Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

قَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏مُسْتَمِرٌّ‏}‏ ذَاهِبٌ ‏{‏مُزْدَجَرٌ‏}‏ مُتَنَاهٍ‏.‏ ‏{‏وَازْدُجِرَ‏}‏ فَاسْتُطِيرَ جُنُونًا ‏{‏دُسُرٍ‏}‏ أَضْلاَعُ السَّفِينَةِ، ‏{‏لِمَنْ كَانَ كُفِرَ‏}‏ يَقُولُ كُفِرَ لَهُ جَزَاءً مِنَ اللَّهِ‏.‏ ‏{‏مُحْتَضَرٌ‏}‏ يَحْضُرُونَ الْمَاءَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ ‏{‏مُهْطِعِينَ‏}‏ النَّسَلاَنُ، الْخَبَبُ السِّرَاعُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏فَتَعَاطَى‏}‏ فَعَاطَهَا بِيَدِهِ فَعَقَرَهَا‏.‏ ‏{‏الْمُحْتَظِرِ‏}‏ كَحِظَارٍ مِنَ الشَّجَرِ مُحْتَرِقٍ‏.‏ ‏{‏ازْدُجِرَ‏}‏ افْتُعِلَ مِنْ زَجَرْتُ‏.‏ ‏{‏كُفِرَ‏}‏ فَعَلْنَا بِهِ وَبِهِمْ مَا فَعَلْنَا جَزَاءً لِمَا صُنِعَ بِنُوحٍ وَأَصْحَابِهِ‏.‏ ‏{‏مُسْتَقِرٌّ‏}‏ عَذَابٌ حَقٌّ، يُقَالُ الأَشَرُ الْمَرَحُ وَالتَّجَبُّرُ‏.

مجاہد نے کہا مستمر کا معنی جانے والا ، باطل ہونے والا، مُزدَجر بے انتہا جھڑکنے والا، تنبیہ کرنے والا۔ وَ ازدُجِر دیوانہ بنایا گیا، یا بھڑکایا گیا۔ دُسُرٍ کشتی کے تختے (یا کیلیں یا رسیاں) جَزَآءً لِّمَن کَانَ کُفِرَ یعنی یہ عذاب اللہ کی طرف سے بدلہ تھا اس شخص کی جس کی ناقدری کی تھی یعنی نوحؑ کی۔ کُلُّ شِربٍ مُحتَضَر یعنی ہر فریق اپنی باری پر پانی پینے کو آئے۔ مُھطِعِین اِلَی الدّاعِ سعید بن جبیر نے کہا یعنی ڈرتے ہوئے عربی زبان میں تیز دوڑنے کو نسلان، خبب اور اسراع کہتے ہیں۔ اوروں نے کہا فتعاطٰی یعنی ہاتھ چلایا، اس کو زخمی کیا۔ کَھَشِیمِ المُحتَظَر جیسے ٹوٹی اور جلی ہوئی بار۔ و ازدجر ماضہ مجہول کا صیغہ ہے۔ باب افتعال سے اس کا مجرد زجرت ہے۔ جَزَآءً لِّمَن کَانَ کُفِرَ یعنی ہم نے نوح اور ان کی قوم والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یہ اس کا بدلہ تھا نوحؑ اور اس کے ایماندار ساتھ والوں کے ساتھ (کافروں کی طرف سے) کیا گیا تھا۔ ،ُستَقِرُّ جما رہنے والا عذاب۔ اَشَرُّ شر سے نکلا ہے جا کا معنی اترانا، غرور کرنا۔

 

Chapter No: 1

باب:‏{‏وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا‏}‏

"... And the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away ..." (V.54:1,2)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ انشَقَّ القَمَرُ اِن یَّرَوا اٰیۃً یُّعرِضُوا کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُونَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اشْهَدُوا ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Masud : During the lifetime of Allah's Apostle the moon was split into two parts; one part remained over the mountain, and the other part went beyond the mountain. On that, Allah's Apostle said, "Witness this miracle."

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے شعبہ اور سفیان ثوری (یا سفیان بن عیینہ) نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابو معمر (عبداللہ بن سخرہ) سے، انہوں نے ابن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا ایک نیچے آ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے جو اس وقت موجود تھے) فرمایا گواہ رہنا۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ، فَقَالَ لَنَا ‏"‏ اشْهَدُوا، اشْهَدُوا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abdullah : The moon was cleft asunder while we were in the company of the Prophet, and it became two parts. The Prophet said, Witness, witness (this miracle)."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم کو عبداللہ بن ابی نجیح نے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی، انہوں نے ابو معمر سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا جس وقت چاند پھٹا اس وقت ہم نبیﷺ کے پاس موجود تھے۔ چاند برابر دو ٹکڑے ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا دیکھو گواہ رہو، گواہ رہو۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : The moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet.

ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے بکر بن مضر نے، انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے عراک بن مالک سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا کہ چاند نبیﷺ کے زمانے میں پھٹا تھا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ‏.‏

Narrated By Anas : The people of Mecca asked the Prophet to show them a sign (miracle). So he showed them (the miracle) of the cleaving of the moon.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے، کہا ہم سے شیبان تیمی نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انسؓ سے، انہوں نے کہا مکہ کے کافروں نے آپﷺ سے یہ درخواست کی کہ ہم کو کوئی نشانی دکھلاؤ۔ آپؐ نے چاند کا پھٹنا ان کو دکھلایا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ‏.‏

Narrated By Anas : The moon was cleft asunder into two parts.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے انسؓ سے، انہوں نے کہا چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ‏}‏

"Floating under Our Eyes, a reward for him who had been rejected." (V.54:14)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول تَجرِی بِاَعیُنِنَا جَزَآءً لِمَن کَانَ کُفِرَ۔ وَلَقَد تَرَکنَاھَا آیَۃً فَھَل مِن مُّدَکِّر کی تفسیر۔

قَالَ قَتَادَةُ أَبْقَى اللَّهُ سَفِينَةَ نُوحٍ حَتَّى أَدْرَكَهَا أَوَائِلُ هَذِهِ الأُمَّةِ‏.‏

Qatada said, "Allah preserved Nuh's (Noah) ark till the early converts of this nation saw it."

قتادہ نے کہا اللہ تعالٰی نے نوحؑ کی کشتی کو (دنیا میں) قائم رکھا، یہاں تک کہ اس امت کے اگلے لوگوں نے بھی اس کو (جودی پہاڑ پر) دیکھ لیا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏

Narrated By Abdullah bin Masud : The Prophet used to recite: "Fahal-min-Maddakir (then is there any that will receive admonition?")

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے ابو اسحاق سبیعی سے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ یوں پڑھتے تھے فَھَل مِن مُّدَکِّر ۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏‏.‏

Narrated By Abdullah : The Prophet used to recite: 'Is there any that remember?

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے یحیٰی بن سعید قطان سے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے بو اسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نےنبیﷺ سے، آپؐ یوں پڑھتے تھے فَھَل مِن مُّدَکِّر (دال مہملہ سے) ۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، سَأَلَ الأَسْوَدَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَوْ مُذَّكِرٍ فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏ قَالَ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏ دَالاً‏.‏

Narrated By Abu Ishaq : A man asked Al-Aswad, 'is it 'Fahal min-Muddakir' or '...Mudhdhakir?" Al Aswad replied, 'I have heard Abdullah bin Masud reciting it, 'Fahal-min Muddakir'; I too, heard the Prophet reciting it 'Fahal-min-Muddakir' with 'd'.

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے سنا کہ ایک شخص (نام نامعلوم) اسود سے پوچھ رہا تھا (سورہ قمر میں) فَھَل مِن مُّدَکِّر (دال مہملہ سے) ہے یا مُّذَکِّر (ذال معجمہ سے) ۔ انہوں نے کہا میں نے تو عبداللہ بن مسعودؓ کو یوں پڑھتے سنا فَھَل مِن مُّدَکِّر اور عبداللہ بن عباسؓ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ کو فَھَل مِن مُّدَکِّر (دال مہملہ سے) پڑھتے سنا۔

Chapter No: 3

باب ‏{‏فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ * وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏

"... And they became like the dry stubble of a fold-builder. And indeed, We have made the Quran easy to understand and remember then is there any that will remember." (V.54:31,32)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول فَکَانُوا کَھَشِیمِ المُحتَظِر۔ وَلَقَد یَسَّرنَا القُرآنَ لِلذِّکرِ فَھَل مِن مُّدَکِّر کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏ الآيَةَ‏.‏

Narrated By Abdullah : The Prophet recited: 'Fahal-min-Muddakir'

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد (عثمان) نے خبر دی، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے کہ نبی ﷺ نے فَھَل مِن مُّدَکِّر (دال مہملہ سے) پڑھا۔

Chapter No: 4

باب ‏{‏وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ * فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ‏}‏

"And verily, an abiding torment seized them early in the morning. Then, taste you My Torment and My Warnings." (V.54:38, 39)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَلَقَد صَبَّحَھُم بُکرَۃً عَذَابٌ مُستَقِرٌ فَذُوقُوا عَذَابِی وَ نُذُرِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏

Narrated By Abdullah : The Prophet recited: 'Fahal-min Muddakir'

ہم سے محمد بن بشار (یا محمد بن مثنٰی) نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے،انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے یوں پڑھا فَھَل مِن مُّدَکِّر (دال مہملہ سے) ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَهَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏

Narrated By Abdullah : I recited before the Prophet 'Fahal-min-Mudhdhakir'. The Prophet said, "It is Fahal-min Muddakir."

ہم سے یحیٰی بن موسٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے، انہوں نے اسرائیل سے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کے سامنے یوں پڑھا مِن مُّذَکِّر تو آپؐ نے فرمایا مِن مُّدَکِّر (دال مہملہ سے) ۔

Chapter No: 5

باب قَوْلِهِ:‏{‏سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ ‏}‏الآية

The Statement of Allah, "Their multitude will be put to flight." (V.54:45)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول سَیُھزَمُ الجَمعُ وَ یُوَلَّونَ الدُّبُرَ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهْوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏"‏‏.‏ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ‏.‏ وَهْوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏ ‏{‏سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ‏}‏‏.‏‏"‏

Narrated By Abbas : Allah's Apostle while in a tent on the day of the Battle of Badr, said, "O Allah! I request you (to fulfil) Your promise and contract! O Allah! If You wish that you will not be worshipped henceforth..." On that Abu Bakr held the Prophet by the hand and said, "That is enough, O Allah's Apostle. You have appealed to your Lord too pressingly," while the Prophet was putting on his armour. So Allah's Apostle went out, reciting, "Their multitude will be put to flight, and they will show their backs." (54.45)

ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے۔ دوسری سند اور مجھ سے محمد بن یحیٰی ذیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عفوان بن مسلم نے، انہوں نے وہیب سے، کہا ہم سے خالد حذاء نے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ رسول اللہﷺ بدر کے دن ایک خیمہ میں تھے۔ آپؐ نے یوں دعا فرمائی یا اللہ! میں چاہتا ہوں تو اپنا عہد اور وعدہ پورا فرمائے۔ یا اللہ! تیری مرضی اگر تو چاہے تو (ان تھوڑے سے مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دے) پھر آج سے تیرا پوجا نہیں رہنے کا۔ ابو بکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا یا رسول اللہﷺ! بس کیجیئے۔ آپؐ نے اپنے پروردگار سے مانگنے کی حد کر دی (بہت التجا کی)۔ رسول اللہﷺ (اس روز) زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے (یہ دعا کر کے) آپؐ ڈیرے سے نکلے یہ آیت پڑؑھتے جاتے تھے سَیُھزَمُ الجَمعُ وَ یُوَلَّونَ الدُّبُرَ ۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِهِ:‏{‏بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ‏}‏

The Statement of Allah, "Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense), and the Hour will be more grievous and more bitter." (V.54:46)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول بَلِ اللہِ السَّاعَۃُ مَوعِدُھُم وَ السَّاعَۃُ اَدھَی وَ اَمَرُّ کی تفسیر

يَعْنِي مِنَ الْمَرَارَةِ

اَمَرُّ ۔مرارہ سے نکلا ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ، قَالَ إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ، وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ ‏{‏بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ‏}‏

Narrated By Yusuf bin Mahik : I was in the house of 'Aisha, the mother of the Believers. She said, "This revelation: "Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense); and the Hour will be more previous and most bitter." (54.46) was revealed to Muhammad at Mecca while I was a playful little girl."

ہم سے ابراہیم بن موسٰی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے، ان کو ابن جریج نے کہا، مجھ کو یوسف بن مالک نے خبر دی، انہوں نے کہا میں ام المؤمنین عائشہؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ پر مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی بَلِ اللہِ السَّاعَۃُ مَوعِدُھُم وَ السَّاعَۃُ اَدھَی وَ اَمَرُّ ۔ اس وقت میں ایک بچی تھی اور کھیل رہی تھی۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهْوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ ‏"‏ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ وَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ‏.‏ وَهْوَ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏ ‏{‏سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ * بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ‏}‏‏"‏

Narrated By Ibn Abbas : While in his tent on the day the Battle of Badr, the Prophet said, "O Allah! I request You (to fulfil) Your promise and contract. O Allah! It You wish that the Believers be destroyed). You will never be worshipped henceforth." On that, Abu Bakr held the Prophet by the hand and said, "That is enough, O Allah's Apostle! You have appealed to your Lord too pressingly" The Prophet was wearing his armour and then went out reciting: 'Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense), and the Hour will be more previous and most bitter.' (54.45-46)

ہم سے اسحاق بن شاھین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے، انہوں نے خالد بن مہران حذاء سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے بدر کے دن ایک ڈیرے میں یوں دعا کی ۔یا اللہ! میں تجھ سے یہ چاہتا ہوں کہ تو اپنا عہد اور وعدہ پورا کرے۔ یا اللہ! تیری مرضی تو چاہے تو پھر آج سے کوئی تجھ کو نہ پوجے گا۔ ابو بکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ! بس کیجیئے پروردگار سے دعا کرنے کی حد ہو چکی۔ آپؐ زرہ پہنے ہوئے تھے۔ ڈیرے سے برآمد ہوئے تو یہ آیت پڑھتے جاتے تھے سَیُھزَمُ الجَمعُ وَ یُوَلَّونَ الدُّبُرَ ۔ بَلِ اللہِ السَّاعَۃُ الخ۔