Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

يُقَالُ مَعْنَاهُ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ، وَهَلْ تَكُونُ جَحْدًا وَتَكُونُ خَبَرًا، وَهَذَا مِنَ الْخَبَرِ، يَقُولُ كَانَ شَيْئًا فَلَمْ يَكُنْ مَذْكُورًا، وَذَلِكَ مِنْ حِينِ خَلَقَهُ مِنْ طِينٍ إِلَى أَنْ يُنْفَخَ فِيهِ الرُّوحُ، ‏{‏أَمْشَاجٍ‏}‏ الأَخْلاَطُ مَاءُ الْمَرْأَةِ، وَمَاءُ الرَّجُلِ الدَّمُ وَالْعَلَقَةُ‏.‏ وَيُقَالُ إِذَا خُلِطَ مَشِيجٌ كَقَوْلِكَ خَلِيطٌ‏.‏ وَمَمْشُوجٌ مِثْلُ مَخْلُوطٍ، وَيُقَالَ ‏{‏سَلاَسِلاً وَأَغْلاَلاً‏}‏ وَلَمْ يُجْرِ بَعْضُهُمْ ‏{‏مُسْتَطِيرًا‏}‏ مُمْتَدًّا، الْبَلاَءُ وَالْقَمْطَرِيرُ الشَّدِيدُ، يُقَالَ يَوْمٌ قَمْطَرِيرٌ وَيَوْمٌ قُمَاطِرٌ، وَالْعَبُوسُ وَالْقَمْطَرِيرُ وَالْقُمَاطِرُ وَالْعَصِيبُ أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ الأَيَّامِ فِي الْبَلاَءِ‏.‏ وَقَالَ مَعْمَرٌ ‏{‏أَسْرَهُمْ‏}‏ شِدَّةُ الْخَلْقِ، وَكُلُّ شَىْءٍ شَدَدْتَهُ مِنْ قَتَبٍ فَهْوَ مَأْسُورٌ‏.‏

ھَل اَتٰی کا معنی آ چکا۔ ھَل کا لفظ کبھی تو انکار کے لئے آتا ہے، کبھی تحقیق کے لئے (قد کے معنی میں)۔ یہاں قد کے معنی میں ہے۔ یعنی ایک زمانہ انسان پر آ چکا کہ وہ ذکر کرنے کے قابل چیز نہ تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب مٹی سے اس کا پتلہ بنایا گیا تھا۔اس وقت جب روح اس پر پھونکی گئی۔ امشاج ملی ہوئی چیزیں یعنی مرد اور عورت دونوں کی منی، خون اور پھٹکی۔ اور جب کوئی چیز دوسری چیز سے ملا دی جائےتو کہتے ہیں مشیج۔ جیسے خلیط یعنی ممشوج اور مخلوط۔ بعضوں نے یوں پڑھا ہے سَلَا اِلًا و اَغلَالًا (بعضوں نے سلاسل و اغلالا) بغیر تنوین کے پڑھا ہے۔ انہوں نے سلاسِلَ کی تنوین جائز نہیں رکھی۔ مُستَطِیرًا سخت۔ عرب لوگ کہتے ہیں یَومٌ قمطریر و یوم قماطیر یعنی (سخت مصیبت کا دن) عُبوس اور قمطریر اور قماطر اور عصیب ان چاروں کا معنی وہ دن جس میں سخت مصیبت آئے اور معمر بن عبیدہ نے کہا ۔ شَدَدنَا اَسرھُم کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کی خلقت خوب مضبوط کی۔ عرب لوگ جس چیز کو تو باندھے۔ جیسے پالان، ہودہ وغیرہ۔ اس کو مَاسُور کہتے ہیں۔