Sayings of the Messenger

 

Chapter No: 1

باب فِي الرَّهْنِ فِي الْحَضَرِ

The mortgaging in places occupied by settled population

باب: آدمی اپنی بستی میں ہو اور گرو رکھے ،

وَقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ‏}‏‏

And the Statement of Allah, "And if you are on a journey and cannot find a scribe, then let there be a pledge taken ..." (V.2:283)

اور اللہ تعالٰی نے (سورت بقرہ میں) فرمایا اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا کوئی نہ ملے تو ہاتھ گروی رکھ لو

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِرْعَهُ بِشَعِيرٍ، وَمَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ مَا أَصْبَحَ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ صَاعٌ، وَلاَ أَمْسَى ‏"‏‏.‏ وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ أَبْيَاتٍ‏

Narrated By Anas : No doubt, the Prophet mortgaged his armour for barley grams. Once I took barley bread with some dissolved fat on it to the Prophet and I heard him saying, "The household of Muhammad did not possess except a Sa (of food grain, barley, etc.) for both the morning and the evening meals although they were nine houses."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے اپنی زرہ جو کے بدلے گروی رکھی تھی۔ ایک دن میں خود آپﷺکے پاس جوکی روٹی اور باسی چربی لے کر حاضر ہوا تھا ۔ میں نے خود آپﷺسے سنا تھا ، آپﷺفرمارہے تھے کہ آل محمد ﷺپر کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں آئی کہ ایک صاع سے زیادہ کچھ اور موجود رہا ہو، حالانکہ آپﷺکے نو گھر تھے۔

Chapter No: 2

باب مَنْ رَهَنَ دِرْعَهُ

Mortgaging an armour.

باب : زرہ کو گرو رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ، وَالْقَبِيلَ فِي السَّلَفِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet bought some foodstuff on credit for a limited period and mortgaged his armour for it.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےر وایت ہے کہ نبی ﷺنے ایک یہودی سے غلہ خریدا ایک مقرر مدت کے قرض پر اور اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی تھی۔

Chapter No: 3

باب رَهْنِ السِّلاَحِ

Mortgaging the arms.

باب : ہتھیار گروی رکھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏.‏ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا‏.‏ فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ‏.‏ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ‏.‏ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا، وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ‏.‏ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ، فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ ـ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلاَحَ ـ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Who would kill Ka'b bin Al-Ashraf as he has harmed Allah and His Apostle ?" Muhammad bin Maslama (got up and) said, "I will kill him." So, Muhammad bin Maslama went to Ka'b and said, "I want a loan of one or two Wasqs of food grains." Ka'b said, "Mortgage your women to me." Muhammad bin Maslama said, "How can we mortgage our women, and you are the most handsome among the Arabs?" He said, "Then mortgage your sons to me." Muhammad said, "How can we mortgage our sons, as the people will abuse them for being mortgaged for one or two Wasqs of food grains? It is shameful for us. But we will mortgage our arms to you." So, Muhammad bin Maslama promised him that he would come to him next time. They (Muhammad bin Maslama and his companions came to him as promised and murdered him. Then they went to the Prophet and told him about it.

عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ﷺسے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کعب بن اشرف (یہودی ،اسلام کا پکا دشمن )کا کام کون تمام کرتا ہے کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکو بہت تکلیف دے رکھی ہے۔محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (یہ خدمت سرانجام دوں گا) چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہا: ایک یا دو وسق غلہ قرض لینے کے ارادے سے آیا ہوں۔ کعب نے کہا: لیکن تمہیں اپنی بیویوں کو میرے یہاں گروی رکھنا ہوگا ۔ محمد بن مسلمہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا: ہم اپنی بیویوں کو تمہارے پاس کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ جب کہ تم سارے عرب میں خوبصورت ہو۔ اس نے کہا: پھر اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا: ہم اپنی اولاد کس طرح رہن رکھ سکتے ہیں اسی پر انہیں گالی دی جایا کرے گی کہ ایک دو وسق غلے کےلیے رہن رکھ دئیے گئے تھے تو ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہوگی۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے ہاں رہن رکھ سکتے ہیں ۔ سفیان نے کہا: مراد لفظ "لامہ" سے ہتھیار ہیں ۔ پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کرکے (چلے آئے اور رات میں اس کے ہاں پہنچ کر) اسے قتل کردیا۔ پھر نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺکو خبر دی۔

Chapter No: 4

باب الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ

It is permissible to mortgage an animal used for riding or milking.

باب: گروی جانور پر سواری کرنا اور اس کا دو دھ پینا درست ہے ،

وَقَالَ مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ تُرْكَبُ الضَّالَّةُ بِقَدْرِ عَلَفِهَا، وَتُحْلَبُ بِقَدْرِ عَلَفِهَا، وَالرَّهْنُ مِثْلُهُ‏

Mughira narrated that Ibrahim said, "One can ride and milk the lost animal in proportion to the amount of food one gives to it. This is valid also for mortgaged animals."

اور مغیرہ نے ابراہیم نخعی سے نقل کیا انہوں نے کہا بھولے بھٹکے جانور پر اس کا چارہ نکلنے کے موافق سواری کی جائے اس کا دودھ دوہا جائے ایسے ہی گروی جانور پر بھی۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏"‏ الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "One can ride the mortgaged animal because of what one spends on it, and one can drink the milk of a milch animal as long as it is mortgaged."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺفرماتے تھے : گروی جانور پر اس کا خرچ نکلنے کے لئے سواری کی جائے،اور دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ ‏"‏ الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ النَّفَقَةُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The mortgaged animal can be used for riding as long as it is fed and the milk of the milch animal can be drunk according to what one spend on it. The one who rides the animal or drinks its milk should provide the expenditures."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: گروی جانور پر اس کے خرچ کے بدل سواری کی جائے ، اسی طرح دودھ والے جانور کا جب وہ گروی ہو تو خرچ کے بدل اس کا دودھ پیا جائے، اور جو کوئی سواری کرے یا دودھ پئے وہی اس کا خرچ اٹھائے۔

Chapter No: 5

باب الرَّهْنِ عِنْدَ الْيَهُودِ وَغَيْرِهِمْ

Mortgaging things to Jews and others.

باب: یہود وغیرہ کافروں کے پاس کوئی چیز گرو کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle bought some foodstuff from a Jew and mortgaged his armour to him.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے ایک یہودی سے کچھ مدت ٹھہرا کر غلہ خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔

Chapter No: 6

باب إِذَا اخْتَلَفَ الرَّاهِنُ وَالْمُرْتَهِنُ وَنَحْوُهُ فَالْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ

If a dispute arises between the mortgager and mortgagee, a proof is to be provided by the one who begin the lawsuit, otherwise the defendant has to take an oath.

باب :اگر راہن (جس کا مال ہو) اور مرتہن (گروی دار) کسی بات میں اختلاف کریں یا ان کی طرح دوسرے لوگ تو مدعی کو گواہ لانا اور منکر کو قسم کھانا چاہیے ۔

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ‏

Narrated By Ibn Abu Mulaika : I wrote a letter to Ibn 'Abbas and he wrote to me that the Prophet had given the verdict that the defendant had to take an oath.

ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں (دو عورتوں کے مقدمہ میں )لکھا تو اس کے جواب میں انہوں نے تحریر فرمایا: کہ نبیﷺنے فیصلہ کیا تھا کہ (اگر مدعی گواہ پیش نہ کرسکے ) تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ فَقَرَأَ إِلَى ‏{‏عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَحَدَّثْنَاهُ قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِيَّ وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَاهِدُكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلاَ يُبَالِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى ‏{‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏

Narrated By Abu Wail : Abdullah (bin Mas'ud) said, "Whoever took a false oath in order to grab somebody's property will meet Allah while Allah will be angry with him." Allah revealed the following verse to confirm that: "Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant And their oaths... a painful torment." (3.77) Al-Ash'ath bin Qais came to us and asked as to what Abu Abdur-Rehman (i.e. Ibn Mas'ud) was telling you." We related the story to him. On that he said, "He has told the truth. This verse was revealed about me. I had some dispute with another man regarding a well and we took the case before Allah's Apostle. Allah's Apostle said (to me), "Produce two witnesses (to support your claim); otherwise the defendant has the right to take an oath (to refute your claim).' I said, 'The defendant would not mind to take a false oath." Allah's Apostle then said, 'Whoever took a false oath in order to grab someone else's property will meet Allah, Allah will be angry with him.' Allah then revealed what Confirmed it." Al-Ash'ath then recited the following Verse: "Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant, And their oaths... (to)... they shall have a painful torment!' (3.77)

ابو وائل سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ اس طرح دوسرے کے مال پر اپنی ملکیت جمائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے (سورۂ آل عمران میں) یہ آیت نازل فرمائی :"وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی خریدتے ہیں"(سورۂ آل عمران : 77)آخر آیت تک انہوں نے تلاوت کی ۔ ابو وائل نے کہا: اس کے بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ ابو عبد الرحمن (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تم سے کونسی حدیث بیان کی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہم نے حدیث بالا ان کے سامنے پیش کردی۔اس پر انہوں نے کہا: انہوں نے سچ بیان کیا ہے ۔ میرا ایک (یہودی ) شخص سے کنویں کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا ۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے آپﷺنے فرمایا: کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی ۔ میں نے عرض کیا پھر یہ تو قسم کھالے گا اور (جھوٹ بولنے پر ) اسے کچھ پرواہ نہ ہوگی ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر کسی کا مال ہڑپ کرنے کےلیے جھوٹی قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر نہایت غضبناک ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی ۔ اس کے بعد انہوں نے وہی آیت پڑھی "جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی پونجی خریدتے ہیں " آیت (ولہم عذاب الیم) تک۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ فَقَرَأَ إِلَى ‏{‏عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَحَدَّثْنَاهُ قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِيَّ وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَاهِدُكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلاَ يُبَالِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى ‏{‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏

Narrated By Abu Wail : Abdullah (bin Mas'ud) said, "Whoever took a false oath in order to grab somebody's property will meet Allah while Allah will be angry with him." Allah revealed the following verse to confirm that: "Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant And their oaths... a painful torment." (3.77) Al-Ash'ath bin Qais came to us and asked as to what Abu Abdur-Rehman (i.e. Ibn Mas'ud) was telling you." We related the story to him. On that he said, "He has told the truth. This verse was revealed about me. I had some dispute with another man regarding a well and we took the case before Allah's Apostle. Allah's Apostle said (to me), "Produce two witnesses (to support your claim); otherwise the defendant has the right to take an oath (to refute your claim).' I said, 'The defendant would not mind to take a false oath." Allah's Apostle then said, 'Whoever took a false oath in order to grab someone else's property will meet Allah, Allah will be angry with him.' Allah then revealed what Confirmed it." Al-Ash'ath then recited the following Verse: "Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant, And their oaths... (to)... they shall have a painful torment!' (3.77)

ابو وائل سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ اس طرح دوسرے کے مال پر اپنی ملکیت جمائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے (سورۂ آل عمران میں) یہ آیت نازل فرمائی :"وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی خریدتے ہیں"(سورۂ آل عمران : 77)آخر آیت تک انہوں نے تلاوت کی ۔ ابو وائل نے کہا: اس کے بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ ابو عبد الرحمن (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تم سے کونسی حدیث بیان کی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہم نے حدیث بالا ان کے سامنے پیش کردی۔اس پر انہوں نے کہا: انہوں نے سچ بیان کیا ہے ۔ میرا ایک (یہودی ) شخص سے کنویں کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا ۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے آپﷺنے فرمایا: کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی ۔ میں نے عرض کیا پھر یہ تو قسم کھالے گا اور (جھوٹ بولنے پر ) اسے کچھ پرواہ نہ ہوگی ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر کسی کا مال ہڑپ کرنے کےلیے جھوٹی قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر نہایت غضبناک ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی ۔ اس کے بعد انہوں نے وہی آیت پڑھی "جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی پونجی خریدتے ہیں " آیت (ولہم عذاب الیم) تک۔