابعد کہنا

وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Asma who said, "Allah's Apostle (s.a.w.) finished the eclipse prayer and by then the sun(eclipse) had cleared. Then he delivered the sermon and praised Allah as He deserved and then said,' Amma badu'."

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ،انہوں نے کہا: پھر رسول اللہﷺ گرہن کی نماز سے اس وقت فارغ ہوئے جب سورج روشن ہوگیا، پھر آپﷺ نے خطبہ دیا اور جیسی تعریف اللہ کے شایان شان تھی ویسی تعریف کی: پھر فرمایا: اما بعد۔

Chapter No: 17

باب الصَّلاَةِ فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ

The prayer of the lunar eclipse.

چاند گہن میں بھی نماز پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ‏.‏

Narrated By Abu Bakra: In the life-time of the Prophet the sun eclipsed and then he offered a two Rakat prayer.

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو آپﷺ نے دو رکعتیں نماز پڑھیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ، وَثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، فَانْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَاكَ فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ‏"‏‏.‏ وَذَاكَ أَنَّ ابْنًا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ، يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَالِكَ‏.‏

Narrated By Abu Bakra: In the life-time of Allah's Apostle (p.b.u.h) the sun eclipsed and he went out dragging his clothes till he reached the Mosque. The people gathered around him and he led them and offered two Rakat. When the sun (eclipse) cleared, he said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah; they do not eclipse because of the death of someone, and so when an eclipse occurs, pray and invoke Allah till the eclipse is over." It happened that a son of the Prophet called Ibrahim died on that day and the people were talking about that (saying that the eclipse was caused by his death).

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺکے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو آپﷺ اپنی چادر کھینچتے ہوئے نکلے، مسجد تک پہنچے اور لوگ بھی آپﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔آپﷺ نے ان کو دو رکعتیں نماز پڑھائی۔ پھر سورج روشن ہوگیا۔آپﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ وہ کسی کی موت سے بےنور نہیں ہوتے، جب تم یہ دیکھو نماز پڑھو اور دعا کرتے رہو جب تک گرہن چھٹ جائے اور یہ آپﷺ نے اس لئے فرمایا: کہ آپﷺکے صاحبزادے جن کو ابراہیم کہتے تھے وفات پاگئے تھے۔ لوگ کہنے لگے: گرہن انہی کے مرنے سے لگا۔

Chapter No: 18

باب الرَّكْعَةُ الأُولَى فِي الْكُسُوفِ أَطْوَلُ

The first Rak’a of the eclipse prayer is longer.

باب : گہن کی نماز میں پہلی رکعت کا لمبا کرنا

 

Chapter No: 19

باب الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْكُسُوفِ

To recite (the Quran) aloud in the eclipse prayer.

باب : گہن کی نماز میں پکار کر قراءت کرنا

أَخْبَرَنَامَحْمُودٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي سَجْدَتَيْنِ، الأَوَّلُ الأَوَّلُ أَطْوَلُ‏.‏

Narrated By Aisha: The Prophet led us and performed four bowing in two Rakat during the solar eclipse and the first Raka was longer.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان کو سورج گرہن میں نماز پڑھائی۔ دو رکعتوں میں چار رکوع کیے۔پہلی رکعت دوسری سے لمبی تھی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ نَمِرٍ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ جَهَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ كَبَّرَ فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ‏.‏ ثُمَّ يُعَاوِدُ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ‏.‏

Narrated By Aisha: The Prophet (p.b.u.h) recited (the Quran) aloud during the eclipse prayer and when he had finished the eclipse prayer he said the Takbir and bowed. When he stood straight from bowing he would say "Sami 'al-l-ahu Lyman hamidah Rabbana walaka-l-hamd." And he would again start reciting. In the eclipse prayer, there are four bowing and four prostrations in two Rakat.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے گرہن کی نماز میں جہری قراءت کی، جب قراءت سے فارغ ہوئے، تو تکبیر کہی اور رکوع کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو سمع اللہ حمدہ ربنا ولک الحمد کہا، پھر قراءت شروع کی۔غرض گرہن کی نماز میں دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔


وَقَالَ الأَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ الشَّمْسَ، خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ مُنَادِيًا بِالصَّلاَةُ جَامِعَةٌ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ‏.‏ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ مِثْلَهُ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ مَا صَنَعَ أَخُوكَ ذَلِكَ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا صَلَّى إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ‏.‏ قَالَ أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ‏.‏ تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْجَهْرِ‏.‏

Al-Auza'i and others said that they had heard Az-Zuhi from Ursa from Aisha saying, "In the life-time of Allah's Apostle the sun eclipsed, and he made a person to announce: 'Prayer in congregation.' He led the prayer and performed four bowing and four prostrations in two Rakat." Narrated Al-Walid that 'Abdur-Rahman bin Namir had informed him that he had heard the same. Ibn Shihab heard the same. Az-Zuhrl said, "I asked (Ursa), 'What did your brother Abdullah bin AzZubair do? He prayed two Rakat (of the eclipse prayer) like the morning prayer when he offered the (eclipse) prayer in Median.' Ursa replied that he had missed (i.e. did not pray according to) the Prophet's tradition." Sulaiman bin Kathir and Sufyan bin Husain narrated from Az-Zuhri that the prayer for the eclipse used to be offered with loud recitation.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپﷺ نے ایک شخص کے ذریعے اعلان کرادیا کہ نماز ہونے والی ہے، پھر آپﷺ آگے بڑھے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ ان میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ ولید بن مسلم نے کہا: مجھ سے عبد الرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے ایسا ہی سنا۔زہری نے کہا: میں نے عروہ سے کہا،تمہارے بھائی عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کیا کیا۔انہوں نے تو گرہن کی نماز میں مدینہ میں صبح کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھیں۔ عروہ نے کہا: ہاں یقینا، مگر انہوں نے سنت کے خلاف کیا۔ عبدالرحمٰن بن نمر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان بن کثیر اور سفیان بن حسین نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں بھی جہری قراءت کرنے کا بیان ہے۔

12