Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏رُجَّتْ‏}‏ زُلْزِلَتْ ‏{‏بُسَّتْ‏}‏ فُتَّتْ لُتَّتْ كَمَا يُلَتُّ السَّوِيقُ، الْمَخْضُودُ الْمُوقَرُ حَمْلاً، وَيُقَالُ أَيْضًا لاَ شَوْكَ لَهُ ‏{‏مَنْضُودٍ‏}‏ الْمَوْزُ، وَالْعُرُبُ الْمُحَبَّبَاتُ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ ‏{‏ثُلَّةٌ‏}‏ أُمَّةٌ ‏{‏يَحْمُومٍ‏}‏ دُخَانٌ أَسْوَدُ ‏{‏يُصِرُّونَ‏}‏ يُدِيمُونَ‏.‏ الْهِيمُ الإِبِلُ الظِّمَاءُ ‏{‏لَمُغْرَمُونَ‏}‏ لَمُلْزَمُونَ ‏{‏رَوْحٌ‏}‏ جَنَّةٌ وَرَخَاءٌ ‏{‏وَرَيْحَانٌ‏}‏ الرِّزْقُ ‏{‏وَنَنْشَأَكُمْ‏}‏ فِي أَىِّ خَلْقٍ نَشَاءُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏تَفَكَّهُونَ‏}‏ تَعْجَبُونَ ‏{‏عُرُبًا‏}‏ مُثَقَّلَةً وَاحِدُهَا عَرُوبٌ مِثْلُ صَبُورٍ وَصُبُرٍ، يُسَمِّيهَا أَهْلُ مَكَّةَ الْعَرِبَةَ، وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ الْغَنِجَةَ، وَأَهْلُ الْعِرَاقِ الشَّكِلَةَ‏.‏ وَقَالَ فِي ‏{‏خَافِضَةٌ‏}‏ لِقَوْمٍ إِلَى النَّارِ، وَ‏{‏رَافِعَةٌ‏}‏ إِلَى الْجَنَّةِ ‏{‏مَوْضُونَةٍ‏}‏ مَنْسُوجَةٍ، وَمِنْهُ وَضِينُ النَّاقَةِ، وَالْكُوبُ لاَ آذَانَ لَهُ وَلاَ عُرْوَةَ، وَالأَبَارِيقُ ذَوَاتُ الآذَانِ وَالْعُرَى‏.‏ ‏{‏مَسْكُوبٍ‏}‏ جَارٍ ‏{‏وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ‏}‏ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ‏{‏مُتْرَفِينَ‏}‏ مُتَمَتِّعِينَ ‏{‏مَا تُمْنُونَ‏}‏ هِيَ النُّطْفَةُ فِي أَرْحَامِ النِّسَاءِ‏.‏ ‏{‏لِلْمُقْوِينَ‏}‏ لِلْمُسَافِرِينَ، وَالْقِيُّ الْقَفْرُ‏.‏ ‏{‏بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ‏}‏ بِمُحْكَمِ الْقُرْآنِ، وَيُقَالُ بِمَسْقِطِ النُّجُومِ إِذَا سَقَطْنَ، وَمَوَاقِعُ وَمَوْقِعٌ وَاحِدٌ‏.‏ ‏{‏مُدْهِنُونَ‏}‏ مُكَذِّبُونَ مِثْلُ ‏{‏لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ‏}‏‏.‏ ‏{‏فَسَلاَمٌ لَكَ‏}‏ أَىْ مُسَلَّمٌ لَكَ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأُلْغِيَتْ إِنَّ وَهْوَ مَعْنَاهَا كَمَا تَقُولُ أَنْتَ مُصَدَّقٌ مُسَافِرٌ عَنْ قَلِيلٍ، إِذَا كَانَ قَدْ قَالَ إِنِّي مُسَافِرٌ عَنْ قَلِيلٍ‏.‏ وَقَدْ يَكُونُ كَالدُّعَاءِ لَهُ كَقَوْلِكَ فَسَقْيًا مِنَ الرِّجَالِ‏.‏ إِنْ رَفَعْتَ السَّلاَمَ فَهْوَ مِنَ الدُّعَاءِ ‏{‏تُورُونَ‏}‏ تَسْتَخْرِجُونَ‏.‏ أَوْرَيْتُ أَوْقَدْتُ‏.‏ ‏{‏لَغْوًا‏}‏ بَاطِلاً‏.‏ ‏{‏تَأْثِيمًا‏}‏ كَذِبًا‏.‏

مجاہد نے کہا رُجَّت کا معنی ہلائی جائے۔ بُسّت چور چور کئے جائیں گے۔ اور ستو کی طرح لت کر دئے جائیں گے۔ المخضود (بوجھ سے لدے ہوئے) جن کا کانٹا نہ ہو۔ مَنضُو دموز (کیلہ) ۔ عُرُبُ اپنے اپنے خاوندوں کی پیاریاں۔ ثُلَّۃٌ امت گروہ۔ یَحمُوم کالا دھواں۔ یُصِرُّونَ کا معنی ہٹ کرتے ہیں، ہمیشہ کرتے ہیں۔ الھیم پیاسے اونٹ۔ لَمَغرَمُون ٹوٹے ہوئے، آگے ڈنڈ ہوا۔ مدینین جن سے حساب لیا جائے۔ روح بہشت، آرام، راحت۔ رِیحان رزق اور روزی۔ وَنُنشِئَکُم فی ما لا تعلمون یعنی جس صورت میں ہم چاہیں تم کو پیدا کریں۔ مجاہد کے سوا اوروں نے کہا تَفَکَّھُون کا معنی تعجب کرتے رہ جاؤ۔ عُرُبا مُثقَلَۃً (یعنی بضمہ را) عروب کی جمع ہے جیسے صبور کی جمع صبُر آتی ہے (عروب خوبصورت، پیاری عورت) مکہ والے ایسی عورت کو عربہ، مدینہ والے غنجہ، عراق والے شکلہ کہتے ہیں۔ خَافِضَۃٌ ایک قوم کو نیچا دکھانے والی یعنی دوزخ میں لے جانے والی۔ رافِعۃ ایک وقم کو بلند کرنے والی، یعنی بہشت میں لی جانے والی۔ موضونۃ سونے سے بنے ہوئے۔ اسی سے نکلا ہے رضین النّاقۃ یعنی اونٹنی کا زیر بند (تنگ) ۔کُوبٌ آب خوردہ جس میں ٹونٹی اور کنڈہ نہ ہو (اکواب جمع ہے) ابریق وہ کوزہ جس میں ٹونٹی اور کنڈہ ہو۔ اباریق اس کی جمع ہے۔مسکوب بہتا ہوا (جاری) وَ فرشٍ مرفوعۃٍ اونچے اونچے یعنی ایک کے اوپر ایک ( تلے اور) بچھائے گئے۔ مُترفین کا معنی آسودہ آرام پروردہ تھے مَا تُمنوننطفہ جو عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو۔ متاعا لّلمقوین مسافروں کے فائدے کے لئے یہ قیّ سے نکلا ہے۔ قیّ کہتے ہیں بے آب و گیا میدان کو ۔ بمواقع النجوم سے قرآن کی محکم آیات مراد ہیں، بعضوں نے کہا تارے ڈوبنے کے مقامات۔ مواقع جمع ہے، اس کا واحد موقع ہے۔ دونوں کا (جب مضاف ہوں) ایک ہی معنی ہے۔ مُدھنون جھٹلانے والے جیسے اس آیت میں ہے وَدُّوا لَو تُدھِنُ فَیُدھِنونَ فَسَلَامَ لَکَ مِن اَصحَابِ الیمین کا معنی یہ ہے مسلم لک انک من اصحب الیمین یعنی یہ بات مان لی گئی سچ ہے کہ تو داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔ تو انّ کا لفظ گرا دیا گیا، مگر اس کا معنی قائم رکھا گیا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مثلا کوئی کہے کہ اب تھوڑی دیر میں سفر کرنے والا ہوں تو اس سے کہے انت مصدّق انّک مسافر عن قلیل۔ سلام بطور لفظ دعا کے مستعمل ہوتا ہے اگر مرفوع ہو۔ جیسے فَسَقیًا نصب کے ساتھ دعا کے معنوں میں آتا ہے یعنی اللہ تجھ کو سیراب کرے۔ تُورون سلگاتے ہو، آگ نکالتے ہو۔ اَورَیتُ سے یعنی میں نے سلگایا۔ لَغوا باطل، جھوٹ۔ تاثیما جھوٹ، غلط۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ: ‏{‏وَظِلٍّ مَمْدُودٍ‏}‏

The Statement of Allah, "And in shade long extended." (V.56:30)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ ظِلِّ مَمدُودٍ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏وَظِلٍّ مَمْدُودٍ‏}‏‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "In Paradise there is a tree which is so big that a rider can travel in its shade for one hundred years without passing it; and if you wish, you can recite: 'In shade long extended.'" 56.30

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے ابو الزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے وہ نبیﷺ تک بھی پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا بہشت میں ایک بڑا درخت ہے (طوبٰی) جس کے سایہ میں اگر سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو وَ ظِلٍّ مَّمدُودٍ ۔