Sayings of the Messenger

 

‏‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

‏{‏انْكَدَرَتْ‏}‏ انْتَثَرَتْ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏سُجِّرَتْ‏}‏ ذَهَبَ مَاؤُهَا فَلاَ يَبْقَى قَطْرَةٌ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْمَسْجُورُ الْمَمْلُوءُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ سُجِرَتْ أَفْضَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، فَصَارَتْ بَحْرًا وَاحِدًا، وَالْخُنَّسُ تَخْنِسُ فِي مُجْرَاهَا تَرْجِعُ وَتَكْنِسُ تَسْتَتِرُ كَمَا تَكْنِسُ الظِّبَاءُ ‏{‏تَنَفَّسَ‏}‏ ارْتَفَعَ النَّهَارُ‏.‏ وَالظَّنِينُ الْمُتَّهَمُ وَالضَّنِينُ يَضَنُّ بِهِ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ ‏{‏النُّفُوسُ زُوِّجَتْ‏}‏ يُزَوَّجُ نَظِيرَهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ‏}‏‏.‏ ‏{‏عَسْعَسَ‏}‏ أَدْبَرَ‏.‏

اِنکَدَرَت گر پڑیں۔ امام حسن بصری نے کہا سُجِّرَت کا معنی یہ کہ سمندر سوکھ جائیں گے۔ ان میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں رہے گا۔ مجاہد نے کہا مَسجُور کا معنی (جو سورہ طور میں ہے) بھرا ہوا۔ اوروں نے کہا سجّرت کا معنی یہ ہے کہ سمندر پھوٹ کر ایک دوسرے سے مل کر ایک سمندر بن جائیں گے۔ خُنَّس چلنے کے مقام میں پھر لوٹ کر آنے والے۔ کُنَّس یکنس سے نکلا ہے یعنی ہرن کی طرح چھپ جاتے ہیں۔ تنفُّس دن چڑھ جائے۔ ظَنِی،َ (ظاء معجمہ سے یہ بھی ایک قراءت ہے) یعنی تہمت لگایا گیا۔ اور الضنین اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو پہنچانے میں بخیل نہیں ہے۔ اور عمرؓ نے کہا النّفوس زوّجت یعنی ہر آدمی کا جوڑ لگا دیا جائے گا خواہ بہشتی ہو یا دوزخی۔ پھر یہ آیت پڑھی اُحشُرُوا الَّذِینَ ظَلَمُوا وَ اَزوَاجِھِم۔ عَسعَسَ جب رات پیٹھ پھیرے (یا جب رات کا اندھیرا آن پڑھے)