Sayings of the Messenger

 

12

باب

Chapter

باب

{‏وَلِيجَةً‏}‏ كُلُّ شَىْءٍ أَدْخَلْتَهُ فِي شَىْءٍ ‏{‏الشُّقَّةُ‏}‏ السَّفَرُ، الْخَبَالُ الْفَسَادُ، وَالْخَبَالُ الْمَوْتُ‏.‏ ‏{‏وَلاَ تَفْتِنِّي‏}‏ لاَ تُوَبِّخْنِي‏.‏ ‏{‏كَرْهًا‏}‏ وَكُرْهًا وَاحِدٌ‏.‏ ‏{‏مُدَّخَلاً‏}‏ يُدْخَلُونَ فِيهِ‏.‏ ‏{‏يَجْمَحُونَ‏}‏ يُسْرِعُونَ ‏{‏وَالْمُؤْتَفِكَاتِ‏}‏ ائْتَفَكَتْ انْقَلَبَتْ بِهَا الأَرْضُ‏.‏ ‏{‏أَهْوَى‏}‏ أَلْقَاهُ فِي هُوَّةٍ‏.‏ ‏{‏عَدْنٍ‏}‏ خُلْدٍ، عَدَنْتُ بِأَرْضٍ أَىْ أَقَمْتُ، وَمِنْهُ مَعْدِنٌ وَيُقَالُ فِي مَعْدِنِ صِدْقٍ‏.‏ فِي مَنْبِتِ صِدْقٍ‏.‏ الْخَوَالِفُ الْخَالِفُ الَّذِي خَلَفَنِي فَقَعَدَ بَعْدِي، وَمِنْهُ يَخْلُفُهُ فِي الْغَابِرِينَ، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ النِّسَاءُ مِنَ الْخَالِفَةِ، وَإِنْ كَانَ جَمْعَ الذُّكُورِ فَإِنَّهُ لَمْ يُوجَدْ عَلَى تَقْدِيرِ جَمْعِهِ إِلاَّ حَرْفَانِ فَارِسٌ وَفَوَارِسُ، وَهَالِكٌ وَهَوَالِكُ‏.‏ ‏{‏الْخَيْرَاتُ‏}‏ وَاحِدُهَا خَيْرَةٌ وَهْىَ الْفَوَاضِلُ‏.‏ ‏{‏مُرْجَئُونَ‏}‏ مُؤَخَّرُونَ‏.‏ الشَّفَا شَفِيرٌ وَهْوَ حَدُّهُ، وَالْجُرُفُ مَا تَجَرَّفَ مِنَ السُّيُولِ وَالأَوْدِيَةِ‏.‏ ‏{‏هَارٍ‏}‏ هَائِرٍ‏.‏ ‏{‏لأَوَّاهٌ‏}‏ شَفَقًا وَفَرَقًا‏.‏ وَقَالَ إِذَا مَا قُمْتُ أَرْحَلُهَا بِلَيْلٍ تَأَوَّهُ آهَةَ الرَّجُلِ الْحَزِينِ

مرصد،راستہ الاّ اٰل اور قرابت الذّمہ،عہد ولیجہ وہ چیز ہے جو دوسری چیز کے اندر گھسیڑی جائے (یہاں مراد بہیدی ہے) الشقہّ سفر (یا دور دراز راہ) خبال کے معنی فساد اور خبال موت کو بھی کہتے ہیں۔ولاتفتنی یعنی مجھ کو مت جھڑک مجھ پر خفامت ہو۔کَرھاً اور کُرھاً دونوں کا معنی ایک ہے یعنی زبردستی اور ناخوشی سے۔مدخلاً گھس کر بیٹھنے کا مقام (مثلاً سرنگ وغیرہ) یجمحون دوڑتے جائیں مؤتفکات یہ ائتفکت بہ الارض سے نکلا ہے یعنی اس کی زمین الٹ دی گٰئی اَھویٰ اسکو گڑھے میں دھکیل دیا جنات عدن ،عدن کا معنی ہمیشگی جیسے عرب لوگ کہتے ہیں عدنت بارض یعنی میں اس سرزمین میں رہ گیا اسی سے معدن کا لفظ نکلا ہے عرب لوگ کہتے ہیں فی معدن صدق یعنی اس سرزمین میں جہاں سچائی اُگتی ہے الخوالف خالف وہ جو مجھ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہا اسی سے یہ حدیث واخلفہ فی الغابرین یعنے جو لوگ میت کے بعد باقی رہ گئے تو ان کا قائم مقام بن اور خوالف بھی مراد ہو سکتی ہیں اس صورت میں یہ خلفہ کی جمع ہوگی اگر خالف مذکر کی جمع ہو تو یہ شاذ ہوگی کیونکہ مذکر کی لغت عرب میں دو ہی جمع آئی ہیں جیسے فارس اور فوارس اور ہالک اور ہوالک الخیرات خیرۃٌ کی جمع ہے یعنی نیکیاں ،بھلائیاں۔مُرجَونَ ڈھیل میں ڈالے گئے (زیر دریافت رہے) الشفا کہتے ہیں شفیر کو یعنی کنارہ الجُرفُ کگار جو ندی اور نالوں کے بہاؤ سے کھد جاتی ہے ھار گرنیوالی اسی سے ہے۔تھورت البئر اور اَنھَارَت یعنے کنواں گر گیا اَوَاہٌ یعنی (خدا کے) خوف سے آہوزاری کرنیوالا (جیسے شاعر (مثقب عبدی) کہتا ہے ۔رات کو اٹھ کر کسوں جب اونٹنی ،غمزدہ مردوں کی سی کرتی ہے آہ

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ ‏{‏بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ‏}‏

Allah's Statement, "Freedom from (all) obligations (is declared) from Allah and His Messenger (s.a.w) to those of the Polytheists with whom you made a treat." (V.9:1)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول بَرَاءَۃٌ مِنَ اللہِ وَ رَسُولِہِ اِلَی الَّذِینَ عَاھَدتُّم ۔ کی تفسیر۔

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏أُذُنٌ‏}‏ يُصَدِّقُ ‏{‏تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا‏}‏ وَنَحْوُهَا كَثِيرٌ، وَالزَّكَاةُ الطَّاعَةُ وَالإِخْلاَصُ ‏{‏لاَ يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ‏}‏ لاَ يَشْهَدُونَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏{‏يُضَاهُونَ‏}‏ يُشَبِّهُونَ‏

اذان کا معنی آگاہ کرنا،ابن عباسؓ نے کہا اُذُن اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر بات سن لے اور اس پر یقین کرے۔ تُطَھِّر ھُم وَ تُزَکِّیھِم کا ایک ہی معنی ہے ایسے الفاظ (مترادف) قرآن مجید میں بہت ہیں۔ زکوٰۃ کا معنی بندگی اور اخلاص ۔ لَا یُؤتُونَ الزَّکوٰۃ کا مطلب لا الہ الا اللہ کی دگواہی نہیں دیتے۔ یُضَاھِئُونَ قَولَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِن قبل کافروں کی سی بات کرتے ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ ‏{‏يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ‏}‏ وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةٌ‏.

Narrated By Al-Bara : The last Verse that was revealed was: 'They ask you for a legal verdict: Say: Allah directs (thus) about Al-Kalalah (those who leave no descendants or ascendants as heirs).' And the last Sura which was revealed was Baraatun (9).

ہم سے ابو الولید (ہشام بن عبد الملک) نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے ابو اسحاق سے کہا، میں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے سب سے اخیر میں جو آیت نازل ہوئی وہ آیت ہے یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ اور سب سے اخیر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورت براءت ہے۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِهِ ‏{‏فَسِيحُوا فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ‏}‏ {فَسِيحُوا }سِيرُوا

His (Allah) Statement, "So travel freely (O Pagans) for four months throughout the land, but know that you cannot escape Allah, and Allah will disgrace the disbelievers." (V.9:2)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول فَسِیحُوا فِی الاَرضِ اَربَعَۃَ اَشھُرٍ وَ اعلَمُوا اَنَّکُم غَیرُ مُعجِزِی اللہ و انّ اللہ مخزی الکافِرِینَ ۔ کی تفسیر۔

فَسِیحُوا کا معنی زمین میں چلو اور پھرو

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَهْلِ مِنًى بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏

Narrated By Humaid bin Abdur-Rahman : Abu Huraira said, "During that Hajj (in which Abu Bakr was the chief of the pilgrims) Abu Bakr sent me along with announcers on the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja) in Mina to announce: "No pagans shall perform, Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka'ba in a naked state." Humaid bin 'Abdur Rahman added: Then Allah's Apostle sent Ali bin Abi Talib (after Abu Bakr) and ordered him to recite aloud in public Surat Bara'a. Abu Huraira added, "So 'Ali, along with us, recited Bara'a (loudly) before the people at Mina on the Day of Nahr and announced; "No pagan shall perform Hajj after this year and none shall perform the Tawaf around the Ka'ba in a naked state."

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا (مجھ کو بیان کیا یا) مجھ کو خبر دی حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے کہ ابو ہریرہؓ نے کہا کہ ابو بکر نے اس حج میں دسویں تاریخ ذی الحجہ کی اور منادی کرنے والوں کے ساتھ مجھ کو بھی بھیجا یہ منادی کرنے کو کہ اس سال کے بعد پھر کوئؑی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے (جیسے مشرک کیا کرتے تھے) حمید ابن عبدالرحمٰن نے کہا (ابو بکرؓ کو روانہ کرنے کے بعد) ان کے پیچھے ہی رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالبؓ کو روانہ کیا۔ ان کو بھی حکم دیا کہ سورت براءت (کافروں کو) سنا دیں۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ علیؓ نے بھی ہمارے ساتھ دس ذی الحجہ کو منیٰ میں براءت کی منادی کی اور یہ کہا کہ اب اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کو آئے اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ شریف کا طواف کرے۔

Chapter No: 3

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ‏}‏ آذَنَهُمْ أَعْلَمَهُمْ

Allah's Statement, "And a declaration from Allah and His Messenger ... Pagans." (V.9:3)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ اَذَانٌ مِّنَ اللہِ وَ رَسُولِہِ ۔ الی قولہ ۔ المُشرِکِینَ ۔ کی تفسیر

آذَنَھُم کا معنی ان کو آگاہ کیا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي الْمُؤَذِّنِينَ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏ قَالَ حُمَيْدٌ ثُمَّ أَرْدَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏

Narrated By Humaid bin Abdur Rahman : Abu Huraira said, "Abu Bakr sent me in that Hajj in which he was the chief of the pilgrims along with the announcers whom he sent on the Day of Nahr to announce at Mina: "No pagan shall perform Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka'ba in a naked state." Humaid added: That the Prophet sent 'Ali bin Abi Talib (after Abu Bakr) and ordered him to recite aloud in public Surat-Baraa. Abu Huraira added, "So 'Ali, along with us, recited Bara'a (loudly) before the people at Mina on the Day of Nahr and announced "No pagan shall perform Hajj after this year and none shall perform the Tawaf around the Ka'ba in a naked state."

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، کہا مجھ سے عقیل نے کہ ابن شھاب نے کہا مجھ کو حمید بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ ابو ہریرہؓ نے کہا ابو بکرؓ نے مجھ کو بھی منادی کرنے والوں کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو اس حج میں یہ منادی کرنے کو بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئؑی مشرک حج نہ کرے اور کوئی شخص ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے حمید نے کہاپھر ابو بکرؓ کے فورابعد رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالبؓ کو بھیجا۔ ان کو بھی یہ حکم دیا کہ براءت کی سورت کافروں کو سنا دیں۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ علیؓ نے بھی منیٰ میں ہمارے ساتھ رہ کر سورت براءت لوگوں کو سنائی اور یہ منادی کی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ شریف کا طواف کرنے پائے۔

Chapter No: 4

باب ‏{‏إِلاَّ الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ‏}‏

"Except those of the Pagans with whom you (Muslims) have a treaty ..." (V.9:4)

باب: سوائے مشرکو ں میں سے وہ لوگ جن سے تم نے عہد باندھا۔

حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ أَنْ لاَ يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏ فَكَانَ حُمَيْدٌ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ‏.‏ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏

Narrated By Humaid bin 'Abdur-Rahman : Abu Huraira said that Abu Bakr sent him during the Hajj in which Abu Bakr was made the chief of the pilgrims by Allah's Apostle before (the year of) Hajjat al-Wada in a group (of announcers) to announce before the people; 'No pagan shall perform the Hajj after this year, and none shall perform the Tawaf around the Ka'ba in a naked state. Humaid used to say The Day of Nahr is the day of Al-Hajj Al-Akbar (the Greatest Day) because of the narration of Abu Huraira.

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے، کہا ہم سے والد (ابراہیم بن سعد) نے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شھاب سے، ان کو حمید بن عبد الرحمٰن نے خبر دی، ان کو ابو ہریرہؓ نے کہ ابو بکرؓ نے اس حج میں جو حجۃ الودع سے پہلے تھا، جس میں رسول اللہ ﷺ نے ان کو سردار بنا کر بھیجا تھا مجھ کو کئی اور آدمیوں کے ساتھ لوگوں میں یہ منادی کرنے کو بھیجا کہ اس سال کے بعد اب کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنے پائے۔ حمید کہتے ہیں ذیحجہ کا دسواں دن یہی حج اکبر کا دن ہے۔ ابو ہریرہؓ کی حدیث سے یہی نکلتا ہے۔

Chapter No: 5

باب ‏{‏فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ‏}‏

The Statement of Allah, "Fight you the leaders of disbelief for surely their oaths are nothing to them ..." (V.9:12)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول فَقَاتِلُوا ائِمَّۃَ الکُفرِ اِنَّھُم لَا اَیمَانَ لَھُم ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقَالَ مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ الآيَةِ إِلاَّ ثَلاَثَةٌ، وَلاَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلاَّ أَرْبَعَةٌ‏.‏ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّكُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم تُخْبِرُونَا فَلاَ نَدْرِي فَمَا بَالُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يَبْقُرُونَ بُيُوتَنَا وَيَسْرِقُونَ أَعْلاَقَنَا‏.‏ قَالَ أُولَئِكَ الْفُسَّاقُ، أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلاَّ أَرْبَعَةٌ‏.‏ أَحَدُهُمْ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ الْبَارِدَ لَمَا وَجَدَ بَرْدَهُ‏.‏

Narrated By Zaid bin Wahb : We were with Hudhaifa and he said, "None remains of the people described by this Verse (9.12), "Except three, and of the hypocrites except four." A bedouin said, "You the companions of Muhammad! Tell us (things) and we do not know that about those who break open our houses and steal our precious things? ' He (Hudhaifa) replied, "Those are Al Fussaq (rebellious wrongdoers) (not disbelievers or hypocrites). Really, none remains of them (hypocrite) but four, one of whom is a very old man who, if he drinks water, does not feel its coldness."

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے، کہا ہم سے زید بن وہب نے، انہوں نے کہا کہ ہم حذیفہ بن یمانؓ (صحابی) کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں انہوں نے کہا کہ آیت فَقَاتِلُوا ائِمَّۃَ الکُفرِ اِنَّھُم لَا اَیمَانَ لَھُم جن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں اب صرف تین شخص باقی ہیں۔ اسی طرح اب منافقوں میں سے بھی چار شخص باقی ہیں۔ اتنے میں ایک گنوار (نام نامعلوم) کہنے لگا بھائی! تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہو ہم کو بتلاؤ ہم نہیں جانتے ان لوگوں کا کیا حال ہونا ہے جو ہمارے گھروں میں نقب مارتے ہیں۔ اور ہمارے عمدہ عمدہ مال چراتے ہیں۔( یا قفل کنجی چرا لیتے ہیں) حذیفہؓ نے کہا یہ لوگ تو گنہگار اور بد کار ہیں۔ ہاں ہاں ان منافقوں میں سے چار شخص اب زندہ ہیں ۔ میں ان کو جانتا ہوں ان میں ایک ایسا بوڑھا پھونس ہے اگر ٹھنڈا پانی پئے تو اس کی ٹھنڈک نہیں پاتا۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ‏}‏

The Statement of Allah, "... And those who hoard up gold and silver and spend it not in the Way of Allah, announce to them a painful torment." (V.9:34)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ الَّذِینَ یَکنِزُونَ الذَّھَبَ وَ الفِضَّۃَ وَ لَا یُنفِقُونَھَا فِی سَبِیلِ اللہِ فَبَشِّرھُم بِعَذَابٍ اَلِیمٍ ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The Kanz (money, the Zakat of which is not paid) of anyone of you will appear in the form of bald-headed poisonous male snake on the Day of Resurrection."

ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابو الزناد نے بیان کیا، ان سے عبد الرحمٰن اعرج نے، کہا مجھ سے ابو ہریرہؓ نے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ۔ آپؐ فرماتے تھے قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ (جس کی زکوٰۃ وہ نہ دیتا ہو) ایک گنجا سانپ بنے گا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ مَرَرْتُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ فَقُلْتُ مَا أَنْزَلَكَ بِهَذِهِ الأَرْضِ قَالَ كُنَّا بِالشَّأْمِ فَقَرَأْتُ ‏{‏وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ‏}‏ قَالَ مُعَاوِيَةُ مَا هَذِهِ فِينَا، مَا هَذِهِ إِلاَّ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنَّهَا لَفِينَا وَفِيهِمْ‏.

Narrated By Zaid bin Wahb : I passed by (visited) Abu Dhar at Ar-Rabadha and said to him, "What has brought you to this land?" He said, "We were at Sham and I recited the Verse: "They who hoard up gold and silver and spend them not in the way of Allah; announce to them a painful torment, " (9.34) where upon Muawiya said, 'This Verse is not for us, but for the people of the Scripture.' Then I said, 'But it is both for us (Muslim) and for them.'"

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے، انہوں نے حصین بن عبد الرحمٰن سے، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے کہا میں نے ربذہ (ایک مقام ہے مدینہ کے قریب) میں ابو ذرغفاریؓ کو پایا۔ ان سے پوچھا تم یہاں جنگل میں کیوں آن پڑے؟ انہوں نے کہا ہم ملک شام میں تھے۔ (مجھ میں اور معاویہؓ وہاں کے حاکم میں جھگڑا ہو گیا)۔ میں نے یہ آیت پڑی۔ وَ الَّذِینَ یَکنِزُونَ الذَّھَبَ الخ تو معاویہ کہنے لگے یہ آیت ہم مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے (گو وہ کتنے ہی خزانے جمع کریں اور زکوٰۃ دیتے رہیں) بلکہ اہل کتاب کے حق میں ہے۔ میں نے کہا یہ آیت عام ہے۔ ہم اور ان سب کو شامل ہے۔

Chapter No: 7

باب قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا}الآية ‏

The Statement of Allah, "On the Day when that (Gold, Silver) will be heated in the fire of Hell, and with it will be branded their foreheads ..." (V.9:35)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول یَومَ یُحمَی فِی نَارِ جَھَنَّمَ ۔ کی تفسیر

وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ، الزَّكَاةُ، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طُهْرًا لِلأَمْوَالِ‏.‏

Narrated Khalid bin Aslam: We went out with 'Abdullah bi 'Umar and he said, "This (Verse) was revealed before the prescription of Zakat, and when Zakat was prescribed, Allah made a means of purifying one's wealth."

اور احمد بن شبیب نے کہا ہم سے والد (شبیب بن سعد) نے بیان کیا، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے خالد بن اسلم سے، انہوں نے کہا کہ ہم عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ نکلے۔ انہوں نے کہا یہ آیت اس وقت کا ہے جب زکوٰۃ کا حکم نہیں اترا تھا۔ پھر جب زکوٰۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے مالوں کو زکوٰۃ سے پاک کر دیا۔

Chapter No: 8

باب قَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ‏}‏ ‏{‏الْقَيِّمُ‏}‏ هُوَ الْقَائِمُ‏.‏

The Statement of Allah, "Verily, the number of months with Allah is twelve months so was it ordained by Allah on the Day when He created the heavens and the earth. Of them four are Sacred. That is the right religion so wrong not yourself therein ..." (V.9:36)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُورِ عِندَ اللہِ اثنَا عَشَرَ شَھرًا فِی کِتَابِ اللہِ یَومَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ مِنھَا اَربَعَۃَ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ فَلَا تَظلِمُوا فِیھِنَّ اَنفُسَکُم ۔ کی تفسیر۔

القَیِّم کا معنی ہے قائم، مستقیم، سیدھا، درست

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا، أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ، ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Bakr : The Prophet said, "Time has come back to its original state which it had when Allah created the Heavens and the Earth; the year is twelve months, four of which are sacred. Three of them are in succession; Dhul-Qa'da, Dhul-Hijja and Al-Muharram, and (the fourth being) Rajab Mudar (named after the tribe of Mudar as they used to respect this month) which stands between Jumadi (ath-thani) and Sha'ban."

ہم سے عبداللہ بن عبدالوھاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے- انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد (ابو بکرہ بن نفیع بن حارثؓ) سے، انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے (حجۃ الودع کے خطبہ میں) فرمایا دیکھو زمانہ ہرپھر کر پھر اسی نقشے پر آ گیا ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان پیدا کئے تھے، ایک سال بارہ ماہ کا ہوتا ہے۔ ان میں چار مہینے حرم والے ہیں۔ تین تو لگاتارذ-قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ۔ اور چوتھا مضر کا رجب جو جمادی الاخرٰے اور شعبان کے بیچ میں ہوتا ہے۔

Chapter No: 9

باب قَوْلِهِ ‏{‏ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ‏}‏

The Statement of Allah, "... The second of two, when they were in the cave, and he (s.a.w) said to his companion, 'Be not sad (or afraid), surely Allah is with us.'" (V.9:40)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول ثَانِیَ اثنَینِ اِذھُمَا فِی الغَارِ اِذیَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحزَن اِنَّ اللہَ مَعَنَا۔ کی تفسیر۔

‏{‏مَعَنَا‏}‏ نَاصِرُنَا السَّكِينَةُ فَعِيلَةٌ مِنَ السُّكُونِ

مَعَنَا یعنی ہمارا مددگار ہے، اَسَّکِینَۃُ بروزن فَعِیلَۃٌ سکون سے نکلا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْغَارِ، فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ رَآنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ‏"‏‏

Narrated By Abu Bakr : I was in the company of the Prophet in the cave, and on seeing the traces of the pagans, I said, "O Allah's Apostle If one of them (pagans) should lift up his foot, he will see us." He said, "What do you think of two, the third of whom is Allah?"

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے حباب بن ہلال باہلی نے، کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے، کہا ہم سے ثابت نے، کہا ہم سے انس بن مالکؓ نے، وہ کہتے تھے مجھ سے ابو بکرؓ نے بیان کیا کہ کہ میں ہجرت کے وقت غار (ثور) میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے (غار میں سے) کوفروں کے پاؤں دیکھے (جو ہمارے سر پر کھڑے تھے) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر کوئی ان میں اپنا پاؤں اٹھا کر نیچے دیکھے تو ہم کو دیکھ لے گا (ابو بکرؓ گھبرا گئے)۔ آپؐ نے فرمایا تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ حِينَ وَقَعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ قُلْتُ أَبُوهُ الزُّبَيْرُ، وَأُمُّهُ أَسْمَاءُ، وَخَالَتُهُ عَائِشَةُ، وَجَدُّهُ أَبُو بَكْرٍ، وَجَدَّتُهُ صَفِيَّةُ‏.‏ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ إِسْنَادُهُ‏.‏ فَقَالَ حَدَّثَنَا، فَشَغَلَهُ إِنْسَانٌ وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ جُرَيْجٍ‏.‏

Narrated By Ibn Abi Mulaika : When there happened the disagreement between Ibn Az-Zubair and Ibn 'Abbas, I said (to the latter), "(Why don't you take the oath of allegiance to him as) his father is Az-Zubair, and his mother is Asma,' and his aunt is 'Aisha, and his maternal grandfather is Abu Bakr, and his grandmother is Safiya?"

ہم سے عبداللہ بن محمد بن جعفی نے بیان کیا،کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا جب ان میں اور عبداللہ بن زبیر میں جھگڑا ہوا کہ ان کے والد زبیر بن عوام (جو عشرہ مبشرہ میں اور رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے)، والدہ اسماء (ابو بکرؓ کی بیٹی) خالہ عائشہؓ ام المؤمنین، نانا ابو بکرؓ، دادی صفیہ بنت عبد المطلب (رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی) ۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا اس حدیث کی سند تو بیان کرو۔ انہوں نے اتنا کہا کہ (حَدَّثَنَا) آگے بیان کرنے کو تھے کہ ایک آدمی نے ان کو دوسری باتوں میں لگا دیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ حدثنا ابن جریج ۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَىْءٌ فَغَدَوْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَتُحِلُّ حَرَمَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَبَنِي أُمَيَّةَ مُحِلِّينَ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُحِلُّهُ أَبَدًا‏.‏ قَالَ قَالَ النَّاسُ بَايِعْ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ‏.‏ فَقُلْتُ وَأَيْنَ بِهَذَا الأَمْرِ عَنْهُ أَمَّا أَبُوهُ فَحَوَارِيُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُرِيدُ الزُّبَيْرَ، وَأَمَّا جَدُّهُ فَصَاحِبُ الْغَارِ، يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ، وَأُمُّهُ فَذَاتُ النِّطَاقِ، يُرِيدُ أَسْمَاءَ، وَأَمَّا خَالَتُهُ فَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، وَأَمَّا عَمَّتُهُ فَزَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُرِيدُ خَدِيجَةَ، وَأَمَّا عَمَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَدَّتُهُ، يُرِيدُ صَفِيَّةَ، ثُمَّ عَفِيفٌ فِي الإِسْلاَمِ، قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ‏.‏ وَاللَّهِ إِنْ وَصَلُونِي وَصَلُونِي مِنْ قَرِيبٍ، وَإِنْ رَبُّونِي رَبَّنِي أَكْفَاءٌ كِرَامٌ، فَآثَرَ التُّوَيْتَاتِ وَالأُسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ، يُرِيدُ أَبْطُنًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ بَنِي تُوَيْتٍ وَبَنِي أُسَامَةَ وَبَنِي أَسَدٍ، إِنَّ ابْنَ أَبِي الْعَاصِ بَرَزَ يَمْشِي الْقُدَمِيَّةَ، يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، وَإِنَّهُ لَوَّى ذَنَبَهُ، يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ‏.‏

Narrated By Ibn Abi Mulaika : There was a disagreement between them (i.e. Ibn 'Abbas and Ibn Az-Zubair) so I went to Ibn 'Abbas in the morning and said (to him), "Do you want to fight against Ibn Zubair and thus make lawful what Allah has made unlawful (i.e. fighting in Meccas?" Ibn 'Abbas said, "Allah forbid! Allah ordained that Ibn Zubair and Bani Umaiya would permit (fighting in Mecca), but by Allah, I will never regard it as permissible." Ibn Abbas added. "The people asked me to take the oath of allegiance to Ibn AzZubair. I said, 'He is really entitled to assume authority for his father, Az-Zubair was the helper of the Prophet, his (maternal) grandfather, Abu Bakr was (the Prophet's) companion in the cave, his mother, Asma' was 'Dhatun-Nitaq', his aunt, 'Aisha was the mother of the Believers, his paternal aunt, Khadija was the wife of the Prophet , and the paternal aunt of the Prophet was his grandmother. He himself is pious and chaste in Islam, well versed in the Knowledge of the Qur'an. By Allah! (Really, I left my relatives, Bani Umaiya for his sake though) they are my close relatives, and if they should be my rulers, they are equally apt to be so and are descended from a noble family.

مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحیٰی بن معین نے، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے کہ ابن جریج نے کہا کہ ابن ملیکہ کہتے تھے، عبداللہ بن زبیرؓ اور عبداللہ بن عباسؓ میں (بیعت کا) کچھ جھگڑا ہوا۔ میں صبح کو ابن عباسؓ کے پاس گیا ان سے پوچھا کہ تم عبداللہ بن زبیرؓ سے لڑنا چاہتے ہو؟ اور اللہ کے حرام کو حلال کرنا۔ انہوں نے کہا معاذ اللہ! یہ امر تو اللہ نے عبداللہ بن زبیرؓ اور بنی امیہ ہی کی تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ وہ حرم کے اندر لڑائی کرنا جائزکرتے ہیں اور میں خدا کی قسم حرام کو حلال نہیں کروں گا(وہاں لڑائی رواں نہیں رکھوں گا) ابن عباسؓ نے کہا لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ تم عبداللہ بن زبیر سے بات کر لو۔ میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ خلافت عبداللہ بن زبیرؓ سے کچھ دور نہیں ۔ ان کے والد تو رسول اللہ ﷺ کے خاص رفیق (حواری) تھے۔ ابن عباسؓ نے زبیرؓ کو مراد لیا۔ ان کے نانا غار میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے یعنی ابو بکرؓ۔ ان کی والدہ ذات النطاق (کمر بند والی) تھیں یعنی اسماء بنت بکرؓ، ان کی خالہ ام المؤمنین تھیں یعنی عائشہؓ، ان کی پھوپھی رسول اللہ ﷺ کی خاص بی بی یعنی خدیجہؓ ، رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ان کی دادی یعنی صفیہ بنت عبدالمطلب (یہ تو خاندانی فضائل ہیں اب ذاتی فضائل دیکھو) ان سب باتوں کے ساتھ وہ اسلام کی حالت میں ہمیشہ پاکدامن رہے (بری باتوں سے پرہیز کرتے رہے) قرآن کے قاری، خدا کی قسم ! بنی امیہ کے لوگاگر مجھ سے اچھا سلوک کریں تو ان کو کرنا ہی چاہیے کیونکہ وہ میرے نزدیک کے رشتہ دار ہیں۔ اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو خیر حکومت کریں۔ وہ ہمارے برابر کے عزت دار ہیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیرؓ نے تو یہ کیاکہ نبی اسد بن تویت، اسامہ اور حمید کے لوگوں کو جو بنی اسد کی شاخ ہیں، ہم پر مقدم رکھا۔ ہم سے پہلے وہ باریاب ہوا کرتے ہیں دیکھو۔ ابو العاص کا بیٹا یعنی عبدالملک بن مروان کیسے زور سے ظاہر ہوا۔ بڑی عمدگی سے چل رہا ہے۔ ابن زبیرؓ تو اس کے سامنے دم دبالی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَلاَ تَعْجَبُونَ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ قَامَ فِي أَمْرِهِ هَذَا فَقُلْتُ لأُحَاسِبَنَّ نَفْسِي لَهُ مَا حَاسَبْتُهَا لأَبِي بَكْرٍ وَلاَ لِعُمَرَ، وَلَهُمَا كَانَا أَوْلَى بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْهُ، وَقُلْتُ ابْنُ عَمَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُ أَخِي خَدِيجَةَ، وَابْنُ أُخْتِ عَائِشَةَ فَإِذَا هُوَ يَتَعَلَّى عَنِّي وَلاَ يُرِيدُ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَعْرِضُ هَذَا مِنْ نَفْسِي، فَيَدَعُهُ، وَمَا أُرَاهُ يُرِيدُ خَيْرًا، وَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ لأَنْ يَرُبَّنِي بَنُو عَمِّي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي غَيْرُهُمْ‏

Narrated By Ibn Abi Mulaika : We entered upon Ibn 'Abbas and he said "Are you not astonished at Ibn Az-Zubair's assuming the caliphate?" I said (to myself), "I will support him and speak of his good traits as I did not do even for Abu Bakr and 'Umar though they were more entitled to receive al I good than he was." I said "He (i.e Ibn Az-Zubair) is the son of the aunt of the Prophet and the son of AzZubair, and the grandson of Abu Bakr and the son of Khadija's brother, and the son of 'Aisha's sister." Nevertheless, he considers himself to be superior to me and does not want me to be one of his friends. So I said, "I never expected that he would refuse my offer to support him, and I don't think he intends to do me any good, therefore, if my cousins should inevitably be my rulers, it will be better for me to be ruled by them than by some others."

ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، انہوں نے عمر بن سعید سے، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ملیکہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم ابن عباسؓ کے پاس گئے انہوں نے کہا کیا تم عبداللہ بن زبیرؓ پر تعجب نہیں کرتے۔ انہوں نے جب خلافت لی تو میں نے اپنے دل میں کہا میں ان کے لئے ویسی محنت و مشقت کروں گا کہ ویسی محنت اوت مشقت میں نے ابو بکرؓ اور عمرؓ کے لئے بھی نہیں کی حالانکہ ابو بکرؓ اور عمرؓ ہر بات میں ان سے آگے بڑھ کر تھے۔ میں نے (لوگوں سے) کہا وہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے (یعنی پوتے) ہیں اور زبیرؓ کے بیٹے اور ابو بکرؓ کے بیٹے (یعنی نواسے) ، خدیجہؓ کے بھتیجے اور عائشہؓ کے بھانجے ہیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیرؓ نے کیا کیا۔ مجھ سے غرور کرنے لگے۔ انہوں نے چاہا کہ میں ان کے خاص مصاحبوں میں رہوں۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا مجھ کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں ان سے ایسی عاجزی کروں گا اور وہ اس پر بھی مجھ سے ناراض نہ ہوں گے (مجھ کو چھوڑ کر بیٹھ رہیں گے) خیر اب مجھے امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ بھلائے کریں گے۔ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اب نبی امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھ کو اوروں کے حکومت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

Chapter No: 10

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ‏}‏

The Statement of Allah, "... And (for) to attract the hearts of those who have been inclined (towards Islam) and to free the captives ..." (V.9:60)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ المُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُھُم۔ کی تفسیر۔

قَالَ مُجَاهِدٌ يَتَأَلَّفُهُمْ بِالْعَطِيَّةِ

Mujahid said, "To attract their hearts by giving them gifts."

مجاہد نے کہا وَ المُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُھُم وہ لوگ جن کو کچھ دے کر ان کا دل ملایا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيد ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ، فَقَسَمَهُ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ وَقَالَ ‏"‏ أَتَأَلَّفُهُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مَا عَدَلْتَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said : Something was sent to the Prophet and he distributed it amongst four (men) and said, "I want to attract their hearts (to Islam thereby)," A man said (to the Prophet), "You have not done justice." Thereupon the Prophet said, "There will emerge from the offspring of this (man) some people who will renounce the religion."

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے، انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے ابن ابی نعیم (عبد الرحمٰن) سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال بھیجا گیا آپؐ نے اس کو چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا (وہ سب نو مسلم تھے) اور فرمایا میں (یہ مال ان کو دے کر) ان کا دل ملانا چاہتا ہوں۔ اس پر (بنی تمیم سے) ایک شخص کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ نے انصاف نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے باہر ہو جائیں گے۔

12