Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Monotheism (97)    كتاب التوحيد

12345Last ›

Chapter No: 21

باب ‏{‏قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ‏}‏

The Statement of Allah, "Say, What thing is the most great in witness? Say, Allah ..." (V.6:19)

باب اللہ تعالیٰ کا (سورۃ انعام میں) فرمانا اے پیغمبر ان سے پوچھ کس شے کی گواہی سب سے بڑی ہے آپ کہہ دیجئے اللہ کی۔

وَسَمَّى اللَّهُ تَعَالَى نَفْسَهُ شَيْئًا‏.‏ وَسَمَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ شَيْئًا وَهْوَ صِفَةٌ مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ ‏{‏كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ‏}‏‏.‏

So Allah calls Himself a Thing. The Prophet (s.a.w) calls the Quran a Thing and it is one of the Qualities of Allah. And Allah said, "... Everything will perish save His face ..." (V.28:88)

تو اللہ تعالیٰ نے اپنے تئیں شے فرمایا اور نبیﷺ نے قرآن کو شے فرمایا حالانکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی ایک صفت ہے اور اللہ تعالیٰ نے (سورہ قصص میں) فرمایا ہر شے ہلاک ہونے والی ہے مگر اس کا منہ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ ‏"‏ أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا‏.‏ لِسُوَرٍ سَمَّاهَا‏

Narrated By Sahl bin Sa'd : The Prophet said to a man, "Have you got anything of the Qur'an?" The man said, "Yes, such-and-such Sura, and such-and-such Sura," naming the Suras.

ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نےخبر دی انہوں نے ابو حازم (سلمہ بن دینار )سے انہوں نے سہل بن سعد سے انہوں نے کہا نبیﷺنے ایک شخص (نام نامعلوم ) سے فر مایا تیرے پاس قرآن میں سے کوئی شے ہے وہ کہنے لگا جی ہاں فلانی سورت کئی سورتوں کا نام اس نے لیا ۔

Chapter No: 22

باب ‏{‏وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ‏}‏ ‏{‏وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ‏}‏

"... And His Throne was on the water ..." (V.11:7) "... The Lord of the supreme Throne." (V.27:26)

باب اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ھود میں) فرمانا اس کا عرش پانی پر ہے(یعنی تخت)اور سورۃ توبہ میں فرمایا: وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔

قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ ‏{‏اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ‏}‏ ارْتَفَعَ، ‏{‏فَسَوَّاهُنَّ‏}‏ خَلَقَهُنَّ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏اسْتَوَى‏}‏ عَلاَ عَلَى الْعَرْشِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمَجِيدُ الْكَرِيمُ، وَالْوَدُودُ الْحَبِيبُ‏.‏ يُقَالُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ، مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ.

Ibn Abbas said, "Al-Majid means The Generous and Al-Wadud means The Beloved."

ابوالعالیہ نے کہا استوی اِلی السماء یعنی آسمان کی طرف(چڑھ گیا)بلند ہوا۔فسوّٰھُن(جو سورۃ بقرہ میں ہے)اس کا معنی بنایا۔اور مجاہد نے کہا (اسکو فریابی نے وصل کیا) استوٰی العرش یعنی عرش پر بلند ہوا۔اور ابن عباسؓ نے کہا(اس کو ابن ابی حاتم نے تفسیر میں وصل کیا)۔مجید کے معنی(ذولعرش المجید میں)بزرگی والا۔اور ودود کا معنی(جو سورۃ بروج میں ہے)محبت رکھنے والا۔عرب لوگ کہتے ہیں۔حمید مجید۔مجید ماجد سے نکلا ہے(یعنی بزرگی والا)اور محمود حمید سے نکلا ہے یعنی تعریف کیا گیا

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا‏.‏ فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا قَبِلْنَا‏.‏ جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ مَا كَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَىْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ‏.

Narrated By 'Imran bin Hussain : While I was with the Prophet , some people from Bani Tamim came to him. The Prophet said, "O Bani Tamim! Accept the good news!" They said, "You have given us the good news; now give us (something)." (After a while) some Yemenites entered, and he said to them, "O the people of Yemen! Accept the good news, as Bani Tamim have refused it. " They said, "We accept it, for we have come to you to learn the Religion. So we ask you what the beginning of this universe was." The Prophet said "There was Allah and nothing else before Him and His Throne was over the water, and He then created the Heavens and the Earth and wrote everything in the Book." Then a man came to me and said, 'O Imran! Follow your she-camel for it has run away!" So I set out seeking it, and behold, it was beyond the mirage! By Allah, I wished that it (my she-camel) had gone but that I had not left (the gathering)."

ہم سے عبدان نے بیا ن کیا انہوں نے ابو حمزہ سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے جامع بن شداد سے انہوں نے صفوان بن محرز سے انہوں نے عمران بن حصینؓ سے انہوں نے کہا میں نبی ﷺکے پاس تھا اتنے میں بنی تمیم کے کچھ لوگ آئے آپ ﷺنے فر مایا بنی تمیم کے کے لوگو تم خوشخبری قبول کرو انہوں نے کہا آپ ﷺہم کو بہشت کی خوشخبری دیتے ہیں کچھ دلوائیے اس کے بعد کچھ یمن کے لوگ آئے آپ ﷺنے فر مایا یمن والو تم تو خوشخبری قبول کرو بنی تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی (اور دنیا کے طالب ہوئے ) انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺہم کو یہ خوشخبری قبول (اور بدل منظور ) ہے ہم آپ ﷺ کے پاس تو اس لئے آئے ہیں کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور یہ دریافت کریں کہ عالم کی ابتدا ئے پیدائش کیونکر ہوئی آپ ﷺنے فر مایا ایسا ہوا اللہ تعالیٰ موجود تھا اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اس کا تخت پانی پر تھا پھر آسمان اور زمین پیدا کئے اور لکھنے کے مقام (یعنی لوح محوظ ) میں ہر چیز کو لکھا (جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی) عمرانؓ کہتے ہیں آپ ﷺ یہی بیان کر رہے تھے اتنے میں ایک آدمی (نام نہ معلوم )آیا اور کہنے لگاعمران(بیٹھا کیا ہے )تیری اونٹنی چل دی میں یہ سن کر اس کے ڈھونڈنے کو چلا دیکھا تو (اتنی دور چل دی ہے )چمکتی ریتی اس کے بھی پر ے سے نکل گئی ہے خدا کی قسم مجھ کو یہ آرزو رہی اونٹنی چل دیتی تو چل دیتی مگر میں آپ ﷺکے پاس سے نہ اٹھتا ۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلأَى لاَ يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْفَيْضُ ـ أَوِ الْقَبْضُ ـ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The Right (Hand) of Allah Is full, and (Its fullness) is not affected by the continuous spending night and day. Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Yet all that has not decreased what is in His Right Hand. His Throne is over the water and in His other Hand is the Bounty or the Power to bring about death, and He raises some people and brings others down."

ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الرزاق بن ہمام نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی انہوں نے ہمام بن منبہ سے کہا ہم سے ابو ہریرہؓ نے بیان کیا انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے کوئی خرچ اس میں جو خزانہ ہے اس کو کم نہیں کرتا رات اور دن فیض کا چشمہ اس میں سے جاری ہے بتلاؤ تو آسمان زمین جب سے بنے ہیں اس نے( اب تک ) کتنا کچھ خرچ کیا ہو گا مگر اس پر بھی جو خزانہ اس کے داہنے ہاتھ میں تھا وہ کم نہیں ہوا( بلکہ) جوں کا توں ہے اس کا تخت پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں بھی فیض یعنی (جود اور عطا) ہے ۔بعضے راویوں نے فیض کے بدل قبض نقل کیا ہے یعنی دوسرے ہاتھ سے جانیں قبض کرتا ہے یعنی بعضے لوگوں کو بڑھاتا ہے(ترقی دیتا ہے) اور بعضوں کو گراتا ہے ( تنزل کرتا ہے)۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ اتَّقِ اللَّهَ، وَأَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ‏.‏ قَالَ فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيكُنَّ، وَزَوَّجَنِي اللَّهُ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ‏.‏ وَعَنْ ثَابِتٍ ‏{‏وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ‏}‏ نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ‏

Narrated By Anas : Zaid bin Haritha came to the Prophet complaining about his wife. The Prophet kept on saying (to him), "Be afraid of Allah and keep your wife." 'Aisha said, "If Allah's Apostle were to conceal anything (of the Qur'an he would have concealed this Verse." Zainab used to boast before the wives of the Prophet and used to say, "You were given in marriage by your families, while I was married (to the Prophet) by Allah from over seven Heavens." And Thabit recited, "The Verse: 'But (O Muhammad) you did hide in your heart that which Allah was about to make manifest, you did fear the people,' (33.37) was revealed in connection with Zainab and Zaid bin Haritha."

ہم سے احمد بن سیار مر وزی نے بیان کیا کہا ہم سے محمدّ بن ابی بکر مقدّمی نے کہا ہم سے حماد بن زید نےانہوں نے ثابت بنانی سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا زید بن حارثہؓ اپنی بی بی (حضرت زینبؓ )کا شکوہ کرنے آئے (کہ وہ مجھ سے بد زبانی کرتی ہیں مجھ کو حقیر سمجھتی ہیں ) نبی ﷺ ان سے فر ماتے تھے ارے مرد خدا اللہ سے ڈر اپنی بی بی کو رہنے دے (اس کو طلاق نہ دے) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں اگر رسول اللہ ﷺقرآن میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے انسؓ کہتے ہیں بی بی زنیبؓ نبیﷺکی دوسری بیبیوں پر فخر کیا کرتیں کہ تم کو تمھارے لوگوں نے بیاہا اور مجھ کو تو اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر(اپنے عرش پر )سے بیاہ دیا اور اسی سند سے ثابت بنانی سے مروی ہے یہ آیت (سورت احزاب کی ) وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی الناس ۔زینبؓ اور زید بن حارثہ کی شان میں اتری ہے ۔


حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ‏.

Narrated By Anas bin Malik : The Verse of Al-Hijab (veiling of women) was revealed in connection with Zainab bint Jahsh. (On the day of her marriage with him) the Prophet gave a wedding banquet with bread and meat; and she used to boast before other wives of the Prophet and used to say, "Allah married me (to the Prophet in the Heavens."

ہم سے خلاد بن یحیٰی نے بیان کیا کہا ہم سے عیسےٰ بن طہان نے کہا میں نے انس بن مالکؓ سے سنا وہ کہتے تھے حجاب کی آیت (یا ایھاالذین آمنوا لا تدخلوا بیوت النبی جو سورت احزاب میں ہے ) زینب بنت جحش ام المومنین کے بارے میں اتری آپ ﷺنے انکے ولیمہ کا کھانا کیا گوشت روٹی لوگوں کو اس دن کھلایا وہ نبی ﷺکی دوسری بی بیوں پر فخر کرتی تھیں کہتی تھیں اللہ نے میرا نکاح آسمان پر سے کر دیا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا قَضَى الْخَلْقَ كَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "When Allah had finished His creation, He wrote over his Throne: 'My Mercy preceded My Anger.'

ہم سے ابو الیمان نے بیا ن کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی کہا ہم سے ابو الزناد نے بیا ن کیا انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوُہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فر مایا اللہ تعالےٰ جب خلقت پیدا کر چکا تو اس نے عرش کے اوپر اپنے پاس یہ لکھا میرا رحم میرے غضب سے آگے بڑھ گیا ہے ۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي هِلاَلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلاَةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، كُلُّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever believes in Allah and His Apostle offers prayers perfectly and fasts (the month of) Ramadan then it is incumbent upon Allah to admit him into Paradise, whether he emigrates for Allah's cause or stays in the land where he was born." They (the companions of the Prophet) said, "O Allah's Apostle! Should we not inform the people of that?" He said, "There are one-hundred degrees in Paradise which Allah has prepared for those who carry on Jihad in His Cause. The distance between every two degrees is like the distance between the sky and the Earth, so if you ask Allah for anything, ask Him for the Firdaus, for it is the last part of Paradise and the highest part of Paradise, and at its top there is the Throne of Beneficent, and from it gush forth the rivers of Paradise."

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا مجھ سے محمدّ بن فلیح نے کہا مجھ سے والد (فلیح بن سلیمان) نے کہا مجھ سے ہلال نے انہوں نے عطا ء بن یسار سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپ ﷺ نے فر مایا جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور نماز درستی سے ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق ہے کہ اس کو بہشت میں لے جائے خواہ اس نے اپنے ملک سے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا نہ کی ہو وہیں رہا ہو جہاں پیدا ہوا صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کو اس کی خبر کر دیں (ان کو خوشخبری دے دیں ) آپ ﷺنے فر مایا (اور سنو )بہشت میں اوپر تلے سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہا د کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھے ہیں ہر درجے میں دوسرے درجے تک اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان زمین میں ہے پھر جب تم اللہ تعالےٰ سے مانگو جنت فردوس مانگو وہ بہشت کا بیچا بیچ اور سب سے بلند درجہ ہے (یا بہشت کا عمدہ ترین اور بلند ترین درجہ ہے ) اس کے اُوپر اللہ کا عرش ہے اور فردوس ہی سے بہشت کی سب نہریں نکلتی ہیں (ان کا منبع وہیں ہے ) ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ـ هُوَ التَّيْمِيُّ ـ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا‏}‏ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ‏

Narrated By Abu Dharr : I entered the mosque while Allah's Apostle was sitting there. When the sun had set, the Prophet said, "O Abu Dharr! Do you know where this (sun) goes?" I said, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and asks permission to prostrate, and it is allowed, and (one day) it, as if being ordered to return whence it came, then it will rise from the west." Then the Prophet recited, "That: "And the sun runs on its fixed course (for a term decreed)," (36.38) as it is recited by 'Abdullah.

ہم سے یحیٰی بن جعفر نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابو معاویہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم تیمی سے انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک )سے انہوں نے ابو ذررغفاریؓ سے انہوں نے کہا میں مسجد میں گیا دیکھا تو رسول اللہ ﷺ وہاں بیٹھے ہیں جب سورج ڈوبنے لگا تو آپﷺ نے فر مایا ابو ذر تو جانتا ہے یہ سورج کہا جاتا ہے میں نے کہا اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتا ہے آپ ﷺنے فر مایا یہ جاکر سجدے کی اجازت مانگتا ہے اس کو اجازت ملتی ہے اس وقت آگے بڑھ جاتا ہے ایک دن ایسا ہو گا اس سے یوں کہا جائے گا جا جہاں سے آیا ہے ادھرہی لوٹ جا وہ لوٹ کر پھر پچھم سے نکلے گا (اور پورب کی طرف چلے گا ) اس کے بعد آپ ﷺ نے (سورۃ یٰس کی ) یہ آیت پڑھی ۔ذالک مستقر لہا عبد اللہ بن مسعود کی قرات یوں ہی ہے ۔


حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ،‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ ‏{‏لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ‏}‏ حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةٌ‏.حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ‏.‏ ‏

Narrated By Zaid bin Thabit : Abu Bakr sent for me, so I collected the Qur'an till I found the last part of Surat-at-Tauba with Abi Khuzaima Al-Ansari and did not find it with anybody else. (The Verses are): 'Verily, there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves... (till the end of Surat Bara'a) (i.e., At-Tauba).' (9.128-129)

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیا ن کیا انہوں نے ابراہیم بن سعد سے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا انہوں نے عبیدبن سباق سے کہ زید بن ثابت نے کہا دوسری سند اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عبد الرحمٰن بن خالد نے بیا ن کیا انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابن سباق سے ان سے زید بن ثابت نے بیان کیا کہ ابو بکرؓ نے مجھ کو بلا بھیجا (میں گیا پھر سارا قصّہ جو اوپر گزر چکا بیان کر کے انہوں نے کہا ) میں نے قرآن کی جا بجا تلاش شروع کی سورت توبہ کے اخیر یہ آیت تک لقد جاء کم رسول من انفسکم اخیر سورت تک یعنی ۔رب العرش العظیم تک کسی کے پاس نہ ملی ایک ابو خزیمہ کے پاس (لکھی ہوئی )ملی (گو یا دبہتوں کو تھی) ۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیا ن کیا کہا ہم سے لیث نے انہوں نے یونس سے پھر یہ حدیث نقل کی اس میں یوں ہے ابو خذیمہ انصاری کے پاس یہ آیت ملی ۔


حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَلِيمُ الْحَلِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet used to say at the time of difficulty, 'La ilaha il-lallah Al-'Alimul-Halim. La-ilaha il-lallah Rabul- Arsh-al-Azim, La ilaha-il-lallah Rabus-Samawati Rab-ul-Ard; wa Rab-ul-Arsh Al-Karim.'

ہم سے معلٰی بن اسد نے بیا ن کیا کہا ہم سے وہیب نے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابو العالیہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ سختی اور مصیبت کے وقت یہ دعا پڑھتے ۔ لا االہ الّا اللہ العلیم الحلیم لا الہ الّا اللہ رب العرش العظیم لا الہ الا اللہ رب السمٰوٰ ت و رب الارض و رب العرش الکریم ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : The Prophet said, "The people will fall unconscious on the Day of Resurrection, then suddenly I will see Moses holding one of the pillars of the Throne."

ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عمرو بن یحیٰی سے انہوں نے اپنے والد (یحیٰی بن عمارہ ) سے ا نہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے انہوں نے کہا آپ ﷺنے فر مایا قیامت کے دن لوگ بیہوش ہو جائیں گے (پھر جب سب سے پہلے میں ہوش میں آوٗں گا کیا دیکھوں گا موسٰیٰ پیغمبر عرش کا ایک پایہ پکڑے (کھڑے ہیں) ۔


وَقَالَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ ‏"‏‏

Abu Huraira said: The Prophet said, "I will be the first person to be resurrected and will see Moses holding the Throne."

اور عبد العزیز ما جشوں نے عبد اللہ بن فضل سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے یوں روایت کیا میں سب سے پہلے ہوش میں آوٗں گا کیا دیکھوں گا موسٰی عرش تھامے ہوئے ہیں ۔

Chapter No: 23

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏تَعْرُجُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ‏}‏ وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ‏}‏

The Statement of Allah, "The angels and the Ruh (Jibril) ascend to Him ..." (V.70:4)

باب اللہ تعالیٰ کا (سورۃ معارج میں) فرمانا فرشتے اور روح اس پروردگار تک ایک دن میں چڑھتے ہیں اور (سورۃ فاطر) میں فرمانا پاکیزہ کلمہ( یعنی لا الٰہ الّاللہ) اس پاک پروردگارتک چڑھ جاتا ہے۔

وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَخِيهِ اعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُ الْكَلِمَ الطَّيِّبَ، يُقَالُ ذِي الْمَعَارِجِ الْمَلاَئِكَةُ تَعْرُجُ إِلَى اللَّهِ‏.

The Statement of Allah, "To Him ascend (all) the goodly words ..." (V.35:10) Narrated by Ibn Abbas (r.a), "When the news of the Prophet (s.a.w) being sent (by Allah) (as a Messenger of Allah) reached Abu Dhar, he said to his brother, 'Try to find out the truth about that man who claims that the news comes to him from the heaven.'"

اور ابو جمرہ (نصر بن عمران ضبغی) نے ابن عباسؓ سے روایت کی ابوذرؓ کو نبیﷺ کی پیغمبری کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا تم (جاؤ) اس پیغمبر کی خبر لاؤ جو کہتا ہے مجھ پر آسمان سے خبر آتی ہے اور مجاہد نے کہا (اس کو فریابی نے وصل کیا) نیک عمل پاکیزہ کلمے کو اٹھا لیتا ہے (اللہ تک پہنچا دیتا ہے)بعضوں نے کہا ذوالمعارج سے یہی مراد ہے کہ وہ پاک پروردگار فرشتوں والا ہے جو اس کی طرف چڑھتے رہتے ہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ وَصَلاَةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهْوَ أَعْلَمُ بِكُمْ فَيَقُولُ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "(A group of) angels stay with you at night and (another group of) angels by daytime, and both groups gather at the time of the 'Asr and Fajr prayers. Then those angels who have stayed with you overnight, ascend (to Heaven) and Allah asks them (about you)... and He knows everything about you. "In what state did you leave My slaves?' The angels reply, 'When we left them, they were praying, and when we reached them they were praying.'"

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیا ن کیا کہا مجھ سے امام مالکؒ نے انہوں نے ابو زناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہر یرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے فرشتے تمہارے پاس باری باری آتے رہتے ہیں کچھ رات کو کچھ دن کو اور فجر اور عصر کے وقت اور رات دونوں کے فرشتے اکھٹے ہو جاتے ہیں بعد اس کے جو فر شتے رات کو تمہارے پاس رہ چکے تھے وہ چڑھ جاتے ہیں پر ور دگار ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خوب ُجانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا وہ کہتے ہیں جب ہم ان کے پاس سے نکلے (یعنی فجر کے وقت )اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے او رجب ہم ان کے پاس پہنچے تھے (یعنی عصر کے وقت ) اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔


وَقَالَ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلاَ يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلاَّ الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ ‏"‏‏.‏ وَرَوَاهُ وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلاَ يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلاَّ الطَّيِّبُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If somebody gives in charity something equal to a date from his honestly earned money... for nothing ascends to Allah except good... then Allah will take it in His Right (Hand) and bring it up for its owner as anyone of you brings up a baby horse, till it becomes like a mountain." Abu Huraira said: The Prophet. said, "Nothing ascends to Allah except good."

خالد بن مخلد نے کہا ہم سے سلیمان بن حلال نے بیان کیا کہا مجھ سے عبد اللہ بن دینار نے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺنے فرمایا جوشخص حلال کمائی میں سے ایک کھجور برابر خیرات نکالے اور اللہ کی طرف وہی خیرات چڑھتی ہے جو حلال کمائی میں سے ہو تو اللہ اس کو اپنے داہنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کی پر ورش اس طرح سے کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ خیرات (جو کھجور کے برابر تھی ) پہاڑ برابر ہو جاتی ہے اس حدیث کو ورقا ء بن عمر نے بھی عبد اللہ بن دینار سے روایت کیا انہوں نے سعید بن یسار سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نےنبی ﷺ سے اس میں بھی یہ فقرہ ہے کہ اللہ کی طرف وہی خیرات چڑھتی ہے جو حلال کمائی میں سے ہو ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"

Narrated By Ibn Abbas : Allah's Apostle used to say at the time of difficulty, "None has the right to be worshipped but Allah, the Majestic, the Most Forbearing. None has the right to be worshipped but Allah, the Lord of the Tremendous Throne. None has the right to be worshipped but Allah, the Lord of the Heavens and the Lord of the Honourable Throne.

ہم سے عبد الا علی بن حماد نے بیا ن کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابو العا لیہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبی ﷺ کرب اور سختی کی حالت میں ان کلموں سے یہ دعا کر تے تھے لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم لا الہ الا اللہ رب السمٰوات و رب العرش الکریم ۔


حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ـ أَوْ أَبِي نُعْمٍ شَكَّ قَبِيصَةُ ـ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ‏.‏ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ وَهْوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، فَتَغَضَّبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ فَقَالُوا يُعْطِيهِ صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ ‏"‏‏.‏ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ فَيَأْمَنِّي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَلاَ تَأْمَنُونِي ‏"‏‏.‏ فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ـ قَتْلَهُ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ـ فَمَنَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : When 'Ali was in Yemen, he sent some gold in its ore to the Prophet. The Prophet distributed it among Al-Aqra' bin Habis Al-Hanzali who belonged to Bani Mujashi, 'Uyaina bin Badr Al-Fazari, 'Alqama bin 'Ulatha Al-'Amiri, who belonged to the Bani Kilab tribe and Zaid AI-Khail At-Ta'i who belonged to Bani Nabhan. So the Quraish and the Ansar became angry and said, "He gives to the chiefs of Najd and leaves us!" The Prophet said, "I just wanted to attract and unite their hearts (make them firm in Islam)." Then there came a man with sunken eyes, bulging forehead, thick beard, fat raised cheeks, and clean-shaven head, and said, "O Muhammad! Be afraid of Allah! " The Prophet said, "Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Allah). He trusts me over the people of the earth, but you do not trust me?" A man from the people (present then), who, I think, was Khalid bin Al-Walid, asked for permission to kill him, but the Prophet prevented him. When the man went away, the Prophet said, "Out of the offspring of this man, there will be people who will recite the Qur'an but it will not go beyond their throats, and they will go out of Islam as an arrow goes out through the game, and they will kill the Muslims and leave the idolaters. Should I live till they appear, I would kill them as the Killing of the nation of 'Ad."

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق)سے انہوں نے عبد الرحمٰن بن ابی نعم سے یا ابو نعم سے یہ شک قبیصہ راوی کو ہوا ۔۔۔ انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے کہا حضرت علیؓ نے جب وہ یمن میں تھے نبی ﷺ کے پاس سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا آپ ﷺنے کیا کیا وہ سونا چار شخصوں میں تقسیم کر دیا دوسری سند اور مجھ سے اسحاق( بن ابراہیم ) بن نصر نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبد الرزاق نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی اپنے باپ سے انہوں نے عبد الرحمٰن بن ابی نعم سے انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے کہا حضرت علیؓ نے جب یمن میں تھے نبی ﷺ کے پاس سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا آپ ﷺ نے کیا کیا وہ سونا اقرع بن حابس حنظلی جو بنی مجاشع میں سے تھا اور عیینہ بن حصن بن بدر فزاری اور علقمہ بن علاثہ عامری کو جو بنی کلاب میں سے تھا اور زید خیل طائی کو جو بنی نبہان میں سے تھا ان چار آدمیوں کو تقسیم کر دیا یہ حال دیکھ کر قریش اور انصار کے لوگ غصّے ہوئے اور کہنے لگے آپ ﷺکو کیا ہو گیا ہے آپ ﷺ نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں مگر ہم کو نہیں دیتے آپ ﷺنے فر مایا میں نے یہ مال نجد والوں کو دیا ہے تو ایک مصلحت کے لئے میں ان کا دل ہلاتا ہوں اتنے میں ایک شخص آن پہنچا(عبد اللہ ذوالخو یصرہ)جس کی آنکھیں اندر گھُسی ہوئیں پیشانی اوپر اٹھی ہوئی داڑھی بُہت گھنی ہوئی گلے پھولے ہوئے سر گھٹا ہوا (مردود کیا ) کہنے لگا محمدﷺ خدا سے ڈر و آپ ﷺنے فر مایا اگر میں اللہ کا رسول ہو کر اس کی نافر مانی کرو نگا تو پھر اس کی اطاعت کون کریگا وہ تو زمین وا لوں پر مجھ کو امین جا نتا ہے (جب تو اس نے مجھ کو پیغمبر اور اپنا نائب بنا کر بھیجا ) اور تم میرا اعتبار نہیں کرتے ایک شخص مسلمانوں میں سے ( خالد بن ولیدیا عمر بن خطابؓ) کہنے لگے یا ر سول اللہ ﷺ حکم ہو تو اس کی گردن اڑا دیں آپ نے اجازت نہ دی جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ ﷺنے فر مایا (کم بخت )اس کی نسل سے کچھ ایسے پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اتریگا یہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکاری جانور سے پار نکل جاتا ہے (اسمیں کچھ لگا نہیں رہتا ) یہ کم بخت کیا کرینگے مسلمانوں کو تو ماریں گے (کہیں گےتم کافر ہو گئے ) اور بت پر ستوں کو چھوڑ دیں گے (ان پر جہاد نہیں کریں گے ) اگر میں نے ا نکا زمانہ پایا تو عاد کی قوم کی طرح ان کو نیست و نا بود کر دوں گا ۔


حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Dharr : I asked the Prophet regarding the Verse: 'And the sun runs on its fixed course for a term decreed for it.' (36.28) He said, "Its fixed course is underneath Allah's Throne."

ہم سے عیاش بن ولید نے بیا ن کیا کہا ہم سے وکیع نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم تیمی سے انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک )سے انہوں نے ابو ذرغفاریؓ سے انہوں نے کہا میں نے نبی ﷺسے اس آیت کو پو چھا وا لشمس تجری لمستقر لہا ( جو سورۃ یٰس میں ہے ) آپ ﷺنے فر ما یا سورج کا مستقر عرش کے تلے ہے ۔

Chapter No: 24

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ * إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‏}‏

The Statement of Allah, "Some faces that Day shall be Nadirah (shining and radiant). Looking at their Lord (Allah)." (V.75:22,23)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ قیامہ میں) فرمانا کچھ منہ اس دن تروتازہ اور خوش و خرم ہوں گے اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلاَةٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَافْعَلُوا ‏"‏‏

Narrated By Jarir : We were sitting with the Prophet and he looked at the moon on the night of the full-moon and said, "You people will see your Lord as you see this full moon, and you will have no trouble in seeing Him, so if you can avoid missing (through sleep or business, etc.) a prayer before sunrise (Fajr) and a prayer before sunset (Asr) you must do so."

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا کہا ہم سے خالد طحان اوہ ہشیم نے انہوں نے اسمعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے جر یر بن عبد اللہ بجلی سے انہوں نے نے کہا ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں آپ ﷺنے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا فر مایا تم ضرور (یعنی مرنے کے بعد آخرت میں ) اپنے پر ور دگار کو اس طرح (بے تکلف )دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اس کے دیکھنے میں کوئی اڑچن (یعنی کشمکش نہیں ہو گی ) اب اگر تم سے ہوسکے تو ایسا کرو کہ سورج نکلنے سے پہلے جو نماز پڑھی جاتی ہے یعنی فجر کی اسی طرح سورج ڈوبنے سے پہلے جو نماز پڑھی جاتی ہے (یعنی عصر کی )یہ دونوں نمازیں تم سے فوت نہ ہونے پائیں ۔


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا ‏"‏‏

Narrated By Jarir bin 'Abdullah : The Prophet said, "You will definitely see your Lord with your own eyes."

ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیا ن کیا کہا ہم سے عاصم بن یوسف یربُوعی نے کہا ہم سے ابو شہاب نے انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے جریر بن عبد اللہ بجلی سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فر مایا تم اپنے پرور دگار کو کھلم کھلا ضرور آنکھوں سے دیکھو گے (حجاب اٹھ جائے گا) ۔


حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ ‏"‏‏

Narrated By Jarir : Allah's Apostle came out to us on the night of the full moon and said, "You will see your Lord on the Day of Resurrection as you see this (full moon) and you will have no difficulty in seeing Him."

ہم سے عبدہ بن عبد اللہ نے بیا ن کیا کہا ہم سے حسین بن علی جعفی نے انہوں نے زائد ہ سے کہا ہم سے بیان بن بشر نے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے کہا ہم سے جر یر بن عبد اللہ نے بیا ن کیا انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺچودہویں شب کو ہم پر بر آمد ہوئے اور فر مایا تم اپنے پروردگار کو قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی اڑچن (کشمکش ) نہ ہوگی ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّاسَ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ‏.‏ فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا شَافِعُوهَا ـ أَوْ مُنَافِقُوهَا شَكَّ إِبْرَاهِيمُ ـ فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ‏.‏ فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ‏.‏ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا‏.‏ فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَىْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُهَا، وَلاَ يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الرُّسُلُ، وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ‏.‏ وَفِي جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلاَّ اللَّهُ، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ، أَوِ الْمُوثَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ أَوِ الْمُجَازَى أَوْ نَحْوُهُ، ثُمَّ يَتَجَلَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُودِ، تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ تَحْتَهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ هُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولاً الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا‏.‏ فَيَدْعُو اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ‏.‏ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَىْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى باب الْجَنَّةِ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لاَ تَسْأَلَنِي غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ أَبَدًا، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ‏.‏ وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ‏.‏ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي مَا شَاءَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى باب الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ إِلَى باب الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَىْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ ـ فَيَقُولُ ـ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ لاَ أَكُونَنَّ أَشْقَى خَلْقِكَ فَلاَ يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ قَالَ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ‏.‏ فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ‏.‏ فَسَأَلَ رَبَّهُ وَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏"‏‏

Narrated By 'Ata' bin Yazid Al-Laithi : On the authority of Abu Huraira: The people said, "O Allah's Apostle! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" The Prophet said, "Do you have any difficulty in seeing the moon on a full moon night?" They said, "No, O Allah's Apostle." He said, "Do you have any difficulty in seeing the sun when there are no clouds?" They said, "No, O Allah's Apostle." He said, "So you will see Him, like that. Allah will gather all the people on the Day of Resurrection, and say, 'Whoever worshipped something (in the world) should follow (that thing),' so, whoever worshipped the sun will follow the sun, and whoever worshiped the moon will follow the moon, and whoever used to worship certain (other false) deities, he will follow those deities. And there will remain only this nation with its good people (or its hypocrites). (The sub-narrator, Ibrahim is in doubt.) Allah will come to them and say, 'I am your Lord.' They will (deny Him and) say, 'We will stay here till our Lord comes, for when our Lord comes, we will recognize Him.' So Allah will come to them in His appearance which they know, and will say, 'I am your Lord.' They will say, 'You are our Lord,' so they will follow Him. Then a bridge will be laid across Hell (Fire)' I and my followers will be the first ones to go across it and none will speak on that Day except the Apostles. And the invocation of the Apostles on that Day will be, 'O Allah, save! Save!' In Hell (or over The Bridge) there will be hooks like the thorns of As-Sa'dan (thorny plant). Have you seen As-Sa'dan? " They replied, "Yes, O Allah's Apostle!" He said, "So those hooks look like the thorns of As-Sa'dan, but none knows how big they are except Allah. Those hooks will snap the people away according to their deeds. Some of the people will stay in Hell (be destroyed) because of their (evil) deeds, and some will be cut or torn by the hooks (and fall into Hell) and some will be punished and then relieved. When Allah has finished His Judgments among the people, He will take whomever He will out of Hell through His Mercy. He will then order the angels to take out of the Fire all those who used to worship none but Allah from among those whom Allah wanted to be merciful to and those who testified (in the world) that none has the right to be worshipped but Allah. The angels will recognize them in the Fire by the marks of prostration (on their foreheads), for the Fire will eat up all the human body except the mark caused by prostration as Allah has forbidden the Fire to eat the mark of prostration. They will come out of the (Hell) Fire, completely burnt and then the water of life will be poured over them and they will grow under it as does a seed that comes in the mud of the torrent. Then Allah will finish the judgments among the people, and there will remain one man facing the (Hell) Fire and he will be the last person among the people of Hell to enter Paradise. He will say, 'O my Lord! Please turn my face away from the fire because its air has hurt me and its severe heat has burnt me.' So he will invoke Allah in the way Allah will wish him to invoke, and then Allah will say to him, 'If I grant you that, will you then ask for anything else?' He will reply, 'No, by Your Power, (Honour) I will not ask You for anything else.' He will give his Lord whatever promises and covenants Allah will demand. So Allah will turn his face away from Hell (Fire). When he will face Paradise and will see it, he will remain quiet for as long as Allah will wish him to remain quiet, then he will say, 'O my Lord! Bring me near to the gate of Paradise.' Allah will say to him, 'Didn't you give your promises and covenants that you would never ask for anything more than what you had been given? Woe on you, O Adam's son! How treacherous you are!' He will say, 'O my lord,' and will keep on invoking Allah till He says to him, 'If I give what you are asking, will you then ask for anything else?' He will reply, 'No, by Your (Honour) Power, I will not ask for anything else.' Then he will give covenants and promises to Allah and then Allah will bring him near to the gate of Paradise. When he stands at the gate of Paradise, Paradise will be opened and spread before him, and he will see its splendour and pleasures whereupon he will remain quiet as long as Allah will wish him to remain quiet, and then he will say, O my Lord! Admit me into Paradise.' Allah will say, 'Didn't you give your covenants and promises that you would not ask for anything more than what you had been given?' Allah will say, 'Woe on you, O Adam's son! How treacherous you are!' The man will say, 'O my Lord! Do not make me the most miserable of Your creation,' and he will keep on invoking Allah till Allah will laugh because of his sayings, and when Allah will laugh because of him, He will say to him, 'Enter Paradise,' and when he will enter it, Allah will say to him, 'Wish for anything.' So he will ask his Lord, and he will wish for a great number of things, for Allah Himself will remind him to wish for certain things by saying, '(Wish for) so-and-so.' When there is nothing more to wish for, Allah will say, 'This is for you, and its equal (is for you) as well."

ہم سے عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں عطا ء بن یزید لیثی سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺکیا ہم اپنے پروردگار کو قیامت کے دن دیکھیں گے آپ ﷺنے فر مایا بتاؤ تم کو چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی تکلیف ہو تی ہے انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپﷺ فر مایا جس وقت سورج صاف ہو ابر نہ ہو اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی اڑچن ہوتی ہے انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺنے فر مایا بس اسی طرح تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے ہو گا یہ کہ اللہ تعالےٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو (مومن ہوں یا کافر مشرک) اکٹھا کر یگا اس کے بعد فر ما ئیگا (دیکھو دنیا میں ) جو جس کو پوجتا تھا اس کے ساتھ ہو جائے جو شخص سورج کو پوجتا تھا وہ سورج کے ساتھ ہو جائے جو شخص بتوں شیطانوں کو پوجتا تھاوہ ان کے ہمراہ ہو جائے (یہ سن کر ہر قوم اپنے معبود کے ساتھ چل دیگی )اس امت کے لوگ رہ جائیں گے ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو (بڑے درجہ کے )شفاعت کرنیوالے ہیں یا یوں فر مایا جو دنیا میں منافق تھے خیر پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا اور فر مائے گا میں تمھارا خدا ہوں وہ کہیں گے (اللہ کی پناہ )ہم تو اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے جب تک ہمارا مالک تشریف لائے تشریف لاتے ہی ہم اس کو پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ اسی صورت میں تجلی فر مائےگا(تشریف لائے گا)جس کو وہ پہچانتے ہو ں اور فرمائے گا میں تمھارا خدا ہوں وہ کہیں گے بیشک تو ہمارا خدا ہے اور اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور صراط کا پُل دوزخ کی پُشت پر نصب کیا جا ئیگا آپ ﷺ فر ماتے ہیں سب سے پہلے میں پا ر ہوں گا میری امت کے لوگ پار ہونگے اس وقت پیغمبروں کے سوا کوئی بات نہیں کر سکے گا اور پیغمبر بھی یہی کہیں گے یا اللہ بچائیو یا اللہ بچائیو ادھر دوزخ میں سعد ان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے تم نے سعد ان کا کانٹا دیکھا ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺجی ہاں دیکھا ہے (اسکی نوک خم ہوتی ہے ) آپ ﷺنے فر مایا بس اسی کا نٹے کی طرح وہاں آنکڑے ہو نگے مگر اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ آنکڑے کتنے بڑے بڑے ہو نگے یہ آنکڑے لوگوں کو ان کے اعمال کے موافق اچک لیں گے( دوزخ میں گھسیٹ لیں گے ) کوئی تو اپنے (برُے )اعمال کی وجہ سے با لکل ہی تباہ ہو جائے گا (جیسے کافر مشرک )کوئی چہل چہلا کر گر جائے گا کسی کو تکلیف پہنچے گی لیکن بچ جا ئے گا )یا کچھ ایسا ہی کلمہ فر مایا راوی کو شک ہے خیر پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ ظاہر ہو گا (دربار میں بیٹھے گا )جب لوگوں کا فیصلہ کر چکے گا تو اپنی رحمت سے بعضے دوزخیوں کے لئے جن کو دوزخ سے نکالنا چاہےگا فر شتوں کو یہ حکم دیگا دیکھو جن لوگوں نے دنیا میں میرے ساتھ کسی کو شرک نہیں کی تھی (بلکہ موحد تھے ) ان کو دوزخ سے نکال لو یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر کلمہ گو یوں یعنی لا الہ الا اللہ کہنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا فر شتے دوزخ میں جا کر ان لوگوں کو سجدے کے نشانوں سے پہچان لیں گے کیونکہ دوزخ کی آگ سارے بدن کو کھا لے گی پر سجدے کے مقام یعنی پیشانی ناک ہتھیلیاں وغیرہ سالم رہیں گی اللہ تعا لیٰ نے وہ دوزخ پر حرام کر دئیے ہیں یہ لوگ کالے کوئلے کی طرح دوزخ سے نکلیں گے پھر ان پر آب حیات چھڑ کا جائیگا تو اس پانی کے پڑتے ہی ایسے اُگ آئیں گے جیسے دانہ بہیا کے کوڑے کچرے میں (کس زور سے اگتا ہے )آخر اللہ تعالیٰ سب بندوں کے فیصلے سے فراغت کرے گا لیکن ایک شخص رہ جائے گا اس کا منہ دوزخ کی طرف ہوگا یہ شخص تمام دوزخیوں کا آخر ی شخص ہو گا جو بہشت میں جائیں گے آخر میں جو سب کے بہشت میں جایئگا وہ عرض کرے گا پر ور دگار (اتنا احسان کر ) میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھیرا دے اس کی بد بو نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے اس کی لپٹ نے مجھ کو جلا ڈالا ہے اور جو دعائیں اللہ چاہے گا وہ کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فر مائے گا اچھا خیر اگر میں تیری یہ درخواست قبول کر لوں تب تو دوسری اور درخواست کریگا ( آدمی کی عادت میں داخل ہے) وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم اب میں تجھ سے کو ئی درخواست نہیں کرو نگا اور جیسے جیسے اللہ کو منظور ہوں گے ویسے مضبوط عہد و پیمان کر یگا اس وقت اللہ تعا لیٰ دوزخ کی طرف سے اس کا منہ پھر ا کر بہشت کی طرف کردیگا جب وہ بہشت کو دیکھے گا(تو جب تک جتنی مدت تک )اللہ کو منظور ہے خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا پر وردگار اتنا احسان کر مجھ کو بہشت کے دروازے پر ڈال دے پر وردگار فرمائے گا ارے تو نے کیا کیا عہد و پیمان (کیسے زور کے ساتھ )کئے تھے کہ اب میں کبھی کوئی اور درخواست نہیں کروں گا ارے آدم زاد تو بھی کیا دغاباز ہے وہ کہے گا بیشک پرور دگار میں نے یہ قول قرار کیا تھا پر اللہ سے دعا کرتا رہے گا آخر اللہ تعالیٰ ارشاد فر مائے گا اب میں تیری یہ درخواست بھی منظور کر لوں تب تو کوئی اور درخواست کریگا وہ عرض کرے گا پرور دگار نہیں تیری عزت کی قسم اب اور کوئی درخواست نہیں کرو نگا اور جیسے جیسے اللہ کو منطور ہیں ویسے ویسے قول قرار بڑی سختی کے ساتھ کریگا اس وقت اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کے دروازے پر پہنچا دیگا جو نہی بہشت کے دروازے پر کھڑا ہو گا اور بہشت اس پر نمو دار ہو گی تو وہاں کی آرا ئشیں چین لذتیں خوشیاں دیکھ کر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہے خا موش رہے گا (بہشتیوں کو دیکھ کر تر ستا رہے گا ) آخر نہ رہا جائے گا کہہ اٹھے گا پرور دگار مجھ کو بہشت میں پہنچادے اللہ تعالیٰ فر مائے گا واہ رہے آدمی تو نے کیا کیا اقرار عہد و پیمان کئے تھے کہ اب کوئی اور درخواست نہیں کرو نگا ارے تیری خرابی تو کیا دغا باز نکلا وہ عرض کرے گا بیشک ( میں نے سب کچھ قول قرار کئے تھے )مگر کیا میں ہی ایک تیرے تمام (موحد )بندوں میں سے بد نصیب ہوں پھر برا بر دعا (اور گریہ زاری )کا تار باند ھ دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالےٰ اس پر ہنس دیگا ہنستے ہی حکم صادر ہو گا چل جا بہشت میں جا جب وہ بہشت میں جائے گا تو پر ور دگار فر مائیگا اب کچھ آرزوئیں تو کر و وہ جو اس کے دل میں آئے گا ما نگے گا پرور دگار اس کو یاد دلاتا جائے گا یہ بھی تو مانگ یہ بھی تو مانگ یہاں تک کہ اس کی سب آروزئیں ختم ہو جایئں گی اس وقت پر ور دگار فر ما ئے گا یہ سب تجھ کو دیا اور اتنا ہی اور۔


قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ‏"‏ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ‏"‏ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ ‏"‏‏.‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلاَّ قَوْلَهُ ‏"‏ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلَهُ ‏"‏ ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ‏

'Ata' bin Yazid added: Abu Sa'id Al-Khudri who was present with Abu Huraira, did not deny whatever the latter said, but when Abu Huraira said that Allah had said, "That is for you and its equal as well," Abu Sa'id Al-Khudri said, "And ten times as much, O Abu Huraira!" Abu Huraira said, "I do not remember, except his saying, 'That is for you and its equal as well.'" Abu Sa'id Al-Khudri then said, "I testify that I remember the Prophet saying, 'That is for you, and ten times as much.' ' Abu Huraira then added, "That man will be the last person of the people of Paradise to enter Paradise."

عطاء بن یزید راوی کہتے ہیں ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو ابو سعید خدری صحابیؓ بیٹھے ہوئے تھے وہ چپ چاپ سنتے رہے ابو ہر یرہؓ کی کسی بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جب ابو ہر یرہؓ نے یہ آخر کا فقرہ بیان کیا پر ور دگار فر مائے گایہ سب تجھ دیا اور اتنا ہی اور تو ابو سعید خدریؓ کہنے لگے ابو ہر یرہؓ اور اس کا دس گنا ابو ہر یرہؓ نے کہا میں نے تو یہی آپ ﷺ کا قول یاد رکھا یہ سب تجھ کو دیا اور اتنا اور ابو سعید خدریؓ نے کہا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث کو یوں یاد رکھا یہ سب تجھ کو دیا اور اس کا دس گنا اور خیر ابو ہر یرہؓ نے کہا یہ شخص وہ ہو گا جو سب بہشتیوں کے بعد بہشت میں جائے گا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِذَا كَانَتْ صَحْوًا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ لاَ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ، إِلاَّ كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا ـ ثُمَّ قَالَ ـ يُنَادِي مُنَادٍ لِيَذْهَبْ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ‏.‏ فَيَذْهَبُ أَصْحَابُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَصْحَابُ الأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ‏.‏ فَيُقَالُ كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ صَاحِبَةٌ وَلاَ وَلَدٌ فَمَا تُرِيدُونَ قَالُوا نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ فَيَقُولُونَ كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ‏.‏ فَيُقَالُ كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ صَاحِبَةٌ وَلاَ وَلَدٌ، فَمَا تُرِيدُونَ فَيَقُولُونَ نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا‏.‏ فَيُقَالُ اشْرَبُوا‏.‏ فَيَتَسَاقَطُونَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ فَيُقَالُ لَهُمْ مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ فَيَقُولُونَ فَارَقْنَاهُمْ وَنَحْنُ أَحْوَجُ مِنَّا إِلَيْهِ الْيَوْمَ وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ‏.‏ وَإِنَّمَا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا ـ قَالَ ـ فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ‏.‏ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ‏.‏ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا‏.‏ فَلاَ يُكَلِّمُهُ إِلاَّ الأَنْبِيَاءُ فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ فَيَقُولُونَ السَّاقُ‏.‏ فَيَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ كَيْمَا يَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَىْ جَهَنَّمَ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْجَسْرُ قَالَ ‏"‏ مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ، عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ وَكَلاَلِيبُ وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ، لَهَا شَوْكَةٌ عُقَيْفَاءُ تَكُونُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ، الْمُؤْمِنُ عَلَيْهَا كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَنَاجٍ مَخْدُوشٌ وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا، فَمَا أَنْتُمْ بِأَشَدَّ لِي مُنَاشَدَةً فِي الْحَقِّ، قَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ لِلْجَبَّارِ، وَإِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا فِي إِخْوَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ‏.‏ وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمِهِ وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا، ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ فَأَخْرِجُوهُ‏.‏ فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا، ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ‏.‏ فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَءُوا ‏{‏إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا‏}‏ ‏"‏ فَيَشْفَعُ النَّبِيُّونَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ بَقِيَتْ شَفَاعَتِي‏.‏ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ بِأَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ فِي حَافَتَيْهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، قَدْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ إِلَى جَانِبِ الشَّجَرَةِ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ، وَمَا كَانَ مِنْهَا إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ، فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ اللُّؤْلُؤُ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلاَءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلاَ خَيْرٍ قَدَّمُوهُ‏.‏ فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Sa'id Al-Khudri : We said, "O Allah's Apostle! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you have any difficulty in seeing the sun and the moon when the sky is clear?" We said, "No." He said, "So you will have no difficulty in seeing your Lord on that Day as you have no difficulty in seeing the sun and the moon (in a clear sky)." The Prophet then said, "Somebody will then announce, 'Let every nation follow what they used to worship.' So the companions of the cross will go with their cross, and the idolaters (will go) with their idols, and the companions of every god (false deities) (will go) with their god, till there remain those who used to worship Allah, both the obedient ones and the mischievous ones, and some of the people of the Scripture. Then Hell will be presented to them as if it were a mirage. Then it will be said to the Jews, "What did you use to worship?' They will reply, 'We used to worship Ezra, the son of Allah.' It will be said to them, 'You are liars, for Allah has neither a wife nor a son. What do you want (now)?' They will reply, 'We want You to provide us with water.' Then it will be said to them 'Drink,' and they will fall down in Hell (instead). Then it will be said to the Christians, 'What did you use to worship?' They will reply, 'We used to worship Messiah, the son of Allah.' It will be said, 'You are liars, for Allah has neither a wife nor a son. What: do you want (now)?' They will say, 'We want You to provide us with water.' It will be said to them, 'Drink,' and they will fall down in Hell (instead). When there remain only those who used to worship Allah (Alone), both the obedient ones and the mischievous ones, it will be said to them, 'What keeps you here when all the people have gone?' They will say, 'We parted with them (in the world) when we were in greater need of them than we are today, we heard the call of one proclaiming, 'Let every nation follow what they used to worship,' and now we are waiting for our Lord.' Then the Almighty will come to them in a shape other than the one which they saw the first time, and He will say, 'I am your Lord,' and they will say, 'You are not our Lord.' And none will speak: to Him then but the Prophets, and then it will be said to them, 'Do you know any sign by which you can recognize Him?' They will say. 'The Shin,' and so Allah will then uncover His Shin whereupon every believer will prostrate before Him and there will remain those who used to prostrate before Him just for showing off and for gaining good reputation. These people will try to prostrate but their backs will be rigid like one piece of a wood (and they will not be able to prostrate). Then the bridge will be laid across Hell." We, the companions of the Prophet said, "O Allah's Apostle! What is the bridge?' He said, "It is a slippery (bridge) on which there are clamps and (Hooks like) a thorny seed that is wide at one side and narrow at the other and has thorns with bent ends. Such a thorny seed is found in Najd and is called As-Sa'dan. Some of the believers will cross the bridge as quickly as the wink of an eye, some others as quick as lightning, a strong wind, fast horses or she-camels. So some will be safe without any harm; some will be safe after receiving some scratches, and some will fall down into Hell (Fire). The last person will cross by being dragged (over the bridge)." The Prophet said, "You (Muslims) cannot be more pressing in claiming from me a right that has been clearly proved to be yours than the believers in interceding with Almighty for their (Muslim) brothers on that Day, when they see themselves safe. They will say, 'O Allah! (Save) our brothers (for they) used to pray with us, fast with us and also do good deeds with us.' Allah will say, 'Go and take out (of Hell) anyone in whose heart you find faith equal to the weight of one (gold) Dinar.' Allah will forbid the Fire to burn the faces of those sinners. They will go to them and find some of them in Hell (Fire) up to their feet, and some up to the middle of their legs. So they will take out those whom they will recognize and then they will return, and Allah will say (to them), 'Go and take out (of Hell) anyone in whose heart you find faith equal to the weight of one half Dinar.' They will take out whomever they will recognize and return, and then Allah will say, 'Go and take out (of Hell) anyone in whose heart you find faith equal to the weight of an atom (or a smallest ant), and so they will take out all those whom they will recognize." Abu Sa'id said: If you do not believe me then read the Holy Verse: 'Surely! Allah wrongs not even of the weight of an atom (or a smallest ant) but if there is any good (done) He doubles it.' (4.40) The Prophet added, "Then the prophets and Angels and the believers will intercede, and (last of all) the Almighty (Allah) will say, 'Now remains My Intercession. He will then hold a handful of the Fire from which He will take out some people whose bodies have been burnt, and they will be thrown into a river at the entrance of Paradise, called the water of life. They will grow on its banks, as a seed carried by the torrent grows. You have noticed how it grows beside a rock or beside a tree, and how the side facing the sun is usually green while the side facing the shade is white. Those people will come out (of the River of Life) like pearls, and they will have (golden) necklaces, and then they will enter Paradise whereupon the people of Paradise will say, 'These are the people emancipated by the Beneficent. He has admitted them into Paradise without them having done any good deeds and without sending forth any good (for themselves).' Then it will be said to them, 'For you is what you have seen and its equivalent as well.'"

ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سےلیث بن سعد نے انہوں نے خالد بن یزید سے انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے ابو سعیدخدریؓ سےانہوں نے کہا ہم لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم قیامت کے دن اپنے مالک کو دیکھیں گے آپ ﷺنے فرمایا بھلا جب آسمان صاف ہو تو تم کو چاند اورسورج کے دیکھنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہے ہم نے کہا نہیں آپ ﷺنے فرمایا بس اسی طرح تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کے دیدار میں بھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی اس کے بعد یوں فرمایا قیامت کے دن ایک منادی ہو گی دیکھو ہر گر وہ اپنے اس معبود کی طرف جائے جس کو دنیا میں پوجا کرتا تھا اس منادی ہونے پر ترسول (صلیب)پو جنے والے نصاری صلیب کے ساتھ اور بتوں کو پوجنے والے اپنے بتوں کے ساتھ اور ہر ایک معبود والے اپنے اپنے معبودوں کے ساتھ ہو جائیں گے صرف وہ لوگ رہ جائیں جو (دنیا میں) خُدا پرست تھے خواہ نیک ہوں یا گنہگار اور کچھ بچے ہوئے یہود و نصارٰےاس کے بعد دوزخ کو سامنے لایئں گے وہ اس چمکتی ریتی کی طرح معلوم ہوگی جُو دُور سے پانی معلوم ہو تی ہے اب یہودیوں سے پو چھا جائے گا تم دنیا میں کس کو پو جتے تھے وہ کہیں گےحضرت عزیز کو جو خدا کے فر زند تھے ان کو جواب ملے گا تم جھوٹے ہو اللہ کی تو نہ کوئی جوروہے نہ اس کی اولاد ہے خیر اب تم چاہتے کیا ہو کہو وہ کہیں گے ہم کو پانی پلواوٗ حکم ہو گاپیو (اسی چمکتی ریتی کی طرف جو دور سے پانی معلوم ہوتی ہے چلیں گے ) تو دوزخ میں جا کر گر پڑیں گے اب نصارٰی سے پو چھا جائے گا کہو تم دنیا میں کس کی پر ستش کرتے تھے وہ کہیں گے خداوند یسوع مسیح کی جو اللہ کے فر زند تھے جواب ملے گا تم جھوٹے ہو اللہ کی نہ کوئی جورو ہے نہ اس کی کوئی اولاد (بیٹی بیٹا ) ہے اب تم کیا چاہتے ہو کہو کہیں گے ہم کو پا نی پلواوٗ حکم ہو گا اچھا (اس ریتی کی طرف جاوٗ ) پیو (جاتے ہی) دوزخ میں گریں گے اب وہی لوگ رہ جائیں گے جو خالص اللہ کے پوجنے والے تھےان میں اچھے بڑے سب طرح کے لوگ ہوں گے ان سے کہا جائے گا تم لوگ یہاں کیوں ٹھہرے ہوئے ہو اور لوگ تو سب چل د یےوہ کہیں گے (چلدئیے تو اچھا ہوا) ہم دنیا میں ان سے الگ رہے جہاں ان کے زیا دہ محتاج تھے بات یہ ہے کہ ہم نے ایک منادی سنُی ہر گروہ اس معبود سے مل جائے جس کو وہ دنیا میں پوجا کرتا تھا اسی انتظار میں کھڑے ہیں (وہ آئے تو اس کے ساتھ چلے جائیں گے) اس کے بعد کیا ہو گا پرور دگار اس صورت کے سوا جس صورت میں یہ لوگ اس کو پہلے دیکھ چکے ہوں گے ایک دوسری صورت میں نمودار ہو گا اور فر مائے گا (ادھر آوٗ ) میں تمھارا معبود ہوں (جب اس کو پہچان لیں گے ) تو کہیں گے بیشک تو ہمارا معبود ہے اس سے کوئی بات نہ کر سکے گا صرف پیغمبر بات کریں گے وہ ارشاد فرمائے گا تم اپنے معبود کو کس نشانی سے پہچانتے ہو عرض کریں گے ساق ( یعنی پنڈلی ) کی نشانی سے پھر پر وردگار اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑے گا اور جو شخص دنیامیں ریا (دکھلا وے ) اور لوگوں کو سنانے کے لئے سجدہ کرتا تھا (اس کے دل میں ایمان نہ تھا )وہ بھی سجدہ کرنا چاہے گا لیکن اس کی پیٹھ کی ہڈیاں جڑکر ایک تختہ ہو جائیں گی (وہ سجدہ نہ کرسکے گا ) اس کے بعد پل صراط کو لائیں گے اور دوزخ کی پشت پر رکھیں گے ہم نے پُوچھا یا رسول اللہ یہ پل صراط کیا چیز ہے آپ ﷺنے فر مایا ایک پہلوان گرنے کا مقام ہے اس پر سنسیان ہیں آنکڑے ہیں چوڑےچوڑے کا نٹے ہیں ان کا سر خم دار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہے جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں مسلمان اس پر سے پلک مارنے کی طرح اور بجلی کی طرح اور آندھی کی طرح اور تیز گھوڑوں کی طرح سانڈیوں کی طرح گزر جائیں گے بعضے تو صحیح سلامت وہاں سے بچ کر نکل جائیں گے بعضے کچھ زخمی چھل چھلا کر بعضے دوزخ میں گر پڑیں گے اخیر شخص جو پل صراط سے پار ہو گا اس کو کھینچ کھینچ کر پار کریں گے تم لوگ آج کے دن اپنے حق کو کھلے بعد جتنا تقاضہ اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ وہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضے اور مطالبہ کریں گے یعنی خود جب نجات پایئں گے تو اپنے بھائی مسلمانوں کو دوزخ سے نجات دلانے کے لئے بار بار پروردگار سے عرض کریں گے کہیں گے پروردگار یہ لوگ ہمارے مسلمان بھائی تھے ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے روزے رکھتے تھے دوسرے نیک اعمال کیا کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات عطا فر ما )پروردگار فرمائے گا اچھا جاوٗ جس شخص کے دل میں ایک اشرفی برابر ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو اللہ تعالیٰ ان گنہگار مسلمانوں کے منہ دوزخ پر حرام کر دیگا جب یہ نیک مسلمان ان کو نکالنے وہاں آئیں گے تو دیکھیں گے بعضے تو پاوٗں تک آگ میں ڈوبے ہو نگے بعضے آدھی پنڈلیوں تک خیر جن جن لوگوں کو یہ نیک مسلمان پہچانے گے ان کو نکال لیں گے پھر دوبارہ پر وردگار کے پاس حاضر ہو نگے (اور عرض معروض کرینگے )حکم ہو گا اچھا جاوٗ جس کے دل میں آدھی اشرفی کے برابر ایمان ہو اس کو بھی نکال لو وہ ایسے لوگوں کو بھی نکال لیں گے پھر لوٹ کر پر ور دگار کے پاس حاضر ہونگے (عرض معروض کرینگے) حکم ہو گا اچھا جاوٗ جس کے دل میں چیونٹی برا بر بھی ایمان دیکھو اس کو بھی نکال لو وہ آن کر جن جن کو پہچا نیں گے وہ ان کو بھی نکال لیں گے ابو سعید خدریؓ نے کہا اگر تم مجھکو سچا نہیں سمجھتے تو قرآن کی یہ آیت (جو سورت نساء میں ہے )پڑھو اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کریگا بلکہ اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دونا کر یگا غرض پیغمبر اور فرشتے اور (نیک )مسلمان سب( اپنے اپنے درجہ اور محل پر )شفاعت کریں گے پروردگار فر مائے گا اب خاص میری شفاعت باقی رہی اور دوزخ میں سے ایک مٹھی نکال لے گا یہ لوگ جل کر کوئلہ ہورہے ہونگے لیکن بہشت کے سرے پر جو آب حیات کی نہر ہے اس میں ڈال دیئے جایئں گے اس نہر کے دونوں کناروں پر ایسے ابھریں گے جیسے بھیا کے کچرے کوڑے میں دانہ (خوب زور سے )ابھرتا ہے تم نے دیکھا ہوگا یہ دانہ کبھی پتھر کے نزدیک اگتا ہے کھبی درخت کے نزدیک پھر جس پر دھوپ پڑتی ہے وہ تو سبز رہتا ہے اور جو سایہ میں ابھرتا ہے وہ سفید ر ہتا ہے غرض یہ لوگ اس نہر میں سے جب نکلیں گے تو موتی کی طرح چمکتے دھمکتے ان کی گردنوں پر مہر کر دیجائے گی (کہ یہ اللہ کے آزاد کئے ہوئے غلام ہیں ) وہ پھر بہشت میں جایئں گے تو بہشتی کہیں گے یہ لوگ اللہ کے آزاد کئے ہوئے ہیں انھوں نے نہ کوئی عمل کیا نہ کوئی ثواب کا کام کرکے آگے بھیجا اب ان لوگوں سے ارشاد ہو گا تم نے جو نعمتیں (بہشت میں ) دیکھیں وہ سب اور اتنی ہی اور لو ۔


وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهِمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا‏.‏ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَىْءٍ، لِتَشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ قَالَ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا ـ وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ‏.‏ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ‏.‏ قَالَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ ثَلاَثَ كَلِمَاتٍ كَذَبَهُنَّ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا‏.‏ قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ قَتْلَهُ النَّفْسَ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ‏.‏ قَالَ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ‏.‏ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ ـ قَالَ ـ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا يَقُولُ ‏"‏ فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَ ـ قَالَ ـ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ـ قَالَ ـ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ ـ قَالَ ـ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ـ قَالَ ـ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأَخْرُجُ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَىْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ـ قَالَ ـ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا‏}‏ قَالَ وَهَذَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏.

Narrated By Anas : The Prophet said, "The believers will be kept (waiting) on the Day of Resurrection so long that they will become worried and say, "Let us ask somebody to intercede far us with our Lord so that He may relieve us from our place. Then they will go to Adam and say, 'You are Adam, the father of the people. Allah created you with His Own Hand and made you reside in His Paradise and ordered His angels to prostrate before you, and taught you the names of all things will you intercede for us with your Lord so that He may relieve us from this place of ours? Adam will say, 'I am not fit for this undertaking.' He will mention his mistakes he had committed, i.e., his eating off the tree though he had been forbidden to do so. He will add, 'Go to Noah, the first prophet sent by Allah to the people of the Earth.' The people will go to Noah who will say, 'I am not fit for this undertaking' He will mention his mistake which he had done, i.e., his asking his Lord without knowledge.' He will say (to them), 'Go to Abraham, Khalil Ar-Rahman.' They will go to Abraham who will say, 'I am not fit for this undertaking. He would mention three words by which he told a lie, and say (to them). 'Go to Moses, a slave whom Allah gave the Torah and spoke to, directly and brought near Him, for conversation.' They will go to Moses who will say, 'I am not fit for this undertaking. He will mention his mistake he made, i.e., killing a person, and will say (to them), 'Go to Jesus, Allah's slave and His Apostle, and a soul created by Him and His Word.' (Be: And it was.) They will go to Jesus who will say, 'I am not fit for this undertaking but you'd better go to Muhammad the slave whose past and future sins have been forgiven by Allah.' So they will come to me, and I will ask my Lord's permission to enter His House and then I will be permitted. When I see Him I will fall down in prostration before Him, and He will leave me (in prostration) as long as He will, and then He will say, 'O Muhammad, lift up your head and speak, for you will be listened to, and intercede, for your intercession will be accepted, and ask (for anything) for it will be granted:' Then I will raise my head and glorify my Lord with certain praises which He has taught me. Allah will put a limit for me (to intercede for a certain type of people) I will take them out and make them enter Paradise." (Qatada said: I heard Anas saying that), the Prophet said, "I will go out and take them out of Hell (Fire) and let them enter Paradise, and then I will return and ask my Lord for permission to enter His House and I will be permitted. When I will see Him I will fall down in prostration before Him and He will leave me in prostration as long as He will let me (in that state), and then He will say, 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to, and intercede, for your intercession will be accepted, and ask, your request will be granted.' " The Prophet added, "So I will raise my head and glorify and praise Him as He has taught me. Then I will intercede and He will put a limit for me (to intercede for a certain type of people). I will take them out and let them enter Paradise." (Qatada added: I heard Anas saying that) the Prophet said, 'I will go out and take them out of Hell (Fire) and let them enter Paradise, and I will return for the third time and will ask my Lord for permission to enter His house, and I will be allowed to enter. When I see Him, I will fall down in prostration before Him, and will remain in prostration as long as He will, and then He will say, 'Raise your head, O Muhammad, and speak, for you will be listened to, and intercede, for your intercession will be accepted, and ask, for your request will be granted.' So I will raise my head and praise Allah as He has taught me and then I will intercede and He will put a limit for me (to intercede for a certain type of people). I will take them out and let them enter Paradise." (Qatada said: I heard Anas saying that) the Prophet said, "So I will go out and take them out of Hell (Fire) and let them enter Paradise, till none will remain in the Fire except those whom Qur'an will imprison (i.e., those who are destined for eternal life in the fire)." The narrator then recited the Verse: "It may be that your Lord will raise you to a Station of Praise and Glory.' (17.79) The narrator added: This is the Station of Praise and Glory which Allah has promised to your Prophet.

اور حجاج بن منہال نے کہا (جو امام بخاری کے شیخ ہیں ) ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیا ن کیا کہا ہم سے قتادہ بن دعامہ نے انہوں نے انسؓ بن مالک سے کہ نبی ﷺنے فرمایا قیامت کے دن ایماندار لوگ (گرم میدان میں )رُکے ملول ہوجائیں گے آخر (صلاح کر کے )کہیں گے چلو بھائی اپنے مالک کے پاس کسی کی سفارش بھی تو کرایئں تا کہ اس تکلیف سے نجات پائیں آخر سب مل کر حضرت آدم پیغمبر کے پاس آیئں گے ان سے کہیں گے آدم ہیں سب لوگوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کا پتلہ خاص اپنے ہاتھ سے بنایا آپ کو بہشت میں بسایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا ہر چیز کا نام آپ کو بتلایا (ہر زبان میں بات کرنا سکھلایا ) اب ہماری پروردگار کے پا س کچھ سفارش کیجئے ہم اس تکلیف سے نجات پائیں (دھوپ میں جل رہے ہیں پسینے میں غرق ہیں )وہ کہیں گے اس لائق نہیں اور اپنے گناہ کو یاد کریں گے جو انہوں نے اس درخت سے کھالیا تھا جس کا کھانا اللہ تعالیٰ نے منع فر مایا تھا مگر تم ایسا کرو نوح پیغمبر کے پاس جاؤ وہ پہلے پیغمبر ہیں جن کو( نئی شریعت کے ساتھ )اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا تھا آخر یہ لوگ حضرت نوح کے پاس آئیں گے (ان سے عرض کریں گے ) وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں اپنا گناہ یاد کریں گے جو انہوں نے نا دانستہ اپنے بیٹے( کنعان ) کے مقدمہ میں معروضہ کیا تھا مگر تم ایسا کرو ابراہیم پیغمبر کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں پھر سب لوگ ابرا ہیم کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی کہیں گے میں اس لائق نہیں ہوں اور اپنے تین جھوٹ جو انہوں نے دنیا میں بولے تھے ان کو یاد کریں گے مگر تم ایسا کرو موسیٰ پیغمبر کے پاس جاؤ وہ( ایسےشان ) والے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تورات عنایت فر مائی ان سے بات کی نزدیک کرکے ان سے سرگوشی کی یہ سن کر سب لوگ موسیٰ کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں اور اپنا گناہ یاد کرینگے جو ایک قبطی کا خون ان کے ہاتھ سے ہوگیا تھا مگر تم ایسا کرو عیسٰی پیغمبر کے پاس جاؤ وہ اللہ بندے اور رسول اس کے روح خاص اس کے کلمہ خاص ہیں یہ سن کر سب لوگ عیسےٰ کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے اس لائق نہیں تم ایسا کرو محمد ﷺکے پاس جاؤ وہ ایسے شان والے ) بندے ہیں جنکے اگلے پچھلے گناہ سب سب اللہ تعالیٰ نے بخش دیئے ہیں محمدﷺ فرماتے ہیں یہ سن کر سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں پروردگار کے دردولت (یعنی عرش معلیٰ) جاکر اذن چاہوں گا مجھ کو اذن ملے گا میں پر ور دگار کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑارہنے دیگا جب تک اس کو منظور ہو گامجھ کو سجدے میں پڑارہنے دیگا اس کے بعد فر مائے گا محمد اپنا سر اٹھا کہیہ تیرا کہنا ہم سنیں گے سفارش کریگا تو ہم مانیں گے مانگے گا تو ہم دیں گے آپ ﷺ نے فرمایا اس ارشاد پر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی وہ تعریف اور ثناکروں گا جو (اس وقت) مجھ کو سکھلائے گا پھر سفارش شروع کروں گا لیکن میری سفارش کے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گا میں پروردگار کے دردوُلت سے نکل کر ان لوگوں کو( دوزخ سے نکال کر ) بہشت میں لے جاؤں گا قتادہ نے کہا میں نے انسؓ سے یہ بھی سُنا آپ ﷺنے فرمایا میں ان لوگوں کو بہشت داخل کرکے پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس آؤں گا اور درِدولت پر پہنچ کر اذن مانگوں گا مجھ کو اذن ملے گا میں اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑو نگا اور جب تک وہ چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دیگا پھر فر مایئگا محمد ﷺ سر اٹھاؤ اور کہہ ہم سنیں گے سفارش کر ہم مانیں گے مانگ ہم دیں گے آپ ﷺنے فرمایا پھر میں سر اٹھاؤں گا اور پروردگار کی وہ وہ ثنا اور تعریف کروں گا جو اس وقت مجھ کو سکھلائے گا پھر سفارش شروع کروں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کردی جائے گی میں وہاں سے نکل کر (دوزخ )پر جا کر ان لوگوں کو نکال لوں گا اور بہشت میں داخل کردونگا قتادہ نے کہا میں نے انسؓ سے سنا آپ ﷺنے فرمایا جب میں انکو دوزخ سے نکال کر بہشت میں داخل کر چکوں گا اس وقت پھر تیسری بار اپنے پروردگار کے پاس آؤں گا اور درِدولت پر پہنچ کر اذن چاہوں گا مجھ کو اذن ملے گا میں اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑونگا اور جب تک اس کو منظور ہے وہ مجھ کو سجدے ہی میں پڑا رہنے دیگا اس کے بعد فر مائے گا محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ کہہ کیا کہتا ہے ہم سنیں گے سفارش کرتا ہے تو کر ہم مانیں گے مانگتا ہے تو مانگ ہم دیں گے میں اس ارشاد پر سر اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی (اس کی عنایت اور نوازش شا ہانہ کے شکریہ میں )وہ وہ ثنا اور تعریف کروں گا جو (اس وقت ) مجھ کو سکھلائے گا پھر سفارش شروع کروںگا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی میں وہاں سے نکل کر (دوزخ پر جاوٗں گا ) اور بہشت میں لے جاؤں گا قتادہ نے کہا میں نے انسؓ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جب میں ان لوگوں کو بھی دوزخ سے نکال کر بہشت میں داخل کر چکوں گا تو اب دوزخ میں وہی لوگ رہ جایئں گے جو قرآن کی رو سے دور ہمیشہ دوزخ میں رہنے کے لائق ہیں (یعنی کافر اور مشرک ) پھر انسؓ نے یہ حدیث بیان کرکے (سورت بنی اسرائیل کی )یہ آیت پڑھی عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمود ا کہنے لگے مقام محمود یہی ہے جس کا وعدہ اللہ تعا لےٰ نے تمھارے پیغمبر ﷺ سے کیا تھا ۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ وَقَالَ لَهُمُ ‏"‏ اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle sent for the Ansar and gathered them in a tent and said to them, "Be patient till you meet Allah and His Apostle, and I will be on the lake-Tank (Al-Kauthar)."

ہم سے عبید اللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے چچا( یعقوب بن ابراہیم بن سعد) نے کہا ہم سے والد نے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ سے انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بلا بھیجا جب انہوں نے لوٹ کی تقسیم پر نا راضگی ظاہر کی تھی اور ایک ڈیرے میں ان سب کو اکٹھا کیا فرمایا دیکھو اس وقت تک صبر کئے رہو کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مل جاؤ کیونکہ میں قیامت کے دن حوض کوثر پر ہوں گا۔


حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ، وَبِكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ قَيَّامٌ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْقَيُّومُ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ‏.‏ وَقَرَأَ عُمَرُ الْقَيَّامُ، وَكِلاَهُمَا مَدْحٌ‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Whenever the Prophet offered his Tahajjud prayer, he would say, "O Allah, our Lord! All the praises are for You; You are the Keeper (Establisher or the One Who looks after) of the Heavens and the Earth. All the Praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth and whatever is therein. You are the Truth, and Your saying is the Truth, and Your promise is the Truth, and the meeting with You is the Truth, and Paradise is the Truth, and the (Hell) Fire is the Truth. O Allah! I surrender myself to You, and believe in You, and I put my trust in You (solely depend upon). And to You I complain of my opponents and with Your Evidence I argue. So please forgive the sins which I have done in the past or I will do in the future, and also those (sins) which I did in secret or in public, and that which You know better than I. None has the right to be worshipped but You."

مجھ سے ثابت بن محمد نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے سلیمان احول سے انہوں نے طاؤس سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺجب رات کو تہجد پڑھتے تو فرماتے یا اللہ مالک ہمارے تجھ ہی کو ساری تعریف سجتی ہے تو آسمان زمین کو تھا منے والا اور قائم رکھنے والا ہے تجھی کو تعریف سجتی ہے تو آسمان زمین کو مالک ہے اور ان کا جو آسمان زمین کے درمیان رہتے ہیں تجھ ہی کو تعریف سجتی ہے تو آسمان اور زمین کا اور ان کا جو آسمان زمین کا ان کا جو آسمان زمین کے بیج میں ہے روشن کرینوالا ہے تو سچا تیرا قول سچا ہے تجھ سے ملنا سچ بہشت سچ دوزخ سچ قیامت سچ ہے یا اللہ میں تیرا تابعدار بن گیا تجھ پر ایمان لایا تجھ پر بھروسہ کیا تیرے ہی پاس اپنا جھگڑا لاتا ہوں تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں میرے اگلے پچھلےچھپے کھلے سب گناہ بخش دے وہ گناہ بھی بخش دے جن کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے امام بخاری نے کہا قیس بن سعد اور ابو الزبیر نے اس حدیث میں طاؤس سے بجائے قیم السمٰوت کے قیام السمٰوت نقل کیا ہے اور مجاہد نے کہا (اس کو فریانی نے وصل کیا ) قیوم کے معنی ہر چیز کو قائم رکھنے والا اورحضرت عمرؓ نے (آیتہ الکرسی میں) اللہ لا الہ الاّ ہوا الحی القیام پڑھا ہَے ۔


حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ وَلاَ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ ‏"‏‏.

Narrated By 'Adi bin Hatim : Allah's Apostle said, "There will be none among you but his Lord will speak to him, and there will be no interpreter between them nor a screen to screen Him."

ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے کہا مجھ سے اعمش نے انہوں٘ نے خثیمہ بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے عدی بن حاتم سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں ہر شخص سے اللہ تعالیٰ ضرور بات کرے گا وہ بھی اس طرح کہ بیچ میں کوئی مترجم نہ ہو گا نہ حجاب (بلکہ ہر مومن اللہ تعالیٰ کو بے حجاب دیکھے گا)۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلاَّ رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Qais : The Prophet said, "(There will be) two Paradises of silver and all the utensils and whatever is therein (will be of silver); and two Paradises of gold, and its utensils and whatever therein (will be of gold), and there will be nothing to prevent the people from seeing their Lord except the Cover of Majesty over His Face in the Paradise of Eden (eternal bliss)."

ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے عبد العزیز بن عبد الصمد نے انہوں نے ابو عمران سے انہوں نے ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس سے انہوں نے اپنے والد (ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا بہشت میں دو باغ چاندی کے ہیں ان کے برتن اور سب سامان چاندی کے اور دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور سب سامان سونے کے اور جتۃالعدن میں لوگوں اور اللہ پاک کے دیکھنے میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی فقط ایک بزرگی کی چادر حائل ہو گی جو پروردگار کے منہ پر پڑی ہو گی۔


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكُ بْنُ أَعْيَنَ، وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ‏}‏ الآيَةَ‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "Whoever takes the property of a Muslim by taking a false oath, will meet Allah Who will be angry with him." Then the Prophet recited the Verse: 'Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter, neither will Allah speak to them, nor look at them.' (3.77)

ہم سے عبد اللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے کہا ہم سے عبد الملک بن اعین اور جامع بن ابی راشد نے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کو مال مارے تو وہ جب (قیامت کے دن) اللہ سے ملے گا اللہ اس پر غصے ہو گا عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ حدیث بیان (سورت آل عمران کی) یہ آیت پڑھی ان الذین یشترون بعہد اللہ وایمانہم ثمنا قلیلا اولٰئِک لا خلاق لہم فی الا خرۃ ولا یکمہم اللہ ۔اخیر تک


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهْوَ كَاذِبٌ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي، كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "(There are) three (types of persons to whom) Allah will neither speak to them on the Day of Resurrections, nor look at them (They are): (1) a man who takes a false oath that he has been offered for a commodity a price greater than what he has actually been offered; (2) and a man who takes a false oath after the 'Asr (prayer) in order to grab the property of a Muslim through it; (3) and a man who forbids others to use the remaining superfluous water. To such a man Allah will say on the Day of Resurrection, 'Today I withhold My Blessings from you as you withheld the superfluous part of that (water) which your hands did not create.'"

ہم سے عبد اللہ بن محمدّ مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سمان سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺسے آپ ﷺنے فرمایا تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات تک نہ کرے گا نہ ان پر شفقت کی نگاہ ڈالے گا ایک تو وہ شخص جو کسی چیز کی نسبت جھوٹی قسم کھائے کہ مجھ کو اس کی اتنی قیمت ملتی تھی حالانکہ اتنی قیمت نہ ملتی ہو بلکہ کم دوسرے وہ شخص جو عصر کی نماز کے بعد جھوٹی قسم کھائے اس لئے کہ کسی مسلمان کا مال (ناحق )مارے تیسرے وہ شخص جو بچا ہوا ۰اپنی ضرورت سے زیادہ)پانی روک رکھے (کسی کو پینے یا پلانے نہ دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فر مائے گا میں بھی آج اپنا فضل تجھ سے روک لیتا جیسے تو نے وہ بچی ہوئی چیز روک رکھی جس کو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعَدَةِ وَذُو الْحَجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ ذَا الْحَجَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ ـ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"

Narrated By Abu Bakra : The Prophet said, "Time has come back to its original state which it had when Allah created the Heavens and the Earth, the year is twelve months, of which four are sacred; (and out of these four) three are in succession, namely, Dhul-Qa'da, Dhul-Hijja and Muharram, and (the fourth one) Rajab Mudar which is between Jumad (Ath-Tham) and Sha'ban." The Prophet then asked us, "Which month is this?" We said, "Allah and His Apostle know (it) better." He kept quiet so long that we thought he might call it by another name. Then he said, "Isn't it Dhul-Hijja?" We said, "Yes." He asked "What town is this?" We said, "Allah and His Apostle know (it) better.' Then he kept quiet so long that we thought he might call it by another name. He then said, "Isn't it the (forbidden) town (Mecca)?" We said, "Yes." He asked, "What is the day today?" We said, "Allah and His Apostle know (it) better. Then he kept quiet so long that we thought that he might call it by another name. Then he said, "Isn't it the Day of An-Nahr (slaughtering of sacrifices)?" We said, "Yes." Then he said, "Your blood (lives), your properties," (the sub narrator Muhammad, said: I think he also said): "...and your honour) are as sacred to one another like the sanctity of this Day of yours, in this town of yours, in this month of yours. You shall meet your Lord and He will ask you about your deeds. Beware! Don't go astray after me by striking the necks of one another. Lo! It is incumbent upon those who are present to inform it to those who are absent for perhaps the informed one might comprehend it (understand it) better than some of the present audience." Whenever the sub-narrator Muhammad mentioned that statement, he would say, "The Prophet said the truth.") And then the Prophet added, "No doubt! Haven't I conveyed Allah's Message to you! No doubt! Haven't I conveyed Allah's Message to you?"

ہم سے محمد بن مثنےٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوہاب نے کہا ہم سے ایوب سے سختیانی نے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے عبد الرحمٰن بن ابی بکرہ سے انہوں نے ابو بکر ہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ ﷺنے فرمایا زمانہ گھوم گھما کر پھر اصلی حالت پر آگیا جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کئے تھے دیکھو سال بارہ مہنیے کا ہوتا ہے ان مہینوں میں چار ادب والے مہینے ہیں تین توپے درپے ذیقعد اور ذالحجہ اور محرم اور ایک الگ یعنی مضر کا رجب جو جمادی آلا خر اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے بتلاؤ یہ مہینہ کون ساہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ ﷺخاموش رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ اس مہینے کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے پھر آپ ﷺنے فرمایا کیا ذ الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا بیشک ذالحجہ کا مہینہ پھر فرمایا یہ کون ساشہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس رسول خوب جانتا ہے اس کے بعد آپ ﷺخاموش رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ ﷺاس شہر کا کوئی نام اور نام رکھیں گے پھر فرمایا کیا مکہّ کا کا شہر نہیں ہے ہم نے کہا بے شک مکہ کا شہر ہے آپ ﷺنے فرمایا اچھا یہ دن کون سا دن ہے ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺخوب جانتا ہے اس کے بعد آپ ﷺخاموش ہو رہے ہم سمجھے آپ ﷺ اس کا نام کچھ اور رکھیں گے پھر فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے کہا بے شک یوم النحر ہے آپ ﷺنے فرمایا دیکھو تمہارے خون اور مال محمد بن سیرین نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوبکرہ نے یہ بھی کہا تمھاری عزتیں اور آبروئیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں اس دن کی حرمت اس شہر اس مہینے میں اور تم (ایک دن) ضرور اپنے پروردگار سے ملوگے وہ تمھارے اعمال کی تم سے پرسش کریگا تو ایسا نہ کر نا میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر گمراہ بن جاؤ دیکھو جو لوگ اس وقت موجود ہیں وہ میری یہ حدیث ان لوگوں کو سُنا دیں جو موجود نہیں ہیں کھبی ایسا ہوتا ہے کہ جس کو ایک بات پہنچائی جاتی ہے وہ اس سے زیادہ یاد رکھتا ہے جس نے خود سنی ہوتی ہے محمدّ بن سیرین حدیث کے فقرے کو بیان کرکے کہتے تھے نبی ﷺنے سچ فرمایا اس کے بعد آپ ﷺنے (لوگوں) فرمایا دیکھو میں نے خدا کا حکم تم کو پہنچا دیا دیکھو (خدا کا حکم ) میں نے تم کو پہنچا دیا ۔

Chapter No: 25

باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ‏}‏

What is said regarding the Statement of Allah, "... Surely, Allah's Mercy is (ever) near unto the good doers." (V.7:56)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ اعراف میں) یوں فرمانا اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے نزدیک ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ مَعَهُ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ ـ حَسِبْتُهُ قَالَ ـ كَأَنَّهَا شَنَّةٌ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ أَتَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.

Narrated By Usama : A son of one of the daughters of the Prophet was dying, so she sent a person to call the Prophet. He sent (her a message), "What ever Allah takes is for Him, and whatever He gives is for Him, and everything has a limited fixed term (in this world) so she should be patient and hope for Allah's reward." She then sent for him again, swearing that he should come. Allah's Apostle got up, and so did Mu'adh bin Jabal, Ubai bin Ka'b and 'Ubada bin As-Samit. When he entered (the house), they gave the child to Allah's Apostle while its breath was disturbed in his chest. (The sub-narrator said: I think he said, "...as if it was a water skin.") Allah's Apostle started weeping whereupon Sa'd bin 'Ubada said, "Do you weep?" The Prophet said, "Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others)."

ہم سے موسیٰ بن اسمعیل بن نے بیا ن کیا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے کہا ہم سے عاصم احول نے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے اسامہؓ سے انہوں نے نبیﷺ کی ایک صاحبزادی (حضرت زینبؓ کا بیٹا گزر رہا تھا انہوں نے آپﷺ کو بلا بھیجا آپ ﷺ نے جواب میں یہ کہلابھیجا اللہ ہی کا مال ہے جو اس نے لیا اور جو دیا اور ہر چیز کی ایک میعاد مقرر ہے تو صبر کرو اللہ سے ثواب چاہو انہوں نے پھر قسم دے کر آپ ﷺکو بلا بھیجا آخر آپ ﷺاٹھے میں بھی اٹھا اور معاذبن جبلؓ اور ابی بن کعبؓ اور عبادہ بن صامتؓ یہ سب آپ ﷺکے ساتھ چلے جب صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے تو ان لوگوں نے کیا کیا بچہ کو لا کر رسول اللہ ﷺکے حوالے کر دیا اس کی جان سینے میں تڑپ رہی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پرانی مشک یہ حال دیکھ کر رسول اللہ ﷺرودئیے سعد بن عبادہؓ نے عرض کیا یا رسول ﷺ آپ ﷺ روتے ہیں (آپ ﷺسے تعجب ہے) فرمایا اللہ تعالیٰ انہیں بندوں پر رحم کرے جو دوسرے بندوں پر رحم کرتے ہیں۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اخْتَصَمَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ إِلَى رَبِّهِمَا فَقَالَتِ الْجَنَّةُ يَا رَبِّ مَا لَهَا لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ‏.‏ وَقَالَتِ النَّارُ ـ يَعْنِي ـ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ‏.‏ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي‏.‏ وَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ـ قَالَ ـ فَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَإِنَّهُ يُنْشِئُ لِلنَّارِ مَنْ يَشَاءُ فَيُلْقَوْنَ فِيهَا فَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ‏.‏ ثَلاَثًا، حَتَّى يَضَعَ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَمْتَلِئُ وَيُرَدُّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Paradise and Hell (Fire) quarrelled in the presence of their Lord. Paradise said, 'O Lord! What is wrong with me that only the poor and humble people enter me ?' Hell (Fire) said, I have been favoured with the arrogant people.' So Allah said to Paradise, 'You are My Mercy,' and said to Hell, 'You are My Punishment which I inflict upon whom I wish, and I shall fill both of you.'" The Prophet added, "As for Paradise, (it will be filled with good people) because Allah does not wrong any of His created things, and He creates for Hell (Fire) whomever He will, and they will be thrown into it, and it will say thrice, 'Is there any more, till Allah (will put) His Foot over it and it will become full and its sides will come close to each other and it will say, 'Qat! Qat! Qat! (Enough! Enough! Enough!).

ہم سے عبید اللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا ہم سے والد نے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپ ﷺنے فرمایا پروردگار کے سامنے دوزخ اور بہشت دونوں میں جھگڑا ہوا بہشت نے کہا پروردگار میرا کیا حال ہے مجھ میں وہی لوگ آرہے ہیں جو (دنیا میں)کمزرو ناتواں مفلس محتاج تھے اور دوزخ کہنے لگی مجھ میں تو وہ لوگ آ رہے ہیں جو بڑائی کرنے والے تھے (یعنی دینا کے متکبر مغرور ) اس وقت اللہ تعالےٰ نے بہشت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اور دوزخ سے فرمایا عذاب ہے میں جس کو چاہتا ہوں اس کو تیری وجہ سے عذاب دیتا ہوں اور تم دونوں میں سے ہر ایک کی بھرتی ہونے والی ہے بہشت کی تو اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوزخ کی اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے گا دوزخ کے لئے پیدا کرے گا وہ اس ڈالی جائے گی اس کے بعد دوزخ کہے گی اور کچھ مخلوق (میں ابھی خالی ہُوں ) تین بار ایسا ہی ہوگا آخر پروردگار اپنا پاوٰں اس پر رکھ دے گا اس وقت بھر جائے گی ایک پر ایک الٹ کر سمٹ جائے گی کہنے لگے گی بس بس میں بھر گئی ۔


حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً، ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Anas : The Prophet said, "Some people who will be scorched by Hell (Fire) as a punishment for sins they have committed, and then Allah will admit them into Paradise by the grant of His Mercy. These people will be called, 'Al-Jahannamiyyun' (the people of Hell)."

ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کچھ لوگوں پر ان کے گناہ کی وجہ سے دوزخ میں جلنے کا ایک دھبہ رہ جائے گا یہ ان کے گناہ کی سزا ہو گی پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے ان کو بہشت میں لے جائے گا ان کو لوگ جہنمی کہا کریں گے ہمام نے کہا یہ حدیث ہم سے قتادہ نے بیان کی کہا ہم سے انسؓ نے انہوں نے نبیﷺ سے۔

Chapter No: 26

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ أَنْ تَزُولاَ ‏}‏

The Staement of Allah, "Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they move away from their places ..." (V.35:67)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ فاطر میں) یہ فرمانا آسمانوں اور زمینوں کو اللہ ہی تھامے ہوئے ہے۔ وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ حَبْرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يَضَعُ السَّمَاءَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالأَرْضَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالأَنْهَارَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ بِيَدِهِ أَنَا الْمَلِكُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ ‏{‏وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏}‏‏"‏

Narrated By 'Abdullah : A Jewish Rabbi came to Allah's Apostle and said, "O Muhammad! Allah will put the Heavens on one finger and the earth on one finger, and the trees and the rivers on one finger, and the rest of the creation on one finger, and then will say, pointing out with His Hand, 'I am the King.' "On that Allah's Apostle smiled and said, "No just estimate have they made of Allah such as due to Him. (39.67)

ہم سے موسی بن اسمعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ (وضا ح یشکری)نے انہوں نے سلیمان اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی انہوں نے علقمہ سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا یہود کاا یک عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا (اس کا نام معلوم نہیں ہوا)وہ کہنے لگا یا محمدﷺ (قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ آسمان کو ایک انگلی پر اور زمین کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درخت اور ندیوں کو ایک انگلی پر اور باقی مخلوق کو ایک انگلی پر رکھے گا پھر ہاتھ سے اشارہ کرے فر مائے گا میں بادشاہ ہوں یہ سن کر رسول اللہ ﷺہنس دئیے اور یہ آیت پڑھی وما قدروا اللہ حق قدرہ (یہ سورت زمر میں ہے )۔

Chapter No: 27

باب مَا جَاءَ فِي تَخْلِيقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَغَيْرِهَا مِنَ الْخَلاَئِقِ

What has been said regarding the creation of the heavens and the earth and other created beings.

باب: آسمان اور زمین اور دوسری مخلوقات کے پیدا کرنے کا بیان۔

وَهْوَ فِعْلُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَمْرُهُ، فَالرَّبُّ بِصِفَاتِهِ وَفِعْلِهِ وَأَمْرِهِ، وَهْوَ الْخَالِقُ، هُوَ الْمُكَوِّنُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَمَا كَانَ بِفِعْلِهِ وَأَمْرِهِ وَتَخْلِيقِهِ وَتَكْوِينِهِ، فَهْوَ مَفْعُولٌ مَخْلُوقٌ مُكَوَّنٌ‏.

All that is the work of the Lord and outcome of His Order. So He is the Lord with His Qualities and His Actions and His Order and He is the Creator and the Maker, and He is not created. And whatever exists through His Action, Command, creating and making is something done, created and made.

پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور اس کا حکم ہے تو پروردگار اپنے صفات اور افعال اور امر اور کلام سمیت خالق ہے سب کا پیدا کرنے والا اس کے صفات اور افعال اور امر اور کلام(اس کی ذات کی طرح)مخلوق نہیں لیکن جو چیزیں اس کے فعل یا امر یا خلق یا تکوین سے بنی ہیں وہ سب مخلوق اور مکوّن ہیں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا لأَنْظُرَ كَيْفَ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ ‏{‏إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏لأُولِي الأَلْبَابِ‏}‏ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Once I stayed overnight at the house of (my aunt) Maimuna while the Prophet was with her, to see how was the night prayer of Allah s Apostle Allah's Apostle talked to his wife for a while and then slept. When it was the last third of the night (or part of it), the Prophet got up and looked towards the sky and recited the Verse: 'Verily! In the creation of the Heavens and the Earth... there are indeed signs for the men of understanding.' (3.190) Then He got up and performed the ablution, brushed his teeth and offered eleven Rakat. Then Bilal pronounced the Adhan whereupon the Prophet offered a two-Rak'at (Sunna) prayer and went out to lead the people in Fajr (morning compulsory congregational prayer.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم کو محمدبن جعفر نے خبر دی کہا مجھ کوشریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے انہوں نے کریب سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا میں ایک رات اپنی خالہ ام المومنین میمونہؓ کے پاس رہ گیا اس رات کو نبی ﷺ بھی انہی کے پاس تھے میرا مطلب یہ تھا دیکھوں رسول اللہ ﷺرات کی نماز ( تہجد )کیونکہ پڑھتے ہیں خیر آپ ﷺنے(عشاء)کی نماز کے بعد (تھوڑی دیر اپنی بی بی (ام المو منیں میمونہؓ سے باتیں کیں اس کے بعد سو رہے جب آخری تہائی حصّہ رات کا آن پہنچایا اس کا کوئی حصّہ باقی رہا اس وقت (نیند سے اٹھ کر )بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف دیکھا (سورت آل عمران کی) یہ آیت پڑھی ان فی خلق السمٰوات والارض اولی الا لباب تک اس کے بعد کھڑے ہوئے مسواک کی وضو کیا پھر گیارہ رکعتیں پڑھیں پھر بلالؓ نے صبح کی آذان دی آپ ﷺ نے دو رکعتیں (فجر کی سنت کی)پڑھیں پھر باہر نکلے اور صبح کی نماز لوگوں کو پڑھائی۔

Chapter No: 28

باب قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ‏}‏

The Statement of Allah, "And verily ,Our Word has gone forth of old for Our slaves-the Messengers." (V.37:171)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ والصافات میں) فرمانا ہم تو پہلے ہی اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے باب میں یہ فرما چکے ہیں کہ(ایک روز)انکی مدد ہو گی اور ہمارا ہی لشکر غالب ہوگا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ، إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When Allah created the creations, He wrote with Him on His Throne: 'My Mercy has preceded My Anger."

ہم سے اسمٰیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام نے انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اللہ تعا لےٰ جب خلقت کو پیدا کر چکا تو اس نے اپنے عرش کے اوپر ایک کتاب میں یوں لکھا میری رحمت میرے غضب سے آگے بڑھ گئی ہے۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ‏"‏ إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَهُ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَهُ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَكْتُبُ رِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَعَمَلَهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى لاَ يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلاَّ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : Allah's Apostle the true and truly inspired, narrated to us, "The creation of everyone of you starts with the process of collecting the material for his body within forty days and forty nights in the womb of his mother. Then he becomes a clot of thick blood for a similar period (40 days) and then he becomes like a piece of flesh for a similar period. Then an angel is sent to him (by Allah) and the angel is allowed (ordered) to write four things; his livelihood, his (date of) death, his deeds, and whether he will be a wretched one or a blessed one (in the Hereafter) and then the soul is breathed into him. So one of you may do (good) deeds characteristic of the people of Paradise so much that there is nothing except a cubit between him and Paradise but then what has been written for him decides his behaviour and he starts doing (evil) deeds characteristic of the people of Hell (Fire) and (ultimately) enters Hell (Fire); and one of you may do (evil) deeds characteristic of the people of Hell (Fire) so much so that there is nothing except a cubit between him and Hell (Fire), then what has been written for him decides his behaviour and he starts doing (good) deeds characteristic of the people of Paradise and ultimately) enters Paradise."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے اعمش نے کہا میں نے زید بن وہب سے سُنا کہا میں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے وہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺنے ہم سے بیان کیا آپ ﷺسچے تھے آپ ﷺ سے جو وعدہ کیا گیاوہ بھی سچ تھاتم میں سے ہر شخص کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن یا چالیس رات جمع رہتا ہے پھر (ایک چلہ کے بعد) وہ خون کی ٹھپکی بن جاتا ہے پھر ایک چلہ کے بعد گوشت کا مچ ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ اس کے پاس بھیجتا ہے اس کو چار باتوں کا حکم ہوتا ہے اس کی روزی اس کا عمل اس کی عمر اس کی نیک بختی یا بد بختی لکھنے کا پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے (یعنی روح انسانی جس کو نفس نا طقہ کہتے ہیں اور تم میں سے کوئی ساری عمر بہشتیوں کے سے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور بہشت میں ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس وقت اللہ کا لکھا (جو اس کی پیدائش کے وقت لکھا گیا تھا)پورا ہوتا ہے اور وہ دوزخیوں کا سا کام کرکے دوزخ میں جاتا ہے اور کوئی تم میں سے (ساری عمر ) دوزخیوں کا سا کام کرتا رہتا ہے جب اس میں اور دوزخ میں ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس وقت اللہ کا لکھا اس پر پورا ہوتا ہے وہ بہشتیوں کا سا کام کرکے بہشت میں جاتا ہے ( تو اعتبار خاتمہ کا ہے) ۔


حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا جِبْرِيلُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ‏.‏ قَالَ هَذَا كَانَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "O Gabriel, what prevents you. from visiting us more often than you do?" Then this Verse was revealed: 'And we angels descend not but by Command of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us...' (19.64) So this was the answer to Muhammad.

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن ذر نے کہا میں نے اپنے والد (ذربن عبد اللہ)سے سُنا وہ سعید بن جبیر سے نقل کرتے تھے وہ ابن عباسؓ سے کہ نبی ﷺ نے حضرت جبریل سے فرمایا تم جتنا ہمارے پاس آیا کرتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آیا کرتے اس وقت یہ آیت (سورت مریم )کی اتری ہم فرشتے تو جب پروردگار کا حکم ہوتا ہے اسی وقت اترتے ہیں( بن حکم نہیں آسکتے ) اسی کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے بیچ میں ہے اور تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں محمد ﷺنے حضرت جبرائیل سے جو فرمایا تھا اس کا جواب اس آیت میں اترا ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهْوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ، فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ‏.‏ فَسَأَلُوهُ فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى الْعَسِيبِ وَأَنَا خَلْفَهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ ‏{‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً‏}‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ‏.

Narrated By 'Abdullah : While I was walking with Allah's Apostle in one of the fields of Medina and he was walking leaning on a stick, he passed a group of Jews. Some of them said to the others, "Ask him (the Prophet) about the spirit." Others said, "Do not ask him." But they asked him and he stood leaning on the stick and I was standing behind him and I thought that he was being divinely inspired. Then he said, "They ask you concerning the spirit say: The spirit, its knowledge is with My Lord. And of knowledge you (O men!) have been given only a little."... (17.85) On that some of the Jews said to the others, "Didn't we tell you not to ask?"

ہم سے یحییٰ (بن جعفر بن موسیٰ )نے بیان کیا کہا ہم سے وکیع بن جّراح نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں جا رہا تھا آپ ﷺایک کھجور کی لکڑی پر ٹیکادیئے چل رہے تھے اتنے میں چند یہودیوں پر گزرہوا وہ آپس میں کہنے لگے ان سے پوچھو روح کیا چیز ہے بعضوں نے کہا نہ پوچھوآخر انہوں نے پوچھا ہی آپ ﷺ یہ سنتے ہی اس لکڑی پر ٹیکا دے کر کھڑے ہو رہے میں آپ ﷺ کے پیچھے تھا سمجھا گیا کہ آپ ﷺپر وحی آرہی ہے تھوڑی دیر میں آپ ﷺ(سورت بنی اسرائیل کی ) یہ آیت سنائی تجھ سے پوچھتے ہیں روح کیا چیز ہے کہہ دے روح میرے مالک کا حکم ہے اور تم بندوں کو (کیا کچھ بہت علم ملا ہے نہیں )تھوڑا ہی سا علم ملا ہے اب آپس میں یہودی کہنے لگے کیوں ہم نے (نہیں )کہا تھا کہ مت پوچھو ۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah guarantees to the person who carries out Jihad for His Cause and nothing compelled him to go out but the Jihad in His Cause, and belief in His Words, that He will either admit him into Paradise or return him with his reward or the booty he has earned to his residence from where he went out."

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالکؒ نے انہوں نے ابو زناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص محض اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے اس کو اللہ کے کلام کا جو اس نے قرآن میں سے فرمایا ہے (دل سے)یقین ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے کہ یا تو اس کو(شہادت کا درجہ دے کر) بہشت میں لیجائے گا یا اپنے گھر کو ثواب اور لوٹ کا مال دلا کر (مع الخیر )لوٹا لائے گا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَىُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"

Narrated By Abu Musa : A man came to the Prophet and said, "A man fights for pride and haughtiness another fights for bravery, and another fights for showing off; which of these (cases) is in Allah's Cause?" The Prophet said, "The one who fights that Allah's Word (Islam) should be superior, fights in Allah's Cause."

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابووائل سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا ایک شخص (لاحق بن ضمیرہ )نبی ﷺکے پاس آیا پوچھنے لگا یا رسول ﷺ بعض آدمی اپنے (عزت بچانے کے لئے )حمیت اور غیرت کی وجہ سے لڑتا ہے بعضابہادری کی وجہ سے بعضا دکھلانے اور سنانے کی نیت سے (تا کہ لوگوں میں تعریف ہو ) تو ان میں سے کون سا لڑنا اللہ کی راہ میں لڑنا ہے آپ ﷺنے فرمایا یا جس لڑائی سے عرض ہو کہ اللہ کا بول بالا ہو (شرک اور کفردب جائے)وہ اللہ کی راہ میں لڑنا ہے ۔

Chapter No: 29

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ‏}‏

The Statement of Allah, "Verily! Our Word unto a thing when We intend it ..." (V.16:40)

باب اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نحل میں) یہ فرمانا ہم تو جب کوئی چیز بنانا چاہتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔

حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By Al-Mughira bin Shu'ba : I heard the Prophet saying, "Some people from my followers will continue to be victorious over others till Allah's Order (The Hour) is established."

ہم سے شہاب بن عبادہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نےمغیرہ بن شعبہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ سے سُنا آپ ﷺ فرماتے تھے میری امّت میں سے ایک گر وہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر آئے (قیامت کاحکم صادر ہو )۔


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ، مَا يَضُرُّهُمْ مَنْ كَذَّبَهُمْ، وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ بِالشَّأْمِ‏.‏ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ بِالشَّأْمِ‏

Narrated By Muawiya : I heard the Prophet saying, "A group of my followers will keep on following Allah's Laws strictly and they will not be harmed by those who will disbelieve them or stand against them till Allah's Order (The Hour) will come while they will be in that state."

ہم سے حمیدی نے بیان کیا کہا ہم سے ولید بن مسلم نے کہا ہم سے (عبد الرحمٰن بن زید ) ابن جابر نے کہا مجھ سے عمیر بن ہانی نے انہوں نے معاویہ (بن ابی سفیان)سے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبیﷺسے سُنا فرماتے تھے میری ا مّت کا ایک گروہ برابر اللہ کے حکم پر (قرآن حدیث پر )قائم رہے گا کوئی ان کو جھٹلائے اور ان کا خلاف کرے تو ان کا کچھ نقصان نہ ہو گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچے گا اور وہ اسی حال میں ہُوں گے (قرآن و حدیث پر چل رہے ہوں گے)یہ سن کر مالکؒ بن یخامرنے کہا میں نے معاذ بن جبل سے سُنا وہ کہتے تھے یہ گروہ شام کے ملک میں ہوگا اس وقت معاویہ نے کہا مالک بن یخامر یہ کہتا ہے کہ اس نے معاذؓ سے سُنا کہ یہ گروہ شام کے ملک میں ہوگا۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا، وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet stood before Musailama (the liar) who was sitting with his companions then, and said to him, "If you ask me for this piece (of palm-leaf stalk), even then I would not give it to you. You cannot avoid what Allah has ordained for you, and if you turn away from Islam, Allah will surely ruin you!"

ہم سے ابولیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے عبد اللہ بن ابی حسین سے کہا ہم سے نافع بن جبر نے بیان کیا انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا جب مسیلمہ کذ اب اپنے ساتھیوں کو لئے ہوئے مدینہ میں آیاتو نبیﷺنے اس کے پاس کھڑے ہو ئے فرمایا اگر تو یہ لکڑی کا ٹکڑا (جو اس وقت آپ ﷺکے ہاتھ میں تھا)مجھ سے مانگے تو بھی میں نہیں دوں گا اور اللہ نےجو حکم تیرے باب میں دے رکھا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تو اسلام سے پھر جائےگا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو ہلاک کریگا ۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ حَرْثِ الْمَدِينَةِ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، فَمَرَرْنَا عَلَى نَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ أَنْ يَجِيءَ فِيهِ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ‏.‏ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ ‏{‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتُوا مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً‏}‏‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرِاءَتِنَا‏

Narrated By Ibn Mas'ud : While I was walking in company with the Prophet in one of the fields of Medina, the Prophet was reclining on a palm leave stalk which he carried with him. We passed by a group of Jews. Some of them said to the others, "Ask him about the spirit." The others said, "Do not ask him, lest he would say something that you hate." Some of them said, "We will ask him." So a man from among them stood up and said, 'O Abal-Qasim! What is the spirit?" The Prophet kept quiet and I knew that he was being divinely inspired. Then he said: "They ask you concerning the Spirit, Say: The Spirit; its knowledge is with my Lord. And of knowledge you (mankind) have been given only a little." (17.85)

ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا انہوں نے عبدالواحد بن زیاد سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ بن قیس سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا میں مدینہ کے ایک کھیت میں نبی ﷺکے ساتھ چل رہا تھا اتنے میں چند یہودیوں پر سے گزر ہوا وہ آپس میں کہنے لگے ان سے روح کو پوچھو بعضوں نے کہا مت پوچھو ایسا نہ ہو وہ ایسی بات کہیں جو تم کو بُری لگے اس پر دوسروں نے کہا نہیں ہم ضرور پوچھیں گے آخر ان میں کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا ابو القاسم بتلاوٗ تو روح کیا چیز ہے آپ ﷺخاموش ہورہے میں سمجھ گیا آپ ﷺپر وحی آرہی ہے پھر آپ ﷺنے یہ آیت پڑھی ویسٗلونک عن الروح قل الروح من امر ربی ومااتو من العلم الا قلیلااعمش نے کہا ہم نے اس آیت کو یوں پڑھا ہے (عبد اللہ بن مسعودؓ کی قرأت یہی ہے مشہور قرأت میں وما اوتیتم ہے)

Chapter No: 30

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا‏}‏

The Statement of Allah, "Say, If the sea were ink for the words of my Lord, surely the sea would be exausted before the Words of my Lord would be finished, even if we brought (another sea) like it ,for it's aid." (V.18:109)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ کہف میں) فرمانا اے پیغمبر کہہ دے اگر میرے مالک کی باتیں لکھنے کے لئےسارا سمندر روشنائی ہو جائےتو میرے مالک کی باتیں ختم نہ ہوں۔اور سمندر تمام ہو جائےگو اتنا ہی ایک اور سمندر ہو ہم اس کی مدد کو لائیں۔

وَ‏{‏لَوْ أَنَّ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلاَمٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ‏}‏ ‏{‏إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ‏}‏‏

"And if all the trees on earth were pens and the sea (were ink), with seven seas behind it to add to it's (supply), yet the words of Allah would not be exhausted ..." (V.31:27) "Indeed, your Lord is Allah, Who created the heavens and the Earth in six Days and then He rose over (Istawa) the Throne. He brings the night as a cover over the Day, seeking it rapidly, and (He created) the Sun, the moon and the stars subjected to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed be Allah, the Lord of the Alamin." (V.7:54)

اور (سورۃ لقمان میں )فرمانا اگر زمین میں جتنے درخت ہیں ان سب کے قلم بنائے جائیں اور سمندر روشنائی بنے اس کے بعد سات سمندر اور اتنی ہو بڑے روشنائی بنیں جب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں اور( سورۃ اعراف میں) فرمانا بے شک تمہارا مالک اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر تخت پر بیٹھ گیا رات کو دن سے ڈھانپتا ہے اور دن کو رات سے رات دن کے پیچھے لگی دوڑی آ رہی ہے۔اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا وہ سب اس کے حکم کے تابعدار ہیں سن لو اسی کی خلقت ہے اسی کا حکم چلتا ہےبڑی برکت والا ہے اللہ جو سارے جہان کا مالک ہے۔سخر کا معنی تابعدار کیا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah guarantees (the person who carries out Jihad in His Cause and nothing compelled him to go out but Jihad in His Cause and the belief in His Word) that He will either admit him into Paradise (Martyrdom) or return him with reward or booty he has earned to his residence from where he went out."

ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابو زناد سے انہوں اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے گھر سے صرف اسی وجہ سے نکلے کہ اس کو اللہ کے کلموں کا یقین ہواور اس کی یہی نیت ہو کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تو اللہ اس کا ضامن ہے یا تو (شہادت کا درجہ دے کر )اس کو بہشت میں لے جائے گا یا ثواب اور لوٹ کا مال دے کر اس کو (مع الخیر )اس کے گھر لوٹا لائے گا ۔

12345Last ›