Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏هَبَاءً مَنْثُورًا‏}‏ مَا تَسْفِي بِهِ الرِّيحُ.{‏مَدَّ الظِّلَّ‏}‏ مَا بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ‏.‏ ‏{‏سَاكِنًا‏}‏ دَائِمًا‏.‏ ‏{‏عَلَيْهِ دَلِيلاً‏}‏ طُلُوعُ الشَّمْسِ‏.‏ ‏{‏خِلْفَةً‏}‏ مَنْ فَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ عَمَلٌ أَدْرَكَهُ بِالنَّهَارِ، أَوْ فَاتَهُ بِالنَّهَارِ أَدْرَكَهُ بِاللَّيْلِ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا‏}‏ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَمَا شَىْءٌ أَقَرَّ لِعَيْنِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَرَى حَبِيبَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏ثُبُورًا‏}‏ وَيْلاً‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ السَّعِيرُ مُذَكَّرٌ، وَالتَّسَعُّرُ وَالاِضْطِرَامُ التَّوَقُّدُ الشَّدِيدُ‏.‏ ‏{‏تُمْلَى عَلَيْهِ‏}‏ تُقْرَأُ عَلَيْهِ، مِنْ أَمْلَيْتُ وَأَمْلَلْتُ، الرَّسُّ الْمَعْدِنُ جَمْعُهُ رِسَاسٌ ‏{‏مَا يَعْبَأُ‏}‏ يُقَالُ مَا عَبَأْتُ بِهِ شَيْئًا لاَ يُعْتَدُّ بِهِ ‏{‏غَرَامًا‏}‏ هَلاَكًا‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏وَعَتَوْا‏}‏ طَغَوْا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ‏{‏عَاتِيَةٍ‏}‏ عَتَتْ عَنِ الْخُزَّانِ‏.

ابن عباسؓ نے کہا ھَبَاءً مَنثُورًا کا معنی جو چیز ہوا اڑا کر لائے (غبار گرد وغیرہ) مَدَّ الظِّلَّ سے وقت مراد ہےجو طلوع صبح سے سورج نکلنے تک ہوتا ہے۔ سَاکِنًا کا معنی ہمیشہ۔ عَلَیہِ دَلِیلًا میں دلیل سے مراد سورج نکلنا ہے۔ خلقہ سے یہ مطلب ہے کہ رات کا جو کام نہ ہو سکے وہ دن کو پورا کر سکتا ہے۔ دن کا جو کام نہ ہو سکے وہ رات کو پورا کر سکتا ہے۔ اور امام حسن بصری نے کہا قُرَّۃَ اَعیُنٍ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری بیبیوں کو اور اولاد کو خدا پرست اپنا تابعدار بنا دے۔مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک اس سے زیادہ کسی بات میں نہیں ہوتی کہ اس کا محبوب اللہ کی عبادت میں مصروف ہو۔ اور ابن عباسؓ نے کہا ثبُورًا کا معنی ہلاکت، خرابی۔ اوروں نے کہا سَعِیرٌ کا لفظ مذکر ہے۔ اور یہ تسعر سے نکلا ہے۔ تسعر اور اضطرام کہتے ہیں آگ کے خوب سلگنے کو (جوش مارنے کو)۔ تُملٰی عَلَیہِ اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یہ اَملَیتُ اور اَملَلتُ سے نکلا ہے۔الرّسُّ کان، اس کی جمع رساس آئی ہے۔بعضوں نے کہا رسّ کنواں مایعبأ عرب لوگ کہتے ہیں ما عبات بہ شیئا یعنی میں نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی، اس کو کوئی چیز نہیں سمجھا۔ غَرَامًا ہلاکت۔ مجاہد نے کہا عَتَوا کا معنی شرارت۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہا عَاتِیَۃٌ کا معنی یہ ہے کہ اس نے خزانہ وار فرشتوں کا کہنا نہ سنا۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ: ‏{‏الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَى جَهَنَّمَ‏}‏الآية‏

The Statement of Allah, "Those who will be gathered to Hell on their faces ..." (V.25:34)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول الَّذِینَ یُحشَرُونَ عَلٰی وَجُوھِھِم اِلٰی جَھَنَّمَ الایہ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : A man said, "O Allah's Prophet! Will Allah gather the non-believers on their faces on the Day of Resurrection?" He said, "Will not the One Who made him walk on his feet in this world, be able to make him walk on his face on the Day of Resurrection?" (Qatada, a sub-narrator, said: Yes, By the Power of Our Lord!)

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے قتادہ سے، کہا ہم سے انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ ایک شخص (نام نا معلوم) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! قیامت کے دن کافر اپنے منہ کے بل کیسے حشر کیئے جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا جس پروردگار نے آدمی کو دو پاؤں پر چلایا کیا وہ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل نہیں چلا سکتا۔قتادہ نے کہا کیوں نہیں قسم ہمارے پروردگار کی عزت اور جلال کی۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ} الآية‏

The Statement of Allah, "And those who invoke not any other god along with Allah, nor kill such person ..." (V.25:68)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ الَّذِینَ لَا یَدعُونَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا آخَرَ وَ لَا یَقتُلُونَ النّفس الّتی حرّم اللہ الا بالحق کی تفسیر۔

‏{يَلْقَ أَثَامًا‏}‏: الْعُقُوبَةَ

اثاماً کا معنی عذاب

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ ـ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَىُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏

Narrated By 'Abdullah : I or somebody, asked Allah's Apostle "Which is the biggest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival (in worship) to Allah though He Alone created you." I asked, "What is next?" He said, "Then, that you kill your son, being afraid that he may share your meals with you." I asked, "What is next?" He said, "That you commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbour." Then the following Verse was revealed to confirm the statement of Allah's Apostle: "Those who invoke not with Allah, any other god, nor kill life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse." (25.68)

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، کہا مجھ سے منصور بن معتمر اور سلیمان اعمش نے، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، سفیان ثوری نے کہا اور مجھ سے واصل بن حیان نے بیان کیا، انہوں نے ابو وائل (شقیق بن سلمہ) سے۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا کہ میں نےیا اور کسی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ کہ تو اللہ کا شریک کسی کو بنائے حالانکہ اللہ ہی نے تجھ کو پیدا کیا۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا گناہ۔ آپؐ نے فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالے کہ اس کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا گناہ۔ آپؐ نے فرمایا پڑوسی کی جورو سے حرام کاری کرنا۔ عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں قرآن کی یہ آیت وَ الَّذِینَ لَا یَدعُونَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا آخَرَ وَ لَا یَقتُلُونَ النّفس اس حدیث کی تصدیق میں نازل ہوئی۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ ‏{‏وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ قَرَأْتُهَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَىَّ‏.‏ فَقَالَ هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ، الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ‏.‏

Narrated By Al-Qasim bin Abi Bazza : That he asked Said bin Jubair, "Is there any repentance of the one who has murdered a believer intentionally?" Then I recited to him: "Nor kill such life as Allah has forbidden except for a just cause." Said said, "I recited this very Verse before Ibn 'Abbas as you have recited it before me. Ibn 'Abbas said, 'This Verse was revealed in Mecca and it has been abrogated by a Verse in Surat-An-Nisa which was later revealed in Medina."

ہم سے ابراہیم بن موسٰی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، ان کو ابن جریج نے، کہا مجھ کو قاسم بن ابی بزّہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے پوچھا کہ جو شخص کسی مسلمان کا جان بوجھ کر خون کرے اس کی توبہ ہو گی یا نہیں (سعید نے کہا نہیں) میں نے ان کو (سورہ فرقان کی) یہ آیت سنائی وَ لَا یَقتُلُونَ النّفس الّتی حرّم اللہ الا بالحق۔ سعید نے کہا میں نے بھی یہ آیت ابن عباسؓ کو سنائی تھی انہوں نے کہا یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد والی آیت نے ( وَ مَن یَّقَتل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا) جو سورہ نسّء میں ہے اور مدینہ میں اتری اس کو منسوخ کر دیا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ، فَرَحَلْتُ فِيهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ‏.‏

Narrated By Said bin Jubair : The people of Kufa differed as regards the killing of a believer so I entered upon Ibn 'Abbas (and asked him) about that. Ibn 'Abbas said, "The Verse (in Surat-An-Nisa', 4:93) was the last thing revealed in this respect and nothing cancelled its validity."

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر)نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے انہوں نے کہا کوفہ والوں نے مومن کا خون کرنے میں اختلاف کیا۔ آخر میں سفر کر کے ابن عباسؓ کے پاس گیا۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا یہ آیت اخیر میں اتری ہے کسی دوسری آیت وَ مَن قتل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا سے منسوخ نہیں ہوئی۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏}‏ قَالَ لاَ تَوْبَةَ لَهُ‏.‏ وَعَنْ قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ‏}‏ قَالَ كَانَتْ هَذِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ‏.‏

Narrated By Said bin Jubair : I asked Ibn 'Abbas about Allah's saying: '...this reward is Hell Fire.' (4.93) He said, "No repentance is accepted from him (i.e. the murderer of a believer)." I asked him regarding the saying of Allah: 'Those who invoke not with Allah any other god.'... (25.68) He said, "This Verse was revealed concerning the pagans of the Pre-Islamic period."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے منصور نے، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سےروایت کی، انہوں نے کہا میں نے ابن عباسؓ سے پوچھا یہ جو (قاتل مومن کے لئے) سورہ نساء میں ہے فَجَزآءُ جَھَنَّمَ اس کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی کہ اس کی توبہ قبول نہ ہو گی۔ اور میں نے ابن عباسؓ سے سورہ فرقان کی اس آیت کو پوچھا وَ الَّذِینَ لَا یَدعُونَ الخ انہوں نے کہا یہ آیت اس باب میں ہے جس نے کفر، جاہلیت کے زمانے میں مسلمانوں کا خون کیا۔

Chapter No: 3

باب قَوْلِهِ:‏{‏يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا‏}‏

His (Allah) Statement, "The torment will be doubled to him on the Day of Resurrection, and he will abide therein in disgrace." (V.25:69)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول یُضَاعَفُ لَہُ العَذَابُ یَومَ القِیَامَۃِ وَ یَخلُد فِیہِ مُھَانًا کی تفسیر

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ أَبْزَى سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏}‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏لاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ‏}‏ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏غَفُورًا رَحِيمًا‏}‏

Narrated By Said bin Jubair : Ibn Abza said to me, "Ask Ibn 'Abbas regarding the Statement of Allah: 'And whoever murders a believer intentionally, his recompense is Hell.' (4.69) And also His Statement: '...nor kill such life as Allah has forbidden, except for a just cause... except those who repent, believe, and do good deeds.' " (25.68-70) So I asked Ibn 'Abbas and he said, "When this (25.68-69) was revealed, the people of Mecca said, "We have invoked other gods with Allah, and we have murdered such lives which Allah has made sacred, and we have committed illegal sexual intercourse. So Allah revealed: 'Except those who repent, believe, and do good deeds and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.' (25.70)

ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے، انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزٰی نے (جو صحابی تھے) بیان کیا کہ عبداللہ بن عباسؓ سے کسی نے (سورہ نساء کی) اس آیت کے متعلق پوچھاوَمَن یقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا الخ اور اس آیت کو وَ لَا یَقتُلُونَ النّفس الّتی حرّم اللہ الا بالحق اخیر آیت مَن تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا تک۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی تو مکہ کے کافر کہنے لگے ہم نے تو اللہ کے برابر دوسروں کو کیا ہے (یعنی شریک کیا ہے) اور نا حق خون بھی کیا ہے جس کو اللہ نے حرام کیا ہے اور بے حیائی کے کام بھی کئے۔ اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اِلَّا مَن تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا اخیر آیت رَحِیما تک۔

Chapter No: 4

باب ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا‏}‏

"Except those who repent and believe and do righteous deeds, for those, Allah will change their sins into good deeds, and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful." (V.25:70)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول اِلَّا مَن تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّئَاتِھِم حَسَانَاتٍ وَ کَانَ اللہُ غَفُورًا رَّحِیمًاکی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا‏}‏، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ‏.‏ وَعَنْ ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ‏.‏

Narrated By Said bin Jubair : Abdur-Rahman bin Abza ordered me to ask Ibn 'Abbas regarding the two Verses (the first of which was): "And whosoever murders a believer intentionally." (4.93) So I asked him, and he said, "Nothing has abrogated this Verse." About (the other Verse): 'And those who invoke not with Allah any other god.' he said, "It was revealed concerning the pagans."

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو والد (عثمان) نے خبر دی، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے سعید بن جبیرؒ سے، انہوں نے کہ کہ عبدالرحمٰن ابن ابزٰی (صحابیؓ) نےمجھ سے پوچھا وَ مَن یَّقَتل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا (ایک آیت) انہوں نے کہا یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ (دوسری آیت) وَ الَّذِینَ لَا یَدعُونَ مَعَ اللہِ اِلٰھًا آخَرَ۔ انہوں نے کہا یہ آیت مشرکوں کے باب میں اتری ہے۔ (جو شرک کی حالت میں مسلمان کا خون کریں)۔

Chapter No: 5

باب ‏{‏فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا‏}‏

"... So the torment will be yours forever." (V.25:77)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول فَسَوفَ یَکُونُ لِزَامًا کی تفسیر۔

هَلَكَةً

لزاما کا معنی ہلاکت

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَالْقَمَرُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ ‏{‏فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا‏}‏

Narrated By Abdullah : Five (great events) have passed: the Smoke, the Moon, the Romans, the Mighty grasp and the constant Punishment which occurs in 'So the torment will be yours forever.' (25.77)

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ہم سے مسلم بن صبیح نے، انہوں نے مسروق سے کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا (پانچ قیامت کی نشانیاں) گزر چکی ہیں۔ ایک تو دھواں، دوسرے چاند کا پھٹنا، تیسرے رومیوں کا (ایرانیوں سے) مغلوب ہونا جا کا ذکر اس آیت میں ہےالم غُلبت الرّوم ، چوتھے بطشہ یعنی پکڑ، پانچواں لزام۔