Sayings of the Messenger

 

123Last ›

قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.الاية (البقرة: ٢٧٥) وَ قَولُهُ: إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ.الاية (البقرة: ٢٨٢)

And the Statement of Allah, "... And Allah has permitted trading and forbidden Usury (Riba) ..." (V.2:275) And His Statement, "... save when it is a present trade which you carry out on the spot among yourselves ..." (V.2:282)

اور اللہ تعالیٰ نے (سورت بقرہ میں ) فرمایا اللہ نے بیچ کھوچ درست رکھی ہے اور بیاج حرام کیا ہے اور فرمایا مگر جب نقد سودا ہو اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو۔

 

Chapter No: 1

باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏

What has come in the Statement of Allah, "Then when the (Juma) Salat is ended, you may disperse through the land, and seek of the bounty of Allah ... And Allah is the Best of Providers." (V.62:10,11)

باب: اللہ نے (سورت جمعہ میں ) یہ جو فرمایا

{‏فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاَةُ فَانْتَشِرُوا فِي الأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ‏}‏‏اِلىَ آخِرِ السُّورَه وَقَولِهِ ‏{‏لاَ تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ‏}‏‏

And also His Statement, "Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent ..." (V.4:29)

جب جمعہ کی نماز ہو جائے تو زمین میں پھیل پڑو اور اللہ کا فضل ڈھونڈو (یعنے رزق حاصل کرو) اور اللہ نے( سورت نساء میں) فرمایا آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ اڑاؤ ہاں بیوپار کر کے رضا مندی سے کھاؤ۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَتَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمْ صَفْقٌ بِالأَسْوَاقِ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَكَانَ يَشْغَلُ إِخْوَتِي مِنَ الأَنْصَارِ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا مِنْ مَسَاكِينِ الصُّفَّةِ أَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَدِيثٍ يُحَدِّثُهُ ‏"‏ إِنَّهُ لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ، ثُمَّ يَجْمَعَ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ إِلاَّ وَعَى مَا أَقُولُ ‏"‏‏.‏ فَبَسَطْتُ نَمِرَةً عَلَىَّ، حَتَّى إِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَمَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ مِنْ شَىْءٍ‏

Narrated By Abu Huraira : You people say that Abu Huraira tells many narrations from Allah's Apostle and you also wonder why the emigrants and Ansar do not narrate from Allah's Apostle as Abu Huraira does. My emigrant brothers were busy in the market while I used to stick to Allah's Apostle content with what fills my stomach; so I used to be present when they were absent and I used to remember when they used to forget, and my Ansari brothers used to be busy with their properties and I was one of the poor men of Suffa. I used to remember the narrations when they used to forget. No doubt, Allah's Apostle once said, "Whoever spreads his garment till I have finished my present speech and then gathers it to himself, will remember whatever I will say." So, I spread my coloured garment which I was wearing till Allah's Apostle had finished his saying, and then I gathered it to my chest. So, I did not forget any of that narrations.

حضرت سعید بن مسیب اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم یہ کہتے ہو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی بہت سی حدیثیں بیان کرتا ہے اور یہ بھی کہتے ہو کہ مہاجرین اور انصار حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے برابر کیوں حدیثیں بیان نہیں کرتے بات یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین رات دن بازار کی خرید و فروخت میں مصروف رہتے ہیں اور میں تو اپنا پیٹ بھرنے کے بعد پھر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر رہتا، اس لیے جب یہ بھائی غیر حاضر ہوتے ہیں میں اس وقت حاضر رہتا ہوں۔اور وہ سن کر بھول جاتے ہیں میں یاد رکھتا ہوں، اور میرے انصاری بھائی اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں ، اور میں تو صفہ کے فقیروں میں سے ایک فقیر تھا جب یہ بھائی بھولتے میں اسے یاد رکھتا۔ایک مرتبہ رسول اللہﷺنے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کوئی اس وقت تک اپنے کپڑے کو پھیلائے رکھے جب تک میں اپنی گفتگو سے فارغ نہ ہوجاؤ، پھر اپنے کپڑے کو سمیٹ لے تو جو میں نے گفتگو کی ہے وہ اس کو یاد رہیں گی، تو میں نے اپنی چادر بچھائی یہاں تک کہ رسول اللہﷺنے اپنی گفتگو ختم کی پھر میں نے اس کو اپنے سینے سے لگایا ، اس کے بعد جو گفتگو بھی آپﷺنے کی وہ میں کبھی نہیں بھولا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ إِنِّي أَكْثَرُ الأَنْصَارِ مَالاً، فَأَقْسِمُ لَكَ نِصْفَ مَالِي، وَانْظُرْ أَىَّ زَوْجَتَىَّ هَوِيتَ نَزَلْتُ لَكَ عَنْهَا، فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا‏.‏ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ، هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ قَالَ سُوقُ قَيْنُقَاعَ‏.‏ قَالَ فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَتَى بِأَقِطٍ وَسَمْنٍ ـ قَالَ ـ ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ، فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَزَوَّجْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ ‏"‏‏.‏ قَالَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَمْ سُقْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏

Narrated By Ibrahim bin Sad from his father from his grand-father : Abdur Rahman bin Auf said, "When we came to Medina as emigrants, Allah's Apostle established a bond of brotherhood between me and Sad bin Ar-Rabi'. Sad bin Ar-Rabi' said (to me), 'I am the richest among the Ansar, so I will give you half of my wealth and you may look at my two wives and whichever of the two you may choose I will divorce her, and when she has completed the prescribed period (before marriage) you may marry her.' Abdur-Rahman replied, "I am not in need of all that. Is there any market-place where trade is practiced?' He replied, "The market of Qainuqa." Abdur-Rahman went to that market the following day and brought some dried butter-milk (yogurt) and butter, and then he continued going there regularly. Few days later, 'AbdurRahman came having traces of yellow (scent) on his body. Allah's Apostle asked him whether he had got married. He replied in the affirmative. The Prophet said, 'Whom have you married?' He replied, 'A woman from the Ansar.' Then the Prophet asked, 'How much did you pay her?' He replied, '(I gave her) a gold piece equal in weigh to a date stone (or a date stone of gold)! The Prophet said, 'Give a Walima (wedding banquet) even if with one sheep.'"

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا جب ہم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو رسول اللہﷺنے مجھ کو اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کو بھائی بنادیا ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا:میں تمام انصار میں زیادہ مال دار ہوں، میں اپنا آدھا مال تجھ کو دے دیتا ہوں اور میری دونوں بیویوں کو دیکھ لو جس کو تو پسند کرے میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں جب اس کی عدّت پوری ہوجا ئے تو اس سے نکاح کرلے حضرت عبد الرحمٰن کہتے ہیں میں نے کہا: نہیں اس کی مجھے ضرورت نہیں، یہاں کوئی بازار بھی ہے جہاں کاروبار ہوتا ہے، انہوں نے کہا: قینقاع کا بازار یہ سن کر صبح حضرت عبد الرحمٰن اس بازار میں گئے، اور پنیر اور گھی کماکر لائے پھر روز جانے لگے تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہﷺ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ان پر زرد خوشبو کے نشان تھے۔آپﷺ نے پوچھا: کیا تم نے نکاح کیا ہے انہوں نے کہا: جی ہاں، آپﷺ نے پوچھا کس سے انہوں نے کہا: ایک انصاری عورت سے،آپﷺ نے پوچھا: مہر کیا دیا انہوں نے کہا: گٹھلی برابر سونا یا ایک گٹھلی سونے کی، آپﷺنے فرمایا: ولیمہ کرو، خواہ کسی بکری کا ہی کیوں نہ ہو۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ فَآخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًى، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَأُزَوِّجُكَ‏.‏ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ‏.‏ فَمَا رَجَعَ حَتَّى اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا، فَأَتَى بِهِ أَهْلَ مَنْزِلِهِ، فَمَكَثْنَا يَسِيرًا ـ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ـ فَجَاءَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْيَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا سُقْتَ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏

Narrated By Anas : When Abdur-Rahman bin Auf came to Medina, the Prophet established a bond of brotherhood between him and Sad bin Ar-Rabi al-Ansari. Sad was a rich man, so he said to 'Abdur-Rahman, "I will give you half of my property and will help you marry." 'Abdur-Rahman said (to him), "May Allah bless you in your family and property. Show me the market." So 'Abdur-Rahman did not return from the market) till he gained some dried buttermilk (yoghurt) and butter (through trading). He brought that to his house-hold. We stayed for some-time (or as long as Allah wished), and then Abdur-Rahman came, scented with yellowish perfume. The Prophet said (to him) "What is this?" He replied, "I got married to an Ansari woman." The Prophet asked, "What did you pay her?" He replied, "A gold stone or gold equal to the weight of a date stone." The Prophet said (to him), "Give a wedding banquet even if with one sheep."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے تو نبیﷺنے ان کو اور سعد بن ربیع انصاری کو بھائی بھائی بنادیا اور سعد بہت مال دار تھے انہوں نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا میں اپنے مال میں سے آپ کو نصف دیتا ہوں اور تمہارا نکاح بھی کردیتا ہوں انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و عیال میں اور تمہارے مال میں برکت دے،مجھے صرف بازار کی طرف رہنمائی کردے (پھر وہ بازار گے اور پنیر اور گھی بچا کر اپنے گھروالوں میں لائے، تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا یا جتنا اللہ نے چاہا ، اس کے بعد وہ آئے تو ان پر زردی کا نشان تھا۔نبی ﷺنے پوچھا یہ کیسی زردی ہے ؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہﷺ!میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے آپﷺنے فرمایا: مہر کیا دیا ہے، انہوں نے عرض کیا ایک سونے کی گٹھلی یا گٹھلی برابر سونا آپﷺ نے فرمایا: ولیمہ کرلو خواہ بکری ہی سہی۔


حَدَّثَنى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمِجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ فَكَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا فِيهِ فَنَزَلَتْ ‏{‏لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ ‏}‏ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ

Narrated By Ibn 'Abbas : 'Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were market-places in the Pre-Islamic period of ignorance. When Islam came, Muslims felt that marketing there might be a sin. So, the Divine Inspiration came: "There is no harm for you to seek the bounty of your Lord (in the seasons of Hajj)." (2.198) Ibn 'Abbas recited the Verse in this way.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نےکہا: عکاظ اور مجنہ اور ذو المجاز جاہلیت کے زمانے کی بازاریں تھیں جب اسلام کا زمانہ آیا تو مسلمانوں نے ان بازاروں میں تجارت کےلیے جانا برا سمجھا اس وقت سورۂ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی" تم کو حج کے موسموں میں اپنے مالک کا فضل ڈھونڈنے پر کوئی گناہ نہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قراءت ایسی ہی ہے۔

Chapter No: 2

باب الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ

Legal and illegal things are clearly defined and in between them are some doubtful (unclear) things.

باب : حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے بیچ میں کچھ شبہ کی چیزیں ہیں ۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ـ رضى الله عنهما ـ حَدّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ كَثِيرٍ : اخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ اَبِي فَرْوَة،عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنِ النُّعْمَانِ بِنْ بَشِيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ قَالَ الَّنِبيُّ صلى الله عليه وسلم (( اَلْحَلاَلُ بَيِّنٌ،وَاَلْحَرَامُ بَيِّنٌ،وَ بَيْنَهُمَا اُمُوْرٌ مُشْتَبِهَةٌ ،فَمَنْ تَرَكَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنَ الاِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبانَ اَتْرَكَ وَمَنْ اجْتَرَأ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنَ الاثْمِ اؤ شَكَ اَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبانَ وَالْمَعاصي حَمِي اَللهِ،مَنْ يَرْتَعُ حَوْلَ الْحِمَي يُوْشِكْ اَنْ يُوَاقِعَهُ))

Narrated By An-Nu'man bin Bashir : The Prophet said "Both legal and illegal things are obvious, and in between them are (suspicious) doubtful matters. So who-ever forsakes those doubtful things lest he may commit a sin, will definitely avoid what is clearly illegal; and who-ever indulges in these (suspicious) doubtful things bravely, is likely to commit what is clearly illegal. Sins are Allah's Hima (i.e. private pasture) and whoever pastures (his sheep) near it, is likely to get in it at any moment."

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہےلیکن ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں پھر جوشخص ان چیزوں کو چھوڑے جن کے گناہ ہونے یا نہ ہونے میں شبہ ہے وہ ان چیزوں کو تو ضرور ہی چھوڑ دے گا جن کا گناہ ہونا ظاہر ہے ۔ لیکن جو شخص شبہ کی چیزوں کے کرنے کی جرأت کرے گا تو قریب ہے کہ وہ ان گناہوں میں بھی مبتلا ہوجائے گا جو بالکل واضح طور پر گناہ ہیں۔ یاد رکھو ! گناہ اللہ تعالیٰ کی چراہگاہ ہے جو (جانور بھی) چراہگاہ کے اردگرد چرے گا اس کا چراہ گاہ کے اندر چلا جانے کا خدشہ رہے گا۔

Chapter No: 3

باب تَفْسِيرِ الْمُشَبَّهَاتِ

Explanation of doubtful (unclear) things.

باب : ملتی جلتی چیزیں کیا ہیں ؟

وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَهْوَنَ مِنَ الْوَرَعِ، دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُكَ

Hassan bin Abu Sinan said, "I found nothing easier than to be pious and Allah fearing. Leave all doubtful things and do what is completely clear of doubt."

اور حسان بن ابی سنان نے کہا میں نے پرہیز گاری سے زیادہ آسان کوئی بات نہیں دیکھی شک کی بات چھوڑ دے بے شک کی اختیار کر۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ جَاءَتْ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ‏"‏‏.‏ وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ‏.‏

Narrated By Abdullah bin Abu Mulaika : Uqba bin Al-Harith said that a black woman came and claimed that she had suckled both of them (i.e. 'Uqba and his wife). So, he mentioned that to the Prophet who turned his face from him and smiled and said, "How (can you keep your wife), and it was said (that both of you were suckled by the same woman)?" His wife was the daughter of Abu Ihab-al-Tamimi.

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک سیاہ فام عورت آئی وہ کہنے لگی اس نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا تھا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا آپﷺنے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکراکر فرمایا: اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم اس عورت کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہو؟ان کے نکاح میں ابو اہاب تمیمی کی بیٹی تھی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ ابْنُ أَخِي، قَدْ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ‏.‏ فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ‏.‏ فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي، كَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْتَجِبِي مِنْهُ ‏"‏‏.‏ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Utba bin Abu Waqqas took a firm promise from his brother Sad bin Abu Waqqas to take the son of the slave-girl of Zam'a into his custody as he was his (i.e. 'Utba's) son. In the year of the Conquest (of Mecca) Sad bin Abu Waqqas took him, and said that he was his brother's son, and his brother took a promise from him to that effect. 'Abu bin Zam'a got up and said, "He is my brother and the son of the slave-girl of my father and was born on my father's bed." Then they both went to the Prophet Sad said, "O Allah's Apostle! He is the son of my brother and he has taken a promise from me that I will take him." 'Abu bin Zam'a said, "(He is) my brother and the son of my father's slave-girl and was born on my father's bed." Allah's Apostle said, "The boy is for you. O 'Abu bin Zam'a." Then the Prophet said, "The son is for the bed (i.e the man on whose bed he was born) and stones (disappointment and deprivation) for the one who has done illegal sexual intercourse." The Prophet told his wife Sauda bint Zam'a to screen herself from that boy as he noticed a similarity between the boy and 'Utba. So, the boy did not see her till he died.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عتبہ بن ابی وقاص(کافر) نے مرتے وقت اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرے نطفے سے ہے اس کو لے لینا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جس سال مکہ فتح ہوا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس بچے کو لے لیا اور کہنے لگے: یہ میرے بھائی کا بچہ ہے، بھائی نے اس کے لینے کے حوالے سے مجھے وصیت کی تھی اس وقت عبد بن زمعہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی لونڈی کا بچہّ ہے میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا آخر دونوں لڑتے جھگڑتے نبیﷺ کے پاس آئے سعد نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! یہ میرے بھائی کا بچہ ہے اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ اس کو لے لینا عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے اس کے بستر پر۔ تب نبیﷺ نے فرمایا: عبد بن زمعہ یہ بچہ تجھ کو ملے گا اس بعد فرمایا: بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کےلیے پتھروں کی سز۔ لیکن آپﷺ نےام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا (جو زمعہ کی بیٹی اور اس بچےّ کی بہن تھی) سے فرمایا: تم اس سے پردہ کرتی رہنا کیونکہ آپﷺ نے دیکھا اس بچہّ کی شکل عتبہ سے ملتی تھی ، پھر اس بچے نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو مرتے دم تک نہیں دیکھا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي، فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ، وَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَأْكُلْ، إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الآخَرِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Adi bin Hatim : I asked Allah's Apostle about Al Mirad (i.e. a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a piece of iron used for hunting). He replied, "If the game is hit by its sharp edge, eat it, and if it is hit by its broad side, do not eat it, for it has been beaten to death." I asked, "O Allah's Apostle! I release my dog by the name of Allah and find with it at the game, another dog on which I have not mentioned the name of Allah, and I do not know which one of them caught the game." Allah's Apostle said (to him), 'Don't eat it as you have mentioned the name of Allah on your dog and not on the other dog."

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے معراض (تیر کا شکار) کےبارے میں پوچھا تو آپﷺنے فرمایا: اگر اس کے دھار کی طرف سے لگے تو کھا لینا۔اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھانا، کیونکہ وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ!میں اپنا کتا (شکار کےلیے) چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں ، پھر اس کے ساتھ مجھے ایک ایسا کتا اور ملتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ دونوں میں کون سے کتے نے شکار پکڑا ، آپﷺنے فرمایا: ایسے شکار کا گوشت مت کھاؤ، کیونکہ تو نے بسم اللہ تو اپنے کتے کےلیے پڑھی ہے دوسرے کےلیے تو نہیں پڑھی۔

Chapter No: 4

باب مَا يُتَنَزَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ

What doubtful things should be avoided?

باب: مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ فَقَالَ ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لأَكَلْتُهَا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَجِدُ تَمْرَةً سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ‏"‏‏.

Narrated By Anas : The Prophet passed by a fallen date and said, "Were it not for my doubt that this might have been given in charity, I would have eaten it." And narrated Abu Huraira the Prophet said, "I found a date-fruit fallen on my bed."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ ایک گری ہوئی کھجور پر گذرے، تو فرمایا: اگر یہ شبہ نہ ہوتا کہ شاید یہ صد قے کی ہو تو میں اس کو کھا لیتا۔ دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میں نے ایک کجھور اپنے بچھونے میں پڑی ہوئی پائی۔

Chapter No: 5

باب مَنْ لَمْ يَرَ الْوَسَاوِسَ وَنَحْوَهَا مِنَ الْشَبَّهَاتِ

Whoever does not consider dark suggestions by one's ownself or similar things as doubtful things?

باب : دل میں وسوسہ آنے سے شبہ کرنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يَجِدُ فِي الصَّلاَةِ شَيْئًا، أَيَقْطَعُ الصَّلاَةَ قَالَ ‏"‏ لاَ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ لاَ وُضُوءَ إِلاَّ فِيمَا وَجَدْتَ الرِّيحَ أَوْ سَمِعْتَ الصَّوْتَ‏.‏

Narrated By 'Abbad bin Tamim : That his uncle said: "The Prophet was asked: If a person feels something during his prayer; should one interrupt his prayer?" The Prophet said: No! You should not give it up unless you hear a sound or smell something." Narrated Ibn Abi Hafsa: Az-Zuhri said, "There is no need of repeating ablution unless you detect a smell or hear a sound."

عباد بن تمیم اپنے چچا حضرت عبد اللہ بن زید مازنی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: نبیﷺکے سا منے ایک شخص کا یہ شکوہ بیان کیا گیا کہ اس کو نماز میں وسوسہ ہوتا ہے کیا وہ نماز توڑ دے آپﷺنے فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ آواز نہ سنے ، اور بدبو نہ پائے، اور محمد بن ابی حفصہ رضی اللہ عنہ نے زہری سے نقل کیا کہ وضو تب واجب ہوتا ہے جب تک کہ بدبو نہ محسوس کرے، اورآواز نہ سنے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قَوْمًا، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ لاَ نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : Some people said, "O Allah's Apostle! Meat is brought to us by some people and we are not sure whether the name of Allah has been mentioned on it or not (at the time of slaughtering the animals)." Allah's Apostle said (to them), "Mention the name of Allah and eat it."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: بعض لوگوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں ہم نہیں جانتے انہوں نے ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی تھی یا نہیں ،آپ ﷺنے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر اس کو کھالیا کرو۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا‏}‏

The Statement of Allah, "And when they see some merchandise or some amusement, they disperse headlong to it ..." (V.62:11)

باب : اللہ تعالٰی کا (سورت جمعہ میں یہ فرمایا کہ جب وہ کچھ سوداگری یا تماشا دیکھے تو ادھر جھپٹ پڑتے ہیں ۔

حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَقْبَلَتْ مِنَ الشَّأْمِ عِيرٌ، تَحْمِلُ طَعَامًا، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا، حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فَنَزَلَتْ ‏{‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا‏}‏

Narrated By Jabir : While we were offering the prayer with the Prophet a caravan carrying food came from Sham. The people looked towards the caravan (and went to it) and only twelve persons remained with the Prophet. So, the Divine Inspiration came; "But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it." (62.11)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے تو اچانک ملک شام سے کچھ اونٹ کھانے کا سامان تجارت لے کر آئے تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور رسول اللہﷺکے ساتھ صرف بارہ آدمیوں کے علاوہ اور کوئی باقی نہ رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " جب وہ مال تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں"۔

Chapter No: 7

باب مَنْ لَمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ الْمَالَ

The one who does not care from where he earns his money (legal or illegal ways).

باب: جو روپیہ کمانے میں حلال حرام کی پرواہ نہ کرے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لاَ يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلاَلِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "A time will come when one will not care how he earns money, legally (halal) or illegally (haram)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی کچھ پرواہ نہیں کرے گا کہ آیا اس نے جو حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے۔

Chapter No: 8

باب التِّجَارَةِ فِي الْبَرِّ وَغَيرِهِ

Trade of cloth and other things.

باب : خشکی میں تجارت کرنے کا بیان ۔

وَقَوْلِهِ ‏{‏رِجَالٌ لاَ تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلاَ بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ‏}‏‏.‏ وَقَالَ قَتَادَةُ كَانَ الْقَوْمُ يَتَبَايَعُونَ، وَيَتَّجِرُونَ، وَلَكِنَّهُمْ إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلاَ بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ، حَتَّى يُؤَدُّوهُ إِلَى اللَّهِ

And the Statement of Allah, "Men whom neither trade nor sale diverts them from the remembrance of Allah ..." (V.24:37) Qatada said, "The people used to do sale and trade but whenever they were to perform any of Allah's obligations, then trade and sale would not divert them from Allah's worship, but they would rather fulfil that obligation (to Allah)."

اللہ تعالٰی نے (سورت نور میں ) فرمایا اور وہ لوگ جن کو سوداگری اور بیچ کھوچ اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی اور قتادہ نے کہا صحابہ بیچ کھوج اور سوداگری کیا کرتے تھے مگر جب اللہ کا کوئی کام آپڑتا تو کوئی سوداگری یا بیچ کھوج اللہ کی یادسے ان کو غافل نہ کرتی وہ اللہ کا کام پورا کرتے۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ ح : وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالاَ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ ‏"‏ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلاَ يَصْلُحُ ‏"‏‏.

Narrated By Abu Al-Minhal : I used to practice money exchange, and I asked Zaid bin 'Arqam about it, and he narrated what the Prophet said in the following: Abu Al-Minhal said, "I asked Al-Bara' bin 'Azib and Zaid bin Arqam about practicing money exchange. They replied, 'We were traders in the time of Allah's Apostle and I asked Allah's Apostle about money exchange. He replied, 'If it is from hand to hand, there is no harm in it; otherwise it is not permissible."

حضرت ابو المنہال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں سونا چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا، اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبیﷺنے فرمایا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابو منہال فرماتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونا اور چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم دونوں بھی رسول اللہﷺ کے زمانے میں سوداگر تھے ہم نے آپﷺ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا آپﷺ نے فرمایا: اگر ہاتھوں ہاتھ (نقد ) ہو تو کچھ برائی نہیں، لیکن اگر ادھار ہو تو پھر درست نہیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ ح : وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالاَ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ ‏"‏ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلاَ يَصْلُحُ ‏"‏‏.

Narrated By Abu Al-Minhal : I used to practice money exchange, and I asked Zaid bin 'Arqam about it, and he narrated what the Prophet said in the following: Abu Al-Minhal said, "I asked Al-Bara' bin 'Azib and Zaid bin Arqam about practicing money exchange. They replied, 'We were traders in the time of Allah's Apostle and I asked Allah's Apostle about money exchange. He replied, 'If it is from hand to hand, there is no harm in it; otherwise it is not permissible."

حضرت ابو المنہال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں سونا چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا، اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبیﷺنے فرمایا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابو منہال فرماتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونا اور چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم دونوں بھی رسول اللہﷺ کے زمانے میں سوداگر تھے ہم نے آپﷺ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا آپﷺ نے فرمایا: اگر ہاتھوں ہاتھ (نقد ) ہو تو کچھ برائی نہیں، لیکن اگر ادھار ہو تو پھر درست نہیں۔

Chapter No: 9

باب الْخُرُوجِ فِي التِّجَارَةِ

Going out for trading.

باب : سوداگری کے لیے گھر سے باہر جانا ،

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏فَانْتَشِرُوا فِي الأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ‏}‏

And the Statement of Allah, "... You may disperse through the land and seek of the Bounty of Allah ..." (V.62:10)

اور اللہ تعالٰی نے (سورت جمعہ میں) فرمایا جب نماز ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل ڈھونڈو ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولاً فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ قِيلَ قَدْ رَجَعَ‏.‏ فَدَعَاهُ‏.‏ فَقَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ‏.‏ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ، فَسَأَلَهُمْ‏.‏ فَقَالُوا لاَ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلاَّ أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ‏.‏ فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَخَفِيَ عَلَىَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ‏.‏ يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ‏.‏

Narrated By 'Ubaid bin 'Umair : Abu Musa asked Umar to admit him but he was not admitted as 'Umar was busy, so Abu Musa went back. When 'Umar finished his job he said, "Didn't I hear the voice of 'Abdullah bin Qais? Let him come in." 'Umar was told that he had left. So, he sent for him and on his arrival, he (Abu Musa) said, "We were ordered to do so (i.e. to leave if not admitted after asking permission thrice). 'Umar told him, "Bring witness in proof of your statement." Abu Musa went to the Ansar's meeting places and asked them. They said, "None amongst us will give this witness except the youngest of us, Abu Said Al-Khudri. Abu Musa then took Abu Said Al-Khudri (to 'Umar) and 'Umar said, surprisingly, "Has this order of Allah's Apostle been hidden from me?" (Then he added), "I used to be busy trading in markets."

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اندر آنے کےلیے اجازت مانگی تو اجازت نہیں ملی غالبا وہ کسی کام میں مشغول تھے،تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمانے لگے: کیا میں عبد اللہ بن قیس(ابو موسیٰ اشعری) کی آواز نہیں سنی ان کو اندر آنے کےلیےاجازت دو۔ کہا گیا وہ تو لوٹ کر چلے گئے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں اسی کا حکم تھا کہ (تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہیے) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا (کہ کیا کسی نے اسے آپﷺسے سنا ہے) ان لوگوں نے کہا: کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے وہ ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: نبیﷺکا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔افسوس! مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا ، آپ رضی اللہ عنہ کی مراد تجارت سے تھی۔

Chapter No: 10

باب التِّجَارَةِ فِي الْبَحْرِ

Trading in sea.

باب : سمندر میں تجارت کرنے کا بیان

وَقَالَ مَطَرٌ لاَ بَأْسَ بِهِ وَمَا ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ إِلاَّ بِحَقٍّ ثُمَّ تَلاَ ‏{‏وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ‏}‏ وَالْفُلْكُ السُّفُنُ، الْوَاحِدُ وَالْجَمْعُ سَوَاءٌ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَمْخَرُ السُّفُنُ الرِّيحَ وَلاَ تَمْخَرُ الرِّيحَ مِنَ السُّفُنِ إِلاَّ الْفُلْكُ الْعِظَامُ‏

And Matar said, "There is no harm in it and whatever Allah has mentioned about it in the Quran is the truth." Then he recited, "... And you see the ships ploughing through it, that you may seek of His Bounty ..." (V.16:14)

اور مطربن طہان نے کہا سمندر میں سوداگری کے لیے سفر کرنا کچھ برا نہیں اور اللہ نے جو قرآن میں اس کا ذکر کیا ہے توبجا کیا ہے پھر انہوں نے سورہ نحل کی آیت پڑھی اور تو دیکھتا ہے جہاز پانی کو چیر تے چلے جا رہے ہیں فلک کشتیاں (جہاز ) اس کا مفرد بھی فلک ہے اور مجاہد نے کہا کشتیاں ہوا کو پھاڑتی ہیں اور ہوا کو وہی کشتیاں پھاڑتی ہیں جو بڑی ہوں (جیسے بعلےجہاز وغیرہ )

وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، خَرَجَ فِي الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ‏.‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بِهَذَا‏.‏

Abu Huraira said,"Allah's Apostle mentioned a person from Bani Israel who travelled by sea and carried out his needs." Then he narrated the whole story.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے بنو اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے سمندر کا سفر کیا پھر اپنا کام پورا کیا آخر حدیث تک۔

123Last ›