Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Quarrels (44)    كتاب الخصومات

12

Chapter No: 11

باب مُشَارَكَةِ الذِّمِّيِّ وَالْمُشْرِكِينَ فِي الْمُزَارَعَةِ

Partnership with a Dhimmi (People of the Book living under the protection of an Islamic State), Polytheists in share-cropping.

باب: کھیتی میں مسلمان کا ذمی اور مشرک کے ساتھ شریک ہونا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا‏

Narrated By Abdullah : Allah's Apostle rented the land of Khaibar to the Jews on the condition that they would work on it and cultivate it and take half of its yield.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے خیبر کی زمین یہودیوں کے حوالے کردی اس شرط پر کہ وہ اس میں محنت کریں اور کھیتی اور پیداوار کا آدھا حصہ لیں۔

Chapter No: 12

باب قِسْمَةِ الْغَنَمِ وَالْعَدْلِ فِيهَا

Distribution of sheep and dividing them justly.

باب: بکریوں کا انصاف کے ساتھ تقسیم کرنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ ضَحِّ بِهِ أَنْتَ ‏"‏‏

Narrated By 'Uqba bin 'Amir : That Allah's Apostle gave him some sheep to distribute among his companions in order to sacrifice them and a kid was left. He told the Prophet about it and the Prophet said to him, "Sacrifice it on your behalf."

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے انہیں بکریاں دی تھیں کہ قربانی کےلیے ان کو صحابہ میں تقسیم کردیں ۔ پھر ایک سال کا بکری کا بچہ بچ گیا تو انہوں نے آپﷺسے اس کا ذکر کیا، آپﷺنے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اس کی قربانی کرلو۔

Chapter No: 13

باب الشَّرِكَةِ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ

The sharing of food etc.

باب: اناج وغیرہ میں شرکت کا بیان

وَيُذْكَرُ أَنَّ رَجُلاً سَاوَمَ شَيْئًا فَغَمَزَهُ آخَرُ فَرَأَى عُمَرُ أَنَّ لَهُ شَرِكَةً‏

It is said that a man offered some price for something and another man signaled him to buy it. When Umar noticed that, he considered the second man a partner of the first.

اور منقول ہے کہ ایک شخص نے کوئی چیز چکائی دوسرے نے اس کو آنکھ سے اشارہ کیا( تب اس نے مول لے لیا) حضرت عمرؓ نے سمجھ لیا کہ وہ شریک ہے۔

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ صَغِيرٌ ‏"‏‏.‏ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ وَعَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ رضى الله عنهم فَيَقُولاَنِ لَهُ أَشْرِكْنَا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيَشْرَكُهُمْ، فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ‏

Narrated By 'Abdullah bin Hisham : That his mother Zainab bint Humaid took him to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! Take the pledge of allegiance from him." But he said, "He is still too young for the pledge," and passed his hand on his (i.e. 'Abdullah's) head and invoked for Allah's blessing for him. Zuhra bin Ma'bad stated that he used to go with his grandfather, 'Abdullah bin Hisham, to the market to buy foodstuff. Ibn 'Umar and Ibn Az-Zubair would meet him and say to him, "Be our partner, as the Prophet invoked Allah to bless you." So, he would be their partner, and very often he would win a camel's load and send it home.

زہرہ بن معبد اپنے دادا حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے نبیﷺکو پایا تھا ۔ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہارسول اللہﷺکی خدمت میں ان کو لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!اس سے بیعت لے لیجئے۔ آپﷺنے فرمایا: یہ تو ابھی بچہ ہے۔پھر آپﷺنے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کےلیے دعا کی اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔وہاں وہ غلہ خریدتے ، پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان سے ملتے تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کرلو۔ کیونکہ آپﷺکےلیے رسو ل اللہﷺنے برکت کی دعا کی ہے ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ہشام انہیں بھی شریک کرلیتے اور کبھی پورا ایک اونٹ (مع غلہ) نفع میں پیدا کرلیتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔


حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ صَغِيرٌ ‏"‏‏.‏ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ وَعَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ رضى الله عنهم فَيَقُولاَنِ لَهُ أَشْرِكْنَا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيَشْرَكُهُمْ، فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ‏

Narrated By 'Abdullah bin Hisham : That his mother Zainab bint Humaid took him to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! Take the pledge of allegiance from him." But he said, "He is still too young for the pledge," and passed his hand on his (i.e. 'Abdullah's) head and invoked for Allah's blessing for him. Zuhra bin Ma'bad stated that he used to go with his grandfather, 'Abdullah bin Hisham, to the market to buy foodstuff. Ibn 'Umar and Ibn Az-Zubair would meet him and say to him, "Be our partner, as the Prophet invoked Allah to bless you." So, he would be their partner, and very often he would win a camel's load and send it home.

زہرہ بن معبد اپنے دادا حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے نبیﷺکو پایا تھا ۔ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہارسول اللہﷺکی خدمت میں ان کو لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!اس سے بیعت لے لیجئے۔ آپﷺنے فرمایا: یہ تو ابھی بچہ ہے۔پھر آپﷺنے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کےلیے دعا کی اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔وہاں وہ غلہ خریدتے ، پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان سے ملتے تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کرلو۔ کیونکہ آپﷺکےلیے رسو ل اللہﷺنے برکت کی دعا کی ہے ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ہشام انہیں بھی شریک کرلیتے اور کبھی پورا ایک اونٹ (مع غلہ) نفع میں پیدا کرلیتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔

Chapter No: 14

باب الشَّرِكَةِ فِي الرَّقِيقِ

Sharing the slaves.

باب: غلام لونڈی میں شرکت۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ وَجَبَ عَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ كُلَّهُ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ قَدْرَ ثَمَنِهِ يُقَامُ قِيمَةَ عَدْلٍ وَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَّتَهُمْ وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Whoever manumits his share o a jointly possessed slave, it is imperative on him to manumit the slave completely if he has sufficient money to pay the rest of its price which is to be estimated justly. He should pay his partners their shares and release him (the freed one).

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جس نے کسی شریک کے غلام کا اپنا حصہ آزاد کردیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر غلام کی قیمت کے برابر اس کے پاس مال ہو تو وہ سارا غلام آزاد کرادے۔ اس طرح دوسرے شریکوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کردی جائے اور اس آزاد کئے ہوئے غلام کا پیچھا چھوڑ دیا جائے۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ، أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِلاَّ يُسْتَسْعَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever manumits his share of a jointly possessed slave, it is essential for him to manumit the slave completely if he has sufficient money. Otherwise he should look for some work for the slave (to earn what would enable him to emancipate himself), without overburdening him with work."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے کسی غلام کا اپنا حصہ آزاد کردیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو پورا غلام آزاد ہوجائے گا ۔ ورنہ باقی حصوں کو آزاد کرانے کےلیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے لیکن اس سلسلے میں اس پر کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے۔

Chapter No: 15

باب الاِشْتِرَاكِ فِي الْهَدْىِ وَالْبُدْنِ، وَإِذَا أَشْرَكَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي هَدْيِهِ بَعْدَ مَا أَهْدَى

Sharing the Hady and Budn. (Is it permissible for one) to share the Hady with somebody else after it has been slaughtered?

باب: قربانی کے جانوروں اور اونٹوں میں شرکت اور اگر کوئی مکہ کو قربانی بھیج چکے پھر اس میں کسی کو شریک کرلے۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ‏ وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، لاَ يَخْلِطُهُمْ شَىْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ الْقَالَةُ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ فَقَالَ جَابِرٌ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا‏.‏ فَقَالَ جَابِرٌ بِكَفِّهِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ ‏"‏ بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا، وَاللَّهِ لأَنَا أَبَرُّ وَأَتْقَى لِلَّهِ مِنْهُمْ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ لَنَا أَوْ لِلأَبَدِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ لِلأَبَدِ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ـ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَقُولُ لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ وَقَالَ الآخَرُ لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَأَشْرَكَهُ فِي الْهَدْىِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet (along with his companions) reached Mecca in the morning of the fourth of Dhul-Hijja assuming Ihram for Hajj only. So when we arrived at Mecca, the Prophet ordered us to change our intentions of the Ihram for 'Umra and that we could finish our Ihram after performing the 'Umra and could go to our wives (for sexual intercourse). The people began talking about that. Jabir said surprisingly, "Shall we go to Mina while semen is dribbling from our male organs?" Jabir moved his hand while saying so. When this news reached the Prophet he delivered a sermon and said, "I have been informed that some peoples were saying so and so; By Allah I fear Allah more than you do, and am more obedient to Him than you. If I had known what I know now, I would not have brought the Hadi (sacrifice) with me and had the Hadi not been with me, I would have finished the Ihram." At that Suraqa bin Malik stood up and asked "O Allah's Apostle! Is this permission for us only or is it forever?" The Prophet replied, "It is forever." In the meantime 'Ali bin Abu Talib came from Yemen and was saying Labbaik for what the Prophet has intended. (According to another man, 'Ali was saying Labbaik for Hajj similar to Allah's Apostle's). The Prophet told him to keep on the Ihram and let him share the Hadi with him.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺچوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے جس کے ساتھ کوئی اور چیز (عمرہ ) نہ ملاتے ہوئے (مکہ میں)داخل ہوئے ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺکے حکم سے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کرڈالا۔آپﷺنے یہ بھی فرمایا: کہ (عمرہ کے افعال ادا کرنے کے بعد حج کے احرام تک ) ہماری بیویاں ہمارے لیے حلال رہیں گی ۔ اس پر لوگوں میں چرچا ہونے لگا ۔ حضرت عطاء نے بیان کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کچھ لوگ کہنے لگے کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے کہ منیٰ اس کے ذکر(شرمگاہ) سے ٹپک رہی ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔ یہ بات نبیﷺتک پہنچی تو آپﷺنے خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں ۔ اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے زیادہ نیک اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جو اب معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا ، اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ اس پر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کےرسولﷺ!کیا یہ حکم خاص ہمارے ہی لیے ہے یا ہمیشہ کےلیے ؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کےلیے ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (یمن سے ) آئے ۔ اب عطاء اور طاؤس میں سے ایک تو یوں کہتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نےاحرام کے وقت یوں کہا تھا : لبیک بما اھل بہ رسول اللہ اور دوسرا یوں کہتا ہے کہ انہوں نے لبیک بحجۃ رسول اللہ ﷺ کہا تھا ۔ نبیﷺنے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں ۔(جیسا بھی انہوں نے باندھا ہے ) اور انہیں اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ‏ وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، لاَ يَخْلِطُهُمْ شَىْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ الْقَالَةُ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ فَقَالَ جَابِرٌ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا‏.‏ فَقَالَ جَابِرٌ بِكَفِّهِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ ‏"‏ بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا، وَاللَّهِ لأَنَا أَبَرُّ وَأَتْقَى لِلَّهِ مِنْهُمْ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ لَنَا أَوْ لِلأَبَدِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ لِلأَبَدِ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ـ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَقُولُ لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ وَقَالَ الآخَرُ لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَأَشْرَكَهُ فِي الْهَدْىِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet (along with his companions) reached Mecca in the morning of the fourth of Dhul-Hijja assuming Ihram for Hajj only. So when we arrived at Mecca, the Prophet ordered us to change our intentions of the Ihram for 'Umra and that we could finish our Ihram after performing the 'Umra and could go to our wives (for sexual intercourse). The people began talking about that. Jabir said surprisingly, "Shall we go to Mina while semen is dribbling from our male organs?" Jabir moved his hand while saying so. When this news reached the Prophet he delivered a sermon and said, "I have been informed that some peoples were saying so and so; By Allah I fear Allah more than you do, and am more obedient to Him than you. If I had known what I know now, I would not have brought the Hadi (sacrifice) with me and had the Hadi not been with me, I would have finished the Ihram." At that Suraqa bin Malik stood up and asked "O Allah's Apostle! Is this permission for us only or is it forever?" The Prophet replied, "It is forever." In the meantime 'Ali bin Abu Talib came from Yemen and was saying Labbaik for what the Prophet has intended. (According to another man, 'Ali was saying Labbaik for Hajj similar to Allah's Apostle's). The Prophet told him to keep on the Ihram and let him share the Hadi with him.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺچوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے جس کے ساتھ کوئی اور چیز (عمرہ ) نہ ملاتے ہوئے (مکہ میں)داخل ہوئے ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺکے حکم سے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کرڈالا۔آپﷺنے یہ بھی فرمایا: کہ (عمرہ کے افعال ادا کرنے کے بعد حج کے احرام تک ) ہماری بیویاں ہمارے لیے حلال رہیں گی ۔ اس پر لوگوں میں چرچا ہونے لگا ۔ حضرت عطاء نے بیان کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کچھ لوگ کہنے لگے کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے کہ منیٰ اس کے ذکر(شرمگاہ) سے ٹپک رہی ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔ یہ بات نبیﷺتک پہنچی تو آپﷺنے خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں ۔ اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے زیادہ نیک اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جو اب معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا ، اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ اس پر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کےرسولﷺ!کیا یہ حکم خاص ہمارے ہی لیے ہے یا ہمیشہ کےلیے ؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کےلیے ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (یمن سے ) آئے ۔ اب عطاء اور طاؤس میں سے ایک تو یوں کہتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نےاحرام کے وقت یوں کہا تھا : لبیک بما اھل بہ رسول اللہ اور دوسرا یوں کہتا ہے کہ انہوں نے لبیک بحجۃ رسول اللہ ﷺ کہا تھا ۔ نبیﷺنے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں ۔(جیسا بھی انہوں نے باندھا ہے ) اور انہیں اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔

Chapter No: 16

باب مَنْ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ فِي الْقَسْمِ

Whoever regarded ten sheep as equal to one camel in distribution.

باب: تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر سمجھنا۔

حَدَّثَنى مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلاً، فَعَجِلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلاَّ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ قَالَ جَدِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ ‏"‏ اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ‏"

Narrated By Abaya bin Rifaa : My grandfather, Rafi bin Khadij said, "We were in the valley of Dhul-Hulaifa of Tuhama in the company of the Prophet and had some camels and sheep (of the booty). The people hurried (in slaughtering the animals) and put their meat in the pots and started cooking. Allah's Apostle came and ordered them to upset the pots, and distributed the booty considering one camel as equal to ten sheep. One of the camels fled and the people had only a few horses, so they got worried. (The camel was chased and) a man slopped the camel by throwing an arrow at it. Allah's Apostle said, 'Some of these animals are untamed like wild animals, so if anyone of them went out of your control, then you should treat it as you have done now.' " My grandfather said, "O Allah's Apostle! We fear that we may meet our enemy tomorrow and we have no knives, could we slaughter the animals with reeds?" The Prophet said, "Yes, or you can use what would make blood flow (slaughter) and you can eat what is slaughtered and the Name of Allah is mentioned at the time of slaughtering. But don't use teeth or fingernails (in slaughtering). I will tell you why, as for teeth, they are bones, and fingernails are used by Ethiopians for slaughtering.

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبیﷺکے ساتھ تہامہ کے مقام ذو الحلیفہ میں تھے (غنیمت میں) ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے تھے ۔ بعض لوگوں نے جلدی کی اور (جانور ذبح کرکے ) گوشت کو ہانڈیوں میں چڑھا دیا ۔ پھر رسول اللہﷺتشریف لائے ۔ آپﷺکے حکم سے گوشت کی ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا ۔ پھر (آپﷺنے تقسیم میں) دس بکریوں کا ایک اونٹ کے برابر حصہ رکھا ۔ ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا ۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی۔ ایک آدمی نے اونٹ کو تیر مارکر روک لیا۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح وحشت ہوتی ہے ۔ اس لیے جب تم ان کو نہ پکڑ سکو تو تم ان کے ساتھ ایسا کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں امید ہے یا خطرہ کہ کہیں کل دشمن سے مڈ بھیڑ نہ ہوجائے اور چھری ہمارے ساتھ نہیں ہے ۔ کیا دھار دار لکڑی سے ہم ذبح کرسکتے ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: لیکن ذبح کرنے میں جلدی کرو۔ جو چیز خون بہادے (اسی سے کاٹ ڈالو) اگر اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اس کو کھاؤ اور ناخن اور دانت سے ذبح نہ کرو۔ اس کی وجہ میں بتلاؤں ۔ سنو! دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔

12