Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Jihad (56)    كتاب الجهاد والسير

12345Last ›

Chapter No: 21

باب تَمَنِّي الْمُجَاهِدِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا

The wish of the (martyred) Mujahid to return to the world.

باب: شہید کا دنیا میں پھر جانے کی آرزو کرنا-

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ، إِلاَّ الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ ‏"

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Nobody who enters Paradise likes to go back to the world even if he got everything on the earth, except a Mujahid who wishes to return to the world so that he may be martyred ten times because of the dignity he receives (from Allah)."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےر وایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی شخص بھی ایسا نہ ہوگا جو جنت میں داخل ہونے کےبعد دنیا میں دوبارہ واپس آنا پسند کرے ، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے ۔ اس کی یہ تمنا ہوگی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جاکر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے ۔

Chapter No: 22

باب الْجَنَّةُ تَحْتَ بَارِقَةِ السُّيُوفِ

Paradise is under the blades of swords

باب: بہشت کا تلواروں کے نیچے ہو نا،

وَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا صلى الله عليه وسلم عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا ‏"‏ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ قَالَ ‏"‏ بَلَى ‏"‏‏.

Narrated by Al-Mughira bin Shuba, "Our Prophet (s.a.w) told us about the Message of our Lord that '... Whoever amongst us is killed, will go to Paradise.' Umar asked the Prophet (s.a.w), 'Is it not true that our men who are killed will go to Paradise and their ones (Pagans) will go to the Fire?' The Prophet (s.a.w) said, 'Yes.'"

اور مغیرہ بن شعبہ نے کہا ہم سے ہمارے نبیﷺ نے بیان کیا کہ حق تعالی نے آپﷺ کو یہ پیغام بھیجا کہ مسلمانوں میں جو کوئی اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ بہشت میں جائے گا اور حضرت عمؓرنے نبیﷺ سے عرض کیا کیا ہم میں سے جو قتل ہو ں وہ بہشت میں نہیں جائیں گے اور کافر جو قتل ہوں وہ دوزخ میں نہیں جاہیں گے ؟ آپﷺ نے فرمایا کیوں نہیں -

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَكَانَ كَاتِبَهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّيُوفِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ الأُوَيْسِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ‏

Narrated By 'Abdullah bin Abi Aufa : Allah's Apostle said, "Know that Paradise is under the shades of swords."

عمر بن عبید اللہ کے مولیٰ اور کاتب سالم ابو النصر نے بیان کیا کہ عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے عمر بن عبید اللہ کو لکھا تھا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جان لو! جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔

Chapter No: 23

باب مَنْ طَلَبَ الْوَلَدَ لِلْجِهَادِ

(The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.

باب: جس نے جہاد کیلئے اولاد کی آرزو کی -

وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ـ أَوْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ ـ كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ‏"‏‏.

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Once Solomon, son of David said, '(By Allah) Tonight I will have sexual intercourse with one hundred (or ninety-nine) women each of whom will give birth to a knight who will fight in Allah's Cause.' On that a (i.e. if Allah wills) but he did not say, 'Allah willing.' Therefore only one of those women conceived and gave birth to a half-man. By Him in Whose Hands Muhammad's life is, if he had said, "Allah willing', (he would have begotten sons) all of whom would have been knights striving in Allah's Cause."

حضرت ابو ہریرہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا: آج رات اپنی سو ، یا ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے ۔ ان کے ساتھی نے کہا: کہ ان شاء اللہ بھی کہہ لیجئے ، لیکن انہو ں نے ان شاء اللہ نہیں کہا۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے اگر سلیمان علیہ السلام اس وقت ان شاء اللہ کہہ لیتے تو (تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور ) سب کے ہاں ایسے شہسوار بچے پیدا ہوتے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔

Chapter No: 24

باب الشَّجَاعَةِ فِي الْحَرْبِ وَالْجُبْنِ

Bravery and cowardice in the battle

باب: لڑائی میں بہا دری اور بزدلی (نامردی) کا بیان -

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبَقَهُمْ عَلَى فَرَسٍ، وَقَالَ ‏"‏ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ‏"‏‏

Narrated By Anas : The Prophet was the best, the bravest and the most generous of all the people. Once when the people of Medina got frightened, the Prophet rode a horse and went ahead of them and said, "We found this horse very fast."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺسب سے زیادہ خوبصورت سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ فیاض تھے، مدینہ طیبہ کے تمام لوگ (ایک رات) خوف زدہ تھے ،(آواز سنائی دی تھی اور سب لوگ اس کی طرف بڑھ رہے تھے) لیکن نبیﷺاس وقت ایک گھوڑے پر سوار سب سے آگے تھے (جب واپس ہوئے تو) فرمایا: اس گھوڑے کوہم نے سمندر پایا۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ النَّاسُ، مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ، فَعَلِقَهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُونِي رِدَائِي، لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لاَ تَجِدُونِي بَخِيلاً وَلاَ كَذُوبًا وَلاَ جَبَانًا ‏"‏‏

Narrated By Muhammad bin Jubair : Jubair bin Mut'im told me that while he was in the company of Allah's Apostle with the people returning from Hunain, some people (bedouins) caught hold of the Prophet and started begging of him so much so that he had to stand under a (kind of thorny tree (i.e. Samurah) and his cloak was snatched away. The Prophet stopped and said, "Give me my cloak. If I had as many camels as these thorny trees, I would have distributed them amongst you and you will not find me a miser or a liar or a coward."

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہﷺکے ساتھ چل رہے تھے آپ کے ساتھ اور بہت سے صحابہ بھی تھے ، وادی حنین سے واپس تشریف لارہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کو لپٹ گئے ۔ بالآخر آپ کو مجبورا ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک ببول کے کانٹے میں الجھ گئی تو ان لوگوں نے اسے لے لیا ، آپﷺوہاں کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں تم میں تقسیم کردیتا ، مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل پاؤگے ۔

Chapter No: 25

باب مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ

Seeking refuge with Allah from cowardice.

باب: بزدلی (نامردی) سے پناہ مانگنا -

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الأَوْدِيَّ، قَالَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ الْكِتَابَةَ، وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلاَةِ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏‏.‏ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ

Narrated By 'Amr bin Maimun Al-Audi : Sad used to teach his sons the following words as a teacher teaches his students the skill of writing and used to say that Allah's Apostle used to seek Refuge with Allah from them (i.e. the evils) at the end of every prayer. The words are: 'O Allah! I seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from being brought back to a bad stage of old life and seek refuge with You from the afflictions of the world, and seek refuge with You from the punishments in the grave.'

عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو یہ کلمات دعائیہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے معلم بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے کہ نبیﷺنماز کے بعد ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ مانگتے تھے ۔ "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے ، اور اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ عمر کے سب سے ذلیل حصے میں پہنچ جاؤں اور تیری پناہ مانگتا ہوں میں دنیا کے فتنوں سے اور تیری پنا ہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ، پھر میں نے یہ حدیث جب مصعب بن سعد سے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet used to say, "O Allah! I seek refuge with You from helplessness, laziness, cowardice and feeble old age; I seek refuge with You from afflictions of life and death and seek refuge with You from the punishment in the grave."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺفرمایا کرتے تھے : " اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے ، بزدلی سے ، بڑھاپے کی ذلیل حدود میں پہنچ جانےسے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی او رموت کے فتنوں سے ، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔

Chapter No: 26

باب مَنْ حَدَّثَ بِمَشَاهِدِهِ فِي الْحَرْبِ

Whoever described what he has witnessed in the war.

باب: جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے ۔

اس باب میں ابو عثمان نے سعد سے روایت کی-

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ صَحِبْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَسَعْدًا وَالْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ـ رضى الله عنهم ـ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا، مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، إِلاَّ أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ‏

Narrated By As-Sa'-ib bin Yazid : I was in the company of Talha bin 'Ubaidullah, Sad, Al-Miqdad bin Al-Aswad and 'Abdur Rahman bin 'Auf and I heard none of them narrating anything from Allah's Apostle but Talha was talking about the day (of the battle) of Uhud.

سائب بن یزید سے روایت ہے کہ میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، سعد بن ابی وقاص ، مقداد بن اسود اورعبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کی صحبت میں بیٹھا ہوں لیکن میں نے کسی کو رسو ل اللہﷺکی حدیث بیان کرتے نہیں سنا ۔ البتہ طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ احد کی جنگ کے متعلق بیان کیا کرتے تھے۔

Chapter No: 27

باب وُجُوبِ النَّفِيرِ وَمَا يَجِبُ مِنَ الْجِهَادِ وَالنِّيَّةِ

The obligation of going out for Jihad when there is a general call to arms, and what sort of Jihad and intentions are compulsory.

باب: جہاد کے لیے نکل کھڑ ے ہونا واجب ہے

وَقَوْلِهِ ‏{‏انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ * لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاَتَّبَعُوكَ وَلَكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‏}‏‏.‏ يُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ انْفِرُوا ثُبَاتًا سَرَايَا مُتَفَرِّقِينَ، يُقَالُ أَحَدُ الثُّبَاتِ ثُبَةٌ‏.‏

And the Statement of Allah, "March forth, whether you are light or heavy, and strive hard with your wealth and lives in the Cause of Allah. This is better for you, if you but knew. Had it been a near gain and an easy journey, they would have followed you, but the distance was long for them, and they would swear by Allah (saying), 'If we only could, we would certainly have come forth with you.' They destroy their ownselves, and Allah knows that they are liars." (V.9:41,42) And His Statement, "O you who believe! What is the matter with you, that when you are asked to march forth in the Cause of Allah, you cling heavily to the earth? Are you pleased with the life of this world rather than the Hereafter? ... Able to do all things." (V.9:38-39)

اور جہاد اور جہاد کی نیت رکھنے کاوجوب اور اللہ تعا لٰی نے سورت براءت میں فرمایا مسلمانو؛ ہلکے ہو یا بھاری نکل کھڑے ہو اور اللہ کی راہ میں اپنی جان او رمال سے جہاد کرو ۔اگر تم جانو یہ تمہا رے لیے میں بہتر ہے۔اگر سہل سے کچھ فائدہ ملنے والا ہوتا(اور سفر بھی بیچ بیچ کاتھا اے پیغمبر)وہ ضرور تیرے ساتھ رہتے پر ان کو تو یہ (راہ تبوک )کی دور معلوم ہوئی اور اب قسم کھا ئیں گے ۔اخیر آیت تک اور اللہ نے(اسی سورت میں ) فرمایا مسلمانو : جب تم سے کہا جاتا ہے جہاد کیلیے نکلو تو تم کو کیا ہو گیا ہے زمین پر ڈھیر ہو جاتے ہو –کیا تم آخرت کے بدل دنیا کی زندگی پر خوش ہو ؟ اخیر آیت واللہ علی کل شئی قدیر تک ۔ابن عؓباس سے منقول ہے یہ جو قرآن شریف میں ہے (سورت نساء میں) فا نفرو ا ثبات اس کا معنی یہ ہے جدا جدا ٹکڑیاں بن کر نکلو ثبات کا مفرد ثبۃ ہے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ ‏"‏ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : On the day of the Conquest (of Mecca) the Prophet said, "There is no emigration after the Conquest but Jihad and intentions. When you are called (by the Muslim ruler) for fighting, go forth immediately."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا کہ مکہ فتح ہونے کے بعد (اب مکہ سے مدینہ کےلیے)ہجرت باقی نہیں ہے ، لیکن خلوص نیت کےساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے جب تمہیں جہاد کےلیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔

Chapter No: 28

باب الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ

A disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed.

باب: اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارےاور پھر مسلمان ہو جاےاسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ يَدْخُلاَنِ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُسْتَشْهَدُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah welcomes two men with a smile; one of whom kills the other and both of them enter Paradise. One fights in Allah's Cause and gets killed. Later on Allah forgives the 'killer who also get martyred (In Allah's Cause)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: (قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا ، اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوگئے۔ پہلا وہ شخص جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہوگیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی ، اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا ۔اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہوگئے۔


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْهِمْ لِي‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لاَ تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ، يَنْعَى عَلَىَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَىَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ‏.‏ قَالَ فَلاَ أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السَّعِيدِيُّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ

Narrated By Abu Huraira : I went to Allah's Apostle while he was at Khaibar after it had fallen in the Muslims' hands. I said, "O Allah's Apostle! Give me a share (from the land of Khaibar)." One of the sons of Sa'id bin Al-'As said, "O Allah's Apostle! Do not give him a share." I said, "This is the murderer of Ibn Qauqal." The son of Said bin Al-As said, "Strange! A Wabr (i.e. guinea pig) who has come down to us from the mountain of Qaduim (i.e. grazing place of sheep) blames me for killing a Muslim who was given superiority by Allah because of me, and Allah did not disgrace me at his hands (i.e. was not killed as an infidel)." (The sub-narrator said "I do not know whether the Prophet gave him a share or not.")

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جب رسو ل اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہوچکا تھا ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!میرا بھی (مال غنیمت میں ) حصہ لگائیے ۔ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے ایک لڑکے (ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!ان کا حصہ نہ لگائیے ۔ اس پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوقل (نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ ) کا قاتل ہے۔ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور (یعنی ابو ہریرہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آگیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے ۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے(شہادت) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچالیا (اگر اس وقت میں مارا جاتا) تو وہ جہنمی ہوتا ، عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپﷺنے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں ۔

Chapter No: 29

باب مَنِ اخْتَارَ الْغَزْوَ عَلَى الصَّوْمِ

Whoever preferred Jihad to Saum.

باب: جہاد کو روزے پر مقدم رکھنا (یعنی نفلی روزوں پر)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لاَ يَصُومُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَجْلِ الْغَزْوِ، فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَمْ أَرَهُ مُفْطِرًا، إِلاَّ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى‏

Narrated By Anas bin Malik : In the life-time of the Prophet, Abu Talha did not fast because of the Jihad, but after the Prophet died I never saw him without fasting except on 'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت ابو طلحہ زید بن سہیل رضی اللہ عنہ رسو ل اللہﷺکے زمانے میں جہادوں میں شرکت کے خیال سے (نفلی) روزے نہیں رکھتے تھے ، لیکن آپﷺکی وفات کے بعد پھر میں نے انہیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے سوا روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔

Chapter No: 30

باب الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ

There are seven martyrs other than those who are killed in Jihad.

باب:اللہ تعالٰی کی راہ میں مارے جانے کے سوا شہادت کی اور سات صورتیں ہیں -

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Five are regarded as martyrs: They are those who die because of plague, abdominal disease, drowning or a falling building etc., and the martyrs in Allah's Cause."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں : طاعون میں ہلاک ہونے والا، پیٹ کی بیماری میں ہلاک ہونے والا، ڈوب کر مرنے والا ، دب کر مرجانے والا ، اور اللہ کے راستے میں شہادت پانے والا۔


حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Plauge is the cause of martyrdom of every Muslim (who dies because of it)."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: طاعون کی موت ہر مسلمان کےلیے شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔

12345Last ›