Sayings of the Messenger

 

123

Chapter No: 1

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏لاَ تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا ب

The penalty for hunting (by a Muhrim) and similar things. And the Statement of Allah, "... Kill not the game while you are in the state of Ihram for Hajj or Umrah, and whoever kills intentionally, the penalty is an offering, brought to the Kabah, of an eatable (halal) animal, equivalent to the one he killed ... And fear Allah to whom you shall be gathered back." (V.5:95-96)

باب : حالت احرام میں شکار اور دوسرے محرمات احرام کے کفارہ کے بیان میں،

اور اللہ کا یہ فرمانا (سورت مائدہ میں) احرام کی حالت میں شکار نہ کرو اور جو کوئی عمدَا ایسا کرے تو جیسا جانور مارے ویسا چوپایہ بدلے میں دے ۔ اللہ کے اس قول تک ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔

 

Chapter No: 2

باب إِذَا صَادَ الْحَلاَلُ فَأَهْدَى لِلْمُحْرِمِ الصَّيْدَ أَكَلَهُ

If a non-Muhrim hunts and gives it as a present to a Muhrim, (it is permissible for) the Muhrim to eat it.

باب : اگر بے احرام والا شکار کرے اور احرام والے کو تحفہ بھیجے تو وہ کھا سکتا ہے

وَلَمْ يَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَسٌ بِالذَّبْحِ بَأْسًا وَهُوَ غَيْرُ الصَّيْدِ نَحْوُ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْبَقَرِ وَالدَّجَاجِ وَالْخَيْلِ، يُقَالُ عَدْلُ ذَلِكَ مِثْلُ، فَإِذَا كُسِرَتْ عِدْلٌ فَهُوَ زِنَةُ ذَلِكَ‏.‏ قِيَامًا قِوَامًا‏.‏ يَعْدِلُونَ يَجْعَلُونَ عَدْلاً

Ibn Abbas (r.a) and Anas (r.a) considered that there was no harm for a Muhrim to slaughter animals which were not for hunting, like camels, sheep, cows, hens or horses

اور ابن عباسؓ اور انسؓ نے کہا جو جانور شکار کا نہیں ہے مثلا اونٹ، گائے، مرغی، گھوڑا تو احرام والا اس کو ذبح کر سکتا ہے۔ قرآن میں جو عدل کا لفظ ہے اس کے معنے مثل یعنی برابر اگر عین کو زیر کرے یعنی عِدل تو اس کے معنے ہموزن اور (سورت مائدہ میں) قیاما للناس کا معنی ان کا گزارہ ( سورت انعام میں) یعدلون کا معنے برابر کرتے ہیں۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ انْطَلَقَ أَبِي عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَطَعَنْتُهُ، فَأَثْبَتُّهُ، وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا، وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ، وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ‏.‏ فَقَالَ لِلْقَوْمِ ‏"‏ كُلُوا ‏"‏ وَهُمْ مُحْرِمُونَ‏

Narrated By 'Abdullah bin Abu Qatada : My father set out (for Mecca) in the year of Al-Hudaibiya, and his companions assumed Ihram, but he did not. At that time the Prophet was informed that an enemy wanted to attack him, so the Prophet proceeded onwards. While my father was among his companions, some of them laughed among themselves. (My father said), "I looked up and saw an onager. I attacked, stabbed and caught it. I then sought my companions' help but they refused to help me. (Later) we all ate its meat. We were afraid that we might be left behind (separated) from the Prophet so I went in search of the Prophet and made my horse to run at a galloping speed at times and let it go slow at an ordinary speed at other times till I met a man from the tribe of Bani Ghifar at midnight. I asked him, "Where did you leave the Prophet ?" He replied, "I left him at Ta'hun and he had the intention of having the midday rest at As-Suqya. I followed the trace and joined the Prophet and said, 'O Allah's Apostle! Your people (companions) send you their compliments, and (ask for) Allah's Blessings upon you. They are afraid lest they may be left behind; so please wait for them.' I added, 'O Allah's Apostle! I hunted an onager and some of its meat is with me. The Prophet told the people to eat it though all of them were in the state of Ihram."

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد ابو قتادہ حدیبیہ کے سال نکلے، ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا تھا البتہ انہوں نے خود احرام نہیں باندھا تھا۔(اصل میں) نبی ﷺکو کسی نے یہ اطلاع دی تھی کہ مقام غیقہ میں دشمن آپ کی تاک میں ہے ، اس لیے نبیﷺنے (ابو قتادہ اور چند صحابہ کو ان کی تلاش میں) روانہ کیا ۔میرے والد (ابو قتادہ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے ، (میرے والد نے بیان کیا ) کہ میں نے جب نظر اٹھائی تو دیکھا کہ ایک جنگلی گدھا سامنے ہے۔ میں اس پر جھپٹا اورنیزے سے اسے ٹھنڈا کردیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد چاہی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا ، پھر ہم نے گوشت کھایا ۔ اب ہمیں یہ ڈر ہوا کہ کہیں آپﷺدور نہ رہ جائیں چنانچہ میں نے آپﷺکی تلاش شروع کردی کبھی اپنے گھوڑے تیز کردیتا اور کبھی آہستہ ، آخر رات گئے بنو غفار کے ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی۔میں نے پوچھا کہ رسول اللہﷺکہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جب میں آپﷺسے جدا ہوا تو آپﷺمقام تعہن میں تھے اور آپﷺکا ارادہ تھا کہ مقام سقیا میں پہنچ کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ غرض میں آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوگیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!آپ کے اصحاب آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتے ہیں ۔ انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔ اس لیے آپﷺٹھہر کر ان کا انتظار کریں۔ پھر میں نے کہا یا رسول اللہﷺ!میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا تھا اور اس کا کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی میرے پاس موجود ہے، آپﷺنے لوگوں سے کھانے کےلیے فرمایا حالانکہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔

Chapter No: 3

باب إِذَا رَأَى الْمُحْرِمُونَ صَيْدًا فَضَحِكُوا فَفَطِنَ الْحَلاَلُ

If the Muhrimun saw a hunt and then laughed and a non-Muhrim understood (why they laughed) (they are allowed to eat the hunt).

باب : احرام والے لوگ شکار دیکھ کر ہنس دیں اور بے احرام والا سمجھ جائے(شکار کرے تو وہ بھی کھا سکتے ہیں)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ أُحْرِمْ، فَأُنْبِئْنَا بِعَدُوٍّ بِغَيْقَةَ فَتَوَجَّهْنَا نَحْوَهُمْ، فَبَصُرَ أَصْحَابِي بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُهُ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ الْفَرَسَ، فَطَعَنْتُهُ، فَأَثْبَتُّهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْهُ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا، وَأَسِيرُ عَلَيْهِ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا‏.‏ فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابَكَ أَرْسَلُوا يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يَقْتَطِعَهُمُ الْعُدُوُّ دُونَكَ، فَانْظُرْهُمْ، فَفَعَلَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا اصَّدْنَا حِمَارَ وَحْشٍ، وَإِنَّ عِنْدَنَا فَاضِلَةً‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ كُلُوا ‏"‏‏.‏ وَهُمْ مُحْرِمُونَ‏

Narrated By 'Abdullah bin Abu Qatada : That his father said "We proceeded with the Prophet in the year of Al-Hudaibiya and his companions assumed Ihram but I did not. We were informed that some enemies were at Ghaiqa and so we went on towards them. My companions saw an onager and some of them started laughing among themselves. I looked and saw it. I chased it with my horse and stabbed and caught it. I wanted some help from my companions but they refused. (I slaughtered it all alone). We all ate from it (i.e. its meat). Then I followed Allah's Apostle lest we should be left behind. At times I urged my horse to run at a galloping speed and at other times at an ordinary slow speed. On the way I met a man from the tribe of Bani Ghifar at midnight. I asked him where he had left Allah's Apostle. The man replied that he had left the Prophet at a place called Ta'hun and he had the intention of having the midday rest at As-Suqya. So, I followed Allah's Apostle till I reached him and said, "O Allah's Apostle! I have been sent by my companions who send you their greetings and compliments and ask for Allah's Mercy and Blessings upon you. They were afraid lest the enemy might intervene between you and them; so please wait for them." So he did. Then I said, "O Allah's Apostle! We have hunted an onager and have some of it (i.e. its meat) left over." Allah's Apostle told his companions to eat the meat although all of them were in a state of Ihram."

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی ﷺکے ساتھ چلے ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ان کا بیان تھا کہ میں نے احرام نہیں باندھا تھا ہمیں غیقہ میں دشمن کے موجود ہونے کی اطلاع ملی اس لیے ہم ان کی تلاش میں (نبی ﷺ کے حکم کے مطابق نکلے پھر میرے ساتھیوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے میں نےجو نظر اٹھائی تو اسے دیکھ لیا گھوڑے پر (سوار ہوکر ) اس پر جھپٹا اور اسے زخمی کرکے ٹھنڈا کردیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کچھ امداد چاہی لیکن انہوں نے انکار کردیا پھر ہم سب نے اسے کھایا اور اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا (پہلے ) ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم آپﷺسے دور نہ رہ جائیں اس لیے میں کبھی اپنا گھوڑا تیز کردیتا اور کبھی آہستہ آخر میری ملاقات ایک بنی غفار کے آدمی سے آدھی رات میں ہوئی میں نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں آپﷺتعہن نامی جگہ میں الگ ہوا تھا اور آپﷺکا ارادہ یہ تھا کہ دو پہر کو مقام سقیا میں آرام کریں گے۔ پھر جب میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ! آپ کے اصحاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور انہیں ڈر ہے کہ کہیں دشمن آپ کے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوجائے اس لیے آپ ان کا اتظار کیجئے چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا میں نے یہ بھی عرض کی یا رسول اللہﷺ! میں نے ایک جنگلی گدھا کا شکار کیا اور کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی موجود ہے اس پر آپﷺنے اپنے اصحاب سے فرمایا: کھاؤ حالانکہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔

Chapter No: 4

باب لاَ يُعِينُ الْمُحْرِمُ الْحَلاَلَ فِي قَتْلِ الصَّيْدِ

A Muhrim should not help a non Muhrim in the hunt.

باب : احرام والا شخص بے احرام والے کی شکار مارنے میں مدد نہ کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْقَاحَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى ثَلاَثٍ ح‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْقَاحَةِ، وَمِنَّا الْمُحْرِمُ، وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ ـ يَعْنِي وَقَعَ سَوْطُهُ ـ فَقَالُوا لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ، إِنَّا مُحْرِمُونَ‏.‏ فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ، فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوا‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَأْكُلُوا‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَمَامَنَا، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ كُلُوهُ حَلاَلٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَنَا عَمْرٌو اذْهَبُوا إِلَى صَالِحٍ فَسَلُوهُ عَنْ هَذَا وَغَيْرِهِ، وَقَدِمَ عَلَيْنَا هَا هُنَا‏

Narrated By Abu Qatada : We were in the company of the Prophet at a place called Al-Qaha (which is at a distance of three stages of journey from Medina). Abu Qatada narrated through another group of narrators: We were in the company of the Prophet at a place called Al-Qaha and some of us had assumed Ihram while the others had not. I noticed that some of my companions were watching something, so I looked up and saw an onager. (I rode my horse and took the spear and whip) but my whip fell down (and I asked them to pick it up for me) but they said, "We will not help you by any means as we are in a state of Ihram." So, I picked up the whip myself and attacked the onager from behind a hillock and slaughtered it and brought it to my companions. Some of them said, "Eat it." While some others said, "Do not eat it." So, I went to the Prophet who was ahead of us and asked him about it, He replied, "Eat it as it is Halal (i.e. it is legal to eat it)."

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم مقام قاحہ میں نبیﷺکے ساتھ تھے۔ بعض ہم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم۔ میں نے دیکھا میرے ساتھی ایک دوسروں کو کچھ دکھارہے تھے میں نے نظر اٹھائی تو ایک جنگلی گدھا تھا۔(میں گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنا برچھا اور کوڑا سنبھالا) لیکن کوڑا گرگیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ذرا کوڑا اٹھادو، انہوں نے کہا: ہم نہیں اٹھا سکتے ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ،آخر میں نے اس کو اٹھالیا اور پھر ایک ٹیلے کی آڑ پر گدھے پر آیا اور اس کو زخمی کراکے اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا بعض نے کہا: کھاؤ ، اور بعض نے کہا نہ کھاؤ۔ میں نبیﷺ کے پاس پہنچا آپﷺ ہمارے آگے نکل گئے تھے اور آپﷺسے پوچھا آپﷺنے فرمایا: کھاؤ وہ حلال ہے۔ سفیان نے کہا عمرو بن دینار نے ہم سے کہا صالح بن کیسان کے پاس جاؤ ، ان سے یہ حدیث اور دوسری حدیثیں پوچھو وہ یہاں ہمارے پاس آئے تھے۔

Chapter No: 5

باب لاَ يُشِيرُ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ لِكَىْ يَصْطَادَهُ الْحَلاَلُ

A Muhrim should not point at a hunt with the intention that a non-Muhrim may hunt it.

باب : احرام والا اس غرض سے کہ بے احرام والا شکار کرے شکار نہ بتلائے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ـ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ ـ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجُوا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ‏.‏ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلاَّ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، وَقَالُوا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا، أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Abu Qatada : That his father had told him that Allah's Apostle set out for Hajj and so did his companions. He sent a batch of his companions by another route and Abu Qatada was one of them. The Prophet said to them, "Proceed along the sea-shore till we meet all together." So, they took the route of the sea-shore, and when they started all of them assumed Ihram except Abu Qatada. While they were proceeding on, his companions saw a group of onagers. Abu Qatada chased the onagers and attacked and wounded a she-onager. They got down and ate some of its meat and said to each other: "How do we eat the meat of the game while we are in a state of Ihram?" So, we (they) carried the rest of the she-onager's meat, and when they met Allah's Apostle they asked, saying, "O Allah's Apostle! We assumed Ihram with the exception of Abu Qatada and we saw (a group) of onagers. Abu Qatada attacked them and wounded a she-onager from them. Then we got down and ate from its meat. Later, we said, (to each other), 'How do we eat the meat of the game and we are in a state of Ihram?' So, we carried the rest of its meat. The Prophet asked, "Did anyone of you order Abu Qatada to attack it or point at it?" They replied in the negative. He said, "Then eat what is left of its meat."

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حج کے ارادے سے نکلے لوگ بھی آپﷺکے ساتھ نکلے،آپ ﷺنے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کہ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ہوکر جاؤ، (اور دشمن کا پتہ لگاؤ) پھر ہم سے آملو۔ چنانچہ یہ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی ، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں۔وہ راستے میں جارہے تھے اچانک ایک جنگلی گدھا دکھائی دیا، حضرتابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کیا۔ سب لوگ اتر پڑے اور اس کا گوشت کھایا اور کہنے لگے ہم احرام کی حالت میں اور شکار کا گوشت کھائیں خیر جو گوشت بچا تھا وہ اٹھالیا جب رسول اللہﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ سےعرض کیا یا رسول اللہﷺ! ہم احرام باندھے تھے لیکن حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا ہم نے جنگلی گدھے دیکھے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کیا پھر ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا، اس کے بعد ہمیں خیال آیا احرام کی حالت میں اور ہم شکار کا گوشت کھائیں تو ہم بچا ہوا گوشت اٹھا لائے۔آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو حملہ کرنے کیلئے کہا تھا یا ان گدھوں کا بتلایا تھا۔انہوں نے کہا: نہیں۔آپﷺ نے فرمایا: تو پھر بچا ہوا گوشت کھاؤ۔

Chapter No: 6

باب إِذَا أَهْدَى لِلْمُحْرِمِ حِمَارًا وَحْشِيًّا حَيًّا لَمْ يَقْبَلْ

If someone gave a living wild donkey (onager) as a present to a Muhrim then he should not accept it

باب : اگر محرم کو کوئی زندہ گورخر تحفہ بھیجے (یا اور کوئی شکار) تو نہ لے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا وَحْشِيًّا، وَهْوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Abbas : From As-Sa'b bin Jath-thama Al-Laithi that the latter presented an onager to Allah's Apostle while he was at Al-Abwa' or at Waddan, and he refused it. On noticing the signs of some unpleasant feeling of disappointment on his (As-Sab's) face, the Prophet said to him, "I have only returned it because I am Muhrim."

حضرت صعب بن جثامہ لیثی سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہﷺ کیلئے ایک جنگلی گدھا بطور تحفہ بھیجا آپﷺ اس وقت ابواء میں تھے یا ودان میں آپﷺ نے اس کو واپس کردیا جب ان کے چہرے پر ملال پایا تو یہ ارشاد فرمایا: ہم احرام باندھے ہیں اس لئے واپس کردیا اور کوئی وجہ نہیں۔

Chapter No: 7

باب مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ

Animals that can be killed by a Muhrim.

باب : احرام والا کون سے جانور مار سکتا ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "It is not sinful of a Muhrim to kill five kinds of animals."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مار ڈالنے میں محرم کو کوئی گناہ نہیں۔ دوسری سند میں امام مالک نے حضرت عبد اللہ بن دینار سے روایت کی انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي إِحْدَى، نِسْوَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ ‏"

Narrated By One of the wives of the Prophet : The Prophet said, "A Muhrim can kill (five kinds of animals.)"

حضرت زید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے مجھ سے نبیﷺ کی ایک عورت نے بیان کیا انہوں نے نبیﷺ سے سنا آپﷺنے فرمایا: محرم پانچ جانوروں کو مارسکتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ حَفْصَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏‏

Narrated By Hafsa : Allah's Apostle said, "It is not sinful (of a Muhrim) to kill five kinds of animals, namely: the crow, the kite, the mouse, the scorpion and the rabid dog."

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہﷺنے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مار ڈالنے میں کوئی قباحت نہیں کوّا ،چیل ،چوہا ،بچھو اور کاٹنے والا کتا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said, "Five kinds of animals are harmful and could be killed in the Haram (Sanctuary). These are: the crow, the kite, the scorpion, the mouse and the rabid dog."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: پانچ جانور فاسق (بدذات) ہیں ان کو حرم میں بھی مار ڈالنا چاہیے۔کوا ، چیل ،بچھو ،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ ‏{‏وَالْمُرْسَلاَتِ‏}‏ وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْتُلُوهَا ‏"‏‏.‏ فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : While we were in the company of the Prophet in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایسا ہوا ایک بار ہم منیٰ میں ایک غار میں نبیﷺکے ساتھ تھے۔اتنے میں سورۃ "والمرسلات عرفا" آپﷺ پر نازل ہوئی آپﷺ اس کو پڑھ رہے تھے، اور میں آپﷺ کے منہ سے پڑھ کر سیکھ رہا تھا آپﷺ کا منہ اس کے پڑھنے سے تروتازہ تھا۔ اچانک ایک سانپ ہم پر کودا آپﷺ نے فرمایا: اس کو قتل کرو، ہم لوگ اس پر لپکے وہ چل پڑا، تب آپﷺ نے فرمایا: وہ تمہاری زد سے بچ گیا اور تم اس کی زد سے بچ گئے ہو۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلْوَزَغِ ‏"‏ فُوَيْسِقٌ ‏"‏‏.‏ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Allah's Apostle called the salamander a bad animal, but I did not hear him ordering it to be killed."

حضرت عائشہ نبی ﷺکی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: چھپکلی فاسق (موذی) ہے میں نے یہ نہیں سنا کہ آپﷺ نے اس کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔

Chapter No: 8

باب لاَ يُعْضَدُ شَجَرُ الْحَرَمِ

It is not permissible to cut the trees of the Haram (the sanctuary of Makkah).

باب : حرم کا درخت نہ کاٹیں

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ ‏"‏‏

Narrated by Ibn Abbas (r.a), "The Prophet (s.a.w) said, 'Its (Haram's) thorny bushes are not allowed to be cut off.'"

اور ابن عباسؓ نےنبیﷺ سے روایت کی وہاں کا کانٹا نہ کاٹا جائے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَسَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ لأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ، وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ‏.‏ خَرْبَةٌ بَلِيَّةٌ‏

Narrated By Said bin Abu Said Al-Maqburi : Abu Shuraih, Al-'Adawi said that he had said to 'Amr bin Sa'id when he was sending the troops to Mecca (to fight 'Abdullah bin Az-Zubair), "O Chief! Allow me to tell you what Allah's Apostle said on the day following the Conquest of Mecca. My ears heard that and my heart understood it thoroughly and I saw with my own eyes the Prophet when he, after Glorifying and Praising Allah, started saying, 'Allah, not the people, made Mecca a sanctuary, so anybody who has belief in Allah and the Last Day should neither shed blood in it, nor should he cut down its trees. If anybody tells (argues) that fighting in it is permissible on the basis that Allah's Apostle did fight in Mecca, say to him, 'Allah allowed His Apostle and did not allow you.' "Allah allowed me only for a few hours on that day (of the conquest) and today its sanctity is valid as it was before. So, those who are present should inform those who are absent (concerning this fact." Abu Shuraih was asked, "What did 'Amr reply?" He said, ('Amr said) 'O Abu Shuraih! I know better than you in this respect Mecca does not give protection to a sinner, a murderer or a thief."

ابو شریح عدوی سے روایت ہے انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا جو مکہ پر فوجیں بھیج رہا تھا اے امیر! مجھے اجازت دے میں تجھ کو ایک حدیث بیان کروں جو رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے روز ارشاد فرمائی، میرے کانوں نے اس کو سنا اور دل نے یاد رکھا اور آپﷺ کے ارشاد فرماتے وقت میری آنکھوں نے دیکھا آپﷺنے اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرام بنایا ہے، لوگوں نے حرام نہیں بنایا، جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کےلیے وہاں خون کرنا اور درخت کاٹنا درست نہیں ہے۔ اگر کوئی رسول اللہﷺ کے قتال(فتح مکہ کے موقع پر) سے اس کا جواز نکالے تو اس سے یہ کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسولﷺ کو اس کی اجازت دی تم کو اس کی اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی جو اجازت ہوئی وہ بھی تھوڑی دیر کیلئے، پھر اس کی حرمت آج ویسی ہی ہوگئی جیسے کل تھی، اور ہاں جو موجود ہیں وہ غائب سے یہ پیغام پہنچادیں۔ ابو شریح سے لوگوں نے پوچھا عمرو نے اس کا کیا جواب دیا انہوں نے کہا: عمرو یہ کہنے لگا ابو شریح میں تم سے زیادہ یہ بات جانتا ہوں، مگر حرم کسی مجرم کو پناہ نہیں دیتا،اور نہ خون کرکے بھاگنے والے کو، اور نہ کوئی جرم کرکے بھاگنے والے کو۔

Chapter No: 9

باب لاَ يُنَفَّرُ صَيْدُ الْحَرَمِ

The game (huntable animal) in the Haram should not be chased or disturbed.

باب: حرم کے شکار کو ہانکانہ جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُعَرِّفٍ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا لاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا هُوَ أَنْ يُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ، يَنْزِلُ مَكَانَهُ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : "The Prophet said, 'Allah has made Mecca, a sanctuary, so it was a sanctuary before me and will continue to be a sanctuary after me. It was made legal for me (i.e. I was allowed to fight in it) for a few hours of a day. It is not allowed to uproot its shrubs or to cut its trees, or to chase (or disturb) its game, or to pick up its luqata (fallen things) except by a person who would announce that (what he has found) publicly.' Al-'Abbas said, 'O Allah's Apostle! Except Al-ldhkhir (a kind of grass) (for it is used) by our goldsmiths and for our graves.' The Prophet then said, 'Except Al-idhkhir.' " 'Ikrima said, 'Do you know what "chasing or disturbing" the game means? It means driving it out of the shade to occupy its place."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اللہ نے مکہ کو حرمت والا بنایا، اور وہ مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کیلئے حلال ہوگا اور مجھے بھی ایک گھڑی بھر دن کےلیے حلال ہوا وہاں کی سبزی نہ نکالی جائے، وہاں کا درخت نہ کاٹا جائے، وہاں کا شکار نہ ہانکا جائے، وہاں کی پڑی چیز نہ اٹھائی جائے، مگر وہ اٹھا سکتا ہے جو اعلان کرنے والا ہو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہﷺ! اذخر گھانس کی اجازت دیجیئے وہ ہمارے سناروں اور قبروں کے کام آتی ہے آپﷺ نے فرمایا: اچھا اذخر کاٹ سکتے ہو اور خالد نے عکرمہ سے روایت کی انہوں نے کہا: تم جانتے ہو شکار ہانکنے کا کیا مطلب ہے یہ کہ جانور کو سائے سے بھگائے اور خود وہاں اترے۔

Chapter No: 10

لاَ يَحِلُّ الْقِتَالُ بِمَكَّةَ

Fighting is prohibited in Makkah.

باب: مکہ میں لڑنا درست نہیں

وَقَالَ أَبُو شُرَيْحٍ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَسْفِكُ بِهَا دَمًا ‏"‏

Narrated by Abu Shuraih (r.a) that the Prophet (s.a.w) said, "It is forbidden to shed blood in Makkah"

اور ابو شریح نے نبی ﷺ سے روایت کی وہاں خون نہ بہائے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ افْتَتَحَ مَكَّةَ ‏"‏ لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، فَإِنَّ هَذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ‏.‏ قَالَ قَالَ ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : On the day of the conquest of Mecca, the Prophet said, "There is no more emigration (from Mecca) but Jihad and intentions, and whenever you are called for Jihad, you should go immediately. No doubt, Allah has made this place (Mecca) a sanctuary since the creation of the heavens and the earth and will remain a sanctuary till the Day of Resurrection as Allah has ordained its sanctity. Fighting was not permissible in it for anyone before me, and even for me it was allowed only for a portion of a day. So, it is a sanctuary with Allah's sanctity till the Day of Resurrection. Its thorns should not be uprooted and its game should not be chased; and its luqata (fallen things) should not be picked up except by one who would announce that publicly, and its vegetation (grass etc.) should not be cut." Al-'Abbas said, "O Allah's Apostle! Except Al-Idhkhir, (for it is used by their blacksmiths and for their domestic purposes)." So, the Prophet said, "Except Al-Idhkhir."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جس دن مکہ فتح ہوا تو نبیﷺنے فرمایا: اب ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد قائم رہے گا اور نیت باقی رہے گی اور جب تم سے جہاد کیلئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہو یہ وہ شہر ہے کہ اللہ نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا کیا اسی دن سے اس کی حرمت دی اور اللہ کی یہ حرمت قیامت تک قائم رہے گی اور یہاں مجھ سے پہلے کسی کےلیے لڑنا جائز نہیں تھا اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی بھر دن کےلیے درست ہوا پھر اس کی حرمت قیامت تک قائم ہوگئی وہاں کا کانٹا نہ کاٹا جائے، وہاں کا شکار نہ ہانکا جائے، وہاں کی پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر وہ اٹھائے جو اس کو اعلان کرائے وہاں کی سبزی نہ نکالی جائے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہﷺ مگر اذخر کی اجازت دیجیئے وہ ہمارے لوہاروں اور گھروں کے کام آتی ہے آپﷺنے فرمایا: خیر اذخر کی اجازت ہے۔

123