Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏ائْتِيَا طَوْعًا‏}‏ أَعْطِيَا‏.‏ ‏{‏قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ‏}‏ أَعْطَيْنَا‏.‏ وَقَالَ الْمِنْهَالُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي أَجِدُ فِي الْقُرْآنِ أَشْيَاءَ تَخْتَلِفُ عَلَىَّ قَالَ ‏{‏فَلاَ أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَاءَلُونَ‏}‏‏.‏ ‏{‏وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ‏}‏‏.‏ ‏{‏وَلاَ يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا‏}‏‏.‏ ‏{‏رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ‏}‏ فَقَدْ كَتَمُوا فِي هَذِهِ الآيَةِ، وَقَالَ ‏{‏أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏دَحَاهَا‏}‏ فَذَكَرَ خَلْقَ السَّمَاءِ قَبْلَ خَلْقِ الأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ ‏{‏أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ‏}‏ إِلَى ‏{‏طَائِعِينَ‏}‏ فَذَكَرَ فِي هَذِهِ خَلْقَ الأَرْضِ قَبْلَ السَّمَاءِ، وَقَالَ ‏{‏وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا‏}‏ عَزِيزًا حَكِيمًا سَمِيعًا بَصِيرًا، فَكَأَنَّهُ كَانَ ثُمَّ مَضَى‏.‏ فَقَالَ ‏{‏فَلاَ أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ‏}‏ فِي النَّفْخَةِ الأُولَى ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ، فَلاَ أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَلاَ يَتَسَاءَلُونَ، ثُمَّ فِي النَّفْخَةِ الآخِرَةِ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ ‏{‏مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ‏}‏‏.‏ ‏{‏وَلاَ يَكْتُمُونَ اللَّهَ‏}‏ فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لأَهْلِ الإِخْلاَصِ ذُنُوبَهُمْ وَقَالَ الْمُشْرِكُونَ تَعَالَوْا نَقُولُ لَمْ نَكُنْ مُشْرِكِينَ‏.‏ فَخَتَمَ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ فَتَنْطِقُ أَيْدِيهِمْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ عُرِفَ أَنَّ اللَّهَ لاَ يُكْتَمُ حَدِيثًا وَعِنْدَهُ ‏{‏يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا‏}‏ الآيَةَ، وَخَلَقَ الأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاءَ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ، فَسَوَّاهُنَّ فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ ثُمَّ دَحَا الأَرْضَ، وَدَحْوُهَا أَنْ أَخْرَجَ مِنْهَا الْمَاءَ وَالْمَرْعَى، وَخَلَقَ الْجِبَالَ وَالْجِمَالَ وَالآكَامَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي يَوْمَيْنِ آخَرَيْنِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ ‏{‏دَحَاهَا‏}‏، وَقَوْلُهُ ‏{‏خَلَقَ الأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ‏}‏ فَجُعِلَتِ الأَرْضُ وَمَا فِيهَا مِنْ شَىْءٍ فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ وَخُلِقَتِ السَّمَوَاتُ فِي يَوْمَيْنِ‏.‏ ‏{‏وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا‏}‏ سَمَّى نَفْسَهُ ذَلِكَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ، أَىْ لَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُرِدْ شَيْئًا إِلاَّ أَصَابَ بِهِ الَّذِي أَرَادَ، فَلاَ يَخْتَلِفْ عَلَيْكَ الْقُرْآنُ، فَإِنَّ كُلاًّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْمِنْهَالِ بِهَذَا‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏مَمْنُونٍ‏}‏ مَحْسُوبٍ‏.‏ ‏{‏أَقْوَاتَهَا‏}‏ أَرْزَاقَهَا‏.‏ ‏{‏فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا‏}‏ مِمَّا أَمَرَ بِهِ‏.‏ ‏{‏نَحِسَاتٍ‏}‏ مَشَائِيمَ ‏{‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ‏}‏ قَرَنَّاهُمْ بِهِمْ‏.‏ ‏{‏تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلاَئِكَةُ‏}‏ عِنْدَ الْمَوْتِ‏.‏ ‏{‏اهْتَزَّتْ‏}‏ بِالنَّبَاتِ‏.‏ ‏{‏وَرَبَتْ‏}‏ ارْتَفَعَتْ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏مِنْ أَكْمَامِهَا‏}‏ حِينَ تَطْلُعُ‏.‏ ‏{‏لَيَقُولَنَّ هَذَا لِي‏}‏ أَىْ بِعَمَلِي أَنَا مَحْقُوقٌ بِهَذَا‏.‏ ‏{‏سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ‏}‏ قَدَّرَهَا سَوَاءً‏.‏ ‏{‏فَهَدَيْنَاهُمْ‏}‏ دَلَلْنَاهُمْ عَلَى الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَقَوْلِهِ ‏{‏وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ‏}‏ وَكَقَوْلِهِ ‏{‏هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ‏}‏ وَالْهُدَى الَّذِي هُوَ الإِرْشَادُ بِمَنْزِلَةِ أَصْعَدْنَاهُ مِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ ‏{‏أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ‏}‏‏.‏ ‏{‏يُوزَعُونَ‏}‏ يُكَفَّوْنَ‏.‏ ‏{‏مِنْ أَكْمَامِهَا‏}‏ قِشْرُ الْكُفُرَّى هِيَ الْكُمُّ‏.‏ ‏{‏وَلِيٌّ حَمِيمٌ‏}‏ الْقَرِيبُ‏.‏ ‏{‏مِنْ مَحِيصٍ‏}‏ حَاصَ حَادَ‏.‏ ‏{‏مِرْيَةٍ‏}‏ وَمُرْيَةٍ وَاحِدٌ أَىِ امْتِرَاءٌ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ‏}‏ الْوَعِيدُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ‏}‏ الصَّبْرُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْعَفْوُ عِنْدَ الإِسَاءَةِ فَإِذَا فَعَلُوهُ عَصَمَهُمُ اللَّهُ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ‏.‏

Saeed said, a man said to Ibn Abbas, "I find in the Quran certain things which seem to me contradictory, for example, Allah says, '... There will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.' (V.23:101) (yet He says), 'And they will turn to one another and question one another.' (V.37:27) '... But they will never be able to hide a single fact from Allah.' (V.4:42) (Yet he reports what the Polytheists will say), '... By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.' (V.6:23). According to this Ayat, they will hide some facts. Allah says, 'Or is the heaven that He constructed? ... He spread the earth.' (V.79:27-30) In this Ayat He mentions the creation of the heavens before the creation of the earth. Then He says, 'Say (O Muhammad (s.a.w)), Do you verily, disbelieve in Him Who created the earth in two Days ... willingly.' (V.41:9-11) So He mentions in this Ayat the creation of the earth before the heavens. And He says, '... Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.' (V.4:23) '... Allah is Ever Most Powerful, All-Wise.' (V.4:58) This seems to be something that was and has passed." Then Ibn Abbas answered, "There will be no relationship between them. That is on the first blowing of the Trumpet. And so the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on the earth will swoon away except him whom Allah wills ..." (V.39:68) Then there will be no relationship between them, and at that time one will not ask another. Then, when the Trumpet will be blown for the second time, they will turn to one another and question one another. As for His Statement, '... We were not who joined others in worship with Allah.' 'But they will not be able to hide a single fact from Allah.' Allah will forgive the sins of those who were sincere in their worship, whereupon Al-Mushrikun will say (to each other), 'Come, let us say we never worshipped others besides Allah.' But their mouths will be sealed and their hands will speak (the truth). At that time it will be evident that no speech can be concealed from Allah, and those who disbelieved and disobeyed the Messenger (s.a.w) will wish that they were buried in the earth, but they will never be able to hide a single fact from Allah.' (V.4:42) Allah created the earth in two days and then created the heavens, then He turned towards the heavens and gave it perfection in two (other) days. Then He spread the earth, and its spreading means the bringing of water and pasture out of it. He then created the mountains, the camels and the hillocks and whatever is in between them (the earth and the heaven) in two (other) days. That is the meaning of Allah's saying: 'He spread it.' And His Saying; 'And He created the earth in two days.' So the earth and whatever is on it, was created in four days and the heavens were created in two days. 'And Allah is Oft-Forgiving.' He named Himself like that but the contents of His Saying is still valid, for if Allah ever wants to do something, He surely fulfils what He wants. So you should not see contradiction in the Quran, for all of it is from Allah."

طاؤس نے عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا اِئتِیَا طوعًا کا معنی خوشی سے دو (اطاعت قبول کرو) ۔ اَتَینَا طآئِعِینَ ہم نے خوشی سے دیا۔ اور منھال بن عمر اسدی نے سعید بن جبیر سے روایت کیا، ایک شخص ابن عباسؓ سے کہنے لگا میں تو قرآن میں ایک کے ایک خلاف چند باتیں پاتا ہوں (تو ابن عباسؓ نے کہا بیان کر)۔ کہنے لگا ایک آیت تو یوں ہے فَلَا اَنسَابَ بَینَھُم یَومَئِذٍ وَ لَا یَتَسَاءَلُون دوسری آیت میں یوں ہے وَ اَقبَلَ بَعضُھُم علی بَعضٍ یَتَسَاءَلُونَ۔ ایک آیت میں ہے وَ لَا یَکتُمُونَ اللہَ حَدِیثًا دوسری آیت میں ہے قیامت کے دن مشرک کہیں گے وَ اللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشرِکِین اس سے چھپانا نکلتا ہے۔ ایک جگہ فرمایا اَءَنتُم اَشَدُّ خَلقًا اَمِ السَّمآءُ بَنٰھا اخیر آیت وَ الارض بعد ذٰلک دحٰھَا تک۔ اس سے یہ نکلتا ہے کہ آسمان زمین سے پہلے پیدا ہوا ہے۔ پھر (حم السجدہ) سورت میں فرمایا اِنَّکُم لَتَکفُرُونَ بِالَّذِی خَلَقَ الاَرضَ فِی یَومَین اخیر آیت طائِعِین تک۔ اس سے نکلتا ہے کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا ہوئی۔ اور فرمایا وَ کَانَ اللہُ غَفُورًا رَّحِیمًا ۔ عزیزًا حکیمًا ۔ سمیعًا بصیرًا اس کامعنی تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی ان صفات سے (زمانہ ماضی میں) موصوف تھا اب نہیں۔ ابن عباسؓ نے اس کے جواب میں کہا یہ جو فرمانا فَلَا اَنسَابَ بَینَھُم یہ اس وقت کا ذکر ہے جب پہلا صور پھونکا جائے گا اور آسمان اور زمین والے سب بیہوش ہو جائینگے۔ اس وقت رشتہ ناطہ کچھ باقی نہ رہے گا نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ دہشت کے مارے نفسی نفسی ہو رہی ہو گی۔ پھر یہ جو دوسری آیت میں ہے وَ اَقبَلَ بَعضُھُم علی بَعضٍ یَتَسَاءَلُونَ یہ دوسرے صور پھونکنے کے بعد ہے۔ اور یہ جو مشرکین کا قول نقل ہے وَ اللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشرِکِین ۔ اور دوسری جگہ فرمایا وَ لَا یَکتُمُونَ اللہَ حَدِیثًا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا اور مشرکین آپس میں صلاح کریں گے چلو ہم بھی جا کر یہ کہیں کہ ہم دنیا میں مشرک نہ تھے۔ پھر اللہ تعالٰی ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں بولنا شروع کریں گے۔ اس وقت ان کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالٰی سے کوئی بات چھپ نہیں سکتی اور اسی وقت یہ کافر آرزو کریں گے کہ کاش وہ (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔ اب یہ جو کہ زمین کو دو دن میں پیدا کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو پھیلایا نہیں۔ پھر آسمان کو پیدا کیا اور دو دن میں ان کو برابر کیا (ان کے طبقے مرتب کئے) اس کے بعد زممین کو پھیلایا۔ اور اس کا پھیلانا یہ ہے کہ اس میں سے پانی نکالا۔ گھاس چارہ پیدا کیا، پہاڑ (جانور) اونٹ (وغیرہ) ٹیلے (ٹبے)جو جو ان کے بیچ میں ہے پیدا کئے۔پھر سب دو دن میں پیدا کئے۔ دَحٰھاً کا مطلب یہ ہےتو زمین دو دن میں پیدا ہوئی۔ جیسے فرمایا خَلَقَ الاَرضَ فِی یَومَین تو زمین مع اپنی چیزوں کے چار دن میں بنی اور آصمان دو دن میں بنے۔ اب رہا یہ فرمانا وَ کَانَ اللہُ غَفُورًا رَّحِیمًا یہاں کان کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی میں یہ صفات ازل سے ہیں۔ اور یہ اس کے نام ہیں کیونکہ خدا وندکریم جو چاہتا ہے وہ حاصل کر لیتا ہے۔ اب تو قرآن میں کوئی اختلاف نہیں رہا۔ اختلاف کیسے ہو گاقرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے اترا ہے (اللہ کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا)۔ امام بخاری نے کہا مجھ سے محمد بن یوسف عدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ عمرو نے، انہوں نے زید بن ابی انیسہ سے، انہوں نے مبھال سے یہی روایت جو اوپر گزری۔ مجاہد نے کہا ممنُون کا معنی حساب سے۔ اقواتھا یعنی بارش کا اندازہ مقرر کیا کہ ہر ملک میں کتنی بارش مناسب ہے۔ فی کُلّ سمآء اَمرھَا یعنی جو حکم (اور انتظام) کرنا تھا وہ ہر آسمان کے متعلق (فرشتوں کو) بتلا دیا۔ بحساتٍ منحوس (نامبارک) ۔ وَ قَیَّضنَا لَھُم قُرَناء یعنی ہم نے کافروں کے ساتھ شیطانوں کو لگا دیا۔ تتنزّل علیھم الملٰئکۃ یعنی موت کے وقت ان پر فرشتے اترتے ہیں ۔ اِھتَزَّت یعنی سبزے سے لہلہانے لگتی ہے۔ وَ رَبَت پھول جاتی ہے، ابھر آتی ہے۔ مجاہد کے سوا اوروں نے کہا من اکمامھا یعنی جب پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔ لَیَقُولَنَّ ھَذَا لِی یہ میرا حق ہے، میرے نیک کاموں کا بدلہ ہے۔ سواء لسّائلین سب مانگنے والوں کے لئے اس کو یکساں رکھا۔ فھدینٰھم سے یہ مراد ہے کہ ہم نے ان کو اچھا برا دکھلایا، بتلا دیا۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا وھدینٰہ نجدین (یعنی سورہ بلد میں اور سورہ الدھر میں) انا ھدینٰہ السَّبیل لیکن ہدایت کا وہ معنی سیدھے اور سچے رستے پر لگا دینا۔ وہ تو اصعاد کے معنی میں ہے۔ (سورہ الانعام) اولٰئک الّذین ھدی اللہ فبھُداھم اقتدِہ میں یہی معنی مراد ہے۔ یوزعون روکے جائینگے۔ من اکمامھا کہتے ہیں گابھہ کے پوست (چھلکے) کو (یہ ابن عباسؓ کا قول ہے) اوروں نے کہا انگور جب نکلے تو اس کو بھی کافور اور کفری کہتے ہیں۔ ولِیٌّ حمیمٌ نزدیک رہنے والا دوست۔ من محیص محیص حاص سے نکلا ہے حاص کا معنی نکل بھاگا، الگ ہو گیا۔ مِریۃ بکسر میم اور مُریۃ بضمہ میم (دونوں قراءتیں ہیں) دونوں کا ایک معنی ہے یعنی شک۔ اور مجاہد نے کہا اعملوا ما شئتم وعید ہے۔ ابن عباسؓ نے کہا اِدفع بالّتی ھی احسن سے یہ مراد ہے کہ غصے کے وقت صبر کر اور برائی کو معاف کر دے۔ جب لوگ ایسے اخلاق اختیار کرینگے تو اللہ تعالٰی ان کو ہر آفت سے بچا لے گا اور ان کے دشمن بھی عاجز ہو کر ان کے دلسوز دوست بن جائینگے۔

 

Chapter No: 1

باب ‏{‏وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ‏}الآية

The Statement of Allah, "And you have not been hiding yourself (in the world), lest your ears, and your eyes, and your skins should testify against you ..." (V.41:22)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ مَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشھَدَ عَلَیکُم سَمعُکُمُ وَ لَا اَبصَارُکُم کی تفسیر

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏{‏وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ، عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ‏}‏ الآيَةَ كَانَ رَجُلاَنِ مِنْ قُرَيْشٍ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ ثَقِيفَ، أَوْ رَجُلاَنِ مِنْ ثَقِيفَ وَخَتَنٌ لَهُمَا مِنْ قُرَيْشٍ فِي بَيْتٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ حَدِيثَنَا قَالَ بَعْضُهُمْ يَسْمَعُ بَعْضَهُ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَئِنْ كَانَ يَسْمَعُ بَعْضَهُ لَقَدْ يَسْمَعُ كُلَّهُ‏.‏ فَأُنْزِلَتْ ‏{‏وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ‏}‏ الآيَةَ ‏{‏وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ‏}‏ الآيَةَ‏.‏

Narrated By Ibn Mas'ud : (Regarding) the Verse: 'And you have not been screening against yourself lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you...' (41.22) While two persons from Quraish and their brother-in-law from Thaqif (or two persons from Thaqif and their brother-in-law from Quraish) were in a house, they said to each other, "Do you think that Allah hears our talks?" Some said, "He hears a portion thereof" Others said, "If He can hear a portion of it, He can hear all of it." Then the following Verse was revealed: 'And you have not been screening against yourself lest your ears, and your eyes and your skins should testify against you...' (41.22)

ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے، انہوں نے روح بن قاسم سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابو معمر عبداللہ بن سخیرہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا یہ آیت وَ مَا کُنتُم تَستَتِرُونَ الخ اس طرح نازل ہوئی کہ قریش کے دو آدمی اور ان کی جورو کا ایک رشتہ دار جو ثقیف قبیلے کا تھا یہ تینوں آدمی یا ثقیف کے دوآدمی اور ان کی جورو کا ایک رشتہ دار جو قریش میں سے تھا یہ تینوں ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپس میں کہنے لگے تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالٰی ہماری باتیں سنتا ہے۔ کسی نے کہا کچھ سنتا ہے (جو ہم پکار کر کہیں)، کسی نے کہا (واہ واہ) اگر کچھ سنتا ہے تو پھر سب باتیں سنتا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی وَ مَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشھَدَ عَلَیکُم سَمعُکُمُ وَ لَا اَبصَارُکُم اخیر آیت تک۔

Chapter No: 2

بابٌ:‏{‏وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ‏}‏

The Statement of Allah, "And that thought of yours which you thought about your Lord, has brought you to destruction, and you have become (this Day) of those utterly lost!" (V.41:23)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ ذٰلِکُم ظَنُّکُمُ الَّذِی ظَنَنتُم بِرَبِّکُم اَردَاکُم فَاَصبَحتُم مِنَ الخَاسِرِین کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ ـ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ ـ كَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلَةٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ قَالَ الآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَكَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُنَا بِهَذَا فَيَقُولُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ أَوِ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ حُمَيْدٌ أَحَدُهُمْ أَوِ اثْنَانِ مِنْهُمْ، ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى مَنْصُورٍ، وَتَرَكَ ذَلِكَ مِرَارًا غَيْرَ وَاحِدَةٍ‏.‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِنَحْوِهِ‏.‏

Narrated By 'Abdullah : There gathered near the House (i.e. the Ka'ba) two Quraishi persons and a person from Thaqif (or two persons from Thaqif and one from Quraish), and all of them with very fat bellies but very little intelligence. One of them said, "Do you think that Allah hears what we say?" Another said, "He hears us when we talk in a loud voice, but He doesn't hear us when we talk in a low tone." The third said, "If He can hear when we talk in a loud tone, then He can also hear when we speak in a low tone." Then Allah, the Honorable, the Majestic revealed: 'And you have not been screening against yourself lest your ears, and eyes and your skins should testify against you...' (41.22-23)

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہاہم سے منصور بن معتمر نے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابومعمر سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا بیت اللہ کے پاس دوقریش کےشخص ایک ثقیف کا یا دو ثقیف کے اور ایک قریش کا تینوں جمع ہوئے۔ ان کے پیٹوں میں چربی بہت تھی (خوب موٹے تازے تھے) لیکن عقل کم تھی۔ ان میں ایک بولا تم کیا سمجھتے ہو اللہ تعالٰی ہماری باتیں سنتا ہے۔ دوسرا بولا پکار کر بات کریں تو سنتا ہے اگر آہستہ بات کریں تو نہیں سنتا۔ تیسرا کہنے لگا اگر وہ پکار کر بات سنتا ہے تو جو آہستہ سے بات کریں وہ بھی سنے گا۔ اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ آی نازل فرمائی وَ مَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشھَدَ عَلَیکُم سَمعُکُمُ وَ لَا اَبصَارُکُم اخیر آیت تک۔حمید نے کہا سفیان بن عیینہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے (پہلے) وہ یوں کہتے تھے ہم بن منصور بن معتمر یا عبداللہ بن ابی نجیح یا حمید بن قیس نے بیان کیا، پھر صرف منصور کا نام لینے لگے۔ باقی دونوں کا نام لینا چھوڑ دیا۔ کئی بار اسی طرح انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔