Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Medicine (76)    كتاب الطب

‹ First3456

Chapter No: 41

باب : الْمَرْأَةِ تَرْقِي الرَّجُلَ

A woman may treat a man with a Ruqya.

باب : عورت مرد پر منتر پڑھ سکتی ہے

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنَا أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، فَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا‏.‏ فَسَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ كَيْفَ كَانَ يَنْفِثُ قَالَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ‏.

Narrated By 'Aisha : The Prophet, during his fatal ailment used to blow (on his hands and pass them) over his body while reciting the Mu'auwidhat (Surat-an-Nas and Surat-al-Falaq). When his disease got aggravated, I used to recite them for him and blow (on his hands) and let him pass his hands over his body because of its blessing. (Ma'mar asked Ibn Shihab: How did he use to do Nafth? He said: He used to blow on his hands and then pass them over his face.)

مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام ابن یوسف صنعانی نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا اس میں معوذات (سورت اخلاص، سورۃ الفلق اور الناس) پڑھ کر اپنے اوپر آپ پھونکتے۔ جب آپؐ پر بیماری کی شدت ہوئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپؐ پر پھونکتی اور آپؐ کا ہاتھ مبارک لیکر آپؐ کے بدن پر پھیرتی۔ معمر نے کہا میں نے زہری سے پوچھا کس طرح آپؐ پھونکتے تھے۔ زہری نے کہا آپؐ دونوں ہاتھوں میں پھونک کر منہ پر پھیرتے۔

Chapter No: 42

باب مَنْ لَمْ يَرْقِ

Whoever does not treat or get treated with a Ruqya.

باب : منتر نہ کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلاَنِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ‏.‏ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ‏.‏ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا‏.‏ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ‏"‏‏.‏ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيَّنْ لَهُمْ، فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنَا فِي الشِّرْكِ، وَلَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَكِنْ هَؤُلاَءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَلاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا فَقَالَ ‏"‏ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet once came out to us and said, "Some nations were displayed before me. A prophet would pass in front of me with one man, and another with two men, and another with a group of people. and another with nobody with him. Then I saw a great crowd covering the horizon and I wished that they were my followers, but it was said to me, 'This is Moses and his followers.' Then it was said to me, 'Look'' I looked and saw a big gathering with a large number of people covering the horizon. It was said, "Look this way and that way.' So I saw a big crowd covering the horizon. Then it was said to me, "These are your followers, and among them there are 70,000 who will enter Paradise without (being asked about their) accounts. " Then the people dispersed and the Prophet did not tell who those 70,000 were. So the companions of the Prophet started talking about that and some of them said, "As regards us, we were born in the era of heathenism, but then we believed in Allah and His Apostle. We think however, that these (70,000) are our offspring." That talk reached the Prophet who said, "These (70,000) are the people who do not draw an evil omen from (birds) and do not get treated by branding themselves and do not treat with Ruqya, but put their trust (only) in their Lord." then 'Ukasha bin Muhsin got up and said, "O Allah's Apostle! Am I one of those (70,000)?" The Prophet said, "Yes." Then another person got up and said, "Am I one of them?" The Prophet said, " 'Ukasha has anticipated you."

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے حصین بن نمیر نے انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ ایک دن باہر ہم پر برآمد ہوئے۔ فرمانے لگے (خواب میں) تمام اگلی امتیں میرے سامنے لائی گئیں۔ میں نے کوئی پیغمبر ایسا دیکھا جس کے ہاتھ میں ایک آدمی تھا (بس یہی امت اس کی تھا) کسی پیغمبر کے ساتھ دو ہی آدمی تھے کسی کے ساتھ دس سے کم (یا چالیس سے کم) کوئی پیغمبر ایسا تھا جس کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ تھا اور میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔میں سمجھا یہ میری امت ہوگی پھر فرشتوں نے کہا یہ موسیٰ پیغمبر اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا گیا دیکھو میں نے دیکھا تو ایک بڑی جماعت ہے جس نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے پھر مجھ سے کہا گیا ادھر ادھر دیکھو میں نے دیکھا تو ایک بڑی جماعت ہے جس نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے فرشتوں نے کہا یہ تمھاری امت ہےاور ان میں ستر ہزار آدمی ایسے بھی ہیں جو بے حساب بہشت میں جائیں گے۔ اس کے بعد لوگ اٹھ گئے اور نبیﷺ نے بیان نہیں فرمایا (یہ ستر ہزار کون لوگ ہیں) اب اصحاب نے آپس میں گفتگو شروع کی۔ کہنے لگے ہم لوگ تو کفر اور شرک کی حالت میں پیدا ہوئے پر (ایک مدت پر) اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لائے۔ یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش سے مسلمان ہیں۔ یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا یہ ستر ہزار وہ لوگ ہیں جو (دنیا میں) بدفالی نہیں لیتے (برا شگون) نہ داغ لگاتے ہیں نہ منتر کرتے ہی بلکہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر عکاشہ ابن محصنؓ کھڑے ہوئے کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میں ان ستر ہزار میں ہوں آپؐ نے فرمایا ہاں۔ پھر ایک اور شخص (سعد بن عبادہؓ) کھڑے ہوئے کہنے لگے کیا میں بھی ان میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے عکاشہؓ کے لئے جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔

Chapter No: 43

باب الطِّيَرَةِ

At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, ets.)

باب : شگون لینے کا بیان

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلاَثٍ فِي الْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "There is neither 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission) nor Tiyara, but an evil omen may be in three a woman, a house or an animal."

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا انہوں نے زہری سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ابن عمرؓ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا چھوت بدشگونی یہ کوئی چیز نہیں (محض لغو اور واہی خیال ہیں) ہماری نحوست تو (صرف) تین چیزوں میں ہوتی ہے (اگر ہو) عورت اور گھر اور گھوڑے میں۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَمَا الْفَأْلُ قَالَ ‏"‏ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : I heard Allah's Apostle saying, "There is no Tiyara, and the best omen is the Fal." They asked, "What is the Fal?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen)."

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ ابن عتبہ نے کہ ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا بدشگونی کوئی چیز نہیں۔ البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں۔ لوگوں نے کہا نیک فال کیا ہے آپؐ نے فرمایا کوئی اچھی بات سننا۔

Chapter No: 44

باب الْفَأْلِ

Al-Fal (good omen).

باب : نیک فال لینا کچھ برا نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "There is no Tiyara and the best omen is the Fal," Somebody said, "What is the Fal, O Allah's Apostle?" He said, "A good word that one of you hears (and takes as a good omen)."

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے اور فال نیک ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ فال نیک کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے۔


حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ، الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ‏"‏‏

Narrated By Anas : The Prophet said, "No 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission), nor Tiyara, but I like the good Fal, i.e., the good word."

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا چھوت لگ جانا بد شگونی یہ کوئی چیز نہیں ہے اور فال نیک مجھ کو اچھی لگتی ہے وہ کیا ہے؟ اچھی بات

Chapter No: 45

باب: لاَ هَامَةَ

No Hama.

باب : اُلّو کو منحوس سمجھنا لغو ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى، وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ، وَلاَ صَفَرَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "There is no 'Adha, nor Tiyara, nor Hama, nor Safar."

ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا کہا ہم سے نضر بن شمیل نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی کہا ہم کو ابو حصین (عثمان بن عاصم سدی) نے انہوں نے ابو صالح (ذکوان) سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا چھوت لگ جانا یا بدشگونی یا اُلّو یا صفر کی نحوست یہ کچھ چیز نہیں ہے۔

Chapter No: 46

باب الْكِهَانَةِ

Foretellers.

باب : کہانت کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهْىَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لاَ شَرِبَ، وَلاَ أَكَلَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏.

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle gave his verdict about two ladies of the Hudhail tribe who had fought each other and one of them had hit the other with a stone. The stone hit her abdomen and as she was pregnant, the blow killed the child in her womb. They both filed their case with the Prophet and he judged that the blood money for what was in her womb. was a slave or a female slave. The guardian of the lady who was fined said, "O Allah's Apostle! Shall I be fined for a creature that has neither drunk nor eaten, neither spoke nor cried? A case like that should be nullified." On that the Prophet said, "This is one of the brothers of soothsayers.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے ہذیل کی دو عورتوں کے جھگڑے کا فیصلہ کیا جو آپس میں لڑیں تھیں۔ ان میں ایک (ام عفیف بنت مسروع) نے دوسری (ملیکہ بنت عویمر) کو پتھر مارا وہ پیٹ سے تھی۔ اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو انہوں نے اپنا جھگڑا نبیﷺ کے سامنے پیش کیا۔ آپؐ نے یہ حکم دیا کہ اس کے بچے کی دیت میں ایک بردہ دے (غلام یا لونڈی) یہ سن کر مارنے والی عورت کا خاوند (حمل بن مالک بن نابغہ) کہنے لگا یا نبیﷺ اس کا کیا تاوان دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا نہ چلّایا۔ یہ تو گیا آیا (لغو ہوا) رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ شخص تو کاہن کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Two ladies (had a fight) and one of them hit the other with a stone on the abdomen and caused her to abort. The Prophet judged that the victim be given either a slave or a female slave (as blood-money).

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا اس کا پیٹ گر گیا۔ نبیﷺ نے بچہ کی دیت میں ایک بردہ دلایا یا لونڈی یا غلام۔


وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ‏.‏ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ أَكَلَ، وَلاَ شَرِبَ، وَلاَ نَطَقَ، وَلاَ اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏‏

Narrated Ibn Shihab: Said bin Al-Musayyab said, "Allah's Apostle judged that in case of child killed in the womb of its mother, the offender should give the mother a slave or a female slave in recompense The offender said, How can I be fined for killing one who neither ate nor drank, neither spoke nor cried: a case like that should be denied ' On that Allah's Apostle said 'He is one of the brothers of the foretellers."

اور اسی سند سے ابن شہاب سے روایت ہے انہوں نے سعید بن مسیب سے کہ رسول اللہﷺ نے پیٹ کے بچے کی جو اپنی ماں کے پیٹ میں مر جائے ایک بردہ دیت مقرر کی لونڈی ہو یا غلام۔ پھر جس کو آپؐ نے یہ دیت دینے کا حکم دیا وہ کہنے لگا میں اس کی کیا دیت دوں جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ چلّایا یہ تو گیا آیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ‏.‏

Narrated By Abu Mas'ud : The Prophet forbade the utilization of the price of a dog, the earnings of prostitute and the earnings of a foreteller.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے زہری سے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث سے انہوں نے ابو مسعود انصاری (عقبہ بن عمرو) سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے کتے کی قیمت اور رنڈی کی خرچی اور کاہن (نجومی) کی شرینی سے منع فرمایا۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسٌ عَنِ الْكُهَّانِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ بِشَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِشَىْءٍ فَيَكُونُ حَقًّا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ، يَخْطَفُهَا مِنَ الْجِنِّيِّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُرْسَلٌ، الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ‏.‏ ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَسْنَدَهُ بَعْدَهُ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Some people asked Allah's Apostle about the fore-tellers He said. ' They are nothing" They said, 'O Allah's Apostle! Sometimes they tell us of a thing which turns out to be true." Allah's Apostle said, "A Jinn snatches that true word and pours it Into the ear of his friend (the fore-teller) (as one puts something into a bottle) The foreteller then mixes with that word one hundred lies."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے یحیٰی بن عروہ بن زبیر سے انہوں نے اپنے والد سےانہوں نے عائشہؓ سے انہوں نے کہا کچھ لوگوں نے (معاویہ بن حکم سلمی نے) رسول اللہﷺ سے پوچھا کاہنوں کی باتوں میں آپؐ کیا فرماتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ان کی باتیں محض لغو ہیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ بعضے وقت تو وہ ایسی بات کرتے ہیں جو سچ نکلتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں یہ وہ بات ہوتی ہے جو کاہن شیطان سے اڑا لیتا ہے (یا شیطان فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے) پھر اس کو اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتا ہے۔ یہ کاہن کیا کرتے ہیں اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر (لوگوں سے) بیان کرتے ہیں۔ علی بن مدینی نے کہا عبدالرزاق اس فقرے کو تلک الکلمۃ من الحق مرسلا روایت کرتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا کہ مجھ کو یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق نے اس کے بعد اس کو مسندًا عائشہؓ سے روایت کیا۔

Chapter No: 47

باب السِّحْرِ

Magic.

باب : جادو کا بیان

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ‏}‏‏.‏ وَقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَلاَ يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى‏}‏‏.‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ‏}‏‏.‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى‏}‏‏.‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ‏}‏ وَالنَّفَّاثَاتُ السَّوَاحِرُ‏.‏ ‏{‏تُسْحَرُونَ‏}‏ تُعَمَّوْنَ‏.

And the Statement of Allah, "But the Shayatin (Devils) disbelieved, teaching men magic and such things that came down at Babylon to the two angels, Harut and Marut, but neither of these two taught anyone unless they said, 'We are only for trial, so do not disbelieve.' And from them people learn that by which they cause separation between man and his wife, but they could not thus harm anyone except by Allah's leave. And they learn that which harms them and profits them not. And indeed they knew that the sayers of it (magic) would have no share in the Hereafter ..." (V.2:102) The Statement of Allah, "And the magician will never be successful to whatever amount he may attain." (V.20:69) And His Statement, "Will you submit to magic while you see it?" (V.21:3) And His Statement, "... their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast ..." (V.20:66) And His Statement, "And from the evil of those who practise witchcraft when they blow in the knots." (V.113:4)

اور اللہ تعالٰی نے (سورت البقرۃ میں) فرمایا لیکن شیطان کافر ہوئے۔ وہی لوگوں کو جادو سکھلاتے ہیں اور وہ علم جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت ماروت پر اترا تھا اور ہاروت ماروت یہ کسی کو یہ علم نہیں سکھلاتے جب تک وہ کہہ نہیں دیتے دیکھ اللہ تعالٰی نے ہم کو آزمائش کے لئے دنیا میں بھیجا ہےتو (جادو سیکھ کر) کافر مت بن (کیا فائدہ دنیا چند روزہ ہے) مگر لوگ (ہاروت ماروت کہ اس کہہ دینے پر بھی) ان سے وہ علم سیکھتے ہیں جس کے ذریعے سے عورت اور اس کے خاوند میں جدائی ڈال دیتے ہیں۔ اور جادوگر جادو کی وجہ سے بے اللہ کے حکم کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے غرض وہ علم سیکھتے ہیں جس سے فائدہ تو کچھ نہیں الٹا نقصان ہے (دنیا میں ذلیل اور آخرت میں تباہ) اور یہودیوں کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی جادو سیکھے اس کا آخرت میں کوئی حصّہ نہ رہا۔ اور (سورت طٰہٰ میں) فرمایا اور جادوگر جہاں جائے کم بخت بامراد نہیں ہوتا اور سورت الانبیاء میں فرمایا کیا تم دیکھ سمجھ کر جادو کی پیروی کرتے ہو۔ اور (سورت طٰہٰ میں) فرمایا موسٰی کو ان کے جادو کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ لاٹھیاں اور رسّیاں (سانپ کی طرح) دوڑ رہی ہیں اور (سورت الفلق میں) فرمایا اور بدی سے ان عورتوں کے گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ (سورت مومنون میں) فرمایا فَاَنّٰی تُسحَرُونَ پھر تم پر کیا جادو کی مار ہے۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهْوَ عِنْدِي لَكِنَّهُ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ فَقَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ‏.‏ قَالَ فِي أَىِّ شَىْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ‏.‏ قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، أَوْ كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَسْتَخْرِجُهُ قَالَ ‏"‏ قَدْ عَافَانِي اللَّهُ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ شَرًّا ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَأَبُو ضَمْرَةَ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ‏.‏ يُقَالُ الْمُشَاطَةُ مَا يَخْرُجُ مِنَ الشَّعَرِ إِذَا مُشِطَ، وَالْمُشَاقَةُ مِنْ مُشَاقَةِ الْكَتَّانِ‏.‏

Narrated By 'Aisha : A man called Labid bin al-A'sam from the tribe of Bani Zaraiq worked magic on Allah's Apostle till Allah's Apostle started imagining that he had done a thing that he had not really done. One day or one night he was with us, he invoked Allah and invoked for a long period, and then said, "O 'Aisha! Do you know that Allah has instructed me concerning the matter I have asked him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other near my feet. One of them said to his companion, "What is the disease of this man?" The other replied, "He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked the magic on him?' The other replied, "Labid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material did he use?' The other replied, 'A comb and the hairs stuck to it and the skin of pollen of a male date palm.' The first one asked, 'Where is that?' The other replied, '(That is) in the well of Dharwan;' " So Allah's Apostle along with some of his companions went there and came back saying, "O 'Aisha, the colour of its water is like the infusion of Henna leaves. The tops of the date-palm trees near it are like the heads of the devils." I asked. "O Allah's Apostle? Why did you not show it (to the people)?" He said, "Since Allah cured me, I disliked to let evil spread among the people." Then he ordered that the well be filled up with earth.

ہم سے ابراہیم بن موسٰی رازی نے بیان کیا کہا ہم کو عیسٰی بن یونس نے خبر دی انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عائشہؓ سے انہوں نےکہا کہ بنو زریق کے ایک شخص (یہودی) لبید بن الاعصم نے رسول اللہﷺ پر جادو کر دیا۔ آپؐ کا یہ حال ہو گیا کہ آپؐ کو خیال ہوتا تھا جیسے آپؐ ایک کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ کام (واقع میں) آپؐ نے نہیں کیا ہوتا۔ ایک دن یا ایک رات ایسا ہوا کہ آپؐ میرے پاس تھےمگر میری طرف متوجہ نہ تھے بس دعا کر رہے تھے۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا عائشہؓ میں اللہ سے جو بات دریافت کر رہا تھا وہ اس نے (اپنے فضل سے) مجھ کو بتلا دی۔ میرے پاس دو فرشتے آئے (جبریلؑ اور میکائیلؑ) ایک تو میرے سرہانے بیٹھ گیا ایک پائینتیں۔ اب ایک دوسرے سے پوچھنے لگا یہ تو کہو ان صاحب کو (یعنی محمدﷺ کو) کیا بیماری ہو گئی ہے۔ اس نے جواب دیا (بیماری نہیں) ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے فرشتے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے دوسرے نے کہا لبید بن ا عصم یہودی نے پہلے فرشتے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیا ہے۔ دوسرے فرشتے نے کہا کنگھی اور سر سے نکلے بالوں اور نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں۔ پہلے فرشتے نے پوچھا یہ چیزیں یہودی نے کہاں رکھی ہیں۔ دوسرے نے کہا بیر ذروان میں۔ پھر دوسرے دن رسول اللہﷺ اپنے کئی اصحاب کو لیکر اس کنویں میں تشریف لے گئے وہاں سے لوٹ کر آئے تو عائشہؓ سے فرمانے لگے اس کنویں کا پانی ایسا (رنگین) تھا جیسے مہندی کا پانی (سرخ ہوتا ہے) اس پر کھجور کے درخت ایسے بھیانک (اور ہونق) تھے گویا سانپوں کے پھن ہیں۔ عائشہؓ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہﷺ آپؐ منتر کرا کر اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرتے۔ آپؐ نے فرمایا (کیا فائدہ) اللہ نے مجھ کو تو اچھا کر دیا اب میں خوا مخواہ لوگوں میں ایک شور نہیں پھیلانا چاہتا۔ پھر آپؐ نے حکم دیا وہ جادو کا سامان (کنگھی بال خرما کا غلاف) سب گاڑھ دیا گیا۔ عیسٰی بن یونس کے ساتھ اس حدیث کو ابو اسامہ اور ابو ضمرہ (انس بن عیاض) اور ابن ابی الزناد تینوں نے ہشام سے روایت کیا اور لیث بن سعد اور سفیان بن عیینہ نے ہشام سے یوں ہی روایت کیا فی مشط و مشاقۃ مشاطہ اس کو کہتے ہیں جو بال کنگھی کرنے میں نکلیں (سر یا داڑھی کے) اور مشاقۃ روئی کے تار (یعنی سوت)۔

Chapter No: 48

باب الشِّرْكُ وَالسِّحْرُ مِنَ الْمُوبِقَاتِ

Shirk and witchcraft are from the Mubiqat (great destructive sins).

باب : شرک اور جادو ان گناہوں میں سے ہیں جو آدمی کو تباہ کر دیتے ہیں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اجْتَنِبُوا الْمُوبِقَاتِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Avoid the Mubiqat, i.e., shirk and witchcraft."

مجھ سے عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے انہوں نے ثور بن زید دہلی سے انہوں نے ابو الغیث سے (جو عبداللہ بن مطیع کا غلام تھا) انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو جادو اورشرک سے۔

Chapter No: 49

باب هَلْ يَسْتَخْرِجُ السِّحْرَ ؟

Should a bewitched person be treated?

باب : جادو کا توڑ کرنا یا جادو کا سامان (اپنی جگہ سے) نکلوانا

وَقَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ رَجُلٌ بِهِ طِبٌّ أَوْ يُؤَخَّذُ عَنِ امْرَأَتِهِ أَيُحَلُّ عَنْهُ أَوْ يُنَشَّرُ‏.‏ قَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا يُرِيدُونَ بِهِ الإِصْلاَحَ، فَأَمَّا مَا يَنْفَعُ فَلَمْ يُنْهَ عَنْهُ‏

Qatada said, "I asked Saeed bin Musaiyab, 'If a person is bewitched or is unable to have sexual intercourse with his wife, is it permissible to remove the magic effect or use Nashra?' He said, 'Yes, there is no harm in it, for it is meant for a good purpose, and that which benefits people is not forbidden.'"

اور قتادہ نے سعید بن مسیب سے کہا (اس کو اثرم نے سنن میں وصل کیا) اگر کسی پر جادو ہوا ہو یا ٹوٹکہ کر کے اس کو اپنی بی بی سے روک دیا ہو (اس سے صحبت نہ کر سکے) تو اس کا دفیعہ کرنا جادو کے باطل کرنے کے لئے منتر کرنا درست ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں جادو رفع کرنے والوں کی نیت بخیر ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی نے اس بات سے منع نہیں فرمایا جس میں فائدہ ہو۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي آلُ، عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، فَسَأَلْتُ هِشَامًا عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلاَ يَأْتِيهِنَّ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ السِّحْرِ إِذَا كَانَ كَذَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلآخَرِ مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ، كَانَ مُنَافِقًا‏.‏ قَالَ وَفِيمَ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ‏.‏ قَالَ وَأَيْنَ قَالَ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ، تَحْتَ رَعُوفَةٍ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبِئْرَ حَتَّى اسْتَخْرَجَهُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَاسْتُخْرِجَ، قَالَتْ فَقُلْتُ أَفَلاَ أَىْ تَنَشَّرْتَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ شَرًّا ‏"‏‏.

Narrated By 'Aisha : Magic was worked on Allah's Apostle so that he used to think that he had sexual relations with his wives while he actually had not (Sufyan said: That is the hardest kind of magic as it has such an effect). Then one day he said, "O 'Aisha do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me and one of them sat near my head and the other sat near my feet. The one near my head asked the other. What is wrong with this man?' The latter replied the is under the effect of magic The first one asked, Who has worked magic on him?' The other replied Labid bin Al-A'sam, a man from Bani Zuraiq who was an ally of the Jews and was a hypocrite.' The first one asked, What material did he use)?' The other replied, 'A comb and the hair stuck to it.' The first one asked, 'Where (is that)?' The other replied. 'In a skin of pollen of a male date palm tree kept under a stone in the well of Dharwan'" So the Prophet went to that well and took out those things and said "That was the well which was shown to me (in a dream) Its water looked like the infusion of Henna leaves and its date-palm trees looked like the heads of devils." The Prophet added, "Then that thing was taken out' I said (to the Prophet) "Why do you not treat yourself with Nashra?" He said, "Allah has cured me; I dislike to let evil spread among my people."

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا وہ کہتے تھے پہلے جس نے مجھ سے جادو کی حدیث بیان کی وہ ابن جریج تھے کہتے تھے مجھ سے عروہ کی اولاد نے بیان کیا انہوں نے عروہ بن زبیر سے پھر میں نے ہشام بن عروہ سے اس حدیث کو پوچھا تو انہوں نے بھی اپنے والد عروہ سے نقل کیا انہوں نے عائشہؓ سے کہ رسول اللہﷺ پر کسی نے جادو کیا تھا۔ آپؐ کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عورتوں سے صحبت کر رہے ہیں حالاں کہ آپؐ نہ صحبت کر رہے ہوتے نہ کچھ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا یہ جو جادو مذکور ہوا ہے بہت سخت قسم کا جادو ہے۔ آخر (ایک مدت کے بعد)آپﷺ نے عائشہؓ سے فرمایا عائشہؓ میں نے اللہ جل شانہ سے جو بات پوچھی تھی وہ اس نے (اپنی عنایت سے) بتلا دی۔ ایسا ہوا (میں لیٹا ہوا تھا) اتنے میں دو فرشتے (جبریلؑ اور میکائیلؑ) میرے پاس آئے ایک تو میرے سرہانے بیٹھ گیا(جبریلؑ) دوسرا میری پائینتیں (میکائیلؑ) سر کے پاس والے فرشتے نے دوسرے سے پوچھا ان صاحب کو (یعنی محمدﷺ کو) کیا عارضہ ہے؟ اس نے کہا (عارضہ نہیں) ان پر جادو ہوا ہے۔ تب پہلے فرشتے نے پوچھا کس نے کیا ہے؟ دوسرا کہنے لگا لبید بن اعصم نے یہ بنی زریق کا ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا اور منافق تھا۔ خیر پہلے شخص نے پوچھاکس چیز پر جادو کیا ہے دوسرا فرشتہ کہنے لگا کنگھی اور بالوں اور تاگے میں۔ پہلے فرشتے نے پوچھا یہ سامان کاہے میں رکھا ہے۔ دوسرے نے کہا نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں اور اس کو ذروان کے کنویں میں ایک پتھر تلے داب دیا ہے عائشہؓ کہتی ہیں پھر نبیﷺ اس کنویں پر تشریف کے گئے اور اس کو نکال لیا آپؐ نے فرمایا میں نے جا کر اس کنویں کو جو دیکھا تو اس کا پانی ایسا رنگین تھا جیسے مہندی کا پانی اور وہاں کھجور کے درخت ایسے بھیانک تھے جیسے سانپوں کے پھن (یا بہتوں کے سر)۔ عائشہؓ کہتی ہیں آپؐ نے جادو کا سامان نکلوایا میں نے آپﷺ سے عرض کیا آپؐ اس کا توڑ کیوں نہیں کراتے۔ آپؐ نے فرمایا اب کیا فائدہ پروردگار کی قسم سن لو اللہ نے مجھ کو تو اچھا کر دیا اب میں لوگوں میں ایک شور مچوانا پسند نہیں کرتا۔

Chapter No: 50

باب السِّحْرِ

Witchcraft.

باب : جادو کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهْوَ عِنْدِي دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ جَاءَنِي رَجُلاَنِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ‏.‏ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، الْيَهُودِيُّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ‏.‏ قَالَ فِيمَا ذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى الْبِئْرِ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأَخْرَجْتَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَشَفَانِي، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا ‏"‏‏.‏ وَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Magic was worked on Allah's Apostle so that he began to imagine that he had done something although he had not. One day while he was with me, he invoked Allah and invoked for a long period and then said, "O 'Aisha! Do you know that Allah has instructed me regarding the matter I asked Him about?" I asked, "What is that, O Allah's Apostle?" He said, "Two men came to me; one of them sat near my head and the other sat near my feet. One of them asked his companion, 'What is the disease of this man?' The other replied, 'He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who has worked magic on him?" The other replied, 'Labid bin A'sam, a Jew from the tribe of Bani Zuraiq.' The (first one asked), 'With what has it been done?' The other replied, 'With a a comb and the hair stuck to it and a skin of the pollen of a male date-palm tree.' The first one asked, 'Where is it?' The other replied, 'In the well of Dharwan.' Then the Prophet went along with some of his companions to that well and looked at that and there were date palms near to it. Then he returned to me and said, 'By Allah the water of that well was (red) like the infusion of Henna leaves and its date-palms were like the heads of devils" I said, O Allah's Apostle! Did you take those materials out of the pollen skin?" He said, 'No! As for me Allah has healed me and cured me and I was afraid that (by Showing that to the people) I would spread evil among them when he ordered that the well be filled up with earth, and it was filled up with earth "

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ میرے پاس تھے۔ آپؐ نے اللہ کو پکارا دعا کی۔ اللہ نے آپؐ کی دعا قبول کی پھر فرمانے لگے عائشہ تجھ کو معلوم ہوا اللہ سے جو بات میں نے پوچھی تھی وہ اللہ نے مجھ کو بتلا دی۔ میں نے کہا فرمائیے تو کیا بات ہے۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس دو فرشتے آئے ایک تو میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ سرہانے والے نے پائیتیں والے سے پوچھا ان صاحب کو کیا عارضہ ہے؟ اس نے کہا (عارضہ نہیں) ان پر جادو کیا گیا ہے۔ پہلے نے کہا کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم یہودی نے جو بنی زریق قبیلے کا ہے۔ پہلے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کنگھی اور بالوں اور کھجور کے غلاف میں۔ پہلے نے پوچھا یہ سامان کہاں رکھا ہے؟ دوسرے نے کہا ذی اروان کے کنویں میں۔ عائشہؓ کہتی ہیں نبیﷺ اپنے کئی اصحاب کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے۔ اس کو دیکھا وہاں کھجور کے درخت بھی تھے۔ جب لوٹ کے آئے تو مجھ سے فرمایا عائشہؓ خدا کی قسم اس کا پانی ایسا رنگین تھا جیسے مہندی کا پانی اور کھجور کے درخت کیا تھے گویا سانپوں کے پھن (یا شیطانوں کے سر)۔ میں نے کہا یا رسول اللہ آپؐ نے وہ کنگھی بال وغیرہ (غلاف سے) نکلوائے (یا نہیں)۔ آپؐ نے فرمایا نہیں سن لے اللہ نے تو مجھ کو شفا دی تدرست کر دیا۔ اب میں ڈرا کہیں لوگوں میں شور نہ پھیلے اور آپﷺ نے اس سامان کو گاڑھ دینے کا حکم دیا وہ گاڑ دیا گیا۔

‹ First3456