Sayings of the Messenger

 

12

Chapter No: 1

باب وَكَالَةُ الشَّرِيكِ الشَّرِيكَ فِي الْقِسْمَةِ وَغَيْرِهَا

A partner can act on behalf of another while distributing things etc.

باب ۔ ایک شریک دوسرے شریک کا تقسیم وغیرہ میں وکیل ہونا

وَقَدْ أَشْرَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِقِسْمَتِهَا‏

No doubt, the Prophet (s.a.w) shared his sacrificing animals with Ali (r.a) and then ordered Ali (r.a) to distribute them.

اور نبیﷺ نے حضرت علیؓ کو قربانی میں شریک کر لیا پھر ان کو حکم کیا کہ فقیروں کو بانٹ دیں ۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلاَلِ الْبُدْنِ الَّتِي نُحِرَتْ وَبِجُلُودِهَا‏.‏

Narrated By 'Ali : Allah's Apostle ordered me to distribute the saddles and skins of the Budn which had slaughtered.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے مجھ کو حکم دیا کہ قربانی کے اونٹوں کی جھولیں اور کھالیں صدقہ کردوں۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ضَحِّ أَنْتَ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Uqba bin Amir : That the Prophet had given him sheep to distribute among his companions and a male kid was left (after the distribution). When he informed the Prophet of it, he said (to him), "Offer it as a sacrifice on your behalf."

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے کچھ بکریاں ان کے حوالہ کی تھیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان کو تقسیم کردیں ۔ ایک بکری کا بچہ باقی رہ گیا ۔ جب اس کا ذکر انہوں نے آپﷺسے کیا، تو آپﷺنے فرمایا: اس کی تو قربانی کرلے۔

Chapter No: 2

باب إِذَا وَكَّلَ الْمُسْلِمُ حَرْبِيًّا فِي دَارِ الْحَرْبِ أَوْ فِي دَارِ الإِسْلاَمِ جَازَ

If a Muslim acts on behalf of a non-Muslim warrior in a country of infidelity or in a Muslim state, the contract is valid.

باب۔ اگر مسلمان حربی کافر کو دار الحرب یا دار الاسلام میں وکیل کرے تو درست ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كِتَابًا بِأَنْ يَحْفَظَنِي فِي صَاغِيَتِي بِمَكَّةَ، وَأَحْفَظَهُ فِي صَاغِيَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا ذَكَرْتُ الرَّحْمَنَ قَالَ لاَ أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ، كَاتِبْنِي بِاسْمِكَ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ‏.‏ فَكَاتَبْتُهُ عَبْدُ عَمْرٍو فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ بَدْرٍ خَرَجْتُ إِلَى جَبَلٍ لأُحْرِزَهُ حِينَ نَامَ النَّاسُ فَأَبْصَرَهُ بِلاَلٌ فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَجْلِسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، لاَ نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ‏.‏ فَخَرَجَ مَعَهُ فَرِيقٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي آثَارِنَا، فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَلْحَقُونَا خَلَّفْتُ لَهُمُ ابْنَهُ، لأَشْغَلَهُمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَبَوْا حَتَّى يَتْبَعُونَا، وَكَانَ رَجُلاً ثَقِيلاً، فَلَمَّا أَدْرَكُونَا قُلْتُ لَهُ ابْرُكْ‏.‏ فَبَرَكَ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ نَفْسِي لأَمْنَعَهُ، فَتَخَلَّلُوهُ بِالسُّيُوفِ مِنْ تَحْتِي، حَتَّى قَتَلُوهُ، وَأَصَابَ أَحَدُهُمْ رِجْلِي بِسَيْفِهِ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُرِينَا ذَلِكَ الأَثَرَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ‏.‏

Narrated By 'Abdur-Rahman bin 'Auf : I got an agreement written between me and Umaiya bin Khalaf that Umaiya would look after my property (or family) in Mecca and I would look after his in Medina. When I mentioned the word 'Ar-Rahman' in the documents, Umaiya said, "I do not know 'Ar-Rahman.' Write down to me your name, (with which you called yourself) in the Pre-Islamic Period of Ignorance." So, I wrote my name 'Abdu 'Amr. On the day (of the battle) of Badr, when all the people went to sleep, I went up the hill to protect him. Bilal(1) saw him (i.e. Umaiya) and went to a gathering of Ansar and said, "(Here is) Umaiya bin Khalaf! Woe to me if he escapes!" So, a group of Ansar went out with Bilal to follow us ('Abdur-Rahman and Umaiya). Being afraid that they would catch us, I left Umaiya's son for them to keep them busy but the Ansar killed the son and insisted on following us. Umaiya was a fat man, and when they approached us, I told him to kneel down, and he knelt, and I laid myself on him to protect him, but the Ansar killed him by passing their swords underneath me, and one of them injured my foot with his sword. (The sub narrator said, " 'Abdur-Rahman used to show us the trace of the wound on the back of his foot.")

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے امیہ بن خلف سے یہ معاہدہ اپنے اور اس کے درمیان لکھوایا کہ وہ میرے بال بچوں یا میری جائیداد کی جو مکہ میں ہے ، حفاظت کرے اور میں اس کی جائیداد کی جو مدینہ میں ہے ، حفاظت کروں ۔ جب میں نے اپنا نام لکھتے وقت رحمن کا ذکر کیا تو اس نے کہا: میں رحمن کو کیا جانوں ۔ تم اپنا وہی نام لکھواؤ جو زمانہ جاہلیت میں تھا۔ چنانچہ میں نے عبد عمرو لکھوایا ۔ بدر کی لڑائی کے موقع پر میں ایک پہاڑ کی طرف گیا ، تاکہ لوگوں سے آنکھ بچاکر اس کی حفاظت کرسکوں ، لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور فورا ہی انصار کی ایک مجلس میں آئے۔انہوں نے مجلس والوں سے کہا کہ یہ دیکھو امیہ بن خلف ادھر موجود ہے ۔ اگر امیہ کافر بچ نکلا تو میری ناکامی ہوگی۔چنانچہ ان کے ساتھ انصار کی ایک جماعت ہمارے پیچھے ہولی۔ جب مجھے خوف ہوا کہ اب یہ لوگ ہمیں آلیں گے ، تو میں نے اس کے ایک لڑکے کو آگے کردیا تاکہ اس کے ساتھ مشغول رہے۔ لیکن لوگوں نے اسے قتل کردیا۔ پھر بھی وہ ہماری ہی طرف بڑھنے لگے۔امیہ بہت بھاری جسم کا تھا ۔ آخر جب جماعت انصار نے ہمیں آلیا تو میں نےاس سے کہا کہ زمین پر لیٹ جا۔ جب وہ زمین پر لیٹ گیا تو میں نے اپناجسم اس کے اوپر ڈال دیا۔ تاکہ لوگوں کو روک سکوں۔ لیکن لوگوں نے میرے جسم کے نیچے سے اس کے جسم پر تلوار کی ضربات لگائیں اور اسے قتل کرکے ہی چھوڑا۔ ایک صحابی نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں کو بھی زخمی کردیا تھا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اس کا نشان اپنے قدم کے اوپر ہمیں دکھایا کرتے تھے۔

Chapter No: 3

باب الْوَكَالَةِ فِي الصَّرْفِ وَالْمِيزَانِ

To deputize (act on behalf of) one in exchanging money and weighing goods.

باب۔ صرافی اور ماپ تول میں وکیل کرنا،

وَقَدْ وَكَّلَ عُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ فِي الصَّرْفِ

Umar and Ibn Umar deputized (a person) in money exchanges.

اور حضرت عمرؓ اور ابن عمرؓ نےصرافی میں وکیل کیا ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri and Abu Huraira : Allah's Apostle employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک آدمی کو خیبر کا تحصیل دار بنایا ۔ وہ عمدہ قسم کی کھجور لائے ، تو آپ ﷺنے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی قسم کی ہیں ۔ انہوں نے کہا: ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور (اس سے گھٹیا قسم کی ) دو صاع کھجور کے بدلے میں اور دو صاع ، تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں ۔ آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ایسا نہ کیا کرو۔ البتہ گھٹیا کھجوروں کو پیسوں کے بدلے بیچ کر ان سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو۔اور تولے جانے کی چیزوں میں بھی آپﷺنے یہی حکم فرمایا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri and Abu Huraira : Allah's Apostle employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک آدمی کو خیبر کا تحصیل دار بنایا ۔ وہ عمدہ قسم کی کھجور لائے ، تو آپ ﷺنے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی قسم کی ہیں ۔ انہوں نے کہا: ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور (اس سے گھٹیا قسم کی ) دو صاع کھجور کے بدلے میں اور دو صاع ، تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں ۔ آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ایسا نہ کیا کرو۔ البتہ گھٹیا کھجوروں کو پیسوں کے بدلے بیچ کر ان سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو۔اور تولے جانے کی چیزوں میں بھی آپﷺنے یہی حکم فرمایا۔

Chapter No: 4

باب إِذَا أَبْصَرَ الرَّاعِي أَوِ الْوَكِيلُ شَاةً تَمُوتُ أَوْ شَيْئًا يَفْسُدُ ذَبَحَ وَأَصْلَحَ مَا يَخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادَ

If a shepherd or a deputy saw a dying sheep or something which is going to be spoiled, he is allowed to slaughter the sheep and save the thing liable to be spoiled.

باب ۔ جب چرواہا یا وکیل بکری مرتی دیکھے یا کوئی چیز بگڑتی ۔ تو اس کو کاٹ ڈالے اور بگڑتی چیز کو درست کر لے ۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُمْ غَنَمٌ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لَهُمْ لاَ تَأْكُلُوا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، أَوْ أُرْسِلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَنْ يَسْأَلُهُ‏.‏ وَأَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَاكَ، أَوْ أَرْسَلَ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا أَمَةٌ، وَأَنَّهَا ذَبَحَتْ‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ‏

Narrated By Ibn Ka'b bin Malik : From his father, We had some sheep which used to graze at Sala'. One of our slave girls saw a sheep dying and she broke a stone and slaughtered the sheep with it. My father said to the people, "Don't eat it till I ask the Prophet about it (or till I send somebody to ask the Prophet)." So, he asked or sent somebody to ask the Prophet, and the Prophet permitted him to eat it. 'Ubaidullah (a sub-narrator) said, "I admire that girl, for though she was a slave-girl, she dared to slaughter the sheep."

ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد کعب سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس بکریوں کا ایک ریوڑ تھا جو سلع پہاڑی پر چرنے جاتا تھا (انہوں نے بیان کیا کہ ) ہماری ایک باندی نے ہمارے ہی ریوڑ کی ایک بکری کو ( جب کہ وہ چررہی تھی) دیکھا کہ مرنے کے قریب ہے۔ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے اس بکری کو ذبح کردیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب تک میں نبیﷺسے اس کے بارے میں پوچھ نہ لوں اس کا گوشت نہ کھانا۔ یا (یوں کہا کہ ) جب تک میں کسی کو نبی ﷺکی خدمت میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہ بھیجوں ، چنانچہ انہوں نے نبی ﷺسے اس کے بارے میں پوچھا ، یا کسی کو (پوچھنے کےلیے) بھیجا ۔ نبی ﷺنے اس کا گوشت کھانے کےلیے حکم فرمایا: عبید اللہ نے کہا: مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ باندی ہونے کے باوجود اس نے ذبح کردیا۔

Chapter No: 5

باب وَكَالَةُ الشَّاهِدِ وَالْغَائِبِ جَائِزَةٌ

It is permissible to depute a person whether he is present or absent.

باب ۔ حاضر اور غائب ہر ایک کو وکیل کرنا درست ہے،

وَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِلَى قَهْرَمَانِهِ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهُ أَنْ يُزَكِّيَ عَنْ أَهْلِهِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ‏

Ubaidullah bin Amr wrote to his representative who was not present, to pay (Sadaqat-al-Fitr) on behalf of the children both young and old.

اور عبداللہ بن عمرو نے وکیل کو لکھا کہ ان کے گھر والوں چھوٹے بڑے سب کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ ‏"‏‏.‏ فَطَلَبُوا سِنَّهُ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلاَّ سِنًّا فَوْقَهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet owed somebody a camel of a certain age. When he came to demand it back, the Prophet said (to some people), "Give him (his due)." When the people searched for a camel of that age, they found none, but found a camel one year older. The Prophet said, "Give (it to) him." On that, the man remarked, "You have given me my right in full. May Allah give you in full." The Prophet said, "The best amongst you is the one who pays the rights of others generously."

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبیﷺ پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا ۔ وہ شخص تقاضا کرنے آیا تو آپﷺنے فرمایا کہ ادا کردو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا لیکن نہیں ملا ۔ البتہ اس سے زیادہ عمر کا (مل سکا) آپﷺنے فرمایا: یہی انہیں دے دو ۔ اس پر اس شخص نے کہا: آپ نے مجھے پورا پورا حق دے دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا بدلہ دے۔پھر نبیﷺنے فرمایا: تم میں سے سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض وغیرہ کو پوری طرح ادا کردیتے ہیں۔

Chapter No: 6

باب الْوَكَالَةِ فِي قَضَاءِ الدُّيُونِ

To depute a person to repay debts.

باب ۔ قرض ادا کرنے کے لیے وکیل کرنا۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ، فَأَغْلَظَ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ سِنًّا مِثْلَ سِنِّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ نَجِدُ إِلاَّ أَمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : A man came to the Prophet demanding his debts and behaved rudely. The companions of the Prophet intended to harm him, but Allah's Apostle said (to them), "Leave him, for the creditor (i.e. owner of a right) has the right to speak." Allah's Apostle then said, "Give him a camel of the same age as that of his." The people said, "O Allah's Apostle! There is only a camel that is older than his." Allah's Apostle said, "Give (it to) him, for the best amongst you is he who pays the rights of others handsomely."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک شخص آیانبیﷺسے (اپنے قرض) کا تقاضا کرنے آیا اور سخت الفاظ کہے ۔ صحابہ کرام غصہ ہوکر اس کی طرف بڑھے ۔ لیکن آپﷺنے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ جس کا کسی پر حق ہو تو وہ کہنے سننے کا بھی حق رکھتا ہے۔ پھر آپﷺنے فرمایا: اس کے قرض والے جانور کی عمر کا ایک جانور اسے دے دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!اس سے زیادہ عمر کا جانور تو موجود ہے ۔ آپﷺنے فرمایا: اسے وہی دے دو۔ کیونکہ سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو دوسروں کا حق پوری طرح ادا کرے۔

Chapter No: 7

باب إِذَا وَهَبَ شَيْئًا لِوَكِيلٍ أَوْ شَفِيعِ قَوْمٍ جَازَ

It is permissible for one to give a gift to a deputy (of some people) or to their intercessor.

باب ۔ اگر کسی قوم کے وکیل یا سفارشی کو کچھ ہبہ کیا جائے تو درست ہے کیونکہ نبیﷺ نے ہوازن کی طرف سے جو لوگ آئے تھے جب انہوں نے لوٹ کا مال واپس مانگا تو آپﷺفرمایا میرے حصے میں جو آیا ہے وہ تم لے جاؤ۔

لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِوَفْدِ هَوَازِنَ حِينَ سَأَلُوهُ الْمَغَانِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَصِيبِي لَكُمْ ‏"‏‏

This is confirmed by the statement of the Prophet (s.a.w) to the delegates of the tribe of Hawazin when they appealed to him to return the booty to them. The Prophet (s.a.w) said, "I give my share to you."

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ‏.‏ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ‏"‏‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا‏

Narrated By Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama : When the delegates of the tribe of Hawazin after embracing Islam, came to Allah's Apostle, he got up. They appealed to him to return their properties and their captives. Allah's Apostle said to them, "The most beloved statement to me is the true one. So, you have the option of restoring your properties or your captives, for I have delayed distributing them." The narrator added, Allah's Apostle c had been waiting for them for more than ten days on his return from Taif. When they realized that Allah's Apostle would return to them only one of two things, they said, "We choose our captives." So, Allah's Apostle got up in the gathering of the Muslims, praised Allah as He deserved, and said, "Then after! These brethren of yours have come to you with repentance and I see it proper to return their captives to them. So, whoever amongst you likes to do that as a favour, then he can do it, and whoever of you wants to stick to his share till we pay him from the very first booty which Allah will give us then he can do so." The people replied, "We agree to give up our shares willingly as a favour for Allah's Apostle." Then Allah's Apostle said, "We don't know who amongst you has agreed and who hasn't. Go back and your chiefs may tell us your opinion." So, all of them returned and their chiefs discussed the matter with them and then they (i.e. their chiefs) came to Allah's Apostle to tell him that they (i.e. the people) had given up their shares gladly and willingly.

مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی ﷺکی خدمت میں (غزوۂ حنین کے بعد) جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر حاضر ہوا ، تو انہوں نے درخواست کی کہ ان کے مال و دولت اور ان کے قیدی انہیں واپس کردئیے جائیں ، اس پر نبیﷺنے فرمایا: سچی بات مجھے زیادہ پسندہے۔ تمہیں اپنے دو مطالبوں میں سے صرف کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا یا قیدی واپس لے لو ، یا مال لے لو۔ میں اس پر غور کرنے کی وفد کو مہلت بھی دیتا ہوں ۔ چنانچہ رسول اللہﷺنے طائف سے واپسی کے بعد ان کا (جعرانہ میں ) تقریبا دس رات تک انتظار کیا ۔ پھر جب قبیلہ ہوازن کے وکیلوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ ان کے مطالبہ کا صرف ایک ہی حصہ تسلیم کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہاکہ ہم صرف اپنے ان لوگوں کو واپس لینا چاہتے ہیں جو آپ کی قید میں ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے مسلمانوں کو خطاب فرمایا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا، اما بعد !یہ تمہارے بھائی توبہ کرکے مسلمان ہوکر تمہارے پاس آئے ہیں ۔ اس لیے میں نے مناسب جانا کہ ان کے قیدیوں کو واپس کردوں ۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہے تو اسے کرگذرے ، اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہم اس کے اس حصہ کو (قیمت کی شکل میں ) اس وقت واپس کردیں گےجب اللہ تعالیٰ سب سے پہلا مال غنیمت کہیں سے دلادے تو اسے بھی کر گذرنا چاہیے۔ یہ سن کر سب لوگ بول پڑے کہ ہم بخوشی رسول اللہﷺکی خاطر ان کے قیدیوں کو چھوڑنے کےلیے تیار ہیں ۔ لیکن رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کہ اس طرح ہم اس کی تمیز نہیں کرسکتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے ۔ اس لیے تم سب (اپنے اپنے ڈیروں میں ) واپس جاؤ اور وہاں سے تمہارے وکیل تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں ۔ چنانچہ سب لوگ واپس چلے گئے ، اور ان کے سرداروں نے (جو ان کے نمائندے تھے ) اس صورت حال پر بات کی ۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ سب نے بخوشی دل سے اجازت دے دی ہے۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ‏.‏ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ‏"‏‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا‏

Narrated By Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama : When the delegates of the tribe of Hawazin after embracing Islam, came to Allah's Apostle, he got up. They appealed to him to return their properties and their captives. Allah's Apostle said to them, "The most beloved statement to me is the true one. So, you have the option of restoring your properties or your captives, for I have delayed distributing them." The narrator added, Allah's Apostle c had been waiting for them for more than ten days on his return from Taif. When they realized that Allah's Apostle would return to them only one of two things, they said, "We choose our captives." So, Allah's Apostle got up in the gathering of the Muslims, praised Allah as He deserved, and said, "Then after! These brethren of yours have come to you with repentance and I see it proper to return their captives to them. So, whoever amongst you likes to do that as a favour, then he can do it, and whoever of you wants to stick to his share till we pay him from the very first booty which Allah will give us then he can do so." The people replied, "We agree to give up our shares willingly as a favour for Allah's Apostle." Then Allah's Apostle said, "We don't know who amongst you has agreed and who hasn't. Go back and your chiefs may tell us your opinion." So, all of them returned and their chiefs discussed the matter with them and then they (i.e. their chiefs) came to Allah's Apostle to tell him that they (i.e. the people) had given up their shares gladly and willingly.

مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی ﷺکی خدمت میں (غزوۂ حنین کے بعد) جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر حاضر ہوا ، تو انہوں نے درخواست کی کہ ان کے مال و دولت اور ان کے قیدی انہیں واپس کردئیے جائیں ، اس پر نبیﷺنے فرمایا: سچی بات مجھے زیادہ پسندہے۔ تمہیں اپنے دو مطالبوں میں سے صرف کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا یا قیدی واپس لے لو ، یا مال لے لو۔ میں اس پر غور کرنے کی وفد کو مہلت بھی دیتا ہوں ۔ چنانچہ رسول اللہﷺنے طائف سے واپسی کے بعد ان کا (جعرانہ میں ) تقریبا دس رات تک انتظار کیا ۔ پھر جب قبیلہ ہوازن کے وکیلوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ ان کے مطالبہ کا صرف ایک ہی حصہ تسلیم کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہاکہ ہم صرف اپنے ان لوگوں کو واپس لینا چاہتے ہیں جو آپ کی قید میں ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے مسلمانوں کو خطاب فرمایا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا، اما بعد !یہ تمہارے بھائی توبہ کرکے مسلمان ہوکر تمہارے پاس آئے ہیں ۔ اس لیے میں نے مناسب جانا کہ ان کے قیدیوں کو واپس کردوں ۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہے تو اسے کرگذرے ، اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہم اس کے اس حصہ کو (قیمت کی شکل میں ) اس وقت واپس کردیں گےجب اللہ تعالیٰ سب سے پہلا مال غنیمت کہیں سے دلادے تو اسے بھی کر گذرنا چاہیے۔ یہ سن کر سب لوگ بول پڑے کہ ہم بخوشی رسول اللہﷺکی خاطر ان کے قیدیوں کو چھوڑنے کےلیے تیار ہیں ۔ لیکن رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کہ اس طرح ہم اس کی تمیز نہیں کرسکتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے ۔ اس لیے تم سب (اپنے اپنے ڈیروں میں ) واپس جاؤ اور وہاں سے تمہارے وکیل تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں ۔ چنانچہ سب لوگ واپس چلے گئے ، اور ان کے سرداروں نے (جو ان کے نمائندے تھے ) اس صورت حال پر بات کی ۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ سب نے بخوشی دل سے اجازت دے دی ہے۔

Chapter No: 8

باب إِذَا وَكَّلَ رَجُلٌ أَنْ يُعْطِيَ شَيْئًا وَلَمْ يُبَيِّنْ كَمْ يُعْطِي فَأَعْطَى عَلَى مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ‏

If someone deputes a person to give something but does not mention how much to give, it is permissible for the deputy to distribute it amongst the people according to the conventional custom.

باب ۔ ایک شخص نے دوسرے شخص کو کچھ دینے کے لیے وکیل کیا اور یہ نہیں بیان کیا کہ کتنا دے انہوں نے دستور کے موافق دیا ۔

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَغَيْرِهِ،، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَلَمْ يُبَلِّغْهُ كُلُّهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ، إِنَّمَا هُوَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَعَكَ قَضِيبٌ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْطِنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَأَعْطَيْتُهُ فَضَرَبَهُ فَزَجَرَهُ، فَكَانَ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ أَوَّلِ الْقَوْمِ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ أَخَذْتُ أَرْتَحِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ تُرِيدُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَدْ خَلاَ مِنْهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْكِحَ امْرَأَةً قَدْ جَرَّبَتْ خَلاَ مِنْهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ اقْضِهِ وَزِدْهُ ‏"‏‏.‏ فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَزَادَهُ قِيرَاطًا‏.‏ قَالَ جَابِرٌ لاَ تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَلَمْ يَكُنِ الْقِيرَاطُ يُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : I was accompanying the Prophet on a journey and was riding a slow camel that was lagging behind the others. The Prophet passed by me and asked, "Who is this?" I replied, "Jabir bin 'Abdullah." He asked, "What is the matter, (why are you late)?" I replied, "I am riding a slow camel." He asked, "Do you have a stick?" I replied in the affirmative. He said, "Give it to me." When I gave it to him, he beat the camel and rebuked it. Then that camel surpassed the others thenceforth. The Prophet said, "Sell it to me." I replied, "It is (a gift) for you, O Allah's Apostle." He said, "Sell it to me. I have bought it for four Dinars (gold pieces) and you can keep on riding it till Medina." When we approached Medina, I started going (towards my house). The Prophet said, "Where are you going?" I Sad, "I have married a widow." He said, "Why have you not married a virgin to fondle with each other?" I said, "My father died and left daughters, so I decided to marry a widow (an experienced woman) (to look after them)." He said, "Well done." When we reached Medina, Allah's Apostle said, "O Bilal, pay him (the price of the camel) and give him extra money." Bilal gave me four Dinars and one Qirat extra. (A sub-narrator said): Jabir added, "The extra Qirat of Allah's Apostle never parted from me." The Qirat was always in Jabir bin 'Abdullah's purse.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبیﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھا اور میں ایک سست اونٹ پر سوار تھا ، اور وہ سب سے آخر میں رہتا تھا ۔ اتفاق سے نبیﷺکا گذر میری طرف سے ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ کون صاحب ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، آپﷺ نے فرمایا: کیا بات ہوئی ، میں بولا کہ ایک نہایت سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں ۔ آپﷺنے فرمایا: تمہارے پاس کوئی چھڑی بھی ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں ہے ۔ آپﷺنے فرمایا: وہ مجھے دے دے۔ میں نےآپﷺ کی خدمت میں وہ پیش کردی ۔ آپﷺ نے اس چھڑی سے اونٹ کو جو مارا اور ڈانٹا تو اس کے بعد وہ سب سےآگے رہنے لگا ۔ آپﷺنے پھر فرمایا: یہ اونٹ مجھے فروخت کردے ۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! یہ تو آپ ﷺہی کا ہے ، لیکن آپﷺنے فرمایا: اسے مجھے فروخت کردے۔ یہ بھی فرمایا : چار دینار میں اسے میں خریدتا ہوں ویسے تم مدینہ تک اسی پر سوار ہوکر چل سکتے ہو۔ پھر جب مدینہ کے قریب ہم پہنچے تو میں جانے لگا ۔ آپﷺنے دریافت فرمایا : کہاں جارہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کرلی ہے آپﷺنے فرمایا: کسی کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی۔میں نے عرض کیا کہ والد شہادت پاچکے ہیں اور گھر میں کئی بہنیں ہیں ۔ اس لئے میں نے سوچا کہ کسی ایسی خاتون سے شادی کروں جو بیوہ اور تجربہ کار ہو۔ آپﷺنے فرمایا: کہ پھر تو ٹھیک ہے ۔ پھر مدینہ پہنچنے کے بعد آپﷺنے فرمایا: اے بلال! ان کی قیمت ادا کردو اور کچھ بڑھا کر دے دو۔ چنانچہ انہوں نے چار دینار بھی دئیے ، اور فالتو ایک قیراط بھی دیا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺکا یہ انعام میں اپنے سے کبھی جدا نہیں کرتا، چنانچہ نبیﷺکا وہ قیراط حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنی تھیلی میں محفوظ رکھا کرتے تھے۔

Chapter No: 9

باب وَكَالَةِ الْمَرْأَةِ الإِمَامَ فِي النِّكَاحِ

A woman can depute the ruler in the matter of marriage.

باب ۔ کوئی عورت اپنا نکاح کرنے کے لیے بادشاہ کو وکیل کر دے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ لَكَ مِنْ نَفْسِي‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"

Narrated By Sahl bin Sad : A woman came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I want to give up myself to you." A man said, "Marry her to me." The Prophet said, "We agree to marry her to you with what you know of the Qur'an by heart."

حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک عورت رسول اللہﷺکے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہﷺ! میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کردیا ۔ایک شخص بولا یا رسول اللہﷺ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے آپﷺ نے فرمایا : ہم نے اس قرآن کے بدلے جو تجھ کو دیا ہے اس کا نکاح تجھ سے کر دیا ۔

Chapter No: 10

باب إِذَا وَكَّلَ رَجُلاً فَتَرَكَ الْوَكِيلُ شَيْئًا، فَأَجَازَهُ الْمُوَكِّلُ، فَهُوَ جَائِزٌ، وَإِنْ أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى جَازَ

If a person deputes somebody, and the deputy leaves something, and the owner agrees on that, then it is allowed, and if the deputy lends something of what is in his custody, for a specific time, it is permissible (if the owner agrees).

باب ۔ ایک شخص کسی کو وکیل کرے پھر وکیل کوئی بات چھوڑ دے لیکن موکل اس کی اجازت دے تو درست ہے اور اگر وکیل معین میعاد پر کسی کو قرض دے اور موکل اجازت دے تو بھی درست ہے

وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ، فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ، وَقُلْتُ وَاللَّهِ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَىَّ عِيَالٌ، وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ‏.‏ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالاً فَرَحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ ‏"‏‏.‏ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ سَيَعُودُ‏.‏ فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَىَّ عِيَالٌ لاَ أَعُودُ، فَرَحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالاً، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ ‏"‏‏.‏ فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَهَذَا آخِرُ ثَلاَثِ مَرَّاتٍ أَنَّكَ تَزْعُمُ لاَ تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ‏.‏ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمْكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا‏.‏ قُلْتُ مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ ‏{‏اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ‏}‏ حَتَّى تَخْتِمَ الآيَةَ، فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلاَ يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ‏.‏ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ، يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ قَالَ لِي إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ مِنْ أَوَّلِهَا حَتَّى تَخْتِمَ ‏{‏اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ‏}‏ وَقَالَ لِي لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلاَ يَقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ، وَكَانُوا أَحْرَصَ شَىْءٍ عَلَى الْخَيْرِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ شَيْطَانٌ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle deputed me to keep Sadaqat (al-Fitr) of Ramadan. A comer came and started taking handfuls of the foodstuff (of the Sadaqa) (stealthily). I took hold of him and said, "By Allah, I will take you to Allah's Apostle." He said, "I am needy and have many dependents, and I am in great need." I released him, and in the morning Allah's Apostle asked me, "What did your prisoner do yesterday?" I said, "O Allah's Apostle! The person complained of being needy and of having many dependents, so, I pitied him and let him go." Allah's Apostle said, "Indeed, he told you a lie and he will be coming again." I believed that he would show up again as Allah's Apostle had told me that he would return. So, I waited for him watchfully. When he (showed up and) started stealing handfuls of foodstuff, I caught hold of him again and said, "I will definitely take you to Allah's Apostle. He said, "Leave me, for I am very needy and have many dependents. I promise I will not come back again." I pitied him and let him go. In the morning Allah's Apostle asked me, "What did your prisoner do." I replied, "O Allah's Apostle! He complained of his great need and of too many dependents, so I took pity on him and set him free." Allah's Apostle said, "Verily, he told you a lie and he will return." I waited for him attentively for the third time, and when he (came and) started stealing handfuls of the foodstuff, I caught hold of him and said, "I will surely take you to Allah's Apostle as it is the third time you promise not to return, yet you break your promise and come." He said, "(Forgive me and) I will teach you some words with which Allah will benefit you." I asked, "What are they?" He replied, "Whenever you go to bed, recite "Ayat-al-Kursi"... 'Allahu la ilaha illa huwa-l-Haiy-ul Qaiyum' till you finish the whole verse. (If you do so), Allah will appoint a guard for you who will stay with you and no satan will come near you till morning. " So, I released him. In the morning, Allah's Apostle asked, "What did your prisoner do yesterday?" I replied, "He claimed that he would teach me some words by which Allah will benefit me, so I let him go." Allah's Apostle asked, "What are they?" I replied, "He said to me, 'Whenever you go to bed, recite Ayat-al-Kursi from the beginning to the end... Allahu la ilaha illa huwa-lHaiy-ul-Qaiyum.' He further said to me, '(If you do so), Allah will appoint a guard for you who will stay with you, and no Satan will come near you till morning.' (Abu Huraira or another sub-narrator) added that they (the companions) were very keen to do good deeds. The Prophet said, "He really spoke the truth, although he is an absolute liar. Do you know whom you were talking to, these three nights, O Abu Huraira?" Abu Huraira said, "No." He said, "It was Satan."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھے رمضان کی زکاۃ کی حفاظت پر مقرر فرمایا: (رات میں ) ایک آدمی اچانک میرے پاس آیا اور غلہ میں سے لپ بھر بھر کر اٹھانے لگا ، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : قسم اللہ کی !میں تجھے رسول اللہﷺکی خدمت میں لے چلوں گا ۔ اس پر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں بہت محتاج ہوں ، میرے بال بچے ہیں اور میں سخت ضرورت مند ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہﷺنے مجھ سے پوچھا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! گذشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا تھا ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!اس نے سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا۔ اس لیے مجھے اس پر رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ۔آپﷺنے فرمایا: وہ تم سے جھوٹ بول کر گیا ہے ۔ وہ پھر آئے گا۔رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے مجھ کو یقین تھا کہ وہ پھر ضرور آئے گا ۔ اس لیے میں اس کی تاک میں لگا رہا، اور جب وہ دوسری رات آکے پھر غلہ اٹھانے لگا تو میں نے اسے پھر پکڑا اور کہا کہ تجھے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر کروں گا ۔ لیکن اب بھی اس کی وہی التجا تھی کہ مجھے چھوڑ دے۔ میں محتاج ہوں ، بال بچوں کا بوجھ میرے سر پر ہے۔ اب میں کبھی نہیں آؤں گا ، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے پھر چھوڑ دیا ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس نے پھر اسی سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا۔ جس پر مجھے رحم آگیا ۔ اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ آپﷺنے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا: کہ وہ جھوٹ بول کر گیا ہے ۔وہ پھر آئے گا ، تیسری مرتبہ پہر میں اس کے انتظار میں تھا کہ اس نے پھر تیسری رات آکر غلہ اٹھانا شروع کیا ، تو میں نےاسے پکڑ لیا ، اور کہا: تجھے رسول اللہﷺکی خدمت میں پہنچانا اب ضروری ہوگیا ہے ۔ یہ تیسرا موقع ہے۔ ہر مرتبہ تم یقین دلاتے رہے کہ پھر نہیں آؤگے لیکن تم باز نہیں آئے ۔ اس نے کہا: اس مرتبہ مجھے چھوڑدے تو میں تمہیں ایسے چند کلمات سکھادوں گا جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں فائدہ پہنچائے گا۔ میں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ اس نے کہا: جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو آیت الکرسی " اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم" پوری پڑھ لیا کرو۔ایک نگران فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر تمہاری حفاظت کرتا رہے گا ، اور صبح تک شیطان تمہارے پاس کبھی نہیں آسکے گا۔اس مرتبہ بھی پھر میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہﷺنے دریافت فرمایا : گذشتہ رات تمہارے قیدی نے تم سے کیا معاملہ کیا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!اس نے مجھے چند کلمات سکھائے اور یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے گا۔ اس لیے میں نےاسے چھوڑ دیا ۔ آپﷺنے دریافت کیا کہ وہ کلمات کیا ہیں ؟میں نے عرض کیا کہ اس نے بتایاتھا کہ جب بستر پر لیٹو تو آیت الکرسی پڑھ لو، شروع "اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم "سے آخر تک ۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگران فرشتہ مقرر رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب بھی نہیں آسکے گا۔ صحابہ خیر کو سب سے آگے بڑھ کر لینے والے تھے ۔ نبی ﷺنے ان کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگرچہ وہ جھوٹا تھا۔

12