Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

‏{‏وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ‏}‏ يُرِيدُ لِسَانَ الْمِيزَانِ، وَالْعَصْفُ بَقْلُ الزَّرْعِ إِذَا قُطِعَ مِنْهُ شَىْءٌ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ فَذَلِكَ الْعَصْفُ‏.‏ ‏{‏وَالرَّيْحَانُ‏}‏ رِزْقُهُ‏.‏ ‏{‏وَالْحَبُّ‏}‏ الَّذِي يُؤْكَلُ مِنْهُ، وَالرَّيْحَانُ فِي كَلاَمِ الْعَرَبِ الرِّزْقُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ وَالْعَصْفُ يُرِيدُ الْمَأْكُولَ مِنَ الْحَبِّ، وَالرَّيْحَانُ النَّضِيجُ الَّذِي لَمْ يُؤْكَلْ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ الْعَصْفُ وَرَقُ الْحِنْطَةِ‏.‏ وَقَالَ الضَّحَّاكُ الْعَصْفُ التِّبْنُ‏.‏ وَقَالَ أَبُو مَالِكٍ الْعَصْفُ أَوَّلُ مَا يَنْبُتُ تُسَمِّيهِ النَّبَطُ هَبُورًا‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْعَصْفُ وَرَقُ الْحِنْطَةِ‏.‏ وَالرَّيْحَانُ الرِّزْقُ، وَالْمَارِجُ اللَّهَبُ الأَصْفَرُ وَالأَخْضَرُ الَّذِي يَعْلُو النَّارَ إِذَا أُوقِدَتْ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ مُجَاهِدٍ ‏{‏رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ‏}‏ لِلشَّمْسِ فِي الشِّتَاءِ مَشْرِقٌ، وَمَشْرِقٌ فِي الصَّيْفِ‏.‏ ‏{‏وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ‏}‏ مَغْرِبُهَا فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ‏{‏لاَ يَبْغِيَانِ‏}‏ لاَ يَخْتَلِطَانِ ‏{‏الْمُنْشَآتُ‏}‏ مَا رُفِعَ قِلْعُهُ مِنَ السُّفُنِ، فَأَمَّا مَا لَمْ يُرْفَعْ قَلْعُهُ فَلَيْسَ بِمُنْشَأَةٍ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏وَنُحَاسٌ‏}‏ الصُّفْرُ يُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ، يُعَذَّبُونَ بِهِ‏.‏ ‏{‏خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ‏}‏ يَهُمُّ بِالْمَعْصِيَةِ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَتْرُكُهَا، الشُّوَاظُ لَهَبٌ مِنْ نَارٍ‏.‏ ‏{‏مُدْهَامَّتَانِ‏}‏ سَوْدَاوَانِ مِنَ الرِّيِّ‏.‏ ‏{‏صَلْصَالٍ‏}‏ طِينٌ خُلِطَ بِرَمْلٍ، فَصَلْصَلَ كَمَا يُصَلْصِلُ الْفَخَّارُ‏.‏ وَيُقَالُ مُنْتِنٌ، يُرِيدُونَ بِهِ صَلَّ، يُقَالُ صَلْصَالٌ، كَمَا يُقَالُ صَرَّ الْبَابُ عِنْدَ الإِغْلاَقِ، وَصَرْصَرَ مِثْلُ كَبْكَبْتُهُ يَعْنِي كَبَبْتُهُ‏.‏ ‏{‏فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ‏}‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ الرُّمَّانُ وَالنَّخْلُ بِالْفَاكِهَةِ، وَأَمَّا الْعَرَبُ فَإِنَّهَا تَعُدُّهَا فَاكِهَةً كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى‏}‏ فَأَمَرَهُمْ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى كُلِّ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَعَادَ الْعَصْرَ تَشْدِيدًا لَهَا، كَمَا أُعِيدَ النَّخْلُ وَالرُّمَّانُ، وَمِثْلُهَا ‏{‏أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ‏}‏ ثُمَّ قَالَ ‏{‏وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ‏}‏ وَقَدْ ذَكَرَهُمْ فِي أَوَّلِ قَوْلِهِ ‏{‏مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ‏}‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏أَفْنَان‏}‏ أَغْصَانٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ‏{‏ مَا يُجْتَنَى قَرِيبٌ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏فَبِأَىِّ آلاَءِ‏}‏ نِعَمِهِ‏.‏ وَقَالَ قَتَادَةُ ‏{‏رَبِّكُمَا‏}‏ يَعْنِي الْجِنَّ وَالإِنْسَ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ‏{‏كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ‏}‏ يَغْفِرُ ذَنْبًا، وَيَكْشِفُ كَرْبًا، وَيَرْفَعُ قَوْمًا، وَيَضَعُ آخَرِينَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏بَرْزَخٌ‏}‏ حَاجِزٌ، الأَنَامُ الْخَلْقُ ‏{‏نَضَّاخَتَانِ‏}‏ فَيَّاضَتَانِ ‏{‏ذُو الْجَلاَلِ‏}‏ ذُو الْعَظَمَةِ وَقَالَ غَيْرُهُ مَارِجٌ خَالِصٌ مِنَ النَّارِ، يُقَالُ مَرَجَ الأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ إِذَا خَلاَّهُمْ يَعْدُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ‏.‏ مَرَجَ أَمْرُ النَّاسِ ‏{‏مَرِيجٍ‏}‏ مُلْتَبِسٌ ‏{‏مَرَجَ‏}‏ اخْتَلَطَ الْبَحْرَانِ، مِنْ مَرَجْتَ دَابَّتَكَ تَرَكْتَهَا‏.‏ ‏{‏سَنَفْرُغُ لَكُمْ‏}‏ سَنُحَاسِبُكُمْ، لاَ يَشْغَلُهُ شَىْءٌ عَنْ شَىْءٍ وَهْوَ مَعْرُوفٌ فِي كَلاَمِ الْعَرَبِ يُقَالُ لأَتَفَرَّغَنَّ لَكَ وَمَا بِهِ شُغْلٌ يَقُولُ لآخُذَنَّكَ عَلَى غِرَّتِكَ‏.‏

مجاہد نے کہا بِحُسبَانٍ یعنی چکی کی طرح گھوم رہے ہیں۔ اوروں نے کہا وَ اَقِیمُوا الوَزنَ کا معنی یہ ہے کہ ترازو کی زبان سیدھی رکھو (یعنی برابر تولو)۔ عصف کہتے ہیں کھیتی کی اس پیداوار (سبزے) کو جس کو پکنے سے پہلے کاٹ لیں۔ یہ تو عصف کے معنی ہوئے ریحانکامعنی کھیتی کے پتے اور دانے جن کو کھاتے ہیں۔ ریحان عربی زبان میں روزی کو کہتے ہیں۔ اور بعض لوگوں نے کہا عصف وہ دانےجوکھائے جاتے ہیں الخ۔ اور ریحان وہ پکا غلہ جس کو (کچا) نہیں کھاتے۔ اوروں نے کہا عصف گیہوں کے پتے۔ ضحاک نے کہا عصف بھوسا (جو جانور کھاتے ہیں)۔ ابو مالک غفاری (تابعی) نے کہا عصف کھیتی کا وہ سبز ہ جو پہلے پہل اگتا ہے کسان لوگ اسے ہبور (مولگے) کہتے ہیں۔ مجاہد نے کہا عصف گیہوں کا پتہ اور ریحان روزی۔ مَارِجٌ آگ کی لپٹ (لو) زرد یا سبز جو آگ روشن کرنے پر اوپر چڑھتی ہے۔ بعضوں نے مجاہد سے روایت کی رَبُّ المَشرِوَینِ وَ اَبُّ المَغرِبَینِ میں مشرقین سے جاڑے اور گرمی کی مشرق اور مغربین سے جاڑے اور گرمی کی مغرب مراد ہے۔ لَا یَبغِیَانِ مل نہیں جاتے۔ المنشٰاتُ وہ کشتیاں جن کا بادبان اٹھایا گیا ہو۔ وہی دور سے پہاڑ کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔ اور جن کشتیوں کا بادبان نہ چڑھا جائے ان کو منشات نہیں کہیں گے۔ مجاہد نے کہا کَا الفَخَّار یعنی جیسے ٹھیکرا بنایا جاتا ہے۔ الشواظ آگ کا شعلہ (جس میں دھواں ہو)۔ نُحَاس پیتل جو گلا کر دوزخیوں کے سر پر ڈالا جائے گا، ان کو اس سے عذاب دیا جائے گا۔ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی گناہ کرنے کا قصد کرے پھر اپنے پروردگار کو یاد کر کے اس سے باز آجائے۔ مُدھَامَّتان بہت شادابی کی وجہ سے کالے (یا سبز) ہو رہے ہوں گے۔ صَلصَالٍ وہ گارا (کیچڑ عسل) جس میں ریت ملی ہوئی ہو۔وہ ٹھیکری کی طرح کھنکھنانے لگے۔ بعضوں نے کہا صلصال بدبودار کیچڑ۔ جیسے کہتے ہیں صل اللّحم یعنی گوشت بدبودار ہو گیا، سڑ گیا۔ جیسے صرّ البا ب دروازے نے بند ہوتے وقت آواز دی اورصَرصَرَ الباب کی مثال کبکبتہ کی طرح ہے یعنی کببتہ ۔ وَ نَحل و رَمان یعنی وہاں میوہ ہو گا۔ اور کھجور اور انار۔ اس آیت سے بعضوں نے (امام ابو حنیفہؒ نے) یہ نکالا ہے کہ کھجور اور انار میوہ نہیں ہیں۔ عرب لوگ تو ان دونوں کو میوؤں میں شمار کرتے ہیں۔ اب رہا نخل اور رمان کا عطف فاکہہ پر تو ایسا ہے جیسے دوسری آیت میں فرمایا حَافِظُوا عَلی صَّلَواۃِ وَصَّلَواۃِ الوُسطٰی تو پہلے سب نمازوں کی محافظت کا حکم دیا۔ صَّلَواۃِ الوُسطٰی بھی ان میں آ گئی۔ پھر صَّلَواۃِ الوُسطٰی کو (عطف کر کے) دوبارہ بیان نہیں کیا۔ اس سے غرض یہ ہے کہ اس کا اور زیادہ خیال رکھو۔ ایسے ہی یہاں بھی نخل اور رمان فاکھۃ میں آ گئے تھے۔ مگے ان کی عمدگی کی وجہ سے دوبارہ ان کا ذکر کیا گیا اور جیسے اس آیت میں فرمایا اَ لَم تَرَ اَنَّ اللہَ یَسجُدُ لَہُ مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَن ٖفِی الارض پھر اس کے بعد فرمایا وَ کَثِیرٌ مِّنَ النَّاسِ وَ کَثِیرٌ حَقَّ عَلَیہِ العَذَابٌ حالانکہ یہ دونوں مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَن ٖفِی الارض میں آ گئے تھے۔ اوروں نے (مجاہدؒ اور ابو حنیفہؒ کے سوا) کہا اَفنانٍ کا معنی شاخیں (ڈالیاں) ۔ وَ جَنَی الجَنَّتَینِ دَانٍ یعنی دونوں باغوں کا میوہ قریب ہو گا۔اور حسن بصری نے کہا فَبِاَیِّ ّلَاءِ یعنی اس کی کون کون سی نعمتوں کو ۔ اور قتادہ نے کہا رَبِّکُمَا میں جن اور آدمیوں کی طرف خطاب ہے۔ اور ابو درداء نے کہا کُلَّ یَومٍ ھُوَ فِی شَانٍ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا گناہ بخشتا ہے کسی کی تکلیف دور کرتا ہے، کسی قوم کو بڑھاتا ہے، کسی قوم کو گھٹاتا ہے۔ اور ابن عباسؓ نے کہا برزخ سے آڑ مراد ہے۔ الانام ، خلقت نضّاختان خیر اور برکت بہاریں ہیں۔ ذُو الجَالِ بزرگی والا۔ اوروں نے کہا مَارِجٍ خالص انگار (جس میں دھواں نہ ہو)۔ عرب لوگ کہتے ہیں مرج الامیر رعیّتہ یعنی حاکم نے اپنی رعیت کا خیال چھوڑ دیا۔ ایک کو ایک ستا رہے ہیں۔ مریج (جو سورہ قٓ میں ہے) اس کا معنی گڈمڈ (ملا ہوا)۔ مَرَجَ البَحرَان یعنی دونوں دریا مل گئے۔َمَرَجَت دابتک سے نکلا ہے۔ سَنَفرُغُ لَکُم ہم عنقریب تمھارا حساب کریں گے۔ یہاں فراغت کے معنی نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالٰی کو کوئی چیز دوسری چیز کی طرف خیال رکھنے سے با ز نہیں رکھ سکتی۔یہ ایک محاورہ ہے جو عرب لوگوں میں مشہور ہے کوئی شخص بیکار ہوتا ہے اس کو فرصت ہوتی ہے لیکن (ڈرانے کے لئے) دوسرے سے کہتا ہے اچھا میں تیرے لئے فراغت کرونگا یعنی دفعۃً جب تو غافل ہو گا تجھ کو سزا دوں گا۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ: ‏{‏وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ‏}‏

The Statement of Allah, "And besides these two, there are two other gardens (in Paradise)." (V.55:62)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ مِن دُونِھِمَا جَنَّتَانِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلاَّ رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abdullah bin Qais : Allah's Apostle said, "Two gardens, the utensils and the contents of which are of silver, and two other gardens, the utensils and contents of which are of gold. And nothing will prevent the people who will be in the Garden of Eden from seeing their Lord except the curtain of Majesty over His Face."

ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبد الصمد عمی نے، کہا ہم سے ابو عمران جونی نے، انہوں نے ابو بکر بن عبداللہ بن قیس سے، انہوں نے اپنے والد (ابو موسٰی اشعریؓ) سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا (بہشت میں) دو باغ چاندی کے ہونگے۔ ان کے برتن سامان وغیرہ بھی سب چاندی کے ہونگے۔ اور دو باغ سنہری ان کے برتن اور سامان سب سونے کے ہونگے۔ اور جنت العد والوں میں اور ان کے پروردگار میں ایک جلال کی چادر حائل ہو گی جو پروردگار کے منہ پر پڑی ہو گی۔ ورنہ (ہر وقت) اس کو دیکھتے رہتے۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ‏}‏

"Hur (beautiful fair females) guarded in pavilions." (V.55:72)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول حُورٌ مَّقصُوراتٌ فِی الخِیَام کی تفسیر۔

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏حُورٌ‏}‏ سُودُ الْحَدَقِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏مَقْصُورَاتٌ‏}‏ مَحْبُوسَاتٌ، قُصِرَ طَرْفُهُنَّ وَأَنْفُسُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، قَاصِرَاتٌ لاَ يَبْغِينَ غَيْرَ أَزْوَاجِهِنَّ‏.‏

اور ابن عباسؓ نے کہا حور کا معنی کالی آنکھوں والی۔ اور مجاہدؒ نے کہا مقصورات کا معنی ان کی نگاہ اور جان اپنے شوہروں پر رکی ہو گی(اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر آنکھ نہیں ڈالنے کی)۔ قاصرات کا معنی اپنے خاوند کے سوا اور کسی کی خواہشمند نہ ہونگی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ، عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلاً، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ، مَا يَرَوْنَ الآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُونَ ‏"‏‏.

Narrated By Abdullah bin Qais : Allah's Apostle said, "In Paradise there is a pavilion made of a single hollow pearl sixty miles wide, in each corner of which there are wives who will not see those in the other corners; and the believers will visit and enjoy them.

ہم سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن عبد الصمد نے، کہا ہم سے ابو عمران جونی نے انہوں نے ابو بکر بن عبداللہ بن قیس سے، انہوں نے اپنے والد سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بہشت میں ایک خیمہ ہو گاخولدار موتی کا۔جس کا عرض ساٹھ کوس کا ہو گا۔اس کے ہر کونے میں مسلمان کی بی بیاں بیٹھی ہونگی۔ ایک بی بی دوسری بی بی کو دکھلائی بھی نہیں دے گی اور مسلمان ان سب کے پاس پھرتا رہے گا (ہر ایک سے مزے اڑاتا رہے گا)۔


‏ وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ كَذَا آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلاَّ رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ‏"

And there are two gardens, the utensils and contents of which are made of silver; and two other gardens, the utensils and contents of which are made of so-and-so (i.e. gold) and nothing will prevent the people staying in the Garden of Eden from seeing their Lord except the curtain of Majesty over His Face."

اور بہشت میں دو باغ چاندی کے ہونگے جب کے برتن اور سامان سب چاندی کے اور دو باغ سونے کے ہونگے۔ جن کے برتن اور سامان سب سونے کے ۔ اور جنت العدن والوں کو اللہ تعالٰی کے دیدار میں صرف ایک جلال کی چادر حائل ہو گی جو اس کے (مبارک) منہ پر پڑی ہو گی۔