Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

 

Chapter No: 1

باب

Chapter

باب :

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏فَاخْتَلَطَ‏}‏ فَنَبَتَ بِالْمَاءِ مِنْ كُلِّ لَوْنٍ.وَ‏{‏قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ‏}‏‏.‏ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ‏{‏أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ‏}‏ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ مُجَاهِدٌ خَيْرٌ‏.‏ يُقَالُ ‏{‏تِلْكَ آيَاتُ‏}‏ يَعْنِي هَذِهِ أَعْلاَمُ الْقُرْآنِ وَمِثْلُهُ‏.‏ ‏{‏حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ‏}‏ الْمَعْنَى بِكُمْ‏.‏ ‏{‏دَعْوَاهُمْ‏}‏ دُعَاؤُهُمْ ‏{‏أُحِيطَ بِهِمْ‏}‏ دَنَوْا مِنَ الْهَلَكَةِ ‏{‏أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ‏}‏ فَاتَّبَعَهُمْ وَأَتْبَعَهُمْ وَاحِدٌ‏.‏ ‏{‏عَدْوًا‏}‏ مِنَ الْعُدْوَانِ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ‏}‏ قَوْلُ الإِنْسَانِ لِوَلَدِهِ وَمَالِهِ إِذَا غَضِبَ اللَّهُمَّ لاَ تُبَارِكْ فِيهِ وَالْعَنْهُ ‏{‏لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ‏}‏ لأُهْلِكُ مَنْ دُعِيَ عَلَيْهِ وَلأَمَاتَهُ‏.‏ ‏{‏لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى‏}‏ مِثْلُهَا حُسْنَى ‏{‏وَزِيَادَةٌ‏}‏ مَغْفِرَةٌ‏.‏ ‏{‏الْكِبْرِيَاءُ‏}‏ الْمُلْكُ‏.‏

ابن عباسؓ نے کہا فَاختَلَطَ بہ نبات الارض : اس کا معنی یہ ہے کہ پانی برسنے کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کا سبزہ اگا۔ (یعنی گیہوں، جَو اور دوسرے اناج) وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا سُبحَانَہُ ھُوَ الغَنِیُّ: کی تفسیر اور زید بن اسلم نے کہا قَدَمَ صِدقٍ :سے محمدﷺ مراد ہیں اور مجاہد نے کہا بھلائی مراد ہے تِلکَ آیَاتُ : میں جو تِلکَ غائب کے لئے ہےمراد اس سے حاضر ہے یعنی یہ قرآن کی نشانیاں ہیں جیسے حَتّٰی اِذَا کُنتُم فِی الفُلکِ وَ جَرِینَ بِھِم : میں بِھِم سے مراد بِکُم ہے (یعنی غائب سے حاضر مراد ہے) دَعوَاھُم : ان کی دعا اُحِیطَ بِھِم : ہلاکت کے نزدیک پہنچے جیسے اَحَٓاطَت بِہِ خَطِیئَتُہُ: یعنی گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا۔ فَاتَّبَعَھُم (جو حسن کی قراءت ہے) اور اتبعھم (جو مشہور قراءت ہے) دونوں کے معنی ایک ہیں عَدوًا : عَدوان سے نکلا ہے یعنی شرارت اور حرام زدگی۔ اور مجاہد نے کہا وَلَو یُعَجِّلُ اللہُ لَلنَّاسِ الشَّرَّ اس تِعجَالَھُم بِا لخَیرِ : سے مراد ہے کہ آدمی جو غصے میں اپنی اولاد یا مال کو کوستا ہے۔ کہتا ہے یا اللہ اس میں برکت نہ کیجیو یا اللہ اس پر لعنت کر لَقُضِیَ اِلَیھِم اَجَلَھُم : یعنی جس کو کوستا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی اس کو مار ڈالتا ہے لِلَّذِینَ اَحسَنُوا الحُسنَی وَ زِیَادَۃً : میں مجاہد نے کہا زیادہ سے مغفرت (اور اللہ تعالٰی کی رضامندی) مراد ہے۔ دوسرے لوگوں نے کہ کہ و زیادہ سے اللہ تعالٰی کا دیدار مراد ہے۔الکبِریَاءُ : سلطنت اور بادشاہی ۔

 

Chapter No: 2

باب ‏{‏وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ‏}‏

"And We took the Children of Israel across the sea, and Pharaoh and his hosts followed them in oppression and enmity, till when the drowning overtook him, he said, 'I believe that None has the right to be worshipped but He (Allah), in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims." (V.10:90)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ جَاوَزَنَا بِبَنِی اِسرَائِیلَ البَحرَ فَاَتبَعَھُم فِرعَونُ وَ جُنُودُہُ بَغیًا وَّ عَدوًا حَتّٰی اِذَا اَدرَکَہُ الغَرَقُ قَالَ اٰمَنتُ اَنَّہُ لَا اِلَہَ اِلَّا الَّذِی آمَنتُ بِہِ بَنُوا اِسرَائِیلَ وَ اَنَا مِنَ المُسلِمِینَ ۔ کی تفسیر ۔

‏{‏نُنَجِّيكَ‏}‏ نُلْقِيكَ عَلَى نَجْوَةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَهْوَ النَّشَزُ الْمَكَانُ الْمُرْتَفِعُ‏

نُنَجِّیکَ کا معنی یہ ہے کہ تیری لاش کو نجوہ (اونچی جگہ) پر ڈال دیں گے (جس کو سب کے سب دیکھیں گے اور عبرت حاصل کریں گے)۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَالْيَهُودُ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُمْ، فَصُومُوا ‏"‏‏

Narrated By Ibn Abbas : When the Prophet arrived at Medina, the Jews were observing the fast on 'Ashura' (10th of Muharram) and they said, "This is the day when Moses became victorious over Pharaoh," On that, the Prophet said to his companions, "You (Muslims) have more right to celebrate Moses' victory than they have, so observe the fast on this day."

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے ابو البشر سے ، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت یہودی عاشورے کا روزہ رکھا کرتے تھے اور کہنے لگے یہ وہ دن ہے جب موسٰیؑ کو فرعون پر غلبہ ہوا۔ نبی ﷺ نے یہ سن کر اپنے اصحاب سے فرمایا تم کو موسٰیؑ سے بہ نسبت یہودیوں کے زیادہ تعلق ہے۔ تم بھی اس دن روزہ رکھو۔